انشاء اﷲ

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ پہلے صدارتی مباحثے کے دوران جو بائیڈن نے انشاء اﷲ کا لفظ استعمال کر کے دلچسپ بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکا میں ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار اور سابق امریکی نائب صدر نے اپنے صدارتی مباحثے کے دوران ایسا لفظ استعمال کیا جو عربی زبان بولنے والے اور مسلمان گھرانوں میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے مگرقومی سطح پر ٹیلی ویژن پر امریکی بحث میں شاید پہلی مرتبہ ہی سنا گیا ہو۔منگل کی شب اس صدارتی مباحثے میں ری پبلکن کے صدارتی امیدوار اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ بتانے سے انکار کرتے رہے کہ وہ اپنے ٹیکس گوشوارے کب جاری کریں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی رقم ادا کرنے کے دعوے کے بارے میں کہا کہ’’لاکھوں ڈالر اور آپ اسے دیکھیں گے‘‘۔جس پر ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار نے برجستہ کہا ’’کب؟ انشااﷲ‘‘۔عرب ممالک میں بھی جو بائیڈن کے الفاظ کے استعمال پر بحث ہو رہی ہے۔نامزد ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کی انتخابی مہم بھی اس بات کی تصدیق کر رہی ہے کہ حقیقت میں جو بائیڈن نے یہ انشاء اﷲ کا لفظ استعمال کیا ہے۔انشاء اﷲ تین الفاظ کا مجموعہ ہے۔ ان(اگر)، شاء(چاہا)، اﷲ(اﷲ تعالیٰ نے)۔انشااﷲ کے لغوی معنی ’’اﷲ کی مرضی‘‘یا اگر اﷲ تعالیٰ نے چاہا،کے ہیں ۔

قرآن پاک میں جا بجا، انشاء اﷲ کا ذکر آیا ہے۔ سیرت میں ذکر ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے سچا نبی ہونے کے بارے میں معلومات کے لئے مشرکین مکہ نے چند افراد یہودی ربیوں کے پاس روانہ کئے۔ انہوں نیحضرت محمد ﷺ کے لئے تین سوالات تیار کئے اور کہا اگر آپ ﷺنے ان کے درست جوابات دیئے تو تب وہ سچے نبی ہیں۔ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ وہ اگلے دن سوالات کے جوابات دیں گے۔ مگر 15دنوں تک آپ ﷺ کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ ان میں سے پہلا سوال یہ تھا کہ زمانہ قدیم میں جونوجوان اچانک غائب ہو گئے ، ان کے ساتھ کیا ہوا؟۔دوم، آپﷺ سے اس طاقتور مسافر کے بارے میں پوچھیں جو مشرق اور مغرب دونوں کی حدود تک پہنچا ہے۔سوم، آپ ﷺ سے پوچھو روح کیا ہے؟ اگر وہ آپ کو جواب دے سکتا ہے آپ ﷺ کی پیروی کرو کیونکہ وہ ایک نبی ہے۔ اگر وہ درست جواب نہیں دے سکتے تو وہ نوذ باﷲ ،جعل ساز ہے ۔ یہ لوگ مکہ مکرمہ میں قریش واپس آئے اور انہیں بتایا کہ ان کے پاس محمدﷺ کے ساتھ معاملات طے کرنے کا فیصلہ کن طریقہ ہے اور انھوں نے انہیں تینوں سوالات کے بارے میں بتایا۔وہ رسولﷺ کے پاس آئے اور ان سوالات کے جوابات دینے کا مطالبہ کیا۔آپ ﷺنے ان سیفرمایا، 'میں تمہیں کل تمہارا جواب دوں گا۔' لیکن یہ نہیں کہا، 'انشاء اﷲ۔' تو وہ چلے گئے۔ اور رسولﷺ نے اس معاملے پر خدا کی طرف سے وحی کے بغیر پندرہ دن تک انتظار کیا، اور نہ جبرائیل آپﷺ کے پاس آئے، اہل مکہ نے بری خبریں پھیلانا شروع کیں، کہ محمد ﷺنیہم سے کل جواب دینے کا وعدہ کیا اور آج پندرہویں دن ہم جواب کے بغیر ہی رہے ہیں۔ اس تاخیر نے رسولﷺ کوغم زدہ کیا، یہاں تک کہ جبرعیل ؑآپ ﷺکے پاس تشریف لائے اور سوالات کے جوابات بیان کئے۔ آپﷺ نے اگر کل جوابات دینے کا وعدہ کرنے کے ساتھ انشاء اﷲ بھی کہا ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔قرآن پاک میں حکم نازل ہوا کہ ’’اور کبھی بھی کسی چیز کے بارے میں مت کہنا، ''بے شک، میں کل یہ کروں گا۔'' بلکہ کہو انشاء اﷲ۔

جو بائیڈن کی جانب سے انشااﷲ الفاظ کے استعمال کی مختلف تشریحات ہو رہی ہیں۔نیو جرسی، امریکہ میں مونٹکلیر اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہر لسانیات کے پروفیسر فادی ہلانی، جنہوں نے 'انشااﷲ' کے استعمال پر تحقیق کی ہے، نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ یہ واضح ہے کہ جو بائیڈن نے یہ لفظ طنزیہ لہجے میں استعمال کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو بائیڈن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر طنزیہ انداز میں یہ شکوہ کر رہے تھے کہ وہ اپنے ٹیکس گوشوارے پیش کر ہی نہ دیں ۔پہلے صدارتی مباحثے کے دوران توہین آمیز رویہ، گالیوں کا استعمال دیکھنے میں آیا اور ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مرتبہ مداخلت کی۔جو بائیڈن نے کورونا وبائی امراض، معیشت اور نومبر کے انتخابات کے انعقاد پر ٹرمپ کی قیادت پر زبردست تنقید کی۔اس سے قبل جو بائیڈن اس خدشے کا اظہار کرچکے تھے کہ انہیں مباحثے کے دوران امریکی صدر کی جانب سے الزامات اور جھوٹ کی توقع ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کا موازنہ نازیوں کا پروپیگنڈا کرنے والے جوزف گیبلز سے کیا تھا۔اس سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے صدارتی حریف جوبائیڈن کی ذہنی صلاحیت پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ دونوں کے مابین پہلے مباحثے سے قبل یا اس کے بعد اپنا ڈرگ ٹیسٹ کرائیں۔

صدارتی نامزد امیدوار جو بائیڈن نے منگل کی رات کی اس بحث پر شک کیا کہ آیاڈونلڈ ٹرمپ کبھی بھی اپنے ٹیکس گوشوارے جاری کردیں گے۔''آپ اسے دیکھیں گے،'' ٹرمپ نے بار بار کہا ۔ جب مباحثے کے میزبان کرس والس نے اس پر زور دیا کہ وہ ٹائم لائن کے پابند ہوں۔ بائیڈن نے جواب دیا، ''کب؟ انشاء اﷲ؟''۔ عربی زبان میں یہ جملہ ''اگراﷲ نے چاہا'' میں ترجمہ کیا ہے۔اچانک، بہت سارے عرب امریکی ناظرین اور متعدد لوگ انٹرنیٹ پر اجتماعی طور پر ڈبل ٹیک لے رہے تھے۔چونکہ لوگ بائیڈن کی جانب سے انشاء اﷲ کے استعمال پر شاید یقین کرنے پر تیار نہ تھے۔مگر مباحثے کے گھنٹوں بعد، بائیڈن کی انتخابی مہم نے نیشنل پبلک ریڈیو کو تصدیق کی کہ یہ سچ ہے، بائیڈن نے در حقیقت یہ جملہ استعمال کیا تھا۔ بائیڈن نے اپنے ذاتی انکم ٹیکس گوشوارے جاری کر دیئے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سابق نائب صدر اور ان کی اہلیہ جِل بائیڈن نے اپنی 985,000ڈالر کی مجموعی ذاتی آمدنی کا تقریبا 30 فیصد ٹیکس ادا کیاہے۔ ٹرمپ نے رضاکارانہ طور پر اپنے انکم ٹیکس گوشوارے جاری کرنے سے انکار کردیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ٹرمپ نے گزشتہ 15 سالوں میں سے 10 میں کوئی انکم ٹیکس ادا نہیں کیا۔تا ہم 2016 میں صرف 750 and اور 2017 میں 750 ڈالرٹیکس دیا۔

انشاء اﷲ الفاظ فارسی اور اردو میں بھی یوں ہی استعمال ہوتے ہیں۔مالٹا میں اسی جیسے الفاظ’’جیک اﷲ جرید‘‘ استعمال کئے جاتے ہیں۔تا ہم مجموعی طور پر مسلمان یہ الفاظ تب استعمال کرتے ہیں جب مستقبل میں کوئی کام کرنا یا نہ کرنا ہو۔ اب جو بائیڈن کی جانب سے انشاء اﷲ پر مغرب ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں تحقیق ہو رہی ہے ۔ اسی طرح اﷲ تعالیٰ دین کے بارے میں حقائق سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ نئی نسل تحقیق کرتی ہے اور اسلام میں جوق در جوق داخل ہونے کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔حکیم الامت علامہ اقبال نے بانگ درا میں کیا خوب بیان کیا ہے
ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے
پاسبان مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 545 Articles with 195916 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
05 Oct, 2020 Views: 261

Comments

آپ کی رائے