سن ۲۰۲۰اپنے ساتھ رام ولاس پاسوان کے چراغ کو گل کرگیا

(Dr Salim Khan, India)

۲۰۲۰ میں جن سیاسی رہنماوں نے اس جہانِ فانی کو خیر باد کیا ان میں سے ایک اہم مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان تھے ۔ 74 سالہ پاسوان کاایک طویل عرصے کی علالت کے بعد ۸ اکتوبر (2020) کو انتقال ہوگیا ۔ پاسوان کی سیاسی زندگی ہندوستان میں سیاسی انحطاط کو ایک آئینہ دکھاتی ہے۔ ان کی موت سے ۵ دن قبل بہار بی جے پی کے صدر سنجے جیسوال نے کہا تھا ’’ رام ولاس کی پاسوان کی صحت ٹھیک نہیں ہے اور ہم ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کررہے ہیں ۔ ہم بہت جلد نشستوں کی تقسیم کے حوالے سے کوئی معاہدہ کرلیں گے لیکن اگر رام ولاس پاسوان صحت مند ہوتے تو ہمیں اس قدررکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ نشستوں کی تقسیم میں مسئلہ ،خرابی ٔ صحت کے باعث پاسوان کی غیر حاضری ہے‘‘۔ یہ بات بظاہر درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ پچھلے 24 سالوں کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ وہ ہر کسی کے ساتھ بڑی آسانی سے شیرو شکر ہوجاتے تھے ۔ اتنے طویل عرصہ وزیر بنے رہنے کی یہی شاہِ کلید تھی کیونکہ اس بیچ ہندوستان میں تین مختلف جماعتوں کے ۶ عدد وزرائے اعظم نے اقتدار سنبھالا اور انہیں کسی کے ساتھ کام کرنے میں کوئی دقت نہیں پیش آئی ۔ بلا تفریق نظریہ و فلسفہ وہ سب کے ساتھ مل جل کر اپنی سیاست چلاتے رہے۔

23سال کی عمر میں ایم اے کرنے کے بعد اور پولس کی ملازمت کو چھوڑ رام ولاس پاسوان نے 1969میں متحدہ سوشلسٹ پارٹی کا پرچم تھام کر بہارصوبائی انتخاب لڑا اورکامیاب ہوئے ۔ یہی زمانہ تھا جب رام منوہر لوہیا نیم اشتراکی نظریہ سوشلزم کی بنیاد پر غیر کانگریسی سیاسی اتحاد قائم کررہے تھے ۔ بہار میں اس محاذ کی قیادت کرپوری ٹھاکر کے ہاتھوں میں تھی۔ 1967میں ایک سال کے لیے ایک غیر کانگریسی حکومت قائم بھی ہوچکی تھی اور 1970 میں 6 ماہ کے لیے خود کرپوری ٹھاکر بھی وزیر اعلیٰ بنے تھے ۔ 1975میں اندرا گاندھی نے ایمرجنسی نافذ کی تو رام ولاس پاسوان نے جئے پرکاش نارائن کے شانہ بشانہ اس کی مخالفت کی اور گرفتار کرلیے گئے ۔ اس کے بعد صوبائی سیاست سے نکل رام ولاس پاسوان قومی سطح پر ایک دھماکے دار انداز میں نمودار ہوئے۔ انہوں نے حاجی پور حلقۂ انتخاب سے ایسی ریکارڈ توڑ کامیابی درج کرائی کہ ان کا نام گینس بک آف ورلڈ ریکارڈ میں آگیا۔ اس کے بعد 43 سالوں میں وہ حاجی پور سے 8بار کامیاب ہوئے۔

اندرا گاندھی کی ایمرجنسی نے انہیں سیاسی افق پر چمکایا اور اندرا گاندھی کی موت نے ۱۹۸۴ میں پہلی بار ان کو شکست کا مزہ چکھایا لیکن وہ تو ایسی لہر تھی کہ اٹل بہاری واجپائی کو جیوتردیتیہ سندھیا جیسے نوجوان نے گوالیار سے دھول چٹا دی تھی اور اڈوانی بھی راجیش کھنہ جیسے اداکار سے ہار کر بیٹھ گئے تھے۔ راجیو گاندھی نے اپنے نانا پنڈت جواہر لال نہرو سے بڑی فتح حاصل کی تھی اس لیے رام ولاس پاسوان کی یہ شکست کوئی حیرت کی بات نہیں تھی۔ دوسری بار وہ 2009 میں انتخابی شکست کے باوجود حوصلہ نہیں ہارے حالانکہ ان کے ساتھ ساتھ ایل جے پی کے سارے امیدوار ہار گئے تھے ۔ اس شکست کے بعد انہیں مسکراتے ہوئے ٹیلی ویژن کے پردے پر دیکھ کران کی حلیف جماعت کے رہنما شرد یادو نے رشک کا اظہار کرتے ہوئے ارون جیٹلی سے کہا تھا :’’اگر ہم اتنی بری طرح ہارتے تو کھاٹ سے نہیں اٹھ پاتے ۔ اس کو دیکھو بائٹ دینے چل پڑا‘‘۔یہی مسکراہٹ رام ولاس کا طرۂ امتیاز تھا۔
ملک کے بڑے بڑے دانشور سیاست کی دنیا میں نظریات کی موت سے متعلق لمبے چوڑے مضامین لکھ چکے ہیں لیکن رام ولاس پاسوان نے اپنی عملی زندگی سے اسے ثابت کردیا۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کانگریس کے خلاف ابھرنے والی جئے پرکاش نارائن کی تحریک اور رام منوہر لوہیا کے سماجوادی رہنماوں کے درمیان شروع کی ۔ ایوانِ پارلیمان میں قدم رکھنے کے 12 سال بعد ان کو پہلی بارمرکزی وزیر بننے کا موقع 1989 میں ملا۔ یہ وشوناتھ پرتاپ سنگھ کے زیر قیادت قائم ہونے والی غیر کانگریسی حکومت تھی اس لیے کوئی نظریاتی انحراف نہیں تھا ۔ وشوناتھ پرتاپ سنگھ کی حکومت کو باہر سے بی جے پی کی حمایت حاصل تھی ۔ یہ سلسلہ بہت طویل نہیں چل سکا کیونکہ وی پی سنگھ کے ذریعہ منڈل کمیشن کی سفارشات نافذ کردینے سے بی جے پی کی چولیں ہل گئیں ۔ اس نے مجبوراً کمنڈل تھام کر رام مندر تحریک کا آغاز کردیا تاکہ اپنے ووٹ بنک کو محفوظ رکھ سکے ۔ اڈوانی کی رتھ یاترا کو لالو پرشاد یادو نے بہار میں روک دیا ۔ ملائم سنگھ یادو نے ایودھیا میں کارسیوکوں پر گولی چلا کر انہیں منتشر کردیا ۔ بی جے پی نے مرکزی حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی ۔ کانگریس نے موقع غنیمت جان کر چندر شیکھر کو زیر اعظم بنوایا اور وہ اعتماد کا ووٹ حاصل نہیں کرسکے ۔ اس طرح چرن سنگھ والا تجربہ دوہرا کر کانگریس نے چندر شیکھر کا استعمال کرکے اقتدار حاصل کرلیا۔

اس زمانے میں رام ولاس پاسوان بابری مسجد کے زبردست حامی اور بی جے پی کے کٹر دشمن تھے ۔ نرسمھا راو کی حکومت میں وہ شامل نہیں ہوئے اس لیے کہ ابھی نظریات کا قلعہ محفوظ تھا ۔ 1996 کے اندر بابری مسجد کی شہادت کے بعد نرسمھا راو انتخاب ہار گئے اور بی جے پی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری اور اٹل بہاری واجپائی نے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف لیا لیکن وہ ایوانِ پارلیمان کا اعتماد حاصل نہیں کرسکے اور 13 دن بعد استعفیٰ دے کر رخصت ہوگئے ۔ رام ولاس پاسوان نے اپنی نظریاتی وفاداری کے پیش نظر ان دونوں وزرائے اعظم سے ہاتھ نہیں ملایا۔ اس کے بعد وشوناتھ پرتاپ سنگھ نے اپنے عہد کی پاسداری میں وزارت عظمیٰ کا عہدہ ٹھکرا دیا اور جیوتی باسو کو ان کی پارٹی نے وزیر اعظم بننے کی اجازت نہیں دی اس لیے کانگریس کی حمایت سے ، ایچ ڈی دیو گوڑا اور ان کے بعد اندر کمار گجرال نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی ۔ رام ولاس نے ان دونوں حکومتوں میں وزیر ریلوے کی ذمہ داری سنبھالی۔ یہ بھی ایک غیر کانگریسی حکومت تھی جس کی حمایت بی جے پی کے بجائے کانگریس کررہی تھی ۔ ان کی سیاسی زندگی کا پہلا نصف تھا اور یہاں تک وہ اپنی غیر کانگریسی اور غیر بی جے پی موقف پر قائم و دائم تھے لیکن اس کے بعد سب کچھ بدل گیا۔

1999 میں جب بی جے پی پھر سے کامیاب ہوگئی اور اٹل بہاری واجپئی کی دوسری مرتبہ حلف برداری ہوئی تو ان کے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے کنونیر شپ کی اہم ترین ذمہ داری بی جے پی کے سب سے بڑے نظریاتی دشمن جارج فرنانڈیس کے ہاتھوں میں تھی ۔ یہ وہی جارج فرنانڈیس تھے جنھوں نے مدھو لمئے کے ساتھ جنتا پارٹی کے اندر آریس ایس کے ساتھ دوہری رکنیت پر اعتراض کرکے مرارجی دیسائی کی سرکار گرادی تھی۔ وہ لوگ اقتدار سے محروم ہوگئے مگر اپنی پارٹی میں فسطائی نظریات کو برداشت نہیں کیا تھا۔ اٹل بہاری واجپائی نے اپنا دفاع کرنے کے لیے جارج کو ملک کا وزیر دفاع بنا دیا تھا اور اس بی جے پی کے زیر قیادت حکومت میں رام ولاس پاسوان کووزیر مواصلات کے اہم عہدے سے نوازہ گیا ۔ اس طرح قومی سیاست میں نظریہ کی موت ہوگئی۔ کانگریس کے دو دشمن ایک ساتھ ہوگئے۔ وی پی سنگھ کے زمانے میں بی جے پی نے باہر سے حمایت کی تھی لیکن اس بار سوشلسٹ نظریات کے حامل لوگ باقائدہ حکومت میں شامل ہوکرفسطائی حکومت کے دست و بازو بن چکے تھے ۔ اس طرح سیاست میں نظریاتی تقدس کا غیر بی جے پی پیمانہ پارہ پارہ ہوکر بکھر گیا لیکن غیر کانگریسی شناخت ہنوز قائم تھی ۔

سال 2004 میں سونیا گاندھی کی قیادت کے اندر کانگریس پھر سے اقتدار میں آگئی۔ ان کی اطالوی نسل نے انہیں وزیر اعظم کے عہدے سے محروم رکھا تو انہوں نے سیاسی اعتبار نہایت بے ضرر مگر لائق و فائق من موہن سنگھ کو وزیر اعظم کے عہدے پر فائز کردیا اور خود ریموٹ کنٹرول پرتھام کر بیٹھ گئیں ۔ یہ حکومت متحدہ ترقی پسند محاذ (یو پی اے) کے پرچم تلے قائم ہوئی تھی لیکن اس میں بھی رام ولاس پاسوان مرکزی وزیر کی حیثیت سے اپنی خدمات دے رہے تھے ۔ اس طرح غیر کانگریسی بت بھی ٹوٹ گیا ۔پانچ سال تک کانگریسی حکومت میں وزیر رہنے کے باوجود 2009 میں انہوں نے پینترا بدل کر کانگریس کے خلاف لالو کے ساتھ مل کر انتخاب لڑا۔ وہی لالو پرشاد یادو جنہیں وہ سب سے بڑا بدعنوان سیاستداں کہتے تھے ۔ رام ولاس پاسوان کا یہ داوں الٹا پڑا اور وہ دوسری مرتبہ ایوان زیریں کے انتخاب میں شکست دوچار ہوگئے لیکن ایک سال بعد ایوان بالا میں منتخب ہوکر پھر سے کانگریس کی حکومت میں وزارت سنبھال لی ۔ اس طرح دوستی اور دشمنی کی ساری بنیادیں ایک ایک کرکے منہدم ہوتی چلی گئیں۔

سیاست میں نظریہ کے علاوہ افراد سے ذاتی اختلاف بھی بہت معنیٰ رکھتا ہے۔ 2002 میں رام ولاس پاسوان نے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی سے مطالبہ کیا تھا کہ گجرات فساد کے بعد وہ وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو ہٹا دیا جائے ۔ اٹل جی بھی یہی چاہتے تھے لیکن پارٹی نے اس کی اجازت نہیں دی اس لیے نریندر مودی کا بال بیکا نہیں ہوا۔ سال 2014 کے انتخاب سے قبل نتیش کمار نے مودی سے اختلاف کرکے خود کو این ڈی اے سے الگ کرلیا اور 2015میں بھی این ڈی اے کے خلاف انتخاب لڑا مگر رام ولاس پاسوان نے نریندر مودی کے ساتھ اپنا اختلاف بھلا دیا اور پھر سے این ڈی اے میں شامل ہوکر نریندر مودی کی حکومت میں وزیر خوراک ورسد بن گئے ۔ یہ اور بات ہے کہ سال 2017 میں نتیش کمار نے بھی اپنی مودی مخالفت کی نقاب ازخود تار تار کردی اور مودی کی قیادت والی این ڈی اے میں شامل ہوگئے۔
 
2019 میں ہونے والے عام انتخابات میں ، مسٹر پاسوان نے بذاتِ خود انتخاب لڑنے کے بجائے اپنے بھائی ، بیٹے اور بھتیجے کو الیکشن لڑایا ۔ وہ تینوں کامیاب ہوئے اور ایل جے پی دیگر تین ارکان بھی جیتے ۔ یہ ان کی سب سے بڑی کامیابی تھی این ڈی اے نے 6 نشستوں پر انتخاب لڑنے موقع دیا اور وہ سب کی سب جیت گئے۔ ایوان بالا کے رکن کی حیثیت سے رام ولاس پاسوان کی وزارت محفوظ و مامون تھی ۔اس طرح 6 وزرائے اعظم کےساتھ کام کرنے کا شرف حاصل کرنے والے سیاسی رہنما نے مرکزی وزیر کی حیثیت سے اپنی آخری سانس لی اور اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کے چشم و چراغ مصالحت کے معاملے میں اپنےآنجہانی والد سے آگے بڑھ گئے۔ چراغ پاسوان نے مرکز میں این ڈی اے کے ساتھ صوبے اس کے خلاف موقف اختیار کیا جو این ڈی اے کے لیے قابل قبول ہے یعنی بہار میں بغاوت کے باوجود این ڈی اے چیر مین امیت شاہ نے ان پر کارروائی نہیں کی ۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی زمانے میں اپنی سنگھ کی رکنیت بچانے والے فسطائیوں کے نزدیک بھی نظریاتی وفاداری بے معنیٰ ہوچکی ہے۔

لالو پرشاد یادو نے رام ولاس پاسوان کو ایک زمانے میں سیاست کا ماہر موسمیات قرار دیا تھا لیکن حقیقت میں وہ ہندوستان کی نظریاتی سیاست کے باد پیما تھے۔ ان کی سیاسی زندگی نظریات کے ہیر پھیر کا بہترین نمونہ ہے اور اب ان کے ساتھ ملک میں نظریاتی سیاست کا بھی انتم سنسکار کردیا گیا ہے۔ آنجہانی نے نہ جانے کیا سوچ کراپنے بیٹے کا نام چراغ رکھ دیا ۔ شاید اس لیے کہ لوگ اپنے فرزند کو چشم و چراغ کہتے ہیں لیکن اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی پارٹی کا نشان گھر منتخب کیا ۔ رام ولاس پاسوان کی موت سے قبل ان کے دل کی جراحت ہوئی تھی اگر وہ اس سے جانبر ہوکر اپنی پارٹی کی یہ درگت دیکھتے تو بعید نہیں کہ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے داغ دہلوی کا یہ مشہور شعر معمولی ترمیم کے ساتھ سنا دیتے ؎
دل کے پھپھولے جل اٹھےبھاجپ کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1172 Articles with 417359 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Jan, 2021 Views: 244

Comments

آپ کی رائے