سگریٹ نوشی کے کمالات

(Shahid Aziz Anjum, )

تجھے سگریٹ سے جوپیار نہیں،اس کے کس کا تجھ پہ کوئی وار نہیں۔تمباکو کے زہر میں جو مٹھاس ہے،تیرے لئے وہ بیکار ہے۔سگریٹ پر لکھنا چاہتا تھاپر کوئی جہاندیدہ بندہ ہاتھ نہیں آرہا تھا۔جو اس کے متعلق معلومات دے ۔پھر اچانک رات کے تین بجے اس مہربان سے ملاقات ہوئی۔
ہم نے پوچھا : کدھر ؟
کہتے؛سگریٹ نوشی اور اسکے جسم پر اثرات پر لیکچر سننے جا رہا ہوں؟
میں نے کہا؛ اچھی بات ہے ۔۔۔پر اس وقت کون لیکچر دے سکتاہے ؟
میری بیوی۔۔۔اس نے جواب دیا۔
مجھے تبھی سمجھ آگیا کہ کام کا بندہ مل گیا ۔کہتے، ہماری بیوی پوچھتی ہیں ،کیوں جی آپ سگریٹ پیتے ہو شادی سے پہلے کیوں نہیں بتایا۔دھوکا ہو گیا نہ ہمارے ساتھ۔
میں نے جواب دیا ؛آپ خون پیتے، دماغ کھاتے آپ بتائے تھے کیا ؟اور پھراسے مطمئن کرنے کے لئے بولا؛جب سے تم سے شادی ہوئی ہے بیگم۔۔۔نہ میں نے شاپنگ کی ہے ،نہ ہی میں نے سگریٹ کوہاتھ لگایا۔
میری بیوی محبت میں سرشار بولی؛ آپ مجھ سے اتنا پیار کرتے ہیں ۔
میرے منہ سے نکل گیا ؛نہیں کمبخت تیری وجہ سے میری جیب خالی ہوکررہ گئی ہے۔

میں نے موقع پر چوکا مارا اور بولا ایک سگریٹ سلگائیں اور سگریٹ کے فضائل پر روشنی ڈالیں۔

کہتے سگریٹ سلگائی نہیں جاتی بلکہ الجھے ہوئے لوگوں اور مسئلوں کو حل کرنے کیلئے لگائی جاتی ہے۔اور سگریٹ پینا نہ ایک عادت ہے اور نہ ہی نشہ بلکہ یہ ایک طرح کی عبادت ہے۔تو مل جل کر کرنی چاہیے ۔ میں چونکا اور پوچھا وہ کیسے ؟گویا ہوئے؛دیکھنے میں آیا ہے،سخی دل سے سخی دل انسان بھی کبھی کبھار سخاوت سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے،پر سگریٹ پینے والا کبھی بھی سگریٹ کے متلاشی کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے دیکھاگیا۔سگریٹ صبر سکھاتا ہے۔مثلاً اگر چار دوست ایک ہی سگریٹ پی رہے ہیں ،تو سب صبر سے اپنی باری کا انتظار کریں گے۔

سگریٹ اخلاقیات سکھاتا ہے ۔مثلاً مجال ہے،سگریٹ سلگا کے کسی کو دینی ہو تو لبوں میں رکھنے کے باوجود اسے گیلا ہونے دیں ۔یہ نت نئے خیالات،ایجادات،سیاسی پیشین گوئیوں کا منبع ثابت ہوا ہے۔اگر یقین نہ آئے توکبھی بھی سگریٹ پینے والوں کے پاس رک کے انکی گفتگو ملاحظہ فرمائیں۔یہ بھائی چارہ اور یکجہتی کوفروغ دیتی ہے،کیونکہ مشاہدے میں آیا ہے کہ سگریٹ پینے والا ہمیشہ تنہا نہیں پایا گیا۔بلکہ کسی نہ کسی کے ساتھ کش لگاتے ہوئے پایا گیا ہے ۔ یہ خوراک کی کمی مسلئے کا واحد حل ہے کیونکہ اسکو پینے سے بھوک ہی ختم ہو جاتی ہے۔

سگریٹ ذات پات ،رنگ و نسل ،حسب نسب،آقا و غلام کے فرق کومٹاتی ہے ۔اور سگریٹ پینے والوں کی برادری دنیا کے ہر کونے ،ہر شعبے میں براجمان ہے ۔کوئی کسی ملک کا صدر ہے تو کوئی جرنیل بھی ہے۔اسے چائے کا سوتن بھی کہا جاتا ہے۔اگر چائے کے ساتھ پی جائے تو حسن کو چار چاند لگانے کے مترادف ہے ۔اس کے ابتدائی کش اس کے تمباکو کے معیار کا پتہ بتاتے ہیں اور آخری کش دیسی گھی سے بھی زیادہ خالص پن سے لبریز نظر آتے ہیں۔یہ ہونٹوں سے لگ کر جہاں اپنے پن کا احساس دیتی ہے ،وہیں اس کے سلگتے شرلے ہمارے اندر کے جذبات کی ترجمانی بھی کرتے ہیں۔

اس کے دھوئیں کو محض دھواں مت سمجھا جائے ۔یہ ہماری سرد آہوں اور گمشدہ مقاصد کی ترجمانی ہے ۔اس لئے زندگی کی مختلف شعبہ جات کے اہم لوگوں سے جب اس کے متعلق پوچھا ۔۔۔انکے نزدیک سگریٹ کیا ہے ؟ تو سیاست دان نے کہا ؛ عوام کے مسائل کا حل۔ صحافی سے پوچھا؛تو تھکاوٹ کا علاج ،کسی عاشق سے پوچھا تو ؛ادائے دلبر،ڈاکٹر سے پوچھا تو؛ لکشمی کی آمد،اسٹوڈنٹ سے پوچھا تو؛پڑھائی میں مدد،باپ سے پوچھا تو؛عقل کی کمی اور اگر ماں سے پوچھا تو؛جواب ملا لتراں دی کمی۔

لیکن جو بھی سیگریٹ پینے والا گورنمنٹ کے لیے کماؤ پتر ہے،وہ کمائے نہ کمائے ،گورنمنٹ ٹیکس کی مد میں اس سے کمارہی ہے۔کہتے ہیں آج کل سگریٹ نے نئے ٹرینڈ بنانے کے کئی ریکارڈ اپنے نام کیے ہیں۔مثلاً جو لوگ باتھ روم میں بیٹھ کر موبائل استعمال کرتے ہیں ،انھوں نے یہ ٹرینڈ ہم سے چرا لیا ہے۔اور جو لڑکیاں چنی سا منہ بنا کر سیلفی لیتی ہیں ،انہوں نے یہ ہمارے کش کے انداز سے ہی خیال چرایاہے۔

یہ صحت کے حصو ل کی ذامن ہے ۔سگریٹ پینے سے آج تک کسی کا بلڈ پریشر ہائی ہوتے اور شوگر لیول لو ہوتے نہیں دیکھا گیا۔اس سے طاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔پوچھا ؛ میاں کیسے ؟ کہتے ہیں پانچ گلاس دودھ پی کر بھی یہ سامنے والی دیوار نہیں ہلا پاتا پر ایک بھرا ہوا سگریٹ پی لوں تو دیوار خووبخود ہلتی ہوئی نظر آتی ہے۔اور تو اور سگریٹ پینے والی کی نماز بھی ہو جاتی ہے ۔ میں تھوڑا سا متاثر ہوتے نظر آیا تو کہتے ہیں ۔۔۔ایک تحقیق آئی ہے جس سے پتہ چلا ہے سگریٹ پینے سے زندگی آٹھ منٹ کم ہو جاتی ہے اور مسکرانے سے دس منٹ بڑھ جاتی ہے ، اس لئے سوٹے لاندے جاؤ تے ہسدے جاؤ ۔ساب برابر۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Aziz Anjum

Read More Articles by Shahid Aziz Anjum: 5 Articles with 2501 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Sep, 2020 Views: 343

Comments

آپ کی رائے