لانگ مارچ کی تیاریاں

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

مستقبل قریب یا بعید میں کسی لانگ مارچ یا ڈی چوک میں دھرنیکے اعلانات کرنے والوں کے موقف یا نیت پر شاید کوئیشک نہ کرے۔مگر سوال یہ ہے کہ اس لانگ مارچ یا دھرنے کے شرکاء کیسے اور کس لئے پر عزم ہوں گے۔کیا ان میں حکمرانوں کے خلاف شدید نفرت ہو گی۔لوگ مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ کرپشن، مہنگائی ، بے روزگاری، لوڈ شیڈنگ ، غربت و مفلوک الحالی،کون اس کا ذمہ دار ہے۔ڈالر کیسے 60سے 160تک پہنچ گیا۔کہتے ہیں جنرل ضیاء الحق کے 11سالہ دور میں گھی کی قیمت ایک روپے بڑھی تو مظاہرے شروع ہو گئے۔ اضافہ واپس لینا پڑا۔ آج صبح و شام مہنگائی ہو رہی ہے۔ مگر خاموشی ہے۔لوگ جواب چاہتے ہیں۔لوگ مصائب سے نکلنے کے متمنی ہیں۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔پی ڈی ایم پر بہت سوالات ہوں گے۔ ایجنڈا کیا ہے۔ پیسہ کہاں سے آیا۔کیاملک کے خلاف سازش ہے۔کیا جمہوریت کے خلاف کوئی منصوبہ ہے۔ کیا امریکہ کا کردار ہے۔ کیامغرب کا ایجنڈا ہے۔

یہ بھی درست ہے لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔ یہاں چہرے بدلتے ہیں۔ نظام وہی رہتا ہے۔ عوام اپنا ردعملبھی دکھائیں گے۔ یہ تماشا ہے۔ جمہوریت کو تماشہ بنا دیا گیا ہے۔ جمہوریت صرف چند لوگوں کی باندی بن چکی ہے۔ ایک پارٹی کی عہدہ داری ایک ہی خاندان میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ ہر جماعت آمریت کی علامت بن چکی ہے۔ بڑے عہدوں پر رشتہ دار ، دوست، تعلق دار براجمان ہیں۔اس کے خلاف کون لوگ دھرنے دیں گے۔ یہ نوجوان، خواتین، بچے کون ہوں گے۔ لوگ یہاں کے ہی شہری ہوں گے۔ ہم میں سے ہیہوں گے۔غیر ملکی نہیں۔ باہر کے نہیں۔ ولایت سے نہیں آئے۔ وہ سردی میں کس طرح رات گزاریں گے۔ مائیں کم سن اور شیر خوار بچوں کوسڑکوں پر لانے پر مجبور کیوں ہوں گی۔ حکمران وقت کہاں ہیں۔اپنی گرم خواب گاہوں میں۔ محلات میں۔ جو لاکھوں روپے تنخواہ لیتے ہیں۔ وہ دس پندرہ ہزار یا اس سے کم والوں پر حکم چلا رہے ہیں۔ مضحکہ خیز۔ہر دفتر، ہر ادارے، ہر جگہ امتیازی سلوک۔ سفارش، اقرباء پروری۔یہ زیادتی وظلم۔ سچ تو یہ ہے لوگ اس نظام سے تنگ ہیں۔یہ عادلانہ نہیں ظالمانہ نظام ہے۔ تنگ آمد ، بجنگ آمد۔

حکمران اور سرمایہ دار مل کر ڈرامے کرتے ہیں۔ عوام کا مذاق اڑاتے ہیں۔ باپ بھی حکمران، بیٹا، بیٹی، نواسہ ، نواسی بھی حکمران۔ حکمرانی جیسے ان کی وراثت ہے۔ عوام بجلی، پانی، گیس ،دال روٹی، روزگار، تعلیم ، صحت کے لئے فکر مند رہتے ہیں۔ جس رفتار سے مہنگائی بڑھ رہی ہے، اس تناسب سے آمدن میں اضافہ نظر نہیں آتا۔ عوام سے ڈبل ٹیکس وصول ہو رہا ہے۔ سرمایہ دار ٹیکس چوری کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔

ایک دلچسپ بات ملاحظہ کریں۔کیا لانگ مارچ کے لئے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن ایک ہو سکیں گے۔ اس مارچ میں ایک ہزار لوگ ہوں یا 50ہزار،کیا فرق پڑتا ہے۔ ہزاروں لوگ ایوان صدر، وزیر اعظم ہاؤس، پارلیمنٹ ہاؤس، سپریم کورٹ، سفارتخانوں کے نزدیک موجودہوں گے۔ ڈی چوک پارلیمنٹ ہاؤس سے زیادہ دور نہیں۔ عمران خان خود بھی یہ سب کر چکے ہیں۔ مسلہ کروڑوں عوام کا ہے۔مگر بڑے لوگوں کے لئے رات کو اور تعطیل کے روز بھی عدالتیں لگ جاتی ہیں۔ غریب عدالت کی چکر لگاتے لگاتے قبر میں دفن ہو جاتا ہے۔ یہ کیسا نظام، کیسا آئین اور اس کا کیسا تحفظ ہے۔

لانگ مارچ ، دھرنے والوں پر سوال ہوتا رہے گا۔ کس ارادے سے انقلاب کا نعرہ لگا دیا۔ یہ سوالات اور اختلافات اپنی جگہ۔ لیکن عوام کے ساتھ جو ظلم و زیادتی ہو رہی ہے، کیا لوگ اس کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتے۔ جمہوریت کے علمبردار، لوگوں پر اپنی رائے مسلط کیوں کر رہے ہیں۔ انہیں ڈکٹیٹ کیوں کیا جا رہا ہے۔ غریب کی مجبوری کا یہ کیسا مذاق ہے۔ حکمرانوں کا ایک وقت کا ناشتہ غریب کے پورے مہینے کا خرچ ہے۔ یہ سب لوٹ مار، ڈاکہ زنی، ٹیکس چوری، میرٹ کی پامالی ، دھاندلی کی دین ہے۔ جو محنت کش ہیں۔ مزدور کا حق مار کر کروڑ پتی نہیں بنے۔ وہ کھرب پتی بن جائیں تو خوشی ہو گی۔ لیکن جوچوری سے دولت مند ہوئے، ان سے یہ دولت کون چھینے گا۔ احتساب نہیں۔ حکومت یا پھر کون۔ کسی پر اعتمادکریں۔ سڑکوں پر آنا آخری حربہ ہو سکتا ہے۔ لیکن یہاں کوئی خون خرابہ مناسب نہیں۔ پورا ملک تماشا دیکھ رہا ہے۔ لمحہ لمحہ ان کے سامنے ہے۔عوام کے سامنے عرب انقلاب کی صورتحال بھی ہے۔ اس لئے وہ پر امید ہو سکتے ہیں۔ نتیجہ جو بھی ہو پی پی پی اور ن لیگ کو غریب کی آواز کو بھی سننا ہو گا۔ حکمرانی کو اپنی جاگیر اور وراثت بنانے سے باز آنا ہو گا۔ کیا سیاستدان نوشتہ دیوار پڑھنے کے لئے تیار ہیں؟۔ اس لانگ مارچ کی دھمکی نے پیغام دے دیا ہے۔ کیا اس نے حکمرانوں کے در پر ، ضمیر پربھی دستک دی ہے؟۔مسائل میں اضافہ نہیں، کمی کی ضرورت ہے۔زاتی مفاد، کرسی ، اقتدار، مراعات ، حکمرانی یا اس میں حصہ داری کی جنگ کے بجائے عدل و انصاف ، مساوات کے لئے قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔اس کے لئے حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے مددگار بن سکتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 575 Articles with 220746 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
17 Jan, 2021 Views: 170

Comments

آپ کی رائے