ڈینگی،علامات،احتیاط اور علاج

(Dr M Ikram, Lahore)

 چندسال قبل پاکستان میں تیزی کے ساتھ متعارف ہونے والے وبائی مرض ڈینگی کے متعلق مکمل معلومات رکھناہم سب کیلئے انتہائی ضروری ہے تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں خود کواور اپنے پیاروں کوجانی نقصان سے بچایاجاسکے۔کسی بھی مصیبت یابیماری کے متعلق پیشگی معلومات ہوناانسان کیلئے انتہائی مفیدثابت ہوتیں ہیں۔بدلتے موسم کے ساتھ ہی ڈینگی مچھرکی افزائش اور حملوں میں شدیداضافہ ہوجاتاہے اس لیے بروقت ڈینگی بخارکے متعلق آگاہی حاصل کرنالازم ہے لہٰذاآج ہم اسی موضوع پر بات کریں گے بات کریں گے ڈینگی کی اقسام ،تشخیص،علاج اوراحتیاط کے حوالے سے اورپوری کوشش ہوگی کہ قارئین تک مکمل معلومات پہنچ جائیں (ڈینگی کی اقسام اور پھیلاؤ)ڈینگی وائرس وائرس کی فیملی فلیوی۔ویریڈی کے ممبر ہیں اور ان کا جینس فلیوی۔وائرس ہے۔ یہ انتہائی چھوٹے ایک پٹی پر مشتمل آر۔این۔اے سے ملکر بنے ہوتے ہیں۔ انسانوں میں یہ وائرس مچھروں کے ذریعے پھیلتا ہے۔ یہ وائرس دلیوڑی کے وقت یا حمل کے دوران ماں سے بچے میں بھی پھیل سکتا ہے(بیماری کی علامات)یہ ہڈی توڑ بخار، ڈینڈی فیور، ڈینگی ہیمریجک فیور اور ڈینگی شاک سنڈروم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ذیادہ تر ٹراپیکل اور سب۔ٹراپیکل موسمی حالات میں شہری علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ تمام عمر کے افراد جو کہ متاثرہ مچھر تک رسائی رکھتے ہیں اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ بیماری ذیادہ تر ایشیاء اور جنوبی امریکہ کے ٹراپیکل علاقوں میں بارشوں کے موسم میں ہوتے ہیں جہاں وہ مخصوص مچھر ذیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔یہ وائرس متاثرہ مادہ مچھروں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے جبکہ انسانوں میں یہ اچھوت کی شکل اختیار نہیں کر سکتی۔ وائرس کے خون میں داخل ہونے اور علامات ظاہر ہونے تک کا دورانیہ 14۔3 دن ہے جبکہ بیماری کا دورانیہ 7۔3 دن ہے۔علامات میں شدید سر درد، ہڈیوں جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، آنکھ کے پیچھے شدید درد، جسم پر ریشم اور مختلف اشکال اور سائز کے نیل پڑ جانا، ناک سے خون نکلنا، مسوڑوں سے خون رسنا، پیشاب میں خون آنا اور بازو پر پٹی باندھنے والا ٹیسٹ پوزیٹو آنا قابل ذکر ہیں(تشخیص)ڈینگی کی تشخیص ذیادہ تر جسمانی معائنے اور علامات کو مدنظر رکھتے ہوئے کلینک میں ہی کی جاتی ہے لیکن سی۔بی۔سی کی رپورٹ بھی تشخیص میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور اس میں خون کو جمانے والے خلیے- پلیٹلیٹس - کی تعداد نمایاں طور پر کم ہوتی ہے۔ ٹارنیکویٹ ٹیسٹ۔بلڈ پریشر ماپنے والا آلہ بازو پر باندھ کر اس میں ہوا بھری جاتی اور نتی جتا بازو پر پڑنے والے نیلگوں نشانات گنے جاتے ہیں اور اگر یہ ایک انچ میں 20۔10 ہوں تو ڈینگی کی تشخیص کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
علاج
علاماتی علاج
او۔آر۔ایس
شدید کمی کی صورت میں انتقال خون

یاد رکھیں کسی بھی بیماری کاعلاج فقط ڈاکٹرزہی کرسکتے ہیں خودسے علاج انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتاہے لہٰذاڈینگی بخارکی کوئی ایک علامت بھی طاہرتوفوری ڈاکٹرسے رابطہ کرناچاہیے(بیماری کا نتیجہ)ذیادہ تر افراد بالکل تندرست ہو جاتے ہیں۔ جبکہ شرح اموات 5۔1 فیصد ہے جو کہ مکمل علاج سے 1 فیصد سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ تاہم اگر بلڈ پریشر خاصا کم ہو جائے تو اموات کی شرح بڑھ کر 26 فیصد تک چلی جاتی ہے(احتیاط)پورے بازوں والی قمیضیں پہنیں اور پوری ٹانگوں کو ڈھانپنے والی پینٹس کا استعمال کریں۔اپنے کپڑوں پر مچھر مار ادویات یا سپرے(پرمیتھرن) کا چھڑکاؤ کریں۔ای۔پی۔اے سے منظور شدہ مچھر مار ادویات جیسا کہ ڈیٹ کا استعمال کریں اگر آپ کے علاقے میں مچھر کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں تو مچھر دانی کا استعمال لازمی کریں۔ اپنے گھروں میں،برتنوں میں، ٹوٹے ہوئے ٹائروں میں، گلدانوں میں یا ٹوٹی ہوئی بوتلوں میں پانی مت کھڑا ہونے دیں۔ ڈینگی کے بخار کی ویکسین لگوائیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr M Ikram
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Sep, 2020 Views: 145

Comments

آپ کی رائے