صحابہ کے گستاخ

(محمد ساجدرضا مصباحی, اتردیناج پور بنگال انڈیا)
زیر تبصرہ کتاب کے مصنف حافظِ بخاری خواجہ سید عبد الصمد چشتی مودودی کے فرزند ارجمند رئیس الفقہا، خواجہ بندہ نواز شاہ سید مصباح الحسن چشتی ﷬ ہیں،مصباح ملت جید عالم وفقیہ،جلیل القدر محقق ومدقق،خدارسیدہ شیخ طریقت اور اس عہد کے عبقری اساتذہ جامع معقول ومنقول حضرت مولاناہدایت اللہ جون پوری اور عالم ربانی حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی کے ارشد تلامذہ میں تھے،صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی ﷬آپ کے ہم درس اور بے تکلف دوست تھے۔آپ نے اپنے والد گرامی کے وصال کے بعد تقریبا نصف صدی تک خانقاہ صمدیہ کے منصبِ سجادگی پر جلوہ افروز ہو کر خلق خداکی رہنمائی اور اشاعت مسلک حق کا اہم فریضہ انجام دیا ۔

تبصرہ
نام کتاب : صحابہ کے گستاخ
قدیم نام : بوارق العذاب لاعداء الاصحاب
تصنیف : رئیس الفقہا سید شاہ مصباح الحسن چشتی مودودی قدس سرہ
ترتیب وتقدیم : مولانا عابد چشتی
صفحات : ۴۱۹
اشاعت : ۱۴۴۰ھ/۲۰۱۹ء
ناشر : مکتبہ صمدیہ پھپھوند شریف
تبصرہ نگار : محمد ساجدرضا مصباحی [email protected]

ہندوستان کی جن مقدس خانقاہوں نے معتقداتِ اہل سنت کے فروغ واستحکام اور باطل فرقوں کی تردید وابطال میں نمایاں کار نامے انجام دیے ان میں ایک اہم نام خانقاہِ صمدیہ مصباحیہ پھپھوند شریف کا ہے، اس خانقاہ کے مورث اعلیٰ سند المحققین ، حافظ بخاری سید شاہ عبد الصمد چشتی مودودی ہیں ،آپ اپنے عہد کے زبردست عالم وفاضل ،فقیہ ومحدث، محقق ومصنف، مناظر ومتکلم اور دیگر اوصافِ جلیلہ کے حامل تھے،آپ نے خانقاہِ صمدیہ کے مسند ارشاد وہدایت پر جلوہ افروزہوکرہزاروں گم گشتگان ِ راہ کے دلوں میں عشق رسالت مآب کی شمع فروزاں کی اور اپنی گراں قدر تصانیف کے ذریعہ احقاقِ حق اور ابطال باطل کا مقدس فریضہ انجام دیا۔خاص طور سے رد روافض کے حوالے سے آپ کے کار نامے آبِِ زر سے لکھے جانے کے لائق ہیں ۔
زیر تبصرہ کتاب کے مصنف حافظِ بخاری خواجہ سید عبد الصمد چشتی مودودی کے فرزند ارجمند رئیس الفقہا، خواجہ بندہ نواز شاہ سید مصباح الحسن چشتی ہیں،مصباح ملت جید عالم وفقیہ،جلیل القدر محقق ومدقق،خدارسیدہ شیخ طریقت اور اس عہد کے عبقری اساتذہ جامع معقول ومنقول حضرت مولاناہدایت اللہ جون پوری اور عالم ربانی حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی کے ارشد تلامذہ میں تھے،صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی آپ کے ہم درس اور بے تکلف دوست تھے۔آپ نے اپنے والد گرامی کے وصال کے بعد تقریبا نصف صدی تک خانقاہ صمدیہ کے منصبِ سجادگی پر جلوہ افروز ہو کر خلق خداکی رہنمائی اور اشاعت مسلک حق کا اہم فریضہ انجام دیا ۔
بوارق العذاب لاعداءالاصحاب آپ کی معرکۃ الآرا تصنیف ہے جو آج سے ستاسی سال قبل ۱۳۵۳ھ میں پہلی بار منظر عام پر آئی تھی،اب تقریبا نو دہائی کے بعد جدید ترتیب ،تقدیم اور تخریج سے مزین ہوکرپوری شان شوکت اور آب وتاب کے ساتھ دوسری ایڈیشن منظر عام پر آئی ہے۔
اس کتاب مستطاب کی تصنیف کا پس منظر یہ ہے کہ خانقاہِ کاظمیہ قلندریہ لکھنوکے سجادہ نشیں شاہ حیدر علی علوی نےاپنے آبا واجداد کےطرزِ عمل اور اپنی ہی خانقاہ کے فکری منہج سے بغاوت کرتے ہوئے رافضیت کو چولا اوڑھ لیا اور سنیت کے دعوی کے باوجود اہل سنت کے مسلمات کے خلاف محاذ آرائی شروع کردی،انہوں نے حضرت علی کَرّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی سیرت نگاری کے بہانےاحسن الانتخاب فی ذکرمعیشۃ سیدنا ابی تراب کے نامی ایک گمراہ کن کتاب تصنیف کی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سیرت نگاری کے پردے میں اہل سنت پر اوچھے اور بے بنیاد الزامات لگائے ، صحابی رسول حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو منھ بھر بھر کر گالیاں دیں ، علماے اہل سنت کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دشمن قرار دیا ۔
شاہ حید ر علی علوی نے اپنی کتاب میں اہل سنت پر الزام تراشی کرتے ہوئے لکھا :
’’ فی زمانہ اہل سنت نے اسی گروہ[ روافض ] کی ضد پر جناب امیر [ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم]کی تنقیص سے اپنی زبان خراب کررکھی ہے ’’[ احسن الانتخاب، ص: ۵]
شاہ حید ر علی علوی نے اپنی کتاب میں دریدہ دہنی کی حد پار کر تے ہوئے لکھا:
’’ معاویہ پکے دنیا دار تھے اور ان کا مطمح نظر صرف دنیا وی حکومت تھا اور اس غرض سے انھوں نے کوئی کوتاہی کسی معیوب سے معیوب فعل کے کرنے میں نہیں کی‘‘[مصد سابق]
اس طرح انھوں نےصحابۂ کرام ، اسلافِ عظام اور علماے اہل سنت پر افترا بازی اور دشنام طرازی کی انتہا کر دی اور اپنے ساتھ اپنی خانقاہ کے وابستگان کو بھی تباہی کی راہ پرڈال دیا۔
’’ احسن الانتخاب ‘‘کے منظر عام پر آتے ہی اہل سنت وجماعت کے علما ومشائخ کے درمیان اضطراب وبے چینی پھیل گئی ،کتاب جہاں جہاں پہنچی ،لوگوں کی شاہ صاحب کی اس حرکت افسوس کے ساتھ تعجب بھی ہوا، کیوں کہ یہ کتاب ایک ایسی خانقاہ سے وابستہ تھی جس کے مسند نشینوں نے ایک زمانے تک اہل سنت کے گلشن کی آبیاری کی تھی ،لکھنو کے نواح میں رہتے ہو ئے بھی اپنی خانقاہ کو رافضیت کی مسموم ہوا سے محفوظ رکھاتھا، خود شاہ حید رعلی اب تک ایک قدیم سنی خانقاہ کی علمی وروحانی وراثتوں کے امین ومحافظ سمجھے جاتے تھے۔
’’ احسن الانتخاب‘‘ منظر عام پر آئی تو علماے اہل سنت نے اس کے خلاف سخت نوٹس لیا ، تاج دار اہل ِ سنت مفتی اعظم ہند علامہ مصطفے رضا خاں بریلوی قدس سرہ نے اس حوالے سے ایک استفتا کے جواب میں لکھا:
’’وہ شخص باوصف سنیت،نہ صرف سنیت بلکہ ادعاے سنیت ایسے بے ہودہ اقوال رکھتا ہے جنھیں منصب رفض کی جان کہا جائے تو بجا، جو روافض کا دین وایمان ہیں ، اس شخص پر ان اقوال سے توبہ ورجوع لازم ــــــــــ یہ شخص مدعی سنیت ہے اور نہیں جانتا کہ اہل سنت حضرات صحابہ کے ساتھ کیسا ادب اور ان کے آپس کے مشاجرات میں کیا روش رکھتے ہیں ۔[سبل السلام، ص: ۲۸۶]
صدرا لشریعہ حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی قدس سرہ نے اس حوالے سے ایک طویل فتویٰ کے اخیر میں فر مایا :
’’بالجملہ ان اقوال مذکورہ کا قائل ہر گز سنی نہیں ہو سکتا بلکہ وہ رافضی تبرائی ہے اگر چہ وہ اپنے کو سنی کہتا ہو بلکہ یہ اس کا تقیہ ہے کہ ایسے اقوال خبیثہ بکنے کے بعد وہ اظہارِ سنیت کرتا ہے ۔[ فتاویٰ امجدیہ ، ج: ۴، ص:۴۹۸]
رئیس الفقہا خواجہ بندہ نواز شاہ سید مصباح الحسن چشتی اس دور کے اجلہ علما میں تھے ،گمراہ فرقوں کی تردید آپ کا محبوب مشغلہ تھا ،اتفاق کہ خانقاہ کاظمیہ قلندریہ کاکوری کے ایک مرید جناب مولانا وصی علی صاحب اٹاوہ میں مقیم تھے ، انہوں نے یہ کتاب آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ مصنف کی خواہش ہے کہ آپ اس پر تقریظ لکھ دیں ، آپ نے بالاستیعاب مطالعے کے بعد تقریظ لکھنے کا وعدہ فر مایا ،لیکن کتاب کے مطالعہ کے بعداس کی حقیقت آپ پر منکشف ہو ئی تو آپ نے تقریظ کی بجاے اس کی زبردست تر دید تحریر فر مائی جو بوارق العذاب لاعداء الاصحاب کے نام سے منظر عام پر آئی ۔
یہ کتاب بنیادی طور پر تین حصوں پر مشتمل ہے :
! حوصلہ شکن خطوط ِ مسلسل 4انکشافاتِ ستم 5 مولانا وصی علی صاحب کی رسمی حقانیت
حصۂ اول: حضرت خواجہ سید شاہ مصباح الحسن چشتی نےاحسن الانتخاب کے مندرجات پر مطلع ہو نے کے بعد صاحب ِ کتاب کے بڑے بھائی شاہ حبیب حید ر صاحب کو خط لکھ کر آگاہ فر مایا کہ یہ کتاب جمہور امت کے نظر یات کے خلاف اور حضرت امیر معاویہ کی دشنام طرازی پر مشتمل ہے ، آپ نے مصنف کتاب کے بڑے بھائی کو اس امید پر خط لکھا تھا کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی کی اصلاح وتفہیم کی کوشش کریں گے لیکن امید کے بر خلاف اصلاح وتفہیم کی بجاے یہ جنا ب بھی مصنف کی حمایت میں اتر آئے ، اس حوالے سےحضرت خوجہ بندہ نواز اور شاہ حبیب حید رکے درمیان خطوط کا طویل سلسلہ چلا ، بوارق العذاب کا پہلا حصہ انھی خطوط کا مجموعہ ہے ۔
حصۂ دوم: شاہ حید رعلی صاحب نے احسن الانتخاب کو اپنا عظیم کار نامہ قرار دے کر بار بار اس بات کا دعویٰ کیا تھا کہ انہوں اس کتاب کی تصنیف میں بڑی عرق ریزی سے کام لیا ہے اور تحقیقی توانائیاں صرف کی ہیں ، حضرت خواجہ مصباح الحسن چشتی نے کتاب کے اس حصے میں شاہ صاحب کے کھوکھلے دعوؤں کی قلعی کھولی ہے اور یہ انکشاف فر مایا ہے کہ یہ کتاب ایک غالی شیعہ عبید اللہ امرتسری کی کتاب ’’ ارجح المطالب فی عد مناقب ابی طالب‘‘ سے ماخوذ ہے بلکہ بہت سے مقامات پر ارجح المطالب کی عبارتیں من وعن نقل کر کے اپنے نام کر لی گئی ہیں ۔
حصۂ سوم: رئیس الفقہاحضرت خواجہ مصباح الحسن نے جب احسن الانتخاب کے مشمولا ت سے مطلع ہو نے کے بعد تقریظ لکھنے سے منع فر مایا دیا اور شاہ حبیب حیدر صاحب کو خط لکھ کر زبردست گرفت فرمائی تو آپ کی بارگاہ میں کتاب پیش کرنے والے مولانا وصی علی صاحب جو خانقاہ کاظمیہ کے مرید تھے، اپنے پیر خانہ کی شرعی گرفت پر چراغ پا ہو گئے ، انھوں نے یہ بات پھیلانا شروع کردی کہ احسن الانتخاب کے سلسلے میں مولانا مصباح الحسن کے اعتراضا ت مبنی بر حقیقیت نہیں ہیں بلکہ انھیں شاہ حیدر علی سے عناد ہے،اس لیے احسن الانتخاب کی تردید کررہے ہیں۔
حضرت خواجہ مصباح الحسن چشتی رحمۃ اللہ علیہ کو جب مولانا وصی علی صاحب کی اس حرکت کا علم ہواتو آپ نے ایک رسالہ ’’ مولانا وصی علی صاحب کی رسمی حقانیت‘‘ تحریر فر مایا اور ’’احسن الانتخاب ‘‘کے مشمولات پر ۴۵ ؍ سوالات قائم فر ماکر واضح فرمایا کہ احسن الانتخٓاب پر کیے جانے والے اعتراضات کسی ذاتی رنجش کا نتیجہ نہیں بلکہ مبنی بر حقیقت ہیں۔کتاب کا تیسرا حصہ در اصل یہی رسالہ ہے جو ۱۳۵۴ ھ میں لکھی گئی ۔
حضرت خواجہ مصباح الحسن چشتی کی اس گراں قدر تصنیف میں بڑی معرکۃ الآرا علمی ابحاث، نادر تحقیقات، روافض کے حوالے سے دل چسپ انکشافات اورآپ کی علمی جلالت کے شاہ کار نمونے موجود ہیں ۔ آج جب کہ ایک بار پھر حُبِّ علی کے پردے میں صحابۂ کرام خصوصا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن وتشنیع کا بازار گرم ہےاور سوشل میڈیا پر بد تمیزی کا نہ تھمنے والا ایک طوفان کھڑا ہے، ایسے میں اس کتاب کی جدید اشاعت بہت ہی مبارک اقدام ہے ۔
یہ کتاب تقریبا نودہائی کے طویل عرصہ کے بعد حضرت مولانا عابد چشتی کی تقدیم ،تخریج اور جدید ترتیب کے ساتھ خوب صورت رنگ وآہنگ میں منظر عام پر آئی ہے۔جدید ترتیب میں قواعد املا کی بھر پور رعایت کی گئی ہے، پہلے ذیلی سرخیوں کا اہتمام نہیں تھا ، نئی ترتیب میں ہر مقام پر مناسب سرخیاں قائم کردی گئی ہیں ،قدیم طرز تصنیف میں پیراگرافنگ کا خاص اہتمام نہیں ہوتا تھا،جدید اشاعت میں ازسر نو پیراگرافنگ کی گئی ہے،قدیم ایڈیشن میں مشمولات کی فہرست نہیں تھی اس ایڈیشن میں فہرست کا اضافہ کیا گیاہے،عربی وفارسی عبارات کے ترجمے کردیے گئے ہیں ، تمام تر حولہ جات کی از سرِ نو تخریج کی گئی ہے۔
مولانا عابد چشتی نوجوان عالم دین ہیں ،کئی سالوں سے مغربی اتر پردیش کی عظیم دینی درس گاہ جامعہ صمدیہ پھپھوند شریف میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں ،تحریر وقلم کا عمدہ ذوق رکھتے ہیں، ان کی تازہ ترین کاوش بوارق العذاب لاعداء الاصحاب کی ایڈیٹنگ ہے، اس کتاب میں ۳۵ ؍ صفحات پر مشتمل ان کا ایک مبسوط مقدمہ شامل ہے جو بوارق العذاب کے مشمولات اور اس کتاب کی تصنیف کے پس منظر کو سمجھنے میں معاون ہے۔
کتاب کے ابتدائی صفحات میں خانقاہ صمدیہ کے صاحب سجادہ حضرت مولانا سید محمد اختر چشتی دام ظلہ کے دعائیہ کلمات،شیخ طریقت حضرت مولانا سید محمد مظہر چشتی دام ظلہ اور عالم ربانی حضرت مولانا مفتی انفاس الحسن چشتی دام ظلہ کے پیغامات شامل ہیں ۔ ایک طویل عرصے کے بعد اس کتاب کو منظر عام پر لانے میں خانقاہِ صمدیہ پھپھوندشریف کی ذمے دار شخصیت شیخ طریقت حضرت مولانا سید محمد مظہر میاں چشتی کی خصوصی توجہات شامل ہیں ، اس سے قبل بھی آپ کی نگہِ التفات سے مشائخ پھپھوند کی کئی اہم کتابوں کی جدید اشاعت ہو چکی ہے۔امید ہے کہ اس اہم اور قدیم تصنیف کو جدید رنگ وآہنگ میں پسندید گی کی نگاہ سے دیکھا جائے گا ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد ساجدرضا مصباحی

Read More Articles by محمد ساجدرضا مصباحی: 39 Articles with 22045 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Sep, 2020 Views: 168

Comments

آپ کی رائے