پاک بھارت مذاکرات

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

جب بھی پاک بھارت وزرائے خارجہ یا وزرائے اعظم کسی عالمی یا علاقائی پلیٹ فارم پر ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں تو پاک بھارتسیاست میں دلچسپی رکھنے والے ان کے درمیان کسی ملاقات یا بات چیت یا ٹریک ٹو دپلومیسی کے بارے میں چہ میگوئیاں کرنے لگتے ہیں۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کے جمعرات کو منعقد ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لیے 2 روزہ سرکاری دورے پر ماسکومیں ہیں۔بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر منگل سے ماسکو میں موجود ہیں۔پاکستان اور بھارت 2017میں اس فورم کے رکن بنے ہیں۔8ممالک کے اس فورم میں روس اور چین سمیت وسط ایشیا کے چار ممالک تاجکستان، قزاقستان، کرغزستان اور ازبکستان بھی شامل ہیں۔ وزرائے خارجہ ایس سی او کے سربراہ اجلاس کی تیاریوں اور ایجنڈہ کو حتمی شکل دیتے ہیں۔ یہ سربراہ اجلاس رواں سال 30نومبر کو بھارت میں ہو رہا ہے۔ تاہم بھارت میں تیزی سے پھیلنے والے کورونا وائرس نے اس اجلاس کے انعقاد پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔کیوں کہ ممبر ممالک دہلی کے مجوزہ اجلاس پر خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ روس میں تعینات پاکستانی سفیر شفقت علی خان، وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری ظہور احمداور وزارت خارجہ کے دیگر حکام انہیں ایس سی او سے متعلق بریف کر رہے ہیں۔ وزیر خارجہ کو دورہ ماسکو اور شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کی دعوت ان کے روسی ہم منصب سرگئی لیوروف نے دی ہے۔ وزرائے خارجہ کونسل، کونسل برائے سربراہان حکومت و کونسل برائے سربراہان مملکت کے بعد شنگھائی تعاون تنظیم کا سب سے بڑا فورم ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں اہم علاقائی و عالمی امور زیر بحث آتے ہیں۔اجلاس کے بعد ایک متفقہ مشترکہ اعلامیہ کا اجرا بھی متوقع ہوتاہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کانفرنس کی سائیڈلائن پر مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ جس میں دو طرفہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔ وزیر خارجہ نے بدھ کو اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف اور تاجکستان کے وزیر خارجہ سیروجدین مہردین سے ملاقات کی۔روسی صدر ولادیمر پیوٹن نے ویڈیو لنک پر وزرائے خارجہ کا خیر مقدم کیا۔روسی وزیر خارجہ اجلاس کی صدارت کررہے ہیں جس میں ایس سی او سربراہان حکومت کے کونسل میں منظوری کے لیے 20 سے زائد دستاویزات کو زیر بحث لایا جارہا ہے۔

رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور خوشگوار دوستانہ تعلقات کو فروغ دینا، علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانا اور سیاسی، ثقافتی، تجارت اور معیشت، سائنس اور ٹیکنالوجی، تعلیم، توانائی، نقل و حمل، سیاحت، ماحولیاتی تحفظ اور دیگر شعبوں میں مؤثر تعاون کے لیے ایک فریم ورک کی تیاری ایس سی او کے اہم مقاصد ہیں۔ وزیر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے روس سے طویل المدتی تعلقات کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔روسی وزیر خارجہ سے ملاقات میں انرجی سیکٹر میں باہمی تعاون پر بھی بات ہورہی ہے۔

ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر کشمیر کی جنگ بندی لائن پر پاک بھارت افواج کے درمیان فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہو رہا تھا۔ چکوٹھی سیکٹر میں پاکستان نے بدھ کو ایک بھارتی جاسوس ڈرون مار گرایا۔ جو جنگ بندی لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 500میٹر تک آزاد کشمیر کے حدود میں گھس آیا۔ رواں سال گرایا جانے والا یہ بھارت کا گیارہواں جاسوس ڈرون تھا۔ بھارت کی اشتعال انگیز گولہ باری سے پاک فوج کا ایک جانباز شہید ہو گیا۔ بھارتی جارحیت کے اس ماحول میں پاک بھارت وزرائے خارجہ ملاقات کی امید نہیں تھی۔ تا ہم دہلی میں روس کے سفارتخانے کے ڈپٹی چیف رومن بوبوشکن نے توقع ظاہر کی تھی کہ ایس سی او رکن ممالک پاک بھارت کو بات چیت کی میز پر لانے میں کردار ادا کریں گے۔ 4ستمبر کو ماسکو میں ایس سی او وزرائے دفاع کا اجلاس ہوا۔ جس میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی شرکت کی۔ اس اجلاس میں پاکستان کی نمائیندگی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے کی۔ وزیر دفاع پرویز خٹک بھی اس اجلاس میں شرکت کے لئے تیار تھے۔ مگر انہوں نے اپنا دورہ ماسکو منسوخ کر دیا۔ جس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔اس اجلاس کی سائیڈ لائینز پر روس کی کوشش سے چین اور بھارت کے وزرائے دفاع کی ملاقات ہوئی۔ جس میں لداخ میں کشیدگی کم کرنے اور بات چیت جاری رکھنے پر غور کیا گیا۔ بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس میٹنگ کی درخواست چین کے وزیر خارجہ نے کی تھی۔روس کی کوشش تھی کہ بھارت اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان بھی اسی طرز پر ملاقات کرائی جائے۔ تاہم شاہ محمود قریشی نے ماسکو روانگی سے قبل ہی بتا دیا تھا کہ بھارت دو طرفہ گفتگو کے لیے تیار نہیں ہے کیونکہ کشمیر کے معاملے پر بھارت کمزور ہے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت کا رویہ خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہا ہے، بھارت ہندوتوا سوچ سے باہر نکلنے کو تیار نہیں ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم فورم منشیات کی روک تھام، افغانستان میں قیام امن کے لیے کردار ادا کرسکتا ہے۔یہ فورم پاک بھارت کو بات چیت پر آمادہ کر سکتا ہے ، مگر بھارت کی ہٹ دھرمی اور نریندر مودی کی مسلم اور پاکستان دشمنی دہلی اور اسلام آباد کو قریب آنے میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔ بھارت اپنے ملک میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ ظالمانہ اور جانبدارانہ سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ کشمیریوں کے آزادی کے جائز مطالبے کو بندوق کی نوک پر کچل رہا ہے۔ ایسے میں ایس سی او اور دیگر عالمی اور علاقائی فورمز اپنا کردار ادا کریں ، بھارت پر معاشی اور سفارتی دباؤ ڈالیں تو پاک بھارت بات چیت کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 547 Articles with 197085 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
15 Sep, 2020 Views: 215

Comments

آپ کی رائے