عوام کے ترجمان

(Muhammad Kamran Khakhi, Lahore)

پاکستان کا رہائشی اور ایک عام آدمی جو محنت مزدوری کرکے، نوکری کرکے، سارا دن کاروبار تجارت کر کےاپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے۔ وہ اپنے ووٹ سے اپنا نمائندہ چنتاہےپھر یہی نمائندہ اس پر حکومت کرتا ہے تو وہ ٹیکس دے کر سرکاری خزانے کو بھرتا ہے تاکہ خودکے اور اپنے بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنا سکے، تاکہ اپنی اور اپنے بچوں کی جان و مال، عزت و آبرو،رہائش ، کھانے و پینے،تعلیم، صحت اور زمین جیسے بنیادی حقوق کا حکومت تحفظ کر سکے۔ تاکہ ملک میں ترقی ہو سکے ، مسائل کا حل ہو سکے مگر جس نمائندے کو اسنے خود کے لیے چنا تھا وہ تو حکومت کا ترجمان بن گیا اورحکومت کی ہر بات کا ، چاہے وہ صحیح ہو یا غلط، دفاع کرنے لگ گیا۔عوام کی ترجمانی جسے کرنی تھی وہ حکومتی ترجمانی کرنے لگا ۔ یہ وفاقی حکومت کا ترجمان ہے، یہ وزارت داخلہ کا ترجمان ہے، یہ وزارت خارجہ کا ترجمان ہے، یہ فوج کا ترجمان ہے، یہ صوبائی حکومت کا ترجمان ہے، یہ اپوزیشن کا ترجمان ہے، یہ وزارت صحت کا ترجمان ہےوغیرہ وغیرہ ان سب کا تو ہم نے بہت سنا مگر نہیں سنا تو یہ نہیں سنا کہ فلاں غریب عوام کا ترجمان ہے۔

روٹی ، کپڑا اور مکان کا نعرہ پاکستان پیپلز پارٹی نے لگایا اور اپنے منشور میں پاکستانی عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی بات کی تو پاکستان کی عوام نے انہیں اپنا ترجمان مانا اور انہیں اس ملک کا اقتدار دیا مگر وہ اپنے کیے وعدے پورے نہ کر سکی ۔ مسلم لیگ نون نے عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے غریب عوام کے حق میں آواز اٹھائی تو اس عوام نے انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا مگر حکومت میں آتے ہی انہوں نے بھی اپنی ہی ترجمانی کی اور عوام کو بھول گئے۔ پھر پاکستان تحریک انصاف تبدیلی لانے کے لیے میدان میں اتری تو ان کو حکمرانی عطا ہوئی۔اور دو سال سے یہ بھی اپنی ہی ترجمانی کرنے میں لگے ہیں عوام کو بھول گئے ہیں۔ اگر ہر جماعت نے حکومت میں آ کر اپنی ترجمانی کرنی ہے ، اپنے ہر اچھے برے کام کی صفائیاں دینی ہیں تو عوام کی ترجمانی کون کریگا؟ پچھلی حکومتوں میں ہم نے دیکھا کہ کسی حد تک ہی سہی مگر اپوزیشن عوام کی ترجمانی کرتی دکھائی دیتی تھی ،چاہے اس میں بھی ان کا اپنا مفاد پنہاں ہوتا مگر عوام کی بات ایوانوں تک پہنچتی تھی مگر اس حکومت میں تو اپوزیشن میں کون ہے کسی کو نہیں پتہ۔ نہ کبھی اپوزیشن نے حکومت کے کسی کام پر تنقید کی اور نہ حکومت نے عوام کی بھلائی کے لیے کوئی کام کیا۔ مہنگائی عام ہوئی اور عوام بنیادی ضروریات زندگی کے لیے خوار ہونے لگے ہیں۔لاقانونیت اپنے عروج پر ہے۔ آٹا ، چینی سمیت تقریبا تمام سبزیاں و پھل غریب آدمی کی پہنچ سے کوسوں دور ہیں۔

چینی کا بحران ہو ا تو غریب عوام پسنے لگے وزیر اعظم نے نوٹس لیا، کمیٹی بنی، رپورٹ تیار ہوئی، ذمہ داروں کا پتہ بھی چل گیا مگر چینی کی قیمت اور بڑھتی رہی اور سینچری مکمل کرنے کے بعد بھی ناٹ آوٹ ہے۔ آٹے کے لیے عوام خوار ہوتے رہے مہنگا ہو گیا مگر حکومتی ترجمان بضد رہے کہ نہیں آٹا تو وافر مقدار میں موجود ہے۔ حیرت تو اس وقت ہوتی ہے کہ درآمد کرنے کے باوجود بھی آٹا سستا ہوتا نظر نہیں آتا بلکہ مزید مہنگا ہونے لگا۔ کسان سے 1300 روپے فی من گندم خرید کر آٹا 2700 روپے فی من، کون دہاڑیاں لگا رہا ہے یہ تو سب کو پتہ ہے۔

دوہری شہریت پچھلی حکومت میں گالی تھی اسی لیے اقامہ پرملک کے وزیراعظم کی نا اہلی ہو جاتی تھی مگر اب دوہری شہریت والے بھی حکمران بن سکتے ہیں کیونکہ ان کا پاکستان سے تعلق تو ہے نا چاہے نام کا ہی ہو۔ پاکستان کا مستقبل چین کے ساتھ ہے مگر ہم مشیر اور وزیر امریکی رکھیں گے کیونکہ وہ قابل بہت ہیں اور وہ چینی پرجیکٹس اچھے سے چلائیں گے اور ہم نے پیسے بھی تو لینے ہیں نا ورلڈ بینک اور آئی –ایم –ایف سے- میڈیا ہماراتابع، فوج ایک پیج پر اور عدالتیں ہماری اپنی ہیں اوررہی اپوزیشن تو ان پر الزامات کی ایسی بھرمار ہے کہ کوئی آواز نکالنے کے قابل ہی نہیں ۔ وہ تو صفائیاں دیتے رہیں گے۔

عوام کی ترجمانی کرنے والے میڈیا کو بھی سب اچھا نظر آتا ہےاور مثبت رپورٹنگ کا رجحان خوش آئند ہے۔سرکاری محکموں کے بیوروکریٹس بھی کام کرنے سے پہلے نیب کی طرف دیکھتے ہیں تو ان کے قلم ٹھہر جاتے ہیں۔

ہمیں غریب عوام کا بہت خیال ہے اس لیے ان کے لیے ہم نے روزگار نہیں دینا بلکہ ان کے لیے لنگر خانے کھول دیے کیونکہ ہم ان کو کھلائیں گے اور خود کمائیں گے ۔ہم نے ان کے لیے احساس پروگرام شروع کیا ہے اس لیے ہمیں تو ان غریبوں کا خیال ہے۔ ہم ان کو سود پر قرض دیں گے تاکہ ان کی غربت ختم ہو سکے اور حکومت کیا کرے؟ ابھی بھی اگر کوئی کہتا ہے کہ غریب عوام کا خیال نہیں تو وہ ملک دشمن ، غدار وطن ہے -غریب عوام کی ترجمانی اس سے بہتر ہوسکتی ہے تو بتائے کوئی۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Kamran Khakhi

Read More Articles by Muhammad Kamran Khakhi: 14 Articles with 2978 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Sep, 2020 Views: 104

Comments

آپ کی رائے