تاج الشریعہ کی فقہی بصیرت

(محمد ساجدرضا مصباحی, اتردیناج پور بنگال انڈیا)
زیر تبصرہ رسالہ در اصل اسی موقع پر لکھے گئے ایک اہم مقالے کی کتابی شکل ہے۔ اس رسالے کے مرتب جواں سال عالم وفاضل ،معروف قلم کار،سنجیدہ خطیب ،باکمال مدرس حضرت مولانا مفتی محمد کمال الدین اشرفی مصباحی ہیں ،جو ایک طویل عرصے سے ادارۂ شرعیہ اتر پردیش، راے بریلی میں صدر شعبۂ افتا اور شیخ الحدیث کے منصب جلیل پر فائز ہیں ، اپنی بے پناہ خوبیوں کے باعث اہل علم وادب کے مابین محبوب ومقبول ہیں ۔آپ کے قلمی رشحات ہندوستان کے معتبر رسائل وجرائد اور شہرۂ آفاق اخبارات کی زینت بنتے ہیں، آپ کی مستقل تصانیف میں اشرف الاولیا حیات وخدمات، مطلقہ عورت کے نان ونفقہ کا شرعی حکم اور سپریم کورٹ کے فیصلے، استاذ العلما مشرقی بہار کی ایک عبقری شخصیت، اسلام اور بنگال اور’’ فقہ وفتاویٰ کی تدوین ‘‘ کو خاص طورسے قبولیت عام حاصل ہو ئی ہے، بحمدہ تعالیٰ آپ کا قلمی سفر پوری شان وشوکت کے ساتھ جاری ہے ، اللہ کرے یہ سلسلہ مزید دراز ہو۔

نام کتاب : تاج الشریعہ کی فقہی بصیرت
مولف : مفتی محمد کمال الدین اشرفی مصباحی
صفحات : ۴۸
سن اشاعت : ۱۴۴۰ھ/۲۰۱۹ء
ناشر : مصباحی اکیڈمی بڑی ارجنٹی مبارک پور اعظم گڑھ
مبصر : محمد ساجد رضا مصباحی : استاذ دارالعلوم غریب نواز داہو گنج کشی نگر یوپی

تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا قادری ازہری بریلوی کی شخصیت علم وادب ،فکر وفن ،فقہ وفتاویٰ ،زہد وتقویٰ اور معرفت وروحانیت کے حوالے سے محتاج تعارف نہیں ، تقریبا نصف صدی پر محیط آپ کی دینی ، علمی اور تبلیغی خدمات کا ایک جہان معترف ہے،قادر مطلق نے آپ کو بے پناہ خوبیوں سے نوازا تھا،اعلیٰ حضرت اما م احمد رضا بریلوی قدس سرہ کی علمی وروحانی وراثتوں کی آپ نے جس طرح حفاظت فر مائی اسے خانوادۂ اعلیٰ حضرت کی تاریخ میں جلی حرفوں میں لکھا جائے گا۔تاج داراہل سنت ،مفتی اعظم علامہ مصطفیٰ رضا خاں بریلوی قدس سرہ کے بعد عوام وخواص میں یکساں مقبولیت آپ ہی ذات مقدسہ کو حاصل ہو سکی ،آپ عالمی سطح کے عبقری عالم دین اور شیخ طریقت تھے، دنیا کے مختلف گوشوں میں آپ کے مریدین ، متوسلین ، خوشہ چین اور عقیدت مند پائے جاتے تھے ،مورخہ ۶ ؍ ذی قعدہ ۱۴۳۹ھ مطابق ۲۰؍ جولائی ۲۰۱۹ءکو آپ کا وصال ہوا،وصال کے بعد مختلف حلقوں ، اداروں اور رسالوں کی جانب سے آپ کے فضائل وکمالات پر مضامین ، نمبرات اور خصوصی گوشے شائع کیے گئے۔
زیر تبصرہ رسالہ در اصل اسی موقع پر لکھے گئے ایک اہم مقالے کی کتابی شکل ہے۔ اس رسالے کے مرتب جواں سال عالم وفاضل ،معروف قلم کار،سنجیدہ خطیب ،باکمال مدرس حضرت مولانا مفتی محمد کمال الدین اشرفی مصباحی ہیں ،جو ایک طویل عرصے سے ادارۂ شرعیہ اتر پردیش، راے بریلی میں صدر شعبۂ افتا اور شیخ الحدیث کے منصب جلیل پر فائز ہیں ، اپنی بے پناہ خوبیوں کے باعث اہل علم وادب کے مابین محبوب ومقبول ہیں ۔آپ کے قلمی رشحات ہندوستان کے معتبر رسائل وجرائد اور شہرۂ آفاق اخبارات کی زینت بنتے ہیں، آپ کی مستقل تصانیف میں اشرف الاولیا حیات وخدمات، مطلقہ عورت کے نان ونفقہ کا شرعی حکم اور سپریم کورٹ کے فیصلے، استاذ العلما مشرقی بہار کی ایک عبقری شخصیت، اسلام اور بنگال اور’’ فقہ وفتاویٰ کی تدوین ‘‘ کو خاص طورسے قبولیت عام حاصل ہو ئی ہے، بحمدہ تعالیٰ آپ کا قلمی سفر پوری شان وشوکت کے ساتھ جاری ہے ، اللہ کرے یہ سلسلہ مزید دراز ہو۔
زیر تبصرہ رسالہ ۴۸؍ صفحات پر مشتمل ہے جس میں حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے علمی وفقہی کمالات کو اجاگر کر نے کی کوشش کی گئی ہے اور آپ کے فتاویٰ کی خصوصیات کو بہت ہی عمدہ اسلوب میں پیش کیا گیا ہے ۔ابتدائی صفحات میں حضرت تاج الشریعہ کی علمی جلالت اورتفقہ فی الدین کو بڑی جامعیت کے ساتھ پیش کیا گیاہے۔مؤلف محترم آپ کی فقہی بصیرت کا ذکر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں :
’’حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تفقہ فی الدین حاصل کر نے والے فقہاے کرام اور مفتیان اسلام کی فہرست میں نمایاں مقام اور امتیازی حیثیت کے حامل تھے ، مسائل شرعیہ کی تحقیق وتدقیق میں آپ اپنے اقران ومعاصرین میں اعلیٰ اور انفرادی مقام رکھتے تھے ، آپ اپنے وقت کے صرف فقیہ ہی نہیں بلکہ فقیہ اعظم ہند تھے،فقہ وفتاویٰ کی دنیا میں بلاشبہہ آپ کی شان کوہِ ہمالہ کی طرح مضبوط ومستحکم اور ارباب فقہ وفتاویٰ کے در میان آپ کی ذات مسلم الثبوت تھی۔‘‘[ تاج الشریعہ کی فقہی بصیرت ص: ۱۱]
ص: ۱۱ سے ص:۲۰ تک حضرت تاج الشریعہ کی فقہی خدمات ، فقہی سیمیناروں میں شرکت وصدارت ، شرعی کونسل آف انڈیا بریلی شریف کا قیام اور ایک زمانے تک بریلی شریف میں آپ کے دارالافتا سے جاری ہو نے والے فتاویٰ نیز آپ کے مجموعہ فتاویٰ ’’ المواھب الرضویہ فی الفتاویٰ الازھریہ‘‘ کو موضوع سخن بنایا گیا ہے اور باکمال مؤلف کا یہ انتہائی کمال ہے کہ انھوں نے بہت ہی اختصار کے ساتھ ان تمام گوشوں کا احاطہ کر لیا ہے ۔
ص: ۲۱ سے ۴۸ تک حضرت تاج الشریعہ کے چند اہم فتاویٰ کا عالمانہ ومحققانہ تجزیہ پیش کر کے آپ کی فقہی بصیرت کا ثبوت پیش کیا گیا ہے ، جن خاص فتاویٰ کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا گیا ہے وہ درج ذیل ہیں :
نس بندی کا فتویٰ ، ٹائی کا مسئلہ ، وحدۃ الوجود کا مسئلہ ، شب معراج دیدار الہی کا مسئلہ ، خاندانی منصوبہ بندی کا مسئلہ ، بینک اور ڈک خانے سے ملنے والی زائد رقم [ انٹرسٹ ] کا مسئلہ ،لیزر ہیر ٹرانسپلانٹ کا مسئلہ ، خون عطیہ کر نے کا مسئلہ ، لفظ خدا کا غیر اللہ کے لیے استعمال ، عورت کی آواز بھی عورت ہے ،علم ماکان ومایکون کی تحقیق ، قرآن اور رسول میں افضل کون ؟ وغیرہ۔
مولف محترم نے بڑی مہارت کے ساتھ ان مسائل کا انتخاب کر کے حضرت تاج الشریعہ کی فقہی بصیرت کو اجاگر کر نے کی کام یاب کوشش کی ہے ، انھوں نے مسئلے کی نوعیت ، اہمیت ،ضرورت اور پیچیدگی کو بیان کر کے اس حوالے سے حضرت تاج الشریعہ کے فتاویٰ میں حکم شرع کی وضاحت ،فقہی جزئیات کا انطباق جدید مسائل کے احکام کا واضح بیان پیش کر کےآپ کا فقہی تبحر واضح کیا ہے ، لیزر ہیر ٹرانسپلانٹ کے حوالے مولف لکھتے ہیں :
’’ یہ ایک جدید طریقہ ہے جس میں اگر کسی شخص کے بال بالکل نہ نکل رہے ہوں تو لیزر کے ذریعہ ٹرانسپلانٹ کیے جاتے ہیں اور اس کے بال نکل آتے ہیں اس مسئلہ کی شرعی حیثیت کی وضاحت کرتے ہوئے حضور تاج الشریعہ یوں رقم طراز ہیں :
’’ لیزر ہیر ٹرانسپلانٹ میں حرج معلوم نہیں ہو تا جب کہ اس کے آفئر افیکتص اور سائڈ افیکٹس خطر ناک نہ ہوں اور کسی مرض یا کسی مصیبت کا گمان غالب نہ ہو اور اس میں ضرر کا اندیشہ نہ ہو تو اس میں حرج نہیں ‘‘۔[تاج الشریعہ کی فقہی بصیرت،ص: ۲۸ ]
اسی طرح واضح اور ساد ہ اسلوب میں حضرت مفتی محمد کمال الدین اشرفی مصباحی نے حضرت تاج الشریعہ کی فقہی بصیرت کے متعدد شواہد پیش کیے ہیں ، زبان وبیان سہل اور اسلوب شگفتہ ہے ، مجموعی طور پریہ رسالہ اپنے موضوع پر ایک شاہ کار اور قارئین کے لیے ایک انمول تحفہ ہے ،عمدہ کتابت وطباعت اوردیدہ زیب ٹائٹل بڑی کشش اور جاذبیت کا باعث ہے ، امید کہ مولف کا یہ رسالہ بھی دیگر تالیفات کی طرح ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا ۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد ساجدرضا مصباحی

Read More Articles by محمد ساجدرضا مصباحی: 39 Articles with 21730 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Sep, 2020 Views: 104

Comments

آپ کی رائے