کھلے د َریچے / حشمت اللہ صدیقی کے مضامین کا مجموعہ

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)
کھلے دریچے‘ حشمت اللہ صدیقی کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو قومی اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں۔ حشمت اللہ صاحب کی عنایت کے وہ اپنی یہ کتاب دینے کے لیے ادیبوں سے محبت کرنے والے شہزاد سلطانی کے ہمراہ میرے گھر تشریف لائے اور اپنے مضامین کا مجموعہ ”کھلے دریچے“ عنایت فرمایا۔ ان سے ملاقات خوبصورت انکشاف ہوا، ساتھ ہی افسوس بھی، وہ یہ کہ حشمت اللہ صدیقی نے گفتگو میں یہ انکشاف کیا کہ وہ جناب محمود عالم صدیقی(شبنمؔ صدیقی)صاحب کے بھانجے ہیں۔ یہ سن کر مجھے خوشی ہوئی کہ اپنے ایک دیرینہ ساتھی کے بارے میں کچھ معلومات ہوسکیں گی۔ لیکن یہ خوشی دوسرے ہی لمحے افسوس میں بدل گئی جب انہوں نے بتایا کہ شبنم صدیقی اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ اللہ پاک ان کی مغرفت فرمائے، آمین۔یہ خبر سن کر میں ماضی کی یادوں میں کھوگیا اور شبنم صدیقی صاحب کے ساتھ حاجی عبد اللہ ہارون گورنمنٹ کالج میں گزارے ہوئے کئی ماہ وسال نظروں کے سامنے گھوم گئے۔ کیا خوش مزاج انسان تھے، مسکراتا چہرہ، گفتگو میں شائستگی، نرم لہجہ، اپنی بات میں ادب کا تڑکا لگانے کے لیے کبھی اپنے کبھی کسی معروف شاعر کے شعر بھی سنایا کرتے۔ شبنم صاحب پرنسپل تو نہ تھے البتہ پرنسپل نے انہیں اپنے بعد انچارچ بنایا ہوا تھا۔ اس حوالے سے وہ بہت سے انتظامی امور بھی سرانجام دیا کرتے، ساتھ ہی دیر سے آنے والوں سے بعض پرس بھی کیا کرتے کبھی کبھی رجسٹرپر لیٹ آنے والوں کے کراس بھی لگادیا کرتے، ویسے وہ خود بھی لیٹ آنے والوں میں سے تھے۔ جب ہم ان سے پوچھتے کہ آپ لیٹ کیوں آتے ہیں تو کہا کرتے کہ میں صبح سویرے نہیں اٹھ سکتا اس لیے کہ صبح اٹھنے سے مجھے نیلے پیلے چکر آتے ہیں۔ اس طرح نیلے پیلے چکر کا ذکر شبنم صاحب کے لیے مخصوص ہوگیا۔ شبنم صاحب سے پہلے یہ ذمہ داریاں جناب یونس صدیقی صاحب سرانجام دیا کرتے تھے۔ وہ بھی اللہ کو پیارے ہوئے۔ اللہ پاک دونوں کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے، آمین

شبنم صدیقی صاحب اردو کے استا د تھے، اچھے شاعر بھی تھے۔ اکثر اسٹاف روم میں اپنا کلام سنایاکرتے۔فیض احمد فیضؔ اس کالج کے 1972ء تک پرنسپل رہ چکے تھے، انہیں اس کالج سے انسیت اور محبت تھی، وہ جب بھی کراچی آیا کرتے کالج میں بھی تشریف لایا کرتے۔ متعدد اساتذ ہ ان کے زمانے کے بھی یہاں موجود تھے۔پروفیسر انیس الرحمن قریشی، عبد الرشید راجہ، بشارت کریم، ریاض الحسن قدوارئی، شفیق رحمانی اور کچھ اور بھی۔ پھر فیض ؔکی شخصیت تو تھی ہی کرشماتی، ایسی کہ جوسنتا کہ فیض صاحب کالج آئے ہیں۔ ان سے ملاقات اور انہیں دیکھنے کے لیے کالج میں موجود رہتا۔ فیض صاحب کے ساتھ نشست ہوا کرتی، شبنم صدیقی صاحب اس نشست کی میزبانی خوبصورت انداز سے کیا کرتے تھے۔فیضؔ صاحب اپنا کلام سناتے، لوگ خوب داد دیا کرتے، فیض صاحب کالج سے وابستہ دنوں کی باتیں بھی سنا یا کرتے۔ اس طرح کئی بار فیض صاحب کالج تشریف لائے اور ان کے ساتھ محفل شعر و ادب منعقد ہوئی۔ شبنم صدیقی صاحب کا کردار کلیدی ہوا کرتا تھا۔ شبنم صاحب کے حوالے سے باتیں بہت سی ہیں، پر یہاں اتنا ہی، کسی اور موقع پر اس موضوع کو آگے بڑھاؤں گا۔اس وقت میرا موضوع حشمت اللہ صدیقی اور ان کے مضامین کا مجموعہ ”کھلے دریچے“ ہے۔

حشمت اللہ صدیقی کی کتا ب کا خوبصورت رنگ و روپ، چمکتا دمکتا عنوان، چار قومی اخبارات جنگ، جسارت، نوائے وقت اور ایکسپریس کے ناموں کی تصاویر جو یہ بتارہی ہیں کہ ان اخبارات میں مصنف کے لکھے ہوئے مضامین ان اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں۔ نیچے درج بھی ہے کہ ”قومی اخبارات میں شائع ہونے والے چند منتخب مضامین“۔ محمود شام، شفیق احمد شفیق صاحب نے کتاب اور صاحبِ کتاب کا تعارف کرایا ہے۔ مصنف نے ’عرض ہے کہ۔۔۔ کے عنوان سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ محمود شام کے مطابق ”حشمت صاحب کی ہر تحریر میں مطالعے کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ان کتابوں کا حوالہ بھی دیتے ہیں جہاں سے انہوں نے روشنی حاصل کی، زبان بہت سادہ اور عام فہم، مضمون نویسی کے تقاضے پورے کیے جاتے ہیں، موضوع میں تنوع ہے، پڑھنے والے کو موضوع کے حوالے سے مثالیں اور نظیریں بھی ملتی ہیں“۔ شفیق احمد شفیق نے بھی حشمت صاحب کے لیے خوبصورت جملہ لکھ ”ان کی تحریروں میں ان کا دل دھڑکتا ہے“۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ ہر لکھنے والے کی تحریر میں اس کا د ل دھڑکتا ہے۔ حشمت اللہ صدیقی نے صحافت کے میدان میں عملی زندگی کا آغاز کیا اور کالم نویسی اور مضامین تحریر کیے جو قومی اخبارات کی زینت بنے۔ پیش نظر مجموعے میں کوئی 79کالم و مضامین شامل ہیں۔ زندگی کا کوئی ایک موضوع ایسا نہیں جس پر انہوں نے قلم نہ اٹھایا ہو۔ جس موضوع پر بھی لکھا، موضوع پر سیر حاصل معلومات فراہم کر کے موضوع کا حق ادا کردیا۔’نیشنل ایکشن پلان: سا لمیت کی اہم دستاویز‘ مجموعے کا پہلا کالم ہے جس میں حکومت کے قومی ایکشن پلان پر سیر حاصل معلومات فراہم کی ہیں۔ دہشت گردی ایک ایسا ناسور پاکستان کو لگ چکا ہے کہ شاید ہی کوئی لکھاری ایسا ہو جس نے اس ناسور پر قلم نہ اتھایا ہو۔ حشمت صاحب کا کالم ”آزادی وطن کے مقاصد ہنوز تشنہ ہیں“ کے عنوان سے کوئٹہ میں وکیلوں پر ہونے والی دہشت گردی کو بنیاد بنا کر پاکستان میں دہشت گردی کی وجوہات کی نشاندھی کرتا ہے۔ کشمیر کے حوالے سے کالم ”مت سمجھو۔ ہم نے بھلادیا“، ’مسئلہ کشمیر۔عالمی ضمیر کے لیے چیلنج‘میں پانچ فروری کو کشمیر سے یکجہتی اور کشمیریوں اور کشمیر سے تعلق کی رودادہے۔ کشمیر میں ظلم و بربریت کی داستان قلم بند کی ہے۔ اسی طرح ’پاک بھارت دوستی اور مسئلہ کشمیر ‘ میں بھی کشمیر کے مسئلہ کو اجاگر کرتے ہوئے بھارت سے پاکستان کے تعلقات میں کشمیر یوں کو ان کا حق دے دینا بنیاد ہے۔حرم کی پاسبانی، امام کعبہ کے ارشادات اور اتحاد امت‘ مجموعے کے اہم کالم ہیں۔ اسلامی موضوعات پر ان کے متعدد مضامین ہیں۔ وہ توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت پر بھی آواز بلند کرتے دکھائی دیتے ہیں، اس حوالے سے ’رشدی اور مغرب کی اسلام دشمنی‘، ’قرآن کی بے حرمتی...مغرب کا شرمناک کردار‘ ان کے کالم اس موضوع کا مکمل احاطہ کرتے ہیں۔ وہ اپنے چچا کمانڈر (ر) اسرار اللہ پر بھی قلم تحریر فرماتے ہیں۔ دیگر شخصیات بھی ان کا موضوع رہی ہیں جیسے علامہ احسان الہٰی ظہر، مولانا عبدالجبار سلفی،سرسید احمد خان۔ میں فہرست مضامین میں شبنم صدیقی کو تلاش کرتا رہا کہ شاید حشمت صاحب نے شبنم صدیقی صاحب کو بھی اپنا موضوع بنایا ہولیکن مجھے شبنم صاحب اس فہرست میں کہیں ن ملے۔ بہت ممکن ہے کہ اس مجموعہ میں ان پر تحریر شامل نہ ہوسکی ہواور آئندہ کے مجموعہ میں وہ شبنم صاحب کو بھی اپنا موضوع بنائیں۔

حشمت اللہ صدیقی کی نظر تاریخی، سیاسی، تہذیبی، ثقافتی، علمی اور مذہبی موضوعات پربہت گہری ہے۔ انہوں نے ان موضوعات کا مطالعہ کیا ہے اور ان موضوعات کو خوبصورتی سے قرطاس پر منتقل کردیا ہے۔ وہ قومی اور عالمی سیاسی موضوعات کا بھی ادراک رکھتے ہیں۔ وہ زندگی کے ہر موضوع پر خواہ اس کا تعلق سیاست سے ہو، مذہب سے، دہشت گردی سے ہو، گروہی تعصبات سے وہ ہر موضوع کو اپنا موضوع بناتے ہیں۔ انہیں یہ بھی دسترس حاصل ہے کہ وہ شخصیات کو بھی عمدگی سے متعارف کراتے ہیں، ان کی شخصیت اور علمی و ادبی خدمات کا سیر حاصل احاطہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا اسلوب سادہ، مشکل الفاظ کے استعمال سے پرہیز کرتے ہیں، اپنی بات سادہ اور سہل انداز سے بیان کرنے کی مہارت رکھتے ہیں۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ (یکم فروری 2021 ء)

 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 767 Articles with 659641 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
02 Feb, 2021 Views: 188

Comments

آپ کی رائے