پاکستان میں بائیوٹیکنالوجی کی صورتحال

(Sultan Anjum, )

عَصْر ِحاضر میں کوٖئی بھٖی قوم ساٖئئنس و ٹیکنالوجی کی ا؍ہمیت اور ملکی ترقی میں اس کے بنیادی کردار کو جھٹلا نہیں سکتی۔بلاشبہ ترقی یافتہ اقوام کی مادی ترقی براہِ راست سائنس و ٹیکنالوجی میں حاصل کردہ جدت اور کامیابی کے مرہونِ منت ہے۔ اکیسویں صدی کو باٖئیوٹیکنالوجٖی کی صدی کہا جاتا ہے اور اس حقیقت کے ادراک میں کوٖئی دو راۓ نہیں ہے کہ ترقی کے اس دور میں انسانی صحت اور اس سے وابستہ سہولیات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ آبادی میں بے تحاشہ اضافہ نے جہاں اورمسائل کو جنم دیا ہے وہیں نت نۓ وبائی امراض میں بھی تیزی آٖئی جنہوں نے بنی نوع انسان کی ایک بڑی تعداد کو لقمہ؍٫اجل بنایا۔ با ئیوٹیکنالوجی میں ترقی کی وجہ سے ایسی ادویات تیار کی گئ ہیں اور امراض کو کنٹرول کرنے کے طریقہ٫کار وضع ہو چکے ہیں جنکی بدولت نہ صرف اموات کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے بلکہ انسانوں نے اپنی حدِعمر میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔ ہیپاٹائٹس سی جو آ ج سے چند سال قبل لا علاج مرض گردانا جاتاتھا اب نوے فیصدتک مریض اس کی ویکسین کی بدولت صحتیاب ہوچکے ہیں۔صرف متحدہ ریاست ہاۓامریکہ میں پچھلے بیس سالوںمیں ویکسین میں جدت کی بدولت سات لاکھ تیس ہزاربچے اپنی زندگیاں بچانے میں کامیاب ہوۓ ہیں۔کینسر کو شکست دینے والے بچوں کی تعدادجو انیس سوسترمیں اٹھاون فیصد تھی اب بڑھ کر تراسی فیصد تک ہوچکی ہے۔ صحت کے شعبہ کے علاوہ بائیوٹیکنالوجی نے زراعت، خوراک(ڈیری،پولٹری،فش فارمنگ) جیسے شعبوں میں بھٖی انقلاب پیدا کیا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک جیسے برطانیہ،فرانس،امریکہ،کینیڈا اور چین بائیوٹیکنالوجی کی صنعت کے سرخیل ہیں جنہوں نے اس صنعت کو نہ صرف ترقی دی بلکہ اپنی پیداواری برآمدات سے سالانہ اربوں ڈالر بھی کما رہے ہیں۔ اس صنعت کی ترقی کااندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ۲۰۲۵ تک اس کا مجموعی حجم ۷۷۵ ارب ڈالر تک پہنچ جاۓ گا جو بائیوٹیکنالوجی کو دنیا کی چند بڑی صنعتوں میں شمار کرنے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگر انفرادی طور پر بات کی جاۓ تو بائیوفارمیسی پہلے، بائیو انڈسٹری دوسرے جبکہ بائیو سروسز، بائیو ایگریکلچر اور بائیوانفارمیٹکس پیداواری حجم کے حوالے سے بالترتیب تیسرے،چوتھے اور پانچویں نمبر پر موجود ہیں۔

یہ ایک افسوسناک امر ہے کہ جہاں ہم دوسرے سائنسی علوم میں ترقی یافتہ ممالک سے بہت پیچھے ہیں اسی طرح بائیوٹیکنالوجی کے شعبے کو بھی حکومتی سطح پربخوبی نظرانداز کیا گیاہے۔ پاکستان جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور قابلِ کاشت رقبے کے حوالے سے سولہویں نمبر پر ہے۔ پاکستان فارماسوٹیکل انڈسٹری کی برآمدات محض ۳۰۰ملین ڈالر ہٖیں باوجود اس کے کہ اس شعبہ کی ۹۸فیصدخام ضروریات مقامی طور پر موجود ہیں۔اگرچہ یہ صنعت حوصلہ افزا٫ رفتار میں ترقی کر رہی ہے اورایک امریکی ملٹی نیشنل کمپنی آئی کیو وی آئی اے کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی فارماسوٹیکل انڈسٹری کی شرحِ نمو چین،بھارت اور بنگلہ دیش سے زیادہ ہے۔ مگر عالمی منڈی میں ادویات کی بڑھتی ہوئی مانگ کو مدِنظر رکھتے ہوۓ ملکی دستیاب وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھا کرپیداواری صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ کرنا چاہیۓ تاکہ برآمداتی شرح کو بڑھا کر ملکی زرِمبادلہ میں اضافہ کیا جا سکے۔ زراعتی شعبہ میں بھی پاکستان نے بائیوٹیکنالوجی کے میدان میں قابلِ قدر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انٹرنیشنل سروس فار دی ایکویزیشن آف ایگری بائیوٹیک ایپلیکیشنز کی ۲۰۱۸ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق جینیاتی طور پر تبدیل شدہ(جنیٹی کلی موڈیفائیڈ) فصلوں کے کاشت شدہ رقبہ کے لحاظ سے پاکستان آٹھویں نمبر پر ہے جبکہ جنوبی ایشیا٫ میں پاکستان کے علاوہ چین اور بھارت بالترتیب ساتویں اور پانچویں نمبر پر ہیں۔ پاکستان میں فی ایکڑ پیداوار دوسرے ممالک کی نسبت کم ہے بہتر طریقہٖ٫کاشت اور جدید آلاتِ زراعت کے استعمال سے اس کمی پر قابو پا یا جا سکتا ہے۔ اسی طرح پاکستان دودھ اور گوشت کی پیداوار کے لحاظ سے بالترتیب چوتھے اور دسویں نمبر پر ہے۔ دودھ کی پیداواری اوسط چند ترقی یافتہ ممالک سے کم ہے جس کو بہتر بنا کر برآمداتی مقدار میں خاطرخواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

اس وقت پاکستان میں چند ایک اچھے ادارے موجود ہیں جو بائیوٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق و ترقی کی ترویج و ترقی میں عملی طور پر کوشاں ہیں۔ ان میں نیشنل انسٹیٹیوٹ فار بائیوٹیکنالوجی اینڈ جنیٹک انجینئرنگ فیصل آباد ،ایوب ایگریکلچرل انسٹیٹیوٹ فیصل آباد، نیوکلئیر انسٹیٹیوٹ فار ایگریکلچر اینڈ بائیولوجی فیصل آباد،سینٹر فار ایکسیلینس اِن ما لیکیولر بائیولوجی لاہور، ڈاکٹر پنجوانی سینٹر فار مالیکیولر میڈیسن اینڈ ڈرگ ریسرچ یونیورسٹی آف کراچی، نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر اسلام آباد اور سکول آف بائیولوجیکل سائینسز پنجاب یونیورسٹی قابلِ ذکر ہیں۔ لیکن ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ضروریات کے پیشِ نظر مزید عالمی معیار کے ادارے بنانے کی ضرورت ہے۔

مگر ایک افسوسناک امر یہ ہے کہ ہماری حکومت سائنس و ٹیکنالوجی میں بالعموم جبکہ بائیوٹیکنالوجی میں بالخصوص چنداں دِلچسپی نہیں لے رہی۔ ہر سال ملک میں سٖینکڑوں طالبعلم بائیوٹیکنالوجی میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد بیروزگار رہتے ہیں کیونکہ اس ڈگری میں گریجویشن کرنے کے بعدطالبعلموں کیلئے تعلیمی،صنعتی اور انتظامی سطح پر نوکری کرنے کے دروازے تقریباً بند ہو جا تے ہیں۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ہمارے ملک میں بایئو ٹیکنالوجی کی صنعت کے فروغ کیلیۓ اداروں کی کس قدر کمی ہے۔ حکومت کو چاہیۓ کہ اس شعبہ کی ترویج کیلیۓ نہ صرف نۓ تحقیقی اداروں کے قیام کو تیز کیا جاۓ بلکہ ایسی صنعتیں قائم کی جائیں جنکو تحقیقی اداروں کے ساتھ براہِ راست منسلک کیا جاۓ تاکہ پیداواری صلاحیت بہتر ہو اور روزگار کے نۓ مواقع پیدا ہوں۔ سائنس و ٹیکنالوجی پارکس کا قیام اس ضمن میں وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے ملک کے ہر بڑے شہر میں ان کا قیام ہنگامی طور پر عمل میں لایا جاۓ اور تحقیقی اداروں،صنعتوں کو براہِ راست ان کے ساتھ منسلک کرنے سے نئ تحقیقی سر گرمیوں کا آغاز ہوگا اور ملک میں ساٖئنس و ٹیکنالوجی کی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملے گی۔ یوں نہ صرف بائیوٹیکنالوجی کے شعبہ میں روزگار کے دروازے کھلیں گے بلکہ برآمدات میں اضافہ سے بیرونی زرِمبادلہ میں بھی اضافہ ہوگا اور ملک تیزی سے ترقی کی منازل طے کرے گا۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sultan Anjum
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Sep, 2020 Views: 260

Comments

آپ کی رائے