مسائل میں گھرا پاکستان

(Sehar Afshan, Sukkur)

آخر ایسے ملک کا حال کیا ہوگا, جہاں ملک کے حکمران کرپشن اور گمراہی کا شکار ہوں، جہاں ہر روز بھوک کے باعث ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہوں ، جہاں تعلیم کا نظام تباہ ہو، جہاں بےروزگاری ایک بیماری کی طرح بڑھتی چلی جارہی رہو، جہاں گھروں ، اسکولوں ، دکانوں اور گلیوں میں بچے اور بوڑھے بھیک مانگتے دکھائی دے رہے ہوں، جہاں مہنگائی عروج پر ہو, جہاں کورونا وبا پر بھی سیاست ہو رہی ہو، اپنے مفادات کے لیے لوگوں کی جانوں کو کھلونا بنا کر استعمال کیا جا رہا ہو،جہاں امیر گنہگار ہوتے ہوئے بھی رہائی پا لیتا ہے جہاں غریب بےگناہ ہو کر بھی سزائیں کاٹ رہا ہوتا ہے، جہاں تھوڑی طبیعت ناساز ہوتے ہی ہمارے حکمران بیرونی ملک کا رخ کرتے ہیں اور غریب سسکتے سسکتے مر جاتا ہے. جی ہاں!! یہی ہمارا پاکستان ہے۔بدقسمتی اورافسوس کے ساتھ پاکستان کو 73 سال گزرنے کے باوجود بھی بحرانوں سے نکلنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے بلکہ نت نئے بحرانوں کا شکار ہے۔ بات کریں موجودہ حکومت کی تو انہوں نے تو ملک کو ان بحرانوں میں دھکیلتے ہوئے کوئی کثر نہ چھوڑی۔ میرے ملک کا نظام مجھے ایک بڑی گاڑی کی مانند دکھائی دیتا ہے اور اس گاڑی کے ڈرائیور ہمارے نابینا حکمران ہیں جو ہر گزرتے دن ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس گاڑی کو کھائی میں دھکیلتے رہتے ہیں صرف اپنے مفادات کے خاطر ، گاڑی میں موجود عوام کو یہ بتا کہ آگے راستہ ہموار ہے ، آگے تبدیلی ہے جو کہ قابلِ دید ہے اور تب تک اس گاڑی کو دھکیلتے رہتے جب تک وہ اپنے مفادات نہ سمیٹ لیں۔ ایسا ملک جو پہلے ہی انگنت مشکلات اور مسائل کا شکار ہو وہاں بڑھتی ہوئی کرپشن نے اپنی جڑیں مضبوط کر کہ میرے معاشرے کو اندر سے کھوکھکلا کر دیا ہے جس سے نہ صرف معیشت کو نقصان پہنچا ہے بلکہ ملک کا مستقبل اور وقار بھی داؤ پر لگا دیا ہے، جہاں چوری ہمارے حکمران کر رہے ہیں اور اس کا انجام بےقصور عوام بھگت رہی ہے اسی بڑھتی ہوئی کرپشن نے اپنی پکڑ اتنی مضبوط کردی ہیں کہ کرپشن کو روکنے والے ادارے ہی کرپٹ اور کرپشن میں ملوث دکھائی دیتے ہیں، پھر کس طرح ملک میں خوشحالی اور امن آ سکتی ہے۔ آخر ایسی کالی بھیڑیں جو اپنے مقاصد کو آگے رکھ کر کام کرتی ہیں تو پھر یقیناً محتاجی اور بدامنی اس ملک کا مقدر ہوتی ہے۔سب سے پہلے بات کروں گی بڑھتی ہوئی مہنگائی کی، جہاں حکومت اور اپوزیشن کو مل جل کر مہنگائی کو روکنے کے اقدام لینے چاہیئے تھے وہاں یہ ایک دوسرے پر غداری ، اور چوری کی باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جہاں حکومت کو شاید اس بات سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا کہ عوام کو کیا مثائل درپیش ہیں۔ ایک طرف اپوزیشن کو جلسوں سے فرصت نہیں ملتی اور اور دوسری طرف موجودہ حکومت دعووں سے آگے نہیں بڑھتی۔ شاید کبھی ان کا گزر کسی ٹوٹے پھوٹے شہروں، سڑکوں اور گلیوں سے نہیں ہوا اگر ایسا ہوا ہوتا تو شاید انہیں کچھ اندازہ عوام کے حالات اور مشکلات کا بھی ہوتا۔ بات کروں گی پانی کی جو کہ انسانی زندگی کے قیام کے لئے انتہائی ضروری ہے، ایک طرح سے زندگی ہے جس ملک کے لوگ پانی کی نعمت سے محروم تو آپ ہی بتائیں آخر آگے اس ملک کو اور کیا کیا مسائل درپیش ہونگے ، پانی کی سخت قلت کا سامنا کرنے والے ممالک کی عالمی فہرست میں پاکستان کا نمبر تیسرا ہے۔پانی کی دستیابی پاکستان میں ابھرتے ہوئے سنگین مسئلے کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ نہ صرف پینے کے پانی کی کمی ہے بلکہ آب پاشی کے لئے پانی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف زراعت کے شعبے کو تباہ کیا ہے بلکہ لوگوں کی معیشت اور روز مرہ کی زندگی پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے اس قلت کے پیچھے بھی کئی وجوہات موجود ہیں جن میں سب سے پہلے پانی کے ذخائر اور ڈیمز کی کی کمی اور حکومت کی ناقص پالیسیاں اور پری پلانز کی کوتاہی دکھائی دیتی ہے۔اگر بیروزگاری کی بات کریں تو میرے خیال سے اس سے زیادہ افسوس کی کوئی اور بات ہو ہی نہیں سکتی جہاں ڈگری ہوتے ہوئے بھی ہمارے روشن مستقبل کے نوجوان در در کی ٹھوکریں کھاتے دکھائی دیتے ہیں اور اس سے بھی دل دہلا دینے والی بات جب وہ تھک ہار کر بیچ چوراہے پر خود کو آگ لگا ديتے ہیں۔ابھی کچھ ماہ پہلے اسی طرح کی خبر میری نظر سے گزری , 35 سالہ میر حسن ابراہیم جو کہ کراچی کا رہائشی تھا بیروزگاری سے تنگ آکر خود کو آگ لگا دیتا ہے صرف اس بات پر کہ وہ اپنے بچوں کی بار بار فرمائش پر ان کو گرم کپڑے نہ دلا سکا اور خود کو آگ لگا کر موت کو گلے لگا دیتا ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ہزاروں لوگ ہر دن زندگی کے مثائل بیروزگاری، تعلیم کی محرومی کی وجہ سے یہ قدم اٹھاتے ہیں آخر کب تک ایسا ہی چلتا رہے گا.اگر ہمارے حکمران اپنے مفادات کو ایک طرف رکھ کر اپنا فرض ایمانداری سے نبھائیں اپنی پالیسیوں پر تہوڑی توجہ دیں تو بہت کچھ ممکن ہے۔(سحر افشاں)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sehar Afshan

Read More Articles by Sehar Afshan: 11 Articles with 4113 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Dec, 2020 Views: 464

Comments

آپ کی رائے