اپنی نا اہلیت کو نیازی این آر اوکی تسبیح میں چھپا رہا ہے

(Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed, Karachi)


ہر روز نیا ڈرامہ بنا کر پاکستان کے سلیکٹیڈ حکمران اپنی نا اہلیت کو چھپانے کے لئے پیش کر نے کی کوشش کر تے رہتے ہیں۔یہ عجیب بات ہے کہ جب بھی نواز شریف کی کوئی تصویر وائرل ہوتی ہے ۔پی ٹی آئی والوں کے کپڑے گیلے ہو جاتے ہیں اور نئے نئے نعرے حکومت کی جانب سے لگائے جانے لگتے ہیں۔دوسال میں تو یہ نا اہل کچھ کر نہیں سکے۔سوائے جھوٹے نعروں اورملک کی معیشت کا بھٹہ بٹھانے کے۔سونے پہ سہاگہ نیب نیازی گٹھ جوڑکے سہارے اور سلیکٹرزکے کاندھا دینے پربھی اقتدار کی کشتی رینگتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔کیونکہ سلیکٹرز ہیں کہ ایوانِ اقتدار کو دلاسے پر دلاسے دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں نیازی گبھرانے کی ضرورت نہیں ہے،ہم ہیں نا!اس دو سالہ نا اہلیت کے دورانئے میں ملک کانظام ڈوبتا دکھاء دے رہا ہے اور میں پورے پورے خاندان غربت کیلکیر سے نیچے آکراور تنگ ہوکر خوکشیاں کر رہے ہیں۔ مہنگائی نے لاکھوں گھروں کے چولہے بجھا دیئے ہیں ۔کروڑوں لوگوں کے روزگار چھین لئے گئے ہیں۔وزیرَ اعظم اوران کے ساتھیوں نے غریب عوام کو تہہِ زمین کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے ۔نیازی اپنے حواریوں کی گردن نیب کے پھندے میں پھنسنے نہیں دیتا ہے تو حزبِ اختلاف کو جھوتے کیسوں میں پھنساکر اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔مگر، وائے ناکامی کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا۔

ایک سلیکٹیڈ کافنڈر بڑا ڈاکوچینی ڈکیتی کا بڑا ڈاکہ مار کر فرار کر ا نے کے بعد ازیرِ اعظم نیازی اُس کے نوحے پڑھ رہا ہے اور چینی پر ڈکیتی لگوانے والا دُمدارنا اہلیت کی بڑی مثال ہونے کے با وجود اقتدار پر طمٹا بیٹھا ہے۔پاکستان کاناکام وزیر اعظم اپنے سلیکٹروں کی طرح اپنے سلیکٹیڈ کی تعریفوں کے پل باندھتے نہیں تھک رہا ہے۔دوسرا دواوئں کی قیمتوں پر نقب لگانے ولااسی کی کابینہ کا وزیر نبا بیٹھا ہے۔تیسراآٹا چور بھی نیازی کے کندھے لگا لوریاں لے رہا ہے۔ایسے مکار لوگ ہی اس ملک کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔جنکو اسٹابلشمنت کے ناکام لوگ دھکا لگا لگا کر رینگانے کی کوشش کر رہے ہیں

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ موجودہ حکمرانوں کی مضبوطی میں پیپلز پارٹی اور اس کے اعتزازاحسن نے ماضیِ قریب میں ،مین کر دارکیا تھا۔جس نے زرداری کو ورغلا کا سینٹ اور صدارتی الیکشن میں مسلم لیگ ن کو نیچا دکھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ حالانکہ ن لیگ سینٹ کا چیئر مین رضا ربانی جیسے بے باک سیاست دان اور پیپلز پارٹی رہنما کو بنانا چاہتی تھی۔ مگر ان کی بے باکی سے شائد زرداری بھی خائف تھے۔نتیجے میں حزبِ اختلاف سے صدارت اور سینٹ کا چیئرمین سلیکٹیڈ نا اہل لے اڑا لے گئے۔اب پچھتات ہوت کیا جب چڑیاں چُگ گیئں کھیت۔جب مولانافضل الرحمان نے حکومت کو چاروں خانے چیت کر دیا تو چوہدریوں نے مولانا سے جھوٹ بول کرنا اہل مقتدروں کی جان چھڑائی۔ورنہ اس حکومت کو ڈوبنے سے سلیکٹرز بھی نہیں بچا سکتے تھے۔

نیازی حکومت کی مصمم نا اہلی کہیں بھی چھپائے چھُپ نہیں رہی ہے۔جس نے پاکستان کے غریب عوام اور اس کے تمام سسٹمز کا بھر کس نکال کے رکھ دیا ہے۔ اپنی ناکامی اور نا اہلی کو وزیرِ اعظم این آر او کی تسبیحاں پڑھ پڑھ کر چھپانے کی نا کام کوشش کر رہے ہیں۔جب بھی ان سے یا ان کے نااہلوں سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے آسمان پر پہنچنے کا سوال کیا جاتا ان کی زبان پر بس ایک ہی لفظ رٹا ہواہے ۔این آر او ،این آر او،کسی کو نہیں دیں گے۔مگر این آر او ان کودے کر ان کے لانے والے بھی شائد کچھ پریشان توضرور ہیں۔مگر اب ان کے لئے،گویم مشکل ورگرنہ کوئم مشکل۔

سلیکٹرز سیاست کے ناکام شہسوار توہیں ہی نا!جن کا انتخاب بھی کبھی کوئی کامیاب انتخاب نہیں ہوتا ہے۔ذولفقار علی بھٹو کو انہوں نے امریکہ کے ہینری کسنگر کے کہنے کے مطابق عبرت نشان ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے بنوا دیا تھا ۔جس کی دو اہم وجوہات تھیں۔ایک پاکستان کے ایٹمی پروگرا م کا تھریٹ اوردوسرے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جانا۔اسی طرح ایک امریکی نواز قادیانی جنرل نے نواز شریف کو عبرت کا نشان بنانے کی کوشش تو کی مگر اس کی قسمت اچھی تھی کہ سعودی عرب جو امریکہ کی بھی آنکھ کا تارا تھا نے اس کے قتل کو رکوا دیا۔ نواز شریف کے خلاف قادیانی ٹولہ کبھی سکون سے نہیں سویا ۔یہ ہی وجہ تھی کہ موقع ملتے ہی ایک قادیانی نمک حرام جنرل نے منصوبہ بندی کے تحت پہلے اپنے حواریوں کے ٹولے سے اقامہ پراس کی سیاست کی بساط لپٹنے کی کاروائی کروا ڈالی اور پھر اپنے سلیکٹیڈ نا اہل کو جو آج بھی اسرائیلیوں کا ایجنٹ ہے کو ایک منصوبہ بندی کے تحت پاکستان کے ایوان اقتدار میں لا بیٹھایا ہے۔ یہ پاکستان کو معاشی ،سیاسی،سماجی،معاشرتی ہر لحاظ سے تباہی کا ایجنڈا لے کر آیا ہے۔جس نے کشمیر کو ہندوستان کے حوالے کرنے کے بعد دو منٹ کی خاموشی پر کشمیریوں کے ساتھ دھوکہ بازی کی ہے۔یہ وہ ہی شخص ہے نا جو کہتا تھا مودی الیکشن جیت جائے گا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔اور جب ٹرمپ نے دلاسا دیا تو یہ اپنے آپے میں نہیں تھے ۔کہاں گئی وہ ٹرمپ کی ثالثی کشمیر پر؟اسرائیل کو نا منظور کرنے کے نیازی کے بیان کو سراہاتے ہیں ۔مگر حقیقت یہ ہے کہ جیسے ہی پانسہ پلٹے گا یہ یوٹرن خان یو ٹرن لے لے گا۔جس کو گھٹی میں ہی جھوٹ پلایا گیا ہو وہ سچ کیسے بولے گا کیا؟ اپنی نا اہلی کو نیازی این آر او کی تسبیح کے ورد میں چھپا رہا ہے۔ مگر یہ تماشہ بھی زیادہ عرصہ چلنے والا نہیں


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed

Read More Articles by Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed: 285 Articles with 110167 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Aug, 2020 Views: 287

Comments

آپ کی رائے