درس قرآن

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)

سورۃ طلاق
لفظ طلاق سنتے ہیں کان کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایک جدائی کا سامنظر محسوس ہونے لگتاہے ۔کیوں نہ ہو۔یہ لفظ ہی ایسا ہے ۔یہ جائز عمل ہے لیکن اللہ کے ہاں یہ ناپسندیدہ عمل بھی ہے ۔اسلام رشتوں کو جوڑنے کا پیغام دیتا ہے رشتے توڑنے کا پیغام ہرگز نہیں دیتا۔آئیے ہم کلام مجید سے اس مضمون کو سمجھنے و جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔
سورئہ طلاق مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ الطلاق، ۴/۲۷۷) اس سورت میں 2 رکوع، 12 آیتیں ہیں ۔
وجہ تسمیہ:
نکاح سے عورت شوہر کی پابند ہو جاتی ہے، اس پابندی کے اُٹھا دینے کو طلاق کہتے ہیں اور اس سورت میں چونکہ طلاق اور اس کے بعد کے یعنی عدت کے احکام بیان کیے گئے ہیں اس لئے اس سورت کانام ’’سورۂ طلاق ‘‘رکھا گیاہے ۔
سورۂ طلاق کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں وہ احکام بیان کئے گئے ہیں جن کاتعلق میاں بیوی کی ازدواجی زندگی کے ساتھ ہے،نیز اس میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں :
(1)…اس سورت کی ابتداء میں صحیح طریقے سے طلاق دینے کا طریقہ ، عدت اور رجوع کے مسائل بیان کئے گئے ہیں کہ اگر عورت کو طلاق دینی ہو تو پاکی کے دنوں میں اسے طلاق دی جائے،عورت شوہر کے گھر میں اپنی عدت پوری کرے،اگر ایک یا دو طلاقیں دی ہیں تو عدت پوری ہونے سے پہلے بھلائی کے ساتھ عورت سے رجوع کر لیا جائے یا اسے چھوڑ دیا جائے اور اگر رجوع کیا جائے تو اس رجوع پر دو مَردوں کو گواہ بنا لیا جائے۔
(2)…یہ بتایاگیا ہے کہ وہ عورت جسے بچپنے یا بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو تو اس کی عدت تین مہینے ہے اور جو عورت حاملہ ہو ا س کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہے۔
(3)…شوہر کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ عدت ختم ہونے تک اپنی حیثیت کے مطابق عورت کو رہائش اور خرچ مہیا کرے اور اگر بچے کو دودھ پلانے کی اجرت دینی پڑے تو وہ اجرت دینا بھی شوہر پر لازم ہے۔
(4)…اس سورت کے آخر میں اللّٰہ تعالیٰ کے احکام کی مخالفت کرنے والی قوموں پر نازل ہونے والے عذابات کا ذکر کر کے شرعی احکام کی مخالفت کرنے سے ڈرایا گیا ،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری کی حکمت بیان کی گئی
اور اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت اور علم کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔
یارب !تو ہمیں عافیت بھری زندگی عطافرما۔اور ہمیں طلاق جیسے جدائی کے عمل سے محفوظ و مامون فرما۔نہ ہمیں اپنے اعصاب پر اعتماد اور نہ خیالات پر اعتبار ۔ہم صرف تیرے فضل پر جیتے ہیں تو اپنے فضل ہی سے ہماری ازدواجی زندگیوں کو دوام عطافرما۔آمین


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 323 Articles with 275862 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More
21 Sep, 2020 Views: 116

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ