فراموش زندگیاں

(Rameesha Khalid, Karachi)

میں کون ہوں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو بہت لوگ مجھ سے کرتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ کیا ان دیکھنے والوں کو نظر نہیں آتا کہ میں ایک انسان ہوں۔ یہ سوال میرے اندر تباہی مچادیتا ہے۔ آخر میں ایسا کیوں ہوں؟ میری کوئی شناخت کیوں نہیں؟ میرے پاس باقی لوگوں کی طرح ذندگی گزارنے کا حق کیوں نہیں؟
ٹرانسجینڈر ہونا ایک شخص کا ذاتی انتخاب نہیں ہے بلکہ یہ قدرت کی طرف سے ہے۔ مگر ہمارا قدامت پسند معاشرہ اس کو سمجھنے میں ناکام ہے۔ ہمارے معاشرے میں ان کو حق اور غیرت کے کم سے کم درجے پر رکھا جاتا ہے۔ ایک معاشرہ اس وقت ہی دانشور سمجھا جاتا ہے جب وہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کرے لیکن اسکے برعکس ہمارے معاشرے میں ان کو ہرمعاملے میں مسترد کردیا جاتا ہے خواہ وہ تعلیم حاصل کرنے کا معاملہ ہو، عزت کی جگہ کام کرنے کا معاملہ، جنسی تشدد یا ذیادتی کا معاملہ، صحت اور تحافظ ، کسی سیاسی یا معاشی سرگرمی میں حصہ لینے کا معاملہ یعنی یہ سمجھ لیا جائے کے ذندگی کے ہر معاملے میں ہمارا معاشرہ ان کو دھتکار دیتا ہے۔ یہاں تک کہ خواجہ سرا کی پیدایش کو بے عزتی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور والدین خود اپنی اولاد کو ان کی کمیونٹی چھوڑ آتے ہیں یہ جانتے بوجھتے کہ وہاں ان کا کوئی مستقبل نہیں۔ خواجہ سرا دنیا کی تاریخ میں ہمیشہ رہے ہیں اس کے باوجود لوگ اس کو سمجھ نہیں پاتے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اس طرح کے دقیانوسی تصورات موجود ہیں۔ ان تصورات کی وجہ سے معاشرے پر مستقل ظلم ہوتا ہے یہاں تک کے ملک کا پڑھا لکھا طبقہ بھی اپنے بچوں کو خواجہ سرا سے بات چیت نہیں کرنے دیتا، ان کا قریب سے گزرنا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان دنیا کی دوسری بڑی اسلامی ریاست ہے۔ اسلام نے سب کو برابر کے حقوق دیے ہیں لیکن اس کے برعکس ہمارا معاشرہ ٹرانسجینڈر کو ذندگی گزارنے کا بنیادی حق نہیں دیتا، وہ عزت نہیں دیتا جن کے وہ مستحق ہیں اور اس طرح اسلام کے پیغام تک کی پیروی نہیں کی جاتی۔ یہاں تک کہ نومبر ۲۰۱۶ میں سعودی عرب میں ٹرانسجینڈر کو مذہبی زیارتوں پر جانے کےلیے ویزا پر پابندی عائد کردی گی تھی۔ کیا حکومت کے پاس یہ حق ہے کہ وہ ان کے حج کرنے پر پابندی لگادیں؟ ان کی کمیونٹی ہمیشہ حکومت اور مقامی معاشرے کی طرف سے نظرانداز کی جاتی رہی ہے۔ یہ سچ ہے کہ ٹرانسجینڈر برادری کے ساتھ ناجائز سلوک کیا جاتا ہے لیکن وہ جس طرح سے پیسہ کمانے کی کوشش کرتے ہیں وہ قابل تعریف نہیں ہے۔ وہ عام طور پر ٹریفک سگنل پر بھیک مانگنے ، سڑکوں پر گھومنے اور گھریلو دروازوں پر بھیک مانگ کر رقم کماتے ہیں ، جب کوئی پیدائش ہوتی ہے اور شادی ہوتی ہے تو وہ گانے پر رقص کرتے ہیں۔ پیسہ حاصل کرنے کے یہ سارے طریقے قابل احترام نہیں ہیں۔ لیکن ان کا ایسا کرنے کی سب سے بڑی وجہ 'ہم' ہیں۔ ہم ان کو اپنے ساتھ کھڑا قبول نہیں کرتے۔ اسکول اور یونیورسٹی میں پڑھنے کا موقع نہیں دیتے اور جہاں معاشرے کے باقی افراد عزت کی روزی کماتے ہیں وہاں ان لوگوں کو عزت سے کام کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ اسی وجہ سے ان کے پاس کمانے کا واحد ذریعہ ناچ گانا رہ جاتا ہے۔ بطور انسان، بطور پاکستانی، بطور مسلمان ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ان کو کم تر نہ سمجھے، ان کو ذندگی کےہر پہلو میں برابری کا حق دیں۔ حکومت کو بھی آگے آنا چاہئے اور اس برادری کی حمایت کرنی چاہئے اور والدین کو چاہیے بجائے اس کے کہ وہ ان کی پیدائش پر بدنامی محسوس کریں ،ان کو تعلیمی یافتہ بنائے تاکہ وہ اپنا مستقبل کے بارے میں بہترین فیصلہ کر سکیں۔

' ٹرانسجنڈرکو نہیں بلکہ معاشرے کو بدلنے کی ضرورت ہے'
آخر معاشرہ کب یہ بات سمجھے گا کہ یہ بھی ہماری طرح انسان ہیں ان کے بھی جذبات اور احساسات ہیں۔ معاشرہ جب تک ان کو وہ عزت نہیں دے گا جو باقی لوگوں کو حاصل ہے، یہ کبھی معاشرے کے کارگر لوگ ثابت نہیں ہو سکیں گے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rameesha Khalid
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Aug, 2020 Views: 103

Comments

آپ کی رائے