ہفتہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور ہمارے اخلاق

 
 پاکستانی قوم ہفتہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم منارہی ہے۔ اس سلسلے میں ایک ہفتے تک مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جارہا ہے ۔ بلاشبہ یہ حکومت کی جانب سے ایک اچھا قدم ہے۔ بطور قوم ہمیں واقعی اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو بغور دیکھنے کے بعد اپنی زندگی میں انہیں عملی طور پر شامل کرنے کی کوشش کریں۔ یہ نیک تعلیمات تو ہم سن لیتے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہم بطور مسلمان ان تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے دکھائی نہیں دیتے ۔
 
تیزی سے رواں دوں زندگی کی وجہ سے ہم حسن اخلاق کا طرز عمل ہی بھول بیٹھے ہیں ۔ گلی کے کونے پر پر اگر کوئی ریڑھی والا کھڑا ہو اور آپ کی گاڑی کے راستے میں آجائے تو اسے کوستے ہوئے دو چار لفظ اسے سناکر دل کی بھڑاس نکالتے ہیں ، یہ نہیں دیکھتے کہ وہ ریڑھی والا کسی شخص کو اپنی چیز بیچ کر رزق حلال کمانے میں مصروف ہے ۔ اسی طرح جب مہمان آجائے تو کئی لوگوں کا موڈ خراب ہوجاتا ہے اور وہ ایسے مواقع پر ذرا بھی اچھے اخلاق کا مظاہرہ نہیں کرتے ، اپنے روئیے سے سامنے والے کو اس بات کا احساس دلوانے لگتے ہیں کہ انہوں نے ان کے گھر آکر کوئی غلطی کی ہے ۔
 
ہم چونکہ ہفتہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم منانے کی کوشش کررہے ہیں ، اس لئے ہماری ویب کی جانب سے پیش کردہ اس مضمون میں ہم ’’اخلاق‘‘ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے بارے میں بتانے کی کوشش کریں گے تاکہ اصلاح کا عمل شروع کیا جاسکے۔
 
 
اخلاق کے بارے میں احادیث:
آئیے اخلاق کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی چند احادیث پڑھئے اور اپنے اخلاق کو بہتر بنانے کی کوشش کیجئے۔
 
ترمذی شریف میں ایک جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق کے اعتبار سے سب سے اچھا ہو“
 
ایک اور جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 ”نیکی حسن اخلاق کا نام ہے اور برائی وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تمہیں ناپسند ہو کہ لوگ اسے جانیں۔“ (رواہ مسلم و ابوداؤد)
 
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہترین اوصاف، حسنِ کردار اور مبارک تعلیمات کا تذکرہ قرآن کریم نے بڑی تفصیل کے ساتھ کیا ہے اور آپ کے اخلاق کو’’خُلق عظیم‘‘ کا نام دیا گیا۔
 
بطور مسلمان ہمیں اخلاق بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہئے اور یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم عمدہ اخلاق کے مالک تھے، یہی وجہ ہے کہ آپ نے جب اسلام کی تعلیم لوگوں کو دینی شروع کی تو کئی لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق سے متاثر ہوکر اسلام کے قریب آئے ۔
 
ہفتہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے دن خود سے وعدہ کیا جائے کہ ہم اپنے اخلاق بہتر بنائیں گے ۔یادرکھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار اخلاق بہتر بنانے کی تلقین کی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ اخلاق ہی تھے جن کی وجہ سے لوگوں کی کثیر تعداد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متاثر ہوئی ۔اگر ہم اسلام کو پھیلانا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ بطور مسلمان ہم سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرتے ہوئے اپنے اخلاق بہتر بنائیں اور غیر مسلموں کو خود سے قریب لائیں۔ اچھے اخلاق سے ہم اپنے مسلمان بہن، بھائیوں کو اپنے قریب لے کر آسکتے ہیں۔ آفس سے تھکے ہوئے آئے ہیں تو بجائے گھر والوں کو غصہ کرنے کے انہیں حسن اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیار سے آہستہ بولنے یا اس کمرے سے نکلنے کا کہیں۔ کوشش کریں کہ لوگوں پر بلاوہ غصہ نہ کریں ، اچھے اخلاق کا مظاہرہ اپنے گھر ،ا ٓفس ، گھر سے باہر یعنی ہر جگہ کریں۔ یاد رکھیں کہ اخلاقیات ہی انسان کو جانوروں سے الگ کرتی ہیں ۔اگر اخلاق نہیں تو انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں ۔ اخلاق کے بغیر انسانوں کی جماعت انسان نہیں بلکہ حیوانوں کا ریوڑ ہی کہلانے لگے گی۔
 
اگر اچھے اخلاق والے انسان موجود نہ ہوں تو معاشرہ درندگی کا روپ دھار لیتا ہے اور معاشرہ انسانوں کا نہیں انسان نما درندوں کا منظر پیش کرنے لگتا ہے۔ انسان کی اخلاقی حس اسے اپنے حقوق اور فرائض سے آگاہ کرتی ہے۔ اجتماعی زندگی کا اصل حسن احسان، ایثار،حسن معاملات، اخوت، رواداری اور قربانی سے جنم لیتا ہے, غریبوں کی مدد کریں ، ان سے بھی اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آئیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عشق کے دعویدار ہم مسلمانوں کو سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرتے ہوئے اپنے اخلاق کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ایک اچھا اسلامی معاشرہ تشکیل پا سکے ۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
30 Oct, 2020 Views: 1353

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ