نیپال کا بھارت کو منہ توڑ جواب

(Hammad Asghar Ali, Rawalpindi)

بھارتی وزیر خارجہ ’جے شنکر‘ نے 9اگست کو جس طور نیپال کی ثقافتی وراثت پر قبضہ جمانے کی سعی کی اس پر نیپالی حکومت کی جانب شدید ردعمل سامنے آیا اور نیپال کی وزارت خارجہ کی جانب سے باقاعدہ طور پر بیان جاری کر کے کہا گیا ہے کہ ’مہاتما بدھ نیپال میں پید ا ہوئے تھے اور جس طرح بھارت کی جانب مہاتما بدھ کو ہندوستانی قرار دیا گیا ہے وہ نیپالی عوام اور حکومت کو کسی طور قابل قبول نہیں لہذا نیپال بھارتی وزیر خارجہ کے بیان کو مسترد کر تا ہے ۔

وا ضح رہے کہ اس پیش رفت کے فوراً بعد بھارتی وزارت خارجہ نے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ مہاتما بدھ نیپال میں پیدا ہوئے تھے۔سفارتی مبصرین کے مطابق بھارت کی تازہ حرکت کے نتیجے میں نیپالی عوام میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے کیوں کہ 8اگست کو نیپالی وزیر اعظم باقاعدہ طور پر واضح کر چکے ہیں کہ اصلی ایودھیا نیپال میں ہے اور مودی 5اگست کو بابری مسجد کی جائے شہادت پر رام مندر کی تعمیر کا جو ڈرامہ رچایا ہے وہ محض ناٹک ہے لہذا دو ماہ بعد نیپال میں موجود اصلی ایودھیا کی تعمیر کا باقاعدہ کیا جائے گا۔
 
دوسری جانب سنجیدہ ماہر ین کے مطابق چینی افواج نے جس ڈھنگ سے بھارتی فوجیوں کی پٹائی کی، اس نے مودی اور آر ایس ایس کے عزائم کو ایسا دھچکا پہنچایا ہے جس کے اثرات علاقائی اور عالمی منظر نامے پر ایک طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے رہیں گے ۔یاد رہے کہ نیپال کی پارلیمنٹ نے دو تہائی اکثریت سے نیپال کے آئین میں ترمیم کرکے نیا نقشہ جاری کیا تھا جس کے مطابق بھارت کی جانب سے غصب کردہ علاقوں کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ظاہر سی بات ہے کہ یہ بھارتی عزائم کے منہ پر ایسا طمانچہ ہے جس کی تپش آنے والے دنوں میں دہلی کو تادیر محسوس ہوتی رہے گی۔ نیپال جنوبی ایشیاء کا ایک اہم ملک ہے۔ یہ بنیادی طور پر ہمالیہ میں واقع ہے، لیکن اس میں ہند گنگاقی میدان کے کچھ حصے بھی شامل ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے یہ 49 واں بڑا ملک اور رقبہ کے لحاظ سے 93 واں بڑا ملک ہے۔ اس کے شمال میں چین اور جنوب، مشرق اور مغرب میں ہندوستان کی سرحد ہے جبکہ بنگلہ دیش اس کے جنوب مشرقی نوک کے صرف 27 کلومیٹر (17 میل) کے فاصلے پر واقع ہے اور بھوٹان کو ہندوستان کی ریاست سکم نے اس سے الگ کردیا ہے۔
نیپال کا متنوع جغرافیہ ہے، بشمول زرخیز میدانی، سب سبپائن جنگلاتی پہاڑیوں اور دنیا کے دس قد آور پہاڑوں میں سے آٹھ، جس میں ماؤنٹ ایورسٹ شامل ہے، جو زمین کا سب سے اونچا مقام ہے۔دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر کھٹمنڈو ہے۔ نیپال ایک کثیر الثانی ملک(ایک سے زیادہ زبانیں بولنے والا ملک) ہے جس میں نیپالی سرکاری زبان ہے۔نیپال کی قدیم روایات کے مطابق نیپال نام ، جب ہندو مذہب کی بنیاد رکھی گئی تھی، ہندو مذہب کے قدیم صحفیوں میں درج ہے،جس سے اس کی تاریخی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ 2018 میں نیپال کی جی ڈی پی کا تخمینہ 28.8 بلین ڈالر تھا۔
یاد رہے کہ پہلی صدی قبل مسیح کے وسط میں، بدھ مت کے بانی، گوتم بدھ جنوبی نیپال کے لمبینی میں پیدا ہوئے تھے۔ شمالی نیپال کے مختلف حصے تبت کی ثقافت سے جڑے ہوئے ہیں۔ وسطح میں واقع کھٹمنڈو وادی ہند آریائیوں کی ثقافت سے جڑا ہوا ہے۔ قدیم سلک روڈ کی ہمالی شاخ پر وادی کے تاجروں کا غلبہ تھا، میٹروپولیٹن خطے نے الگ الگ روایتی فن اور فن تعمیر کو تیار کیا۔ 18 ویں صدی تک، گورکھا بادشاہت نیپال میں بہت مستحکم تھی۔ البتہ بعد میں برٹش انڈیا بھی اس خطے میں خاصا اہمیت اختیار کر گیا ۔ یاد رہے کہ برطانیہ نے باقاعدہ طور پر نیپال کو اپنا حصہ نہیں بنایا لیکن اس کا اثرو رسوخ بہت تھا اور نیپال چین اور برطانیہ کے درمیان بفر ریاست کے طور پر کام کرتا رہا۔


یاد رہے کہ نیپا ل میں پارلیمنٹری جمہوریت سن 1951 میں متعارف کروائی گئی تھی لیکن 1960 اور 2005 میں دو مختلف مواقع پر نیپال کے بادشاہوں نے جمہوریت کو دو بار معطل کردیا تھا۔ یاد رہے کہ نیپال میں مختلف مواقع پر بھارتی اثر و رسوخ اتنا بڑھ گیا کہ دہلی کے حکمران ٹولے نے 1987-88میں نیپال کی اقتصادی ناکہ بندی کر دی اور اس ضمن میں بھارتی حکمرانوں کا رویہ اتنا منفی بلکہ مکروہ رہا کہ نیپال کے عوام کو نا قابل تصور حد تک مسائل کا سامنا کرنا پڑا مگر دہلی کا حکمران گروہ اپنے غیر انسانی رویوں پر قائم رہا جس کی وجہ سے آگے چل کر نیپا ل کی بھاری اکثریت بھارت سے سخت نفرت کرنے لگی جس کا اظہار وقتا فوقتا نیپالی عوام کی جانب سے ہوتا رہا۔


اس کے بعد یک جون 2001کو بھارتی سازشوں کے نتیجے میں نیپا ل کے بادشاہ اور ان کے پورے خاندان کو قتل کر دیا گیا اور ان کے کزن نے بادشاہت سنبھال لی۔2008 کے اوائل میں نیپال کی کیمونسٹ پارٹی بھاری اکثریت سے جیت گئی اور نیپالی بادشاہت کا مکمل خاتمہ کر دیاگیااور گزشتہ چند برسوں سے اولی نیپال کے وزیر اعظم ہیں اور انہوں نے نیپالی آئین میں ترمیم کرکے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت ان علاقوں کو واپس کرئے جن پر اس نے ناجائز طور پر قبضہ کر رکھا ہے ۔

 
نیپال کا آئین جو سن 2015 میں منظور کیا گیا تھا، اس کی تصدیق نیپال کو سات صوبوں میں تقسیم سیکولر وفاقی پارلیمانی جمہوریہ کے طور پر کرتی ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے 1955 میں نیپال کو آزاد ملک کے طور پر تسلیم کیا۔نیپال جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) کے مستقل سیکرٹریٹ کی میزبانی کرتا ہے نیپال اقوام متحدہ کے امن آپریشن کے لئے ایک اہم شراکت دار رہا ہے.یہ بات خاص طور پر خاصی اہمیت کی حامل ہے کہ نیپال میں ہندو آبادی 90فیصد سے بھی زائد ہے اورچند سال قبل تک نیپال کا سرکاری مذہب ہندو مت تھا مگر کیمونسٹ انقلاب کے بعد سے نیپال کو سیکولر ریاست قرار دیا گیا اور یہ بات بھی بڑی ہی اہم ہے کہ نیپال کے بھارت کے ساتھ تعلقات ہمیشہ کشیدہ ہی رہے ہیں کیوں کہ نیپالی عوام کی اکثریت بھارت کو بجا طور پر ایک جابر اور غاصب ریاست تصور کرتی ہے جبکہ پاکستان اور چین کے ساتھ نیپال کے تعلقاے خاصے بہتر ہیں اور اسی ایک بات سے غالبا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ بھارت اپنے چھوٹے ہمسائیوں کے ساتھ کس قدر توسیع پسندانہ عزائم کا حامل ہے ۔ بہر کیف حرف آخر کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ نیپال ہمالیہ کے سائے میں دنیا کا ایک خوبصورت اور پر امن ملک ہے مگر بد قسمتی سے اسے بھارت جیسا ہمسایہ میسر آیا جو رقبے ، آباد ی اور وسائل کے اعتبار سے تو یقینا بہت بڑا ہے مگر ذہنیت کے اعتبار سے شائد اتنا ہی چھوٹا ہے ۔


بہر حال نیپال کی جانب سے جس طرح بھارت کو دو ٹوک جواب دیا گیا ہے اس کے جنوبی ایشیاء پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے
 

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hammad Asghar Ali

Read More Articles by Hammad Asghar Ali: 14 Articles with 3475 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Aug, 2020 Views: 419

Comments

آپ کی رائے