نشان پاکستان،سید علی شاہ گیلانی اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لئے ان کی تاحیات خدمات قربانیوں کے لئے اعزاز

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

پاکستان نے تحریک آزادی کے تئیں اپنی عقیدت اور عزم کے اظہارکے طور پر 14 اگست کو یوم آزادی کے موقع پربزرگ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی کو ملک کے سب سے بڑے اور معتبر سول ایوارڈ نشان پاکستان سے نوازا۔سید علی گیلانی پہلے اور واحد کشمیری ہیں جنھیں ملک کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دیا گیا۔ جو کہ بھارت کے جبری اور غاصبانہ قبضے کے خلاف بر سرپیکار کشمیریوں کے لئے باعث اعزاز ہے اور پاکستان کے اس عزم کا بھی اظہار ہے کہ وہ کشمیریوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا اور ان کی حق خو ارادیت کی جدوجہد کی کامیابی تک اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ اس سے پہلے نشان پاکستان نیلسن منڈیلا، ملکہ الزیبتھ دوم، شاہ عبد اﷲ، مہاتیر محمد، عبد اﷲ گل، حماد بن خلیفہ الثانی، فیڈل کاسترو، رجب طیب ایردوان، لی پینگ اور مرارجی ڈیسائی سمیت دنیا کے دو درجن کے قریب سربراہان حکومت و مملکت کو دیا گیا ہے۔ سید گیلانی کی جانب سے ایوان صدر میں حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے یہ ایوارڈ وصول کیا۔جناب گیلانی 29 ستمبر 1929 کو شمالی کشمیر کے ایپل ٹاؤن سوپورمیں پیدا ہوئے ۔ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے ایک سخت گیر وکیل بن کر وہ مقبوضہ ریاست میں بھارتی ظلم اور ناانصافی کے خلاف سینہ تان کر کھڑے رہے۔1993 میں کشمیر میں آزادی پسند مختلف گروپوں کی ایک چھتری تنظیم حریت کانفرنس قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 2003 میں گیلانی صاحب نے حریت کانفرنس کو خیر باد کہہ کر پاکستان نواز آزادی پسندجماعتوں پر مشتمل اتحاد حریت کانفرنس (گیلانی)کے نام سے قائم کیا۔انہیں اس گروپ کا تاحیات چیئرمین منتخب کیا گیا، جس میں 24 تحریک پسند جماعتیں شامل ہیں۔دوسرے دھڑے کی قیادت میر واعظ عمر فاروق کر رہے ہیں، جو گذشتہ ایک سال سے نظر بند ہیں۔گزشتہ ماہ پاکستان کے ایوان بالاسینیٹ نے ایک قرارداد منظور کی جس میں سید علی شاہ گیلانی کو ملک کا سب سے بڑا شہری اعزاز، نشان پاکستان دینے کا مطالبہ کیا گیا ۔ اس قرارداد میں، جو حکومت اور اپوزیشن نے مشترکہ طور پر پیش کی، کہا گیا کہ گیلانی کو اقوام متحدہ کی قرارداد وں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لئے ان کی تاحیات خدمات اور قربانیوں کے لئے اعزاز دینے کی ضرورت ہے۔گزشتہ سال 5 اگست کو آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد، سید علی شاہ گیلانی نے شخص نے ''مناسب طریقے سے رد عمل ظاہر نہیں کرنے'' اور ''کشمیری عوام کی رہنمائی نہ کرنے'' پرحریت کانفرنس کے سخت گیر دھڑے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا۔سینیٹ کی قرارداد میں گیلانی کی زندگی اور ان کی ''کشمیریوں کی آزادی کے لئے جدوجہد'' کو بھی پاکستانی اسکولوں کے نصاب میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔قرارداد میں وزیر اعظم ہاؤس اسلام آبادکے قریب مجوزہ پاکستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجیز گیلانی صاحب کے نام پر رکھنے کی بھی سفارش کی گئی۔سینیٹ نے سید علی شاہ گیلانی کو اپنی پسند کی جگہ پر بہترین علاج معالجہ حاصل کرنے میں مددکے لئے عالمی ضمیر کوبیدار کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔سید علی گیلانی کے لئے ایوارڈ، بھارت کی طرف سے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے اور ریاست کو دو علاقوں ،جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کرنے کے اعلان کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر دیا گیا۔اب ہزاروں کی تعداد میں بھارتی شہری جن میں اکثریت انتہا پسند فورسز کی ہے، مقبوضہ ریاست میں زمینیں اور جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ بھارتی شہریوں کو سرمایہ کاری کی آڑ میں اراضی دی جا رہی ہے۔ غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل اسناد دی جا رہی ہیں۔آزادی پسندوں ہی نہیں بلکہ بھارت نواز کشمیریوں پر سخت اور جبری پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ایک سال قبل 5گست2019کو بھارت کی انتہا پسند مودی حکومت نے یو این سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں مسترد کر دیااور ٹرمپ کے ایک شاطرانہ ٹریپ کے طور پر امریکی ثالثی کی مسلسل کئی پیشکشوں کے بعد بالآخر مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کر دی۔ مقبوضہ ریاست کی بھارت کے ساتھ نام نہاد اور مشروط الحاق کی آرٹیکل 370اور 35اے جیسی بنیاد مٹا دی۔ مقبوضہ ریاست کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کو اپنی مرکزی حکومت کے زیر انتظام فاٹا جیسے علاقے بنا دیا۔کشمیر کو کالونی کا درجہ دینے کا یہ فارمولہ گو کہ بی جے پی کے الیکشن منشور میں درج تھا مگراس پر عمل در آمد وزیراعظم عمران خان اور نریندر مودی کی صدر ٹرمپ سے کامیاب قرار دی گئی دوستانہ ملاقاتوں کے بعد ہنگامی طور پر کیا گیا۔ کشمیریوں کی مرضی کے خلاف ان پر پہلی بارریاستی اسمبلی کی منظوری کے بغیر ہی بھارتی قوانین نافذ کر دیئے گئے۔اس سے پہلے بھارت کا کوئی بھی قانون مقبوضہ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی منظوری کے بغیر کشمیر میں قطعاً نافذ العمل نہ ہو سکتا تھا۔ اب بھارتی قوانین یک دم نافذ ہو رہے ہیں۔سرکاری تنصیبات سے کشمیر کا پرچم اتار دیاگیا۔مقبوضہ ریاست میں بھارتی ترنگے لہرا دیئے گئے۔ یہ سب ڈرامہ پہلے گورنر اور پھر صدارتی راج کے دوران رچایا گیا۔ بھارت کی اس وقت 29ریاستیں اور سات مرکز کے کنٹرول والے علاقے ہیں۔ 29ریاستوں میں مقبوضہ جموں وکشمیر بھی شامل تھی۔ اب بھارت نے مقبوضہ جمو ں و کشمیر کو دہلی اور پانڈو چری جیسا مرکزی انتظام والا علاقہ بنا دیا جس کی قانون ساز اسمبلی ہو گی ۔ مگر اسے آئین سازی کا اختیار حاصل نہ ہو گا۔ سٹیٹ اور یونین علاقے میں کافی فرق ہے۔ سٹیٹ ایک آزاد یونٹ ہوتا ہے۔ جس کی اپنی اسمبلی اور حکومت ہو۔ جس کا وزیراعلیٰ ہو۔ سلامتی، صحت عامہ، گورننس ، ریونیو وغیرہ کا وہ خود ذمہ دار ہو۔ اس کا سربراہ گورنر ہوتا ہے۔اس کے برعکس یونین علاقہ پر بھارت کی سنٹرل حکومت کا کنٹرول ہوتا ہے۔ جس کا ایڈمنسٹریٹر لیفٹننٹ گورنر ہوتا ہے۔ جو سنٹرل حکومت کا مقررکردہ اورصدر ہند کا نمائیندہ ہوتا ہے۔ یونین علاقوں کی بھارت کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں کوئی نمائیندگی نہیں ہوتی۔ تا ہم دہلی اور پانڈو چری کی نمائیندگی ہے۔ تعلیم اور میونسپل معاملات چیف منسٹر دیکھتا ہے اور سلامتی سمیت دیگر امور لیفٹننٹ گورنر کی سفارش پر مرکزی حکومت دیکھتی ہے۔ سٹیٹ کا اپنا ایڈمنسٹریٹو یونٹ ہوتا ہے جس کی اپنی منتخب حکومت ہوتی ہے۔ یونین علاقہ کو سنٹرل حکومت کنٹرول کرتی ہے اور انتظام چلاتی ہے۔ سٹیٹ کا ایگزیکٹو سربراہ گورنر اور یونین کا صدر ہوتا ہے۔ سٹیٹ کو اٹانومی حاصل ہوتی ہے مگر یونین کو یہ خودمختاری حاصل نہیں۔ بھارت نے دہلی کی طرح اب مقبوضہ جموں و کشمیر کے اختیارات چیف منسٹر اور گورنر کے درمیان تقسیم کر دیئے۔ اب بھارتی آئین مقبوضہ جموں و کشمیر پر من و عن نافذ العمل ہو گا۔ مقبوضہ جمو ں و کشمیر میں صرف بھارت کا پرچم لہرائے گا۔ بھارت کی حکومت کی جانب سے اپنے آئین میں مقبوضہ جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی پوزیشن کے خاتمے پر بڑے زور و شور سے بحث و مباحثہ جاری رہاہے۔بھارت کی ناگالینڈ، میزورم، سکم، ارونا چل پردیش، آسام، منی پور، آندھرا پردیش، گوا جیسی ریاستوں کو آئین کی دفعہ 371کی زیلی سیکشن اے، سی، جی کی مختلف شقوں کے تحت خصوصی پوزیشن حاصل ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی وجہ سے آج تک بھارت آبادی کے تناسب کو تبدیل نہ کر سکا اور جموں و کشمیر کی سٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت شناخت قائم رہی۔ بھارت عدلیہ کی مدد سے ایسا چاہتا تھا۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ آف انڈیا میں ایک درخواست دائر کی گئی۔ جس میں عدالت سے بھارتی آئین کی دفعہ 35اے ختم کراناتھی۔ اس کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں مسلسل ہڑتالیں اور مظاہرے ہو ئے۔ احتجاج میں جموں خطے کے عوام بھی شامل ہو گئے ۔ جموں کی بار ایسو سی ایشنز بھی میدان میں آئیں۔ عوام کو خدشہ تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ اس بار بھی عوام کی تسکین کے لئے فیصلہ کشمیر کے بجائے بھارتی عوام کے مفاد میں کر ے گی۔ ایسا اس نے پہلے بھی کیا ہے کہ جب بھارتی عوام کی خواہش کے مطابق انصاف کے تقاضوں کے برعکس فیصلہ کیا گیا۔ کشمیری حریت پسند محمد افضل گورو کو اسی فیصلے کی روشنی میں پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ مقبوضہ جموں کشمیر کی آئینی پوزیشن کو کھوکھلا کر نے کی بد نیتی سے بھارت نے اس میں اتنی ترامیم کی ہیں کہ آئین ہند کا آرٹیکل 370 ایک مذاق بن کر رہ گیاتھا۔ سب سے پہلے غلام محمد صادق حکومت میں مقبوضہ کشمیر سے وزیر اعظم اور صدر ریاست کے عہدے چھین لئے گئے،اس سے پہلے مقبوضہ ریاست میں وزیراعلیٰ کے بجائے وزیراعظم اور گورنر کی جگہ صدر کے عہدے تھے۔مقبوضہ جموں وکشمیر کے آئین کو بے بال وپر بنانے کے لئے کم و پیش 350 بھارتی ایکٹ ریاست پر لاگو کئے گئے۔ اس آرٹیکل کو 14 مئی 1954ء کوبھارت کے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے دفعہ 370 کی بنیاد پر آئین ہند میں شامل کیا گیا۔ 35A کے تحت جموں کشمیر کی ریاست کے پشتینی باشندوں کو خصوصی مراعات اور حقوق فراہم کرنے کا آئینی و قانونی سہارا دیا۔ آئین ہند کے آرٹیکل 35A کی وجہ سے کوئی بھی غیر ریاستی غیر کشمیری باشندہ ریاست جموں و کشمیر میں جائیداد خرید نہیں سکتا تھا، ریاستی حکومت کے تحت چلنے والے پروفیشنل کا لجوں میں داخلہ نہیں حاصل کر سکتاتھا، غیر ریاستی فرد سکالر شپ حاصل کرنے کا حق دار نہیں تھا، سرکاری ملازمت نہیں کرسکتاتھا،مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی اور پنچایتی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکتاتھا۔اگر کوئی ریاستی خاتون کسی غیر ریاستی شہری سے شادی رچائے تو وہ پشتنی باشندہ حقوق سے محروم ہو جاتی تھی۔اسی بنا پر بھارتی سپریم کورٹ میں ایک ایسی ہی کشمیری خاتون نے اس قانون کو چیلنج کیا جس کی شادی غیر ریاستی سے ہوئی۔ اب کشمیرمیں غیر ریاستی باشندوں کو بسانے کی قانونی راہیں کھول دی گئی ہیں ۔جس سے ریاستی عوام کے تمام قانونی حقوق پامال ہو کر رہ جائیں گے۔یہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب بگاڑ نے کا اوچھاحربہ ہے ۔جس کا مقصد جموں وکشمیر کی انفرادیت و تشخص ہمیشہ کیلئے ختم کر نا ہے۔ یہ سب مقبوضہ کشمیر میں اسرائیل طرز پر ہندو آبادی کو بسانے اور کشمیری مسلم آبادی کو اقلیت میں بدلنے کی مہم ہے۔ ایک سال گزرنے کے باوجود اس سنگین مسلہ کو دلائل اور سنجیدگی کے ساتھ دنیا کے سامنے نہ لایا جاسکا۔ توقع تھی کہ عمران خان اور ان کے رفقاء اس جانب فوری توجہ دیں گے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے مثبت نتائج بر آمد ہوں گے۔ اگر بقول عمراں خان حکومت ، اس نے دنیا کو آگاہ کیا ہے۔ مگر کسی سفارتی اور سیاسی کوشش کے مثبت نتائج سامنے نہیں آ سکے ہیں۔بھارت نے وادی کشمیر کو غزہ کی پٹی بنا دیا ہے۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کو مسترد کرتے ہوئے کشمیر کو اپنی کالونی کا درجہ دے دیا ہے۔ کشمیر کا دنیا سے مواصلاتی رابطہ، انٹرنیٹ، ٹیلیفون، موبائل سروس بندشوں اور پابندیوں کی زد میں ہے۔ تا کہ بھارتی فورسز کو کشمیریوں کے قتل عام کو تیز کرنے کا موقع مل سکے اور دنیا کو کچھ پتہ ہی نہ چلے۔

سید علی شاہ گیلانی کو پاکستان نے ان حالات میں ملک کے سب سے بڑے سول ایوارڈ سے نوازا۔ جو کہ پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا منفرد انداز ہے۔یہ ایوارڈ ایسے موقع پر دیا گیا جب سید علی شاہ گیلانی کے 29جون کو حریت کانفرنس(گیلانی) سے17سال بعد مستعفی ہونے کے اچانک اور غیر متوقع اعلان پر دنیا بھر میں کشمیر سے دلچسپی رکھنے والوں میں بحث و مباحثے اور تبصرے ہو رہے ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں پر حاوی قومی سوچ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات وسانحات، بے مثال قربانیاں، بے پناہ تباہیاں اور ان کے نتائج سید علی گیلانی کی ذات سے منسوب ہیں۔ انہوں نے آدھی صدی پر چھائے ہوئے قومی ہیرو شیخ محمد عبداﷲ، جنھوں نے فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں جواہر لال نہرو کے نمائیندہ کے طور پر لیاقت باغ راولپنڈی میں وزیر مہمانداری ذوالفقار علی بھٹو شہید کی موجودگی میں لاکھوں کے مجمع سے خطاب کیا اور جو کبھی کشمیریوں کے لئے’’ شیر کشمیر‘‘ بھی تھے اور’’ ایشیاء کا بلند ستارہ ‘‘بھی،مگر گیلانی صاحب نے ان کی عوامی مقبولیت، محبت، عقیدت اور عظمت، اس کے سیکولر نظر یات، اعتدال پسند مذہبی خیالات،ترقی پسند سیاسی عقائد اور پرامن سیاسی حکمت عملی سمیت دلوں سے کھرچ کر نظام مصطفیٰ ؐکا نفاذ، کفر و ایمان کے عقائد، الحاق پاکستان کی سیاست اور بندوق کی حکمت عملی دلوں اور ذہنو ں پر قائم کرکے آزادی کا سنہرا خواب قوم کی آنکھوں میں سجایا اور رہبر انقلاب کا لقب حاصل کرلیا۔انہوں نے سارا ماضی لپیٹ کر اپنی نئی سوچ کا جھنڈا بلند کردیا۔انہوں نے جو کہا، اس پر آمنا و صدقنا کہا گیا اور انہوں نے جو بھی چاہا وہی ہوا۔گو کہ ان کے سیاسی عروج کے پیچھے کئی دوسرے عوامل کا بھی عمل دخل تھا ،لیکن انہیں شہرت، مقبولیت اور محبت کے اعلیٰ مقام تک پہنچانے والی ان کی جو ادا تھی،وہ یہ تھی کہ وہ سیاست کے اسرار و رموز کی گہرائیوں میں اترنا نہیں جانتے تھے۔وہ نتائج و عواقب کی پرواہ کئے بغیر بھارت کو للکارتے تھے۔ اُسے غاصب قرار دیکر کشمیر چھوڑنے کا مشورہ دیتے تھے۔اس کی طرف سے مذاکرات کی پیش کش کو پائے حقارت سے ٹھکراتے تھے۔ اس کے صف اول کے قائدین کے لئے اپنا دروازہ بند کردیتے تھے۔اس جرات رندانہ نے ان کا سیاسی قد شیخ محمد عبداﷲ سے کافی بلند کردیا جو اس سے پہلے جرات، ہمت اور عزم کی علامت تھے۔

سیدعلی گیلانی کی آزادی پسندی اور تحریک نوازی ایسی ہے کہ ان کی شخصیت ہمیشہ بے داغ رہی ہے۔ سیاسی حریف بھی ان پراپنے موقف سے زرا بھر لغزش دکھانے ، جھکنے یامعمولی کرپشن کا الزام نہ لگا سکے۔گیلانی صاحب نے حریت فورم سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے جو کہا وہ کافی دلچسپ اور فکر انگیز ہے۔وہ حریت(گ) کے تا حیات چیئر مین تھے۔پاکستان اور آزاد کشمیر میں ان کے ترجمان اور حریت کانفرنس (گ) کے کنوینئر عبد اﷲ گیلانی تھے۔ جنھیں کچھ عرصہ قبل اچانک کنوینئر شپ سے برطرف کر کے ان کی جگہ محمد حسین خطیب کو قائم مقام کنویئنر مقرر کیا گیا۔ جس بارے میں گیلانی صاحب کو اعتماد میں نہ لیا گیا۔گیلانی صاحب نے اپنے ایک حالیہ مکتوب میں تحریر کیا’’نہ ہی قلب و ذہن کی قوت موقوف ہوئی ہے اور نہ ہی میرے جذبہ حریت میں کوئی ضعف آیا ہے،اس دارالافانی سے رحلت تک میں بھارت مخالف رہوں گا اور پوری قوم کی رہنمائی کا حق حسب استطاعت ادا کرتا رہوں گا‘‘۔مکتوب میں کہا گیا کہ عبداﷲ گیلانی،پاکستان و آزاد کشمیر اور بیرون ممالک میں انکی نمائندگی بدستور ادا کرتے رہیں گے۔91برس کے سید علی گیلانی نے اپنی سیاسی زندگی میں کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ 29 ستمبر1929میں شمالی کشمیر کے ڈورو سوپور گاؤں میں پیدا ہونے والے گیلانی نے آرینٹل کالج لاہور سے عالم کی ڈگری حاصل کی ۔ابتداء میں ہی جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی،اور ایک داعی کی حیثیت سے شعلہ بیان وعظ و تبلیغ کے مقرر کے طور پر خود کو متعارف کرایا۔1950 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں سیاست میں قدم رکھا اور1962میں پہلی مرتبہ گرفتار ہونے کے بعد وقفہ وقفہ سے زائد از10 برس جیل میں گزارے۔ انتخابی سیاست میں بھی شرکت کی اور جماعت اسلامی کی ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑے اور 3بار 1972،1977اور1987میں مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے ممبر بنے ۔1989میں انہوں نے بطور احتجاج رکن اسمبلی کی حیثیت سے استعفیٰ دیا،جس کے بعد انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔1990میں گرفتار ی کے بعد1993میں حریت کانفرنس کی داغ بیل ڈالی گئی اور میر واعظ عمر فاروق،محمد یاسین ملک،مولوی عباس انصاری،مرحوم خواجہ عبدالغنی لون اور ایس حمید کے ہمراہ اس پلیٹ فارم سے مزاحمتی سیاست کی۔ سال 2003 میں بعض آزادی پسند جماعتوں نے متحدہ حریت کانفرنس سے کنارہ کشی اختیار کر کے حریت کانفرنس (گ) کی بنیاد ڈالی جس کی سربراہی سید علی گیلانی کو سونپی گئی۔ بعد میں گیلانی نے 7 اگست 2004 کو جماعت اسلامی جموں وکشمیر کے ساتھ ایک تحریری مفاہمت کے بعد تحریک حریت جموں و کشمیر کو منصہ شہود پر لایا اور وہ اس کے بھی چیئرمین مقرر ہوئے۔ تاہم 19 مارچ 2018 کو اپنی جگہ اپنے دست راست محمد اشرف صحرائی کو تحریک حریت جموں وکشمیر کا عبوری چیئرمین مقرر کیا جو آج تک اس عہدے پر بدستور فائز ہیں۔2016میں ایک متحرک اور فعال متحدہ مزاحمتی قیادت بھی تشکیل دی گئی،جو حریت (گ)،حریت (ع) اور لبریشن فرنٹ پر مشتمل مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم تھا۔گو کہ گیلانی صاحب کی صحت گزشتہ کچھ عرصہ سے ٹھیک نہیں چل رہی ہے جبکہ وہ سال2010سے اپنے ہی گھر کے اندر نظر بندی کے ایام گذار رہے ہیں۔مگر ان کے عزائم آج بھی چٹان جیسے سخت اور بلند ہیں۔ سال2010میں نئی دہلی میں ایک سمینار میں خطاب پر سید علی گیلانی سمیت معروف قلمکار ارونا دھتی رائے اور ماؤ نواز واراویرا پر بغاوت کا مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ سید علی گیلانی نے ایک درجن سے زائد از کتابیں تصنیف کی ہیں،جن میں ا ن کی سوانح حیات’’ ولر کنارے ‘‘کے علاوہ جیل میں بتائے ایام پر مبنی روداد قفس ، دید و شنید،صدائے درد اور مقتل سے واپسی قابل ذکر ہیں۔جب حریت کانفرنس کا قیام عمل میں آیا توسید علی شاہ گیلانی اس وقت سینئر ترین لیڈر تھے، خواجہ عبدالغنی لون، پروفیسرعبد الغنی، مولانا عباس انصاری بھی تھے، آپسی کشمکش کے نتیجے میں کمسن میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق کو نامزد کیا گیا اور یہ فیصلہ گیلانی صاحب اور دیگر نے تحریک کے مفاد میں قبول کیا۔خواجہ عبدالغنی لون کے قتل کے بعد گیلانی صاحب نے خود کو حریت سے الگ کردیا اور حریت (گ)کے نام سے ان کا الگ گروپ قائم ہوا۔ میر واعظ نے اپنے گروپ کو حریت (ع) یعنی عمر کے نام سے منسوب کیا۔گیلانی صاحب کے گروپ کی شناخت سخت گیر گروپ کی تھی۔حزب المجاہدین کی وسعت اور جماعت اسلامی کی بالائے زمین قوت اس کی حامی تھی چنانچہ گیلانی صاحب تحریک مزاحمت کے روح رواں بن کر ابھر آئے۔اس کے بعد عسکری تحریک میں بھی شدت پیدا ہوئی اور غیر عسکری شدت پسند ی کا رحجان بھی تیزی کے ساتھ فروغ پایا۔پتھر بازی کا منظم گروپ وجود میں آیا اور ایک غیر منظم اور نامعلوم بالائے زمین گروپ ابھر آیا جوہڑتالی کلینڈر کامیاب بنانے اور مخالف آوازوں کو قابو میں کرنے کیلئے متحرک تھا۔اب مقبوضہ کشمیر کے شہری براہ راست دہلی کے کنٹرول میں ہیں۔اب وہاں بھارت کی طرف سے نوجوانوں کے منشیات میں غرق کرنے، شراب خانے، جوا خانے کھولنے کا گھمبیر مسئلہ سامنے ہے۔ بے روزگاری ہے اور بے کاری ہے۔معاشی بدحالی ہے اور کسمپرسی ہے۔بھارتی فورسز سیب کے باغات کو کاٹ رہے ہیں۔ ان نئے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لئے کس سے امید باندھیں۔چین کی فوجی کاروائی سے دلوں کو بہلانے والے بہت ہیں۔سب کو اﷲ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے۔ حساب دینا ہے۔ پتہ نہیں ہم کس منہ سے پیش ہوں گے اور کیا حساب دیں گے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 545 Articles with 194859 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
27 Aug, 2020 Views: 155

Comments

آپ کی رائے