درس قرآن 68

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)

سورۃ صف
انکارِ حدیث کے فتنہ نے دوسری صدی میں اس وقت جنم لیا جب غیر اسلامی افکار سے متاثر لوگوں نے اسلامی معاشرہ میں قدم رکھا اور غیر مسلموں سے مستعار بیج کو اسلامی سرزمین میں کاشت کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت فتنہ انکار ِ حدیث کے سرغنہ کے طور پر جو دو فریق سامنے آئے وہ خوارج اور معتزلہ تھے۔ خوارج جو اپنے غالی افکار ونظریات کو اہل اسلام میں پھیلانے کا عزم کئے ہوئے تھے، حدیث ِنبوی کو اپنے راستے کا پتھر سمجھتے ہوئے اس سے فرار کی راہ تلاش کرتے تھے۔ دوسرے معتزلہ تھے جو اسلامی مسلمات کے ردّوقبول کے لئے اپنی ناقص عقل کو ایک معیار اور کسوٹی سمجھ بیٹھے تھے، لہٰذا انکارِحد رجم، انکارِ عذابِ قبر اور انکارِ سحر جیسے عقائد و نظریات اس عقل پرستی کا ہی نتیجہ ہیں جو انکارِ حدیث کا سبب بنتی ہے۔ دور ِجدید میں فتنہ انکارِ حدیث نے خوب انتشار پیدا کیا اور اسلامی حکومت ناپید ہونے کی وجہ سے جس کے دل میں حدیث ِ نبوی کے خلاف جو کچھ آیا اس نے بے خوف وخطر کھل کر اس کا اظہار کیا۔

دین کے ان نادان دوستوں نے اسلامی نظام کے ایک بازو کو کاٹ پھینکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور لگا رہے ہیں۔یورپ کے مستشرقین کی نقالی میں برصغیر پاک وہند میں ماضی قریب میں بہت سے ایسے متجددین پیدا ہوئے جو حدیث وسنت کی تاریخیت ،حفاظت اور اس کی حجیت کو مشکوک اور مشتبہ قرار دے کر اس سے انحراف کی راہ نکالنے میں ہمہ تن گوش رہے۔ ہردور میں فتنوں کی سرکوبی میں علمائے حق کی خدمات نمایاں نظر آتی ہیں ۔برصغیر پاک وہند میں فتنہ انکار کے رد میں جید علماء کرام بالخصوص اہل حدیث علماء کی کاوش ناقابل فراموش ہیں۔اللہ تعالی ہر دور کے فتنوں سے ہمیں محفوظ فرمائے۔آئیے ذراکلام مجید سے اکتساب فیض کرتے ہیں ۔
سورۂ صف مکیہ ہے، جبکہ حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور جمہور مفسرین کے قول کے مطابق مدنیہ ہے۔
( خازن، تفسیر سورۃ الصف، ۴/۲۶۱)
اس سورت میں 2 رکوع، 14آیتیں ہیں ۔
وجہ تسمیہ:صف کا معنی ہے سیدھی قطار اور اس سور ت کی آیت نمبر4میں مذکور کلمہ ’’صَفًّا‘‘ کی مناسبت سے اس کا نام ’’سورۂ صف‘‘ رکھا گیا ہے ۔
حضرت عبد اللّٰہ بن سلام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ہم نے اس بات پر مُذاکرہ کیا کہ کون حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس جا کر یہ پوچھے گا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کو نسا عمل سب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ ابھی ہم میں سے کوئی اپنی جگہ سے اٹھا بھی نہیں تھا کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہماری طرف ایک شخص بھیجا اور ا س نے ہمیں جمع کر کے ہمارے سامنے پوری سورۂ صف کی تلاوت کی۔
( مسند امام احمد، حدیث عبد اللّٰہ بن سلام رضی اللّٰہ عنہ، ۹/۲۰۵، الحدیث: ۲۳۸۴۹)
اس سورۃ میں کیاکیا مضامین ہیں ۔آئیے وہ جانتے ہیں :
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ا س میں دشمنوں کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیاگیا اور مجاہدین کا عظیم ثواب بیان کیا گیا ہے ،نیز اس سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں ۔
(1) …اس سورت کی ابتداء میں اللّٰہ تعالیٰ کی تسبیح اور تقدیس بیان کی گئی اور مسلمانوں کو یہ حکم دیاگیا کہ وہ بات نہ کہیں جو خودکرتے نہیں ۔
(2) …یہ بتایا گیا کہ جو لوگ اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں اس طرح صفیں باندھ کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی دیوار ہیں ان سے اللّٰہ تعالیٰ محبت فرماتا ہے۔
(3) …اللّٰہ تعالیٰ اورا س کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی کرنے اور دین میں تَفْرِقَہ بازی سے منع کیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ یہودیوں اور عیسائیوں کا طریقہ ہے۔
(4) …مسلمانوں کو یہ بشارت دی گئی کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا ہے اور یہ دین سب دینوں پر غالب ہو گا اگرچہ مشرکوں کو ناپسند ہو۔
(5) …مسلمانوں کے سامنے اُخروی عذاب سے نجات کا راستہ بیان کیا گیا کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان رکھیں اور اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کریں ۔
(6) …اس سورت کے آخر میں مسلمانوں کو اللّٰہ تعالیٰ کے دین کامددگار بننے کا حکم دیا گیا اورا ن کے سامنے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے حواریوں کی ایک مثال بیان فرمائی گئی۔
یارب :یہ فتنے کا دور ہے توہمیں حق پر قائم رکھنا۔ہم ہر شر اور فتنے سے محفوظ فرما۔آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 348 Articles with 297913 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More
18 Aug, 2020 Views: 183

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ