کھلا تضاد

(Rohail Akbar, Lahore)

پچھلے چند روز سے ایک بڑی دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی ہے پہلے اے پی سی والا معاملہ تھا اور اسکے بعد سیاستدانوں کی آرمی چیف سے ملاقات ان دونوں واقعات پر ابھی بحث مباحثہ جاری تھا کہ وفاقی وزیر اسد عمر کے بڑے بھائی مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق گورنر سندھ جناب زبیر صاحب کی آرمی چیف سے دو ملاقاتوں کی کہانی منظر عام پر آگئی جبکہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف بھی انہی دنوں آرمی چیف سے ملاقاتیں کرچکے ہیں یہ تمام ملاقاتیں آرمی چیف کی خواہش پر نہیں بلکہ حکومت مخالف اپوزیشن رہنماؤں کی درخواست پر کی گئی ہیں ایک طرف تو ہمارے یہ سیاستدان فوج کو سیاست سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں تودوسری طرف آرمی چیف سے ملاقاتیں کرکے انہیں موجودہ جمہوری سیاسی نظام میں مداخلت کی دعوت دیتے ہیں ایک طرف ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتے ہیں تو دوسری طرف ووٹ کی عزت کو خود ہی پامال کررہے ہیں یہی سیاستدان جو گذشتہ روز ایک دوسرے کے ساتھ عہدو پیمان، مل بانٹ کر اور مل بیٹھ کر چلنے کی باتیں کررہے تھے اپنے اپنے اقتدارمیں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھنچا کرتے تھے بینظیر نوا زشریف کے خلاف اور نواز شریف بینظیر کے خلاف کھل کر سازشیں کرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی حکومت گرانے کے لیے آرمی چیف سے رات کے اندھیرے میں ملاقاتیں کرکے اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا کرتے تھے اور تو اور دونوں رہنما ایک دوسرے کو گالیاں اور ننگی تصویریں عوام کو دکھاتے تھے اور یہ بات اتنی پرانی بھی نہیں ہے کہ جب آصف علی زرداری کہا کرتے تھے کہ میاں نواز شریف نے انکی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے اور وہ اب کسی صورت ان پر اعتبار نہیں کرینگے اور شہباز شریف تو زرداری کا پیٹ پھاڑ کر اس میں سے لوٹے گئے روپے نکالنے اور ان کو لاہور اور کراچی کی سڑکوں پر گھسیٹے جیسے بیانات بھی جلسہ عام میں دیا کرتے تھے یہ کوئی پرانی بات نہیں جو ہمارے حافظہ سے غائب ہو گئی ہواور کم وبیش اسی طرح کی حرکات کی مرتکب پیپلز پارٹی بھی ہوتی رہی ہے یا کم از کم بیانات کی حد تک مریم نواز اور کلثوم نواز تک کی کردار کشی تو کی گئی ہے مجھے حیرت ہوتی ہے ان دونوں پارٹیوں کی لیڈر شپ پر کیسے اپنے ماں باپ کو گالیاں دینے والوں سے بغلگیرہوجاتے ہیں اور یہ بھی کوئی بہت پرانی بات نہیں جب مسلم لیگ ن نے ہوائی جہاز کے ذریعے بی بی مرحومہ کی نازیبا تصاویر کی بارش کی تھی اخبارات میں نصرت بھٹو مرحومہ کی ڈانس کرتی ہوئی تصاویر شائع کروائی گئی تھیں اور پھر سبھی اپنے اپنے مفادات کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے ہو رہے ہیں اور کوشش کررہے ہیں کہ فوج کو ایک بار پھر سیاست میں شامل کرلیں اسی مقصد کے لیے محمد زبیر نے آرمی چیف سے دو ملاقاتیں بھی کی اور جب یہ بات منظر عام پر آئی تو پھر اپنی خفت متانے کے لیے کہہ دیا کہ یہ ملاقاتیں انکی خواہش پر ہوئی تھیں کیونکہ ہمارا بہت پرانا تعلق ہے مگر آئی ایس پی آر نے پوری وضاحت سے بیان کردیا کہ وہ مریم نواز شریف اور نواز شریف کے لیے آئے کہ انہیں معاف کردیا جائے یا معافی دلوادی جائے جس پر آرمی چیف نے واضح کیا کہ فوج کا سیاسی معاملات سے کوئی تعلق نہیں انکے یہ لیگل معاملات ہیں اور انہیں عدالتوں میں ہی حل ہونا چاہیے اور سیاسی معاملات کے لیے پارلیمنٹ موجود ہے اس لیے ہمیں سیاست کی بجائے اپنا کام کرنے دیا جائے ۔مسلم لیگ ن کی قیادت کا یہ عالم ہے کہ وہ اندر جا کر معافیاں مانگتے ہیں اور باہر نکل کرانہی کے خلاف بولنا شروع کردیتے ہیں اسی لیے تو انکے سخت مخالفین بھی ان سے دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے سو بار سوچتے ہیں یہ لوگ کرپشن کے بادشاہ ہیں انہوں نے اپنے ملازمین کے نام پر اربوں روپے ٹرانسفر کیے پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے اپنے اپنے دور میں جی بھر کرلوٹا اور اب نیب کی جانب سے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور بچوں کے خلاف ریفرنس دائر کیا جا چکا ہے، نیب نے موثر تحقیقات کرکے ٹھوس شواہد اکٹھے کئے ہیں، ایف آئی اے شوگر کمیشن رپورٹ کے سلسلہ میں تحقیقات کر رہی ہے، رمضان شوگر ملز کے 11 ملازمین کے اکانٹس کے ذریعے ساڑھے 9 ارب کی منی لانڈرنگ ہوئی، منظم گینگ نے منظم طریقہ سے منی لانڈرنگ کی نیب کی رپورٹ 55 والیمز اور 25 ہزار صفحات پر مشتمل ہے اس ریفرنس میں 16 افراد نامزد ہیں جن میں سے 6 کا تعلق شہباز شریف خاندان سے ہے، 10 ملزمان ان کے آلہ کار ہیں، اس کیس میں 4 افراد اپنا گناہ تسلیم کرتے ہوئے سلطانی گواہ بن گئے ہیں تین کمپنیاں بھی اس منی لانڈرنگ نیٹ ورک کا حصہ ہیں، 177 جعلی ٹی ٹیز بھی نیب ریفرنس کا حصہ ہیں، حمزہ شہباز کے اکاؤنٹ میں آنے والی رقوم کی تفصیل بھی ریفرنس میں درج ہے ایف آئی اے شوگر کمیشن رپورٹ کے سلسلہ میں تحقیقات کر رہی ہے، رمضان شوگر ملز کے 11 ملازمین کے اکانٹس کے ذریعے ساڑھے 9 ارب کی منی لانڈرنگ ہوئی، منی لانڈرنگ کی رقم شہباز شریف اور ان کے خاندان نے اپنے ذاتی مفاد کیلئے استعمال کی، ان کی درآمد شدہ لینڈ کروزر کی کسٹم ڈیوٹی منی لانڈرنگ کی رقوم سے ادا کی گئی، ڈی ایچ اے میں 2 گھر اسی منی لانڈرنگ کی رقم سے خریدے گئے، شہباز شریف نے اپنی اہلیہ کو ایک گھر تحفہ میں خرید کر دیا، یہ گھر بھی اسی رقم سے خریدا گیا، منظم گینگ نے منظم طریقہ سے منی لانڈرنگ کی۔ رمضان شوگر ملز کے 11 ملزمان کے جعلی اکانٹس کھولے گئے اور ان میں ساڑھے 9 ارب روپے کی رقم منی لانڈرنگ کے ذریعے بھیجی گئی، ان ملازمین میں ملک مقصود 2.3 ارب روپے، رضا عباس 1.2 ارب روپے، غلام شبر 1.1 ارب روپے، خضر حیات 1.4 ارب روپے، محمد غواث 880 ملین روپے، اکرام حسین 650 ملین روپے، تنویر 512 ملین، توقیر الدین 480 ملین، گلزار احمد 425 ملین، مسرور احمد 230 ملین اور رانا وسیم کے اکانٹ میں 250 ملین روپے ڈالے گئے اور پھر نکالے گئے۔ یہ رمضان شوگر ملز شہباز شریف فیملی کی ملکیت ہے، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز اس کا کاروبار دیکھ رہے ہیں اور انہی چوریوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلیے کبھی یہ فوج کے خلاف بولتے ہیں تو کبھی ان سے معافی مانگنے کے لیے منتیں کرتے ہیں کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے ؟۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: rohailakbar

Read More Articles by rohailakbar: 431 Articles with 162440 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Sep, 2020 Views: 124

Comments

آپ کی رائے