لیڈر بننا ہے

(Muddasir Ahmed, India)

آزادی کے بعد سے اب تک مسلمانوںمیں اکثر یہ سوال گھومتا رہتاہے کہ مسلمانوںمیں قیادت کیوں نہیں ہے،مسلمانوں کاکوئی قائد کیوں نہیں ہے اور مسلمان کیوںا تنے پسماندہ ہیں؟۔بہت سوچنے کے بعد ہمارے ذہن میں جو بات آئی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا کوئی قائد کہیں بھی نہیں ہےاور نہ ہی مسلمانوں نے اس جانب توجہ دینے کی ضرورت محسوس کی ہے۔دراصل مسلمانوں نے قیادت اور قائد کے معنوں کو سمجھنے کی جرت ہی نہیں کی ہے،یہی وجہ ہے کہ اُمت مسلمہ آج قائدانہ صلاحیتوں سے محروم ہوچکی ہے۔ہماری اور آپ کی نظرمیں قیادت کے معنی ہیں ایم ایل اے بننا،ایم پی یا ایم ایل سی یا پھر کم از کم کارپوریٹر یا کائونسلر بنناہے۔ان تمام کے علاوہ قائد کا مطلب یہ بھی ہے کہ مسجد کا صدر بننا یا پھروقف بورڈکا رکن یا صدر بنناہے۔اگر ان شعبوںمیں ہماری قیادت دکھائی دیتی ہے تو ہم لیڈر یا قائد کہلاتے ہیں،ورنہ ہماری کوئی اوقات نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان قوم سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والی سب سے زیادہ پسماند ہ قوموںمیں شمار ہونے والی قوم ہے۔ہم کونسی قیادت کی بات کررہے ہیں یہ سب سے پہلے سوچنے کی ضرورت ہے،بازاروںمیں جائے تو وہاں مسلمان دکاندار ہونے کے باوجود دکانداروں کے اسوسیشن میں مسلمانوں کی قیادت نہ کہ برابرہے ،جو قوم سب سے کمتر یا کمزور مانی جاتی تھی اُس قوم کے لوگ آج مسلمانوں پر راج کررہے ہیں،مارواڑی،برہمن،دلت و جین جیسی قومیں آج تجارت کے شعبے میں اپنا پرچم لہراچکے ہیںاور مسلمان جن کے یہاں تجارت سب سے برکت والی اور سُنت مانی جاتی ہے اُس تجارت کوکرنے والے مسلمان سب سے پیچھے ہیں۔ڈاکٹری کا پیشہ لیں یا انجینئرنگ کا شعبہ،ہر جگہ پر مسلمان رہ کر بھی آگے نہیں بڑھتے اور وہ اپنی لیڈر شپ کو پیش کرناہی نہیں چاہتے۔جبکہ دوسروں کے یہاں ایسے حالات بالکل بھی نہیںہوتے،دوسری قومیں اپنے ایک فرد کو لیکر یا ایک فرد اپنی پوری قوم کو لیکر قیادت کرتا رہتا ہے،جس کے نتیجہ میں قیادت کا ایک ایسا چین لنک قائم ہوتا ہے کہ لوگ اس چین لنک سے اپنے وجود اور قیادت کو چوٹی پر پہنچا دیتے ہیں۔بتائیے کہ کیاانڈین میڈیکل اسوسیشن میں مسلمانوںکی قیادت ہے؟کیا جرنلسٹ اسوسیشن یا پریس گلڈ آف انڈیامیں مسلمانوںکی نمائندگی ہے؟کیا انجینئرس اسوسیشن میں مسلمان لیڈر بننا تو دور کم ازکم ممبر شپ لئے ہوئے ہیں؟چیمبر آف کامرس میں کتنے مسلمان سرگرم ہیں؟۔وکلاء تنظیموںمیں مسلمانوںکی نمائندگی کی شرح کیاہے؟۔سرکاری ملازمین تنظیموںمیں مسلمانوںکی نمائندگی کیا ہے،اگر ہے بھی تو کتنے اراکین الیکشن کے ذریعے سے آتے ہیںاور کتنے منتخب ہوکر آتے ہیں؟۔یونیورسٹیوں سے لیکر پرائمری اسکولس تک کہ تعلیمی اداروں کا کیاکوئی آیکٹیو ادارہ ہے ؟کتنے مسلمان سائنس کےمیدان میں نمائندگی کررہے ہیں؟یہ سب ایسے سوالات ہیں جن کا پوری قوم کے پاس جواب نہیں ہے،ہر کوئی احساس کمتری کا شکارہے،اگر کسی کے سامنے یہ کہہ جائے کہ ہم تمہیںلیڈر بناناچاہتے ہیں تو ہر ایک کی سوچ گرام پنچایت،تعلق پنچایت،میونسپل کائونسل،کارپوریشن یا ایم ایل اے کی ٹکٹ پر جا کھڑی ہوتی ہے اور ہر کوئی صرف اور صرف سیاسی میدان میں ہی لیڈ بننا چاہتے ہیں۔یہ تمام زمرے چھوڑئیے ،ہمارےجو شرعی قائد ہیں انہیں ہی ہم قائد ماننے کیلئے تیارنہیں ہیںاور وہ خود بھی اپنے آپ کو محدود کئے ہوتے ہیں۔دراصل آج اُمت کو ایم ایل اے،ایم پی،کارپوریٹرس کی اشد ضرورت نہیں ہے ،سڑکیں بنانا،کچراصاف کرنا،پانی مہیاکرنایہ کام تو کوئی بھی کرسکتا ہے،اگر ایم ایل اے ایم پی یا کارپوریٹر نہ ہو تو تب بھی پینے کا پانی ملتا ہے،سڑکیں صاف رہتی ہیں،اصل ضرورت تو ہمارے اپنے مسائل کو حل کرنے والے لوگوںکی ہے۔اگر ایسے لوگ ہمارے درمیان پیدا ہونے لگے گیں تو یقین جانیے کہ اُمت مسلمہ کو قیادت کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔جب ہر شعبہ سے ایک قائد بن کر نکلتا ہےاور ہر شعبے کے لوگ اپنے درمیان والوں کو قائد ماننے لگیںگے تو یقیناًہمارے درمیان ایم ایل اے ایم پی بنانے کی خودبخود طاقت آجائیگی۔اس کیلئے ہمیں بنیادی سطح پر کام کرنا ہوگااور یہ بنیادی سطح تعلیمی میدان سے شروع ہوتی ہے اور تعلیم کو ہی ہماری زندگی کا مقصد بناناہوگا۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muddasir Ahmed

Read More Articles by Muddasir Ahmed: 138 Articles with 38212 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Sep, 2020 Views: 329

Comments

آپ کی رائے