اسلام کے عظیم سپہ سالار جنرل محمد ضیاء الحق شہید

(Muhammad Aslam Lodhi, Lahore)

کسی بھی قائد کی سب سے بڑی خوبی اور سب سے بڑا وصف بلکہ اس کی قیادت کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ مردہ سے مردہ قوم میں روح پھونک کر انہیں نئے عزم اور ولولے سے ہمکنار کرکے انہیں قوموں کی برادری میں نمایاں مقام پر لاکھڑا کرتا ہے ۔اس خوبی ،اس کے وصف اور اس کمال کا تاریخ یوں اعتراف کرتی ہے کہ اسے اپنے اوراق میں ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید بنادیتی ہے ۔ایسا شخص ہمیشہ قوم کے حافظے میں زندہ و تابندہ رہتا ہے ۔جنرل محمد ضیاء الحق کا شمار بھی ایسے ہی اسلام کے عظیم سپہ سالاروں میں ہوتا ہے جن کا ذکر نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام میں بڑے احترام سے لیاجاتا ہے ۔ مخالفین انہیں ایک آمر اور جمہوریت کے قاتل کی حیثیت سے جانتے ہیں لیکن صرف میرے ہی نہیں کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں میں آج بھی ضیاء الحق پہلے کی طرح کی زندہ و تابندہ ہیں۔جب ضیاء الحق برسراقتدار آئے تو اس وقت سوائے پیپلز پارٹی کے باقی تمام جماعتیں ذوالفقار علی بھٹو کی تاریخ ساز دھاندلی کے خلاف سراپا احتجاج تھیں ۔نہ صر ف بھٹو کی بنائی ہوئی نیم فوجی تنظیم ایف ایس ایف عوامی جلسے ، جلسوں پر براہ راست فائرنگ کرکے سینکڑوں پاکستانیوں کو خون میں نہلا رہی تھیں بلکہ جیالے اور بازار حسن کی نتھ فورس نے قتل و غارت کا الگ بازار گرم کررکھا تھا ۔یہ وہ حالات تھے، جب پیپلز پارٹی کے بانی افراد بھی بھٹو کے ظلم و ستم سے تنگ تھے ،اس کا اندازہ مولانا کوثر نیاز ی کی اس بات سے لگایاجا سکتاہے ۔جنہوں نے بھٹو کا تختہ الٹنے کے بعد کہاتھا "بہت دیر کی مہربان آتے آتے"۔یہ اس بات کا ثبوت تھاکہ بھٹو نے نہ صرف عوام ، مخالف سیاسی جماعتوں کا ناطقہ بند کررکھا تھا بلکہ جے اے رحیم ، مولانا کوثر نیازی افتخار تاری، سمیت کتنے ہی سرکردہ افراد براہ راست بھٹو کے ظلم و ستم کا شکار تھے ۔ ان بدترین حالات میں جب بھٹو کے حکم پر فوج نے عوام پر براہ راست گولیوں چلانے سے یہ کہتے ہوئے انکا ر کردیا کہ پاک فوج عوام کے تحفظ کے لیے ہے ، ان پر گولیاں چلانے کے لیے نہیں ہے۔ اگر جنرل ضیاء الحق بھٹو کا تختہ نہ الٹتے تو کوئی نیچے بھی آسکتا تھا۔بہرکیف جنرل ضیاء الحق نے جب اقتدار سنبھالا توانہیں تین مختلف چیلنجوں کا سامنا تھا۔ بھٹو کے وفادار جیالے بدلہ لینے کے لیے تخریب کاریوں میں مصروف عمل تھے ، دوسری جانب سوویت یونین (جسے اس وقت سفید ریچھ کہاجاتاتھا) نے بحیرہ عرب کے گرم سمند ر تک رسائی حاصل کرنے کے لیے افغانستان پر فوجی یلغار کردی تھی۔اس کے دماغ میں یہ فتورخاصا مستحکم تھا کہ پاکستان ، سوویت یونین کی فوجی طاقت کے سامنے چند گھنٹے بھی کھڑا نہیں ہوسکتا ۔جنرل ضیاء الحق کے لیے تیسری پریشانی یہ تھی کہ بھارتی فوج پاکستانی سرحدوں پر حملہ کرنے کے لیے اشارے کی منتظر تھی ۔ جبکہ چند ضمیرفروش سیاست دان روسی ٹینکوں کا استقبال کرنے کے لیے بے چین تھے ، یہ وہ لمحات تھے جوجنرل محمد ضیاء الحق اور پاکستانی فوج کا امتحان ثابت ہورہے تھے ۔بے شک قیادت کا امتحان ایسے ہی مشکل ترین حالات میں ہوتا ہے ۔مختصر بتاتا چلوں کہ ایوان صدر میں سوویت یونین کا سفیر ملنے آیا اس نے ضیاء الحق کو دھمکی آمیز لہجے میں کہا آپ ہمارے راستے کی دیوار نہ بنیں ،ورنہ ہم آپ کو یہاں بیٹھے بٹھائے راکھ کا ڈھیر بناسکتے ہیں ۔ضیاء الحق خاموشی سے سنتے رہے جب سفیر کو الوداع کہنے کے لیے دروازے تک آئے تو انہوں نے کہا مسٹر ایمیسیڈرمیں یہی بیٹھا ہوں تم اپنے میزائل چلاؤ۔پھر اس عظمت و استقلال کے پیکر اس سپہ سالار نے پاکستان کے بقا ء کی جنگ افغانستان میں لڑنے کا نہ ِصرف مشکل ترین فیصلہ کیا بلکہ اپنی بہترین حکمت عملی کے نتیجے میں سوویت یونین کی حکومت اور فوج کو چاروں شانے چت کردیا ۔پھروہ لمحہ بھی آپہنچ ا جب سوویت فوجیں افغانستان سے بحفاظت نکلنے کے لیے منتیں کررہی تھیں۔ اس شکست کے نتیجے میں چھ آزاد اسلامی ریاستیں وجود میں آئیں ۔ انہی ایام میں بھارت، پیپلز پارٹی اور جی ایم سید کی حمایت سے صوبہ سندھ کو پاکستان سے الگ کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا تھا، اس نازک موقع پر ضیاء الحق نے کرکٹ ڈپلومیسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کے تمام منصوبوں اور چالوں کو ناکام بنادیا ۔بھٹو دور میں شراب اور زنا کا ہر طرف دور دورہ تھا ضیا ء الحق نے ان خرافات کو ختم کرکے ہر سطح پر اسلامی روایات کو فروغ دیا۔میں اسے طارق بن زیاد لکھوں یا سلطان صلاح الدین ایوبی ۔مجھے تو ان دونوں عظیم مسلم ہیروز کی خوبیاں ضیا ء الحق میں دکھائی دیتی ہیں ۔مجھے وہ وقت بھی یاد ہے جب خانہ کعبہ میں نماز عشا ء کے صفیں بندھ چکی تھیں،تکبیرپڑھی جا چکی تھی ، اچانک امام کعبہ پیچھے ہٹے اور یہ کہتے ہوئے ضیاء الحق کو امامت کے مصلے پر کھڑا کردیا ،کہ آپ ہی امت مسلمہ کے حقیقی امام ہیں ۔جب ضیاء الحق نے امامت کے مصلے پر کھڑے ہوکر قرآن پاک کی تلاوت شروع کی تو فرط جذبات سے آپ کی آواز رند گئی۔ہچکیاں بندھ گئیں ،آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے،یہ وہی ضیاء الحق ہے جن کو بطورخاص روضہ رسول ﷺ کے اندر لیجایا گیاوہاں راز و نیاز کی کیا باتیں ہوئیں اسکا تو علم نہیں لیکن ضیاء الحق جدہ پہنچنے تک مسلسل آنسو بہارہے تھے۔یہ وہی ضیاء الحق ہے جن کو قتل کرنے کے لیے کتنی ہی سازشیں تیارہوئیں اور ناکامی سے ہمکنار ہوئیں ۔بیشک جو بھی شخص دنیا میں آیا ہے اسے ایک نہ ایک دن موت کا ذائقہ بھی چکھنا ہے ، لیکن وہ لوگ عظیم اور جنتی ہوتے ہیں جن کو اﷲ تعالی شہادت کی موت عطا کرتا ہے ۔17اگست1988ء کو تین بج کرپچاس منٹ پر دریائے ستلج کے کنارے بستی لال کمال کے قریب جنرل محمد ضیاء الحق نے اپنے ساتھیوں سمیت جام شہادت نوش کیا۔گیارہ سال تک صدر پاکستان کے منصب پر فائزرہنے والے شخص کے نام پر نہ تو فرانس میں سینکڑوں ایکڑ کا "سرے محل " نکلا، نہ لندن کے مہنگے علاقے میں قیمتی فلیٹ نظر آیا اور نہ تین سو کینال کا بنی گالہ کہیں دکھائی دیا ۔شہید کی جیب سے قرآن پاک ملا جس کی وہ اکثر تلاوت کیا کرتاتھا۔



 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Aslam Lodhi

Read More Articles by Muhammad Aslam Lodhi: 559 Articles with 280219 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Aug, 2020 Views: 453

Comments

آپ کی رائے