سونا کتنا سونا ہے؟

(Sarwar Siddiqui, Lahore)

 یہ تو ہرکوئی جانتا ہے کہ قیمتی دھات سونے کی قیمتیں دن بہ دن بڑھتی ہی چلی جارہی ہیں جس سے ترقی پذیرممالک میں افراط ِ زر میں اضافہ ہورہاہے جو ان کی معیشت کو نگل رہاہے کیونکہ عالمی سطح پر ایک اصول وضح کیاگیا ہے کہ جس ملک کے پاس سونے کے جتنے ذخائرہوں وہ اتنے ہی کرنسی نوٹ چھاپ سکتاہے تاکہ مالیاتی توازن قائم رہ سکے تیسری دنیا کے بیشترممالک اپنے بجٹ کا خسارا پورا کرنے کیلئے دھڑادھڑ نوٹ چھاپتے چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان ملکوں میں مہنگائی ،بروزگاری اور غربت میں مسلسل اضافہ ہوتا چلاجارہاہے ۔ پچھلے دو برسوں کے دوران سونے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا سبب چین، امریکہ اور خلیجی ممالک کی حدسے زیادہ خریداری ہے جس کی وجہ سے دنیا میں ایک بحرانی کیفیت پیداہورہی ہے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کا خبط بھی اس کی ایک وجہ ہے جس طرح نت نئے ہتھیاروں کی ایجادات اور ان کا حصول ایک جنون بن گیاہے اسی طرح سونے کے ذخائر جمع کرنا بھی مضبوط معیشت کے حامل ملکوں کا شوق بن گیا ہے جس میں چھوٹے، غریب اور تیسری دنیا کے ممالک پس رہے ہیں سونا چاندی اور قیمتی جواہرات جمع کرنے کا شوق انتہائی قدیم تصورکیاجاتاہے ماضی کے بادشاہ، راجے، مہاراجے اورمالدار لوگ اسی خبط میں مبتلارہتے تھے ۔ کہاجاتاہے کہ لیبیا کے صدر کرنل معمر القذافی دنیا میں ایک نئی کرنسی متعارف کروانا چاہتے تھے جو کرنسی نوٹوں کی بجائے سونے کے سکوں پر مشتمل ہونا تھی انہوں نے اس کے لئے تمام تیاریاں بھی کرلی تھیں لیکن وقت سے پہلے یہ منصوبہ لیک ہوگیا جس پر امریکہ نے ان کے خلاف بغاوت کروادی کیونکہ سونے کے سکوں پر مشتمل کرنسی چند دنوں میں ہی دنیا کی سب سے مضبوط کرنسی بن جانا تھی۔ لیبیا کے صدر کرنل معمر القذافی ایک فعال،متحرک اور زیرک رہنما تھے وہ ریاستہائے متحدہ افریقہ بنانے کے بڑے حامی تھے انہیں 53 افریقی ممالک پر مشتمل افریقی اتحاد کا چیئرمین منتخب کیا گیا تو عالمی طاقتوں نے انہیں اپنے راستے سے ہٹانے کافیصلہ کرلیا 2011ء میں نیٹو اور قبائلی باغیوں نے قذافی کے خلاف جنگ شروع کر دی۔ 20 اکتوبر 2011ء کو اپنے آبائی شہر سرت میں حملہ آوروں کا مقابلہ کرتے ہوئے قذافی شہید ہو گئے۔سونے کے سکوں پر مشتمل کرنسی کا منصوبہ کامیاب ہوجاتا تو وہ پوری دنیا پر چھا جاتے ۔چونکہ سونے کو ہمیشہ سے سب سے محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے اور حالیہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران پیدا ہونے والے معاشی بحران کی وجہ سے دنیا بھر میں سرمایہ کار اور ممالک اپنی سرمایہ کاری کو سونے میں تبدیل کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کاروں کی ترجیح میں تبدیلی اور پھر امریکا چین تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے سونے کی قیمتیں اس وقت اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ ورلڈ گولڈ کونسل نے دنیا کے ایسے ممالک کی فہرست جاری کی ہے جن کے پاس سونے کے سب سے زیادہ ذخائر موجود ہیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ گولڈ کونسل اعداد و شمار کے مطابق اگست 2020 میں سونے کے سب سے بڑے ذخائر 8133.5 ٹن امریکا کے پاس ہیں جو کہ اس کے مجموعی ذخائر کا 79 فیصد بنتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر جرمنی ہے جس کے پاس 3363.6 ٹن یعنی ذخائر کا 75.6 فیصد، اٹلی کے پاس 2451.8 ٹن یعنی 71.3 فیصد، فرانس کے پاس 2436 ٹن یعنی ذخائر کا 65.5 فیصد، روس کے پاس 2299.9 ٹن یعنی ذخائر کا 23.0 فیصد، چین کے پاس 1948.3 ٹن یعنی ذخائر کا 3.4 فیصد ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کے پاس 1040.0 ٹن یعنی ذخائر کا 6.5 فیصد، جاپان کے پاس 765.2 ٹن یعنی ذخائر کا 3.2 فیصد، بھارت کے پاس 657.7 ٹن یعنی ذخائر کا 7.5 فیصد، نیدرلینڈز کے پاس 612.5 ٹن یعنی ذخائر میں سے 71.4 فیصد، ترکی کے پاس 583.0 ٹن یعنی ذخائر میں سے 37.9 فیصد، تائیوان کے پاس 422.7 ٹن یعنی ذخائر میں سے 4.7 فیصد۔ پرتگال کے پاس 382.5 ٹن یعنی ذخائر میں سے 77.7 فیصد، قازقستان کے پاس 378.5 ٹن یعنی ذخائر میں سے 65.5 فیصد، ازبکستان کے پاس 342.8 ٹن یعنی ذخائر میں سے 60 فیصد، برطانیہ کے پاس 310.3 ٹن یعنی ذخائر میں سے 10.2 فیصد، لبنان کے پاس 286.8 ٹن یعنی ذخائر میں سے 1.6 فیصد اور دنیا میں 35017.79 ٹن سونے کے ذخائر ہیں۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے جاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اس فہرست میں 44 ویں نمبر پر ہے اور اس کے پاس اس وقت 64.6 ٹن سونے کے ذخائر ہیں جو کہ اس کے مجموعی ذخائر کا 20.7 فیصد بنتے ہیں۔ جنوبی ایشیاء کے قریباً تمام کو ممالک کو مہنگائی ،بروزگاری اور غربت کا سامناہے جس کی وجہ سے اربوں لوگ زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں یہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتیں اپنے اپنے شہریوں کی آمدن بڑھانے کیلئے خصوصی اقدامات کریں جب تلک لوگوں کی معاشی ضروریات پوری نہیں ہوں گی وہ خوشحال نہیں ہوسکتے سونا ہرگھرکی ضرورت ہے شادی بیاہ کی خوشیاں اس کے بغیر نامکمل سمجھی جاتی ہیں جس رفتار سے سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہورہاہے غریبوں میں احساس ِ محرومی بڑھ رہاہے وہ وقت دور نہیں جب لوگ دور سے سنارکی دکانوں پر ہی دیکھا کریں گے اور نہ جانے کتنی دلہنیں سونا پہنے کی حسرت لئے ڈولی میں بیٹھی رولڈگولڈ کے بنے زیورات پہن کرپیاگھر سدھاریں گی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sarwar Siddiqui

Read More Articles by Sarwar Siddiqui: 217 Articles with 57514 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Sep, 2020 Views: 85

Comments

آپ کی رائے