نام تبدیل کردینے سے تاریخ نہیں بدلا کرتی یوگی جی!

(Syed Farooq Ahmed, )

تاریخ بدلنا ہی ہے تومسلمانوں کی تاریخ سے اچھی تاریخ بناکر بتائو

محترم قارئین کرام امید کہ مزاج گرامی بخیر ہوںگے۔ اللہ آپ تمام کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔آپ کی اور آپ کے گھر والوں کی جان مال عزت وآبرو کی حفاظت فرمائے۔اور ہمیشہ خوش وخرم رکھے۔ اور تنگدستی سے آپ تمام کی حفاظت فرمائے۔

آپ تمام لوگ جانتے ہی ہوںگے کہ اب ملک میں تقریباً چار سے پانچ ریاستوں میں الیکشن ہونے جارہے ہیں ایسے میں بی جے پی اور سنگھ کسی بھی ذاتی وادی مدعے کو چھوڑنا نہیں چاہتی جس کے لئے وہ آئے دن اپنے چاٹو کر چینلوں کے ذریعے کچھ نہ کچھ مدعوں کو بھناکر اس پر گندی اور نچلی سطح کی سیاست کرتی جارہی ہے۔آستھا کی بنیاد پر زبردستی جبراً بابری مسجد کو شہید کرکے رام مندر کے نرمان کا مسئلہ تو جیسے تیسے حل کرکے اندھ بھکتوں کو روحانی خوشی تو دیدی ہے۔ لیکن ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری،کرونا سے مرتے ہوئے لوگ،ایجوکیشن مافیائوں کی بڑھتی ہوئی تعداد،آئے دن مسلمانوں کو اقلیتوں کو گائے کے نام پر تو کبھی ذات پات کی بنیاد پر گھیر کر ان کی ماب لنچنگ کرنا ،داڑھی ٹوپی دیکھ کر حلیہ دیکھ کر انہیں گروپ کی شکل میں آکر قتل کردینا ۔۔۔اور ہر محاذ پر ناکام ہوتی حکومت کوگودی چینلوں کے ذریعے دبا کر اندھ بھکتوں کو مزید اندھ بھکتی میں لگا دینا یہی کام اب بھاجپ اور سنگھ کا بچا ہوا ہے۔

اور جس کام کے لئے سنگھ اور بھاجپ نے جنم لیا ہے وہ اپنے منشور اور نظریات کے حساب سے گاندھی جی کا قتل کرکے اس کی شروعات کرچکے ہیں اور آج حالت یہ ہے کہ ملک کو وہ ہندوراشٹر کی طرف ڈھکیلنے کے لئے پورا زور لگا رہے ہیں ۔ ان کاموں کو اولیت کے ساتھ مکمل کیا جارہا ہے جس سے نہ ملک کو کچھ فائدہ اور نہ ہی ملک کی عوام کو کچھ فائدہ ہے۔ اور ایسے سنگھی کاموں کو سب سے زیادہ طاقت کے ساتھ اورکرسی کی اکڑ کا پورا فائدہ اٹھانے والے ’ ہمیشہ مسلمانوں کی ہر چیز سے نفرت کرنے والے مسلمانوں کو اس ملک سے ختم کردینے کا ایک فالتو خواب دیکھنے والے یوپی کے سنگھی وزیراعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ جب سے کرسی پر براجمان ہوا ہے تب سے لے کر اب تک وہ سرخیوں میں بنا ہوا ہے۔

یوگی نے سی ایم کی کرسی سنبھالتے ہی اپنے سنگھی کاموں کو انجام تک پہنچانا شروع کردیا تھا اس نے سب سے پہلے اپنی مسلمانوں سے نفرت کا ثبوت دیتے ہوئے شہروں کے ناموں کو بدلنے کے منصوبے پر عمل کیااور سب سے پہلے مغل سرائے کا تاریخی نام بدل کر دین دیال اپادھیائے نگر کردیا تھا۔

اس کے بعد الہ آباد کا پریاگ راج اور فیض آباد کا نام بدل کر ایودھیا کردیا تھا۔ اور اس کے بعد ایک قدیم مغلوں کی بسائی ہوئی بستی کا نام بدل کر وشسٹھ نگر بھی کردیا ہے۔اور اس کے اس طرح کے فیصلوں کا سادھ سنتوں نے خوب خیر مقدم کیا اور اندھ بھکتوں کا تو کیا ہی پوچھنا۔

دوستو میں آپ کو ایک اور خاص بات بتادوں کہ مرکزی حکومت نے کم از کم پچیس شہروں اور دیہاتوں کے نام بدلنے کی منظوری بھی دیدی ہے جن میں خاص طور پر مغل سرائے ، الہ آباد اور فیض آباد تو شامل تھے ہی جن کے نام بدل دئے گئے ہیں۔ اور آگے جن شہروں کے نام بدل دئے جائیں گے ان میں احمد آباد کا نام کرناوتی کردیا جائے گا۔ میرٹھ شہر کو گاندھی کا قتل کرنے والا آر ایس ایس کا سب سے بڑا دہشت گرد ناتھو رام گوڈسے کے نام سے گوڈسے نگر کرنے کی کاروائی شروع ہوچکی ہے۔

اور فی الحال جس کی وجہ سے یوگی اور یوپی ان دنوں سرخیوں میں ہے وہ اس لئے کہ آگرہ کے قریب ایک میوز یم کا نام تبدیل کردیاگیا ہے ۔جبکہ میوزیم ابھی تیاربھی نہیں ہوا ہے بلکہ اس کا کام ابھی چل ہی رہا ہے ۔یاد رہے کہ یوپی کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے 2016 میں اپنی حکومت کے زمانے میں آگرہ کے قریب ایک میوزیم کی بنیاد رکھی تھی ۔ اس کا نام مغل میوزیم رکھا گیاتھا ۔

اس میوزیم کی تعمیر کا مقصد مغلوں کے دورحکومت اوراس زمانے کے تاریخ کی نمائش کرنا تھا۔ آگرہ مغلوں کے زمانے میں پایۂ تخت تھا ۔ لمبے عرصہ تک یہاں سے انہوں نے پوری ایمانداری محبت اور انصاف کے ساتھ بھارت پر راج کیا ۔ اس لئے آگرہ میں مغلوں کے بہت سارے آثار ہیں ۔ ان کے بنائے قلعے ہیں ۔ مکانات ، عمارتیں اور دیگر چیزیں بہت زیادہ ہیں ۔ مغل بادشاہوں کے مقبرے ہیں ۔ پرکشش عمارتیں ہیں اور سب سے اہم یہ کہ دنیا کا ساتواں عجوبہ اور بھارت کی آن بان اور شان امتیاز تاج محل بھی یہیں ہے۔

لہذا سنگھی ذہنیت والے مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھنے والے یوگی ادتیہ ناتھ کو یہ بات بالکل بھی پسند نہیں آئی کہ میرے رہتے ہوئے یہاں کسی مسلم کی کوئی چیز باقی رہے گی لہذایوگی ادتیہ ناتھ نے ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ” آپ کے نئے اترپردیش میں غلامی کی ذہنیت کی کوئی علامت اب باقی نہیں رہے گی۔ ” لہذا اب اس مغل میوزیم کا نام چھترپتی شیواجی رکھا جائے گا۔

ارے دوستو پاگل پن کی بھی حد ہوتی ہے۔ شیواجی مہاراج کدھر کے اور وہ میوزیم میں رکھی جانے والی تمام چیزیں مغلوں کی ۔۔۔بھلا دونوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر اب اس میوزیم میں نمائش کن چیزوں کی ہوگی۔شیواجی کا دوردور تک یوپی سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے اور نہ ہی وہاں شیواجی کی کوئی یادگار ہے-

جبکہ یوپی مغلوں کی تاریخ سے بھرا پڑا ہے اس کے ہر ذرے ذرے پر مغلوں کی یادگاریں موجود ہیں۔
جبکہ دوستو آپ کو پتہ ہونا چاہئے کہ شیواجی کا معاملہ صرف مہاراشٹر کی حد تک تھا اور شیواجی اپنی زندگی میں صرف ایک بارآگرہ گئے تھے اور وہ بھی مغلوں کی فوج سے شکست کھاکر آگرہ میں اورنگ زیب سے ملنے گئے تھے۔ مہاراشٹرا میں مغلوں کے فوجی جنرل اور راجہ جے سنگھ نے انہیں بدترین شکست دی تھی ۔ان کے کئی سارے قلعوں پر قبضہ کرلیاگیا تھا ۔ اس کے بعد جے سنگھ شیواجی کو اورنگ زیب کے پاس لے گئے تاکہ صلح ہوجائے لیکن ایسا نہیں ہو پایا ۔ اورنگ زیب کے دربار میں انہیں دوسری صف میں کھڑا کیا گیا ۔ شیواجی اس سے غصہ اور ناراض ہوگئے اور وہیں پر ناراضگی ظاہر کی۔ اس کے بعد انہیں اسی جگہ گرفتار کر لیا گیا ۔لیکن بعد میں ولی صفت درویش بادشاہ اورنگ زیب نے رحم کرتے ہوئے شیواجی کو آزاد کردیا ۔

لیکن دوستو یہاں سوال یہ ہے کہ کیا نام بدل دینے سے تاریخ بدل جائے گی۔ کیا اس کی اصلیت بدل جائے گی نہیں نا۔۔۔پھر کوئی اس یوگی ادتیہ ناتھ جی کو سمجھاتا کیوں نہیں؟

یوگی جی کو کوئی بتائے کہ تاریخ میں کسی کی مرضی اور ہٹ دھرمی نہیں چلتی۔۔لیکن یہ بات یوگی کے سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ کسی عمارت اور کسی شہر کا نام بدلنے سے تاریخ نہیں بدلتی۔

دراصل وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے نام بدل دینے سے مسلمانوں کی ۸۰۰ سالہ حکومت کی حقیقت اور دبدبہ ختم ہوجائے گا۔ انہیں لگتا ہے کہ لال قلعہ ، تاج محل ، قطب مینار فتح پور سیکری اور اس طرح کی سیکڑوں شاندار عمارتوں کو جنہوں نے بنایا ہے اس کی جگہ کسی اور کا نام لکھ دیا جائے گا اور لوگ اسے مان لیں گے ۔۔۔۔ اس گمان میں انہوں نے کئی عمارتوں اور شہروں کا نام بدلنے کے بعد آج ایک اور عمارت کا نام تبدیل کردیا ہے جو مغلوں کے نام پر تھا ۔

دراصل دوستوں ناموں کی یہ تبدیلی بی جے پی کی شکست خوردہ ذہنیت،کم ظرفی اور سیاسی مکاری کی عکاسی کرتی ہے ۔ بی جے پی کا ماننا ہے کہ انڈیا کا سنہری دور یہاں مسلمانوں کی آمد سے پہلے تھا ،مسلمان حملہ آور تھے لٹیرے تھے جنہوں نے اسے برباد کرڈالا اور یہاں کے ہندوؤں کو غلام بنا کر ان پر راج کیا ۔مودی جی نے لوک سبھا میں اپنی پہلی تقریر میں اسی ایک ہزار سالا دور غلامی سے آزادی کی بات کی تھی ۔ بی جے پی اور سنگھ اپنی اس بات کو منوانے کے لئے کسی نہ کسی طرح تاریخ کو تبدیل کرنا چاہتی ہے ،سو انہوں نے پہلے اس پر سوال اٹھائے ،تنازعے کھڑے کئے ،اسے مسخ کر نے کی کوشش کی اور جب کبھی اقتدار میں آئے تاریخی مقامات کے نام تبدیل کئے ۔یوگی اور سنگھی یہ سمجھتے ہیں اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ بھارت کی سنہری تاریخ سے مسلمانو ںکا نام ونشان مٹ جائے۔

تاریخ کے وہ اوراق ختم کردئے جائیں جن پر یہ لکھا ہے کہ اس بھارت پر مغلوں نے مسلمانوں نے آٹھ سو سالہ حکومت کی۔ اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ ساری دنیا کے لوگ یہ بھول جائے کہ لال قلعہ تاج محل قطب مینار ،اور اس جیسی ہزاروں خوبصورت عمارتوں کے بنانے والے بادشاہ اور کاریگر مسلمان تھے۔
وہ چاہتے ہیں کہ راجہ داہر کی حکومت کا ذکر ہو۔پھر پرتھوی راج چوہان کا ذکر ہو۔۔نرسمہا رائو کا ذکر ہو اٹل بہاری واجپائی کا ذکر ہو او رپھر ان کے Pappaنریندرمودی کا ذکر کیا جائے۔ اور بیچ میں سبھی کو ختم کردیا جائے اور دنیا کے سامنے یہ تصویر پیش کی جائے کہ بھارت میں مسلمانوں نے کبھی حکومت کی ہی نہیں ۔

ارے سنگھی غنڈوںتم کیا سمجھتے ہوں کہ محمد بن قاسم ، قطب الدین ایبک ، شمس الدین التمش ، رضیہ سلطانہ ، علاءالدین خلجی ، ابراہیم لودھی ، ظہیر الدین بابر ، ہمایوں ، جہاں گیر ، شاہ جہاں ، اورنگزیب عالمگیر ، بہادر شاہ ظفر اور ا س کے بعدانگریزوں کی حکومت، ان سبھی کا بھارت سے کوئی تعلق نہیں رہا ۔یا یہ کبھی یہاں کے حکمراں بنے ہی نہیں۔۔۔۔۔کیسے ممکن ہوگا یہ سنگھیوں۔۔۔۔یہ سوال ہر دور میں اور ہر بار پوچھا جائے گا کہ مسلمانوں نے خلجیوں نے مغلوں نے انگریزوں نے بھارت پر راج نہیں کیا تو پھر ایک ہزار سال تک یہاں کون راج کرتا رہا۔ کس نے حکومت کی ۔۔۔۔۔

دوستو یہ صرف پاگل پن ہے مسلمانوں سے دشمنی اوربغض کی علامت ہے اور دوسرا کچھ بھی نہیں بھلا کسی طرح کسی عمارت اور شہر کا نام بدلنے سے تاریخ بھی بدلی جاسکتی ہےکیا ہے۔

میرا سنگھیوں کو ایک مفت میں مشورہ ہے کہ اگر تمہیں تاریخ بدلنی ہی ہے تو ایک ہی راستہ ہے۔۔۔اور وہ یہ کہ اس تاریخ سے اچھی تاریخ تم بنا کر بتائو۔تب جاکر ہم کچھ مانیں گے۔۔۔۔

ارے دوستو ہمارے ملک کا وزیراعظم ایک گھر نہیں بسا سکے وہ تاریخ کیا بنائیں گے۔ اور یہ بات سبھی کو سمجھ لینی چاہئے کہ تاریخ صرف Winnersکو یاد رکھتی ہے Loosersکو نہیں۔

اس میوزیم کا نام بدل کر شیواجی کے نام پر رکھ دیا گیا ہے۔ جس پر یوگی کا کہنا ہے کہ مغل ہمارے ہیرو نہیں ہوسکتے ۔ اور ہماری حکومت قوم پرستی کے جذبہ کو فروغ دینے کا کام کرتی ہے۔ لہذا مغل میوز یم کا نام ناقابل برداشت ہے اس لئے ہم اس کا نام تبدیل کررہے ہیں۔

اوروزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے واضح کردیا ہے کہ حکومت نے ہمیشہ قوم پرست نظریات کو فروغ دیا ہے اور کوئی بھی ایسی چیز جو غلامی یا ماتحت رہنے کی علامت ہو اسے ختم کیا جائے گا “۔

اب دوستو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نام شیواجی کا رکھ دینے سے اس میوزیم میں سیاحوں کے لئے کیا رکھا جائے گا۔ ظاہر سی بات ہے کہ میوزیم میں نمائش مغلوں کی ہی ہوگی ۔ مسلم بادشاہوں کی ہی ہوگی ۔ مغلوں کی تاریخ ہی وہاں بتائی جائے گی ۔ جلال الدین اکبر کی ہسٹری لکھی جائے گی ۔ شاہ جہاں کی نمائش ہوگی ۔ اورنگ زیب عالمگیر کی نمائش ہوگی ۔ جو سیاح اور وزیٹرس وہاں جائیں گے انہیں دیکھنے کو جلال الدین اکبر کا قلعہ ہی ملے گا ۔ تاج محل کی تاریخ ملے گی ۔ مغلوں کا فرمان ملے گا ۔ مغل بادشاہوں کا لباس ملے گا ۔۔۔۔ میوزیم میں وہ یہی دیکھیں گے کہ اکبر اس طرح کا کرتا پہنے تھے ۔ اورنگ زیب کی ٹوپی یہ والی تھی ۔ شاہجہاں کی پگڑی یہ تھی ۔ یہ تلوار اکبر کی ہے ۔ یہ بندوق اورنگ زیب کے زمانے میں استعمال ہوئی تھی ۔ اسی توپ کا استعمال کرکے بابرنے پانی پت کی جنگ جیتی تھی ۔

دوستو میں آپ کو پچھلے کئی دنوں سے یہ کہتے آرہا ہوں کہ بھاجپ حکومت ہر محاذ پر ناکام ونامراد ہوچکی ہے لہذا اس نے ان تمام ناکامیو ںپر پردہ ڈالنے کے لئے لوگوں کا دھیان بھٹکانے کے لئے آئے دن ایسے ایشوز کو ہوا دی جارہی ہے تاکہ لوگوں کا دھیان اصل مدعوں سے ہٹ کر فالتو اور ذاتی وادی مدعوں پر لگا رہے۔ کیونکہ ملک کی عوام جانتی ہے کہ چین پوری طاقت کے ساتھ ہمارےگھر میں گھستا جارہا ہے۔
جی ڈی پی انتہائی کم درجہ پر پہنچ گئی ہے ۔بے روزگار خود کشی کررہے ہیں۔کرونا نے حکومت کی قلعی کھول دی ہے اس لئے یوگی کا یہ عمل جس کے لئے وہ جانے جاتے ہیں یہی سب مسئلوں کو چھپانے کے لئے کھڑا کیاگیا ہے۔

ارے سنگھیوں تمہیں یاد دلانا پڑتا ہے کہ بھارت کے مسلمان اور مغل حکمرانوں نے اپنی زندگی میں بھی بھارت اور یہاں کے عوام کیلئے کا م کیا۔ معیشت کو بہتر بنایا ۔ روزگار دیا اور آج وہ اپنی موت اور سلطنت کے خاتمہ کے بعد بھی بھارت کی معیشت ، عوام کے روزگار اور دنیا کی توجہ کا سبب بنے ہوئے ہیں ۔ بھارت کی آزادی کا جشن لال قعلہ سے منایا جاتا ہے ۔ اس کی فصیل پر ہمارا ترنگا لہرایا جاتا ہے ۔ دنیا بھر کے لوگ تاج محل ، ہمایوں کا مقبرہ ، آگرہ کا قعلہ ، فتح پورقلعہ ، قطب مینار اور اس جیسی بے شمار عمارتوں کی خوبصورتی دیکھنے آتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے ہمارے ملک کے خزانے میں کڑروں روپیہ کی سالانہ آمدنی ہوتی ہے ۔ لوگوں کو روزگا ملا ہوا ہے اور بیرونی ممالک سے ہمارے رشتہ اچھے بنے ہوئے ہیں ۔ جن بادشاہوں نے بھارت کیلئے اتنا کچھ کیا آج انہیں کایہ نام و نشان مٹانا چاہتے ہیں ۔۔۔۔
یوگی آدتیہ ناتھ کہتے ہیں کہ یوپی میں غلامی کی سبھی علامتوں کو مٹانا چاہتے ہیں لیکن وہ مٹا نہیں سکتے ہیں ۔ 24 فروری کو انہیں غلامی کی یہ علامت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو بھی پیش کرنا پڑا ۔جب وہ تاج محل دیکھنے گئے تھے۔جب سوشل میڈیا پر وہ تصویر بہت وائرل ہوئی تھی ۔

خیر یوگی اور سنگھیوں اور تمام گوڈسے کی اولادوں کان کھول کر سن لو کہ مغل ہمارے ہیروز ہیں ہمارا قیمتی سرمایہ ہے ان کے بغیر بھارت کی تاریخ کبھی مکمل نہیں ہوسکتی انھوں نے ہی اس ملک کو اتنی خوبصورتی دی تبھی بھارت بھارت کہلانے کے لائق ہوا ہے۔ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں آپ نے ملک کو کیا دیا ۔۔۔۔تو اندھ بھکت کبھی نہیں کہتے کہ تم نے ملک کوصرف سوچالئے۔۔۔۔نفرت دی۔۔۔قتل وغارت گری دی اور کچھ نہیں دیا۔

اور ویسے بھی سنگھی ذہنیت والے گوڈسے کی سوچ والے دے بھی کیا سکتےہیں۔

خیر میری آپ تمام سے گذارش ہے کہ جمہوریت کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کریں ان کی اس Stratigy سے مشتعل نہ ہوں ایسا کرنے سے ان کا ہی کام آسان ہوجاتا ہے۔ منظم منصوبہ بند طریقے سے سنگھی حکومت کے خلاف کاروائی کریں۔اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری تہذیب اورہمارا تمدن باقی رہے تو اس پر ہمیں عمل کرنا ہوگا تب ہی یہ ساری ثقافتیں اور محبتیں اس ملک میں باقی رہے گی۔

اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ظالم جابر حکمرانوں کو ہدایت دے دے یا پھر انہیں صفحہ ہستی سے مٹانے کے فیصلے فرمادے۔اللہ ہم سب میں آپس میں اتحاد واتفاق کو پروان چڑھائیں اور ایک دوسرے کا دکھ درد سمجھنے کی توفیق بخشے۔۔ اللہ حافظ۔۔۔۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ



--

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: syed farooq ahmed

Read More Articles by syed farooq ahmed: 34 Articles with 15763 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Sep, 2020 Views: 119

Comments

آپ کی رائے