انشا‘ سہِ ماہی ادبی جریدہ : شمارہ 108دسمبر 2020

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)
انشا‘ سہِ ماہی ادبی جریدہ
شمارہ 108دسمبر 2020
ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی
اِنشا‘ ادبی جریدہ سال گزشتہ کا آخری شمارہ ہے جو چند روز ہوئے انشا‘کے مدیر پروفیسر صفدر علی انشاؔ صاحب کی جانب سے ادیبوں سہولت کارشہزاد سلطانی کے توسط سے موصول ہوا۔ انشا کی خاص بات اس کی مسلسل اشاعت ہے جو گزشتہ 27برسوں سے جاری ہے۔ پروفیسر صفدعلی انشاؔ قابل مبارک باد ہیں کہ انہوں نے بد ترین معاشی و سیاسی حالات کے باوجود جریدے کی اشاعت کو جاری رکھا ہوا ہے۔ اس ادبی جہاد پر انہیں جتنی داد دی جائے کم ہے۔ اخبار یا رسالہ شائع کرنا، خاص طور پر ادبی جریدے کی اشاعت پھر اسے برقرار رکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔قابل ستائش ہیں وہ تمام ہی احباب جو کسی بھی ادبی جریدہ کی اشاعت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
پیش نظر شمارہ کی ایک اورخصوصیت اس میں شامل ”گوشہ سرور جاوید“ ہے۔ سرور جاوید کراچی کے ادبی حلقوں کی ایک جانی پہچانی شخصیت تھے،استاد، صحافی، شاعراور نقاد، ادبی محفلوں میں اسٹیج پر بیٹھنے کے علاوہ عام سامع کی حیثیت سے بھی شریک محفل ہونے میں عار محسوس نہ کیا کرتے۔ جون 2020کے شاید دوسرے ہفتہ میں کسی دن اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ سرور جاوید کی رحلت اردو ادب کا بڑا نقصان ہے۔ شہر قائد میں منعقد ہونے والی ادبی محفلوں، کتب کی تعارفی تقاریب، مشاعروں میں ان کی موجودگی خوشگوار احساس لیے ہوتی، وہ ان محفلوں کا آنکھوں دیکھا حال بھی لکھا کرتے جو اخبارات و رسائل کی زینت بنتا۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں گورنمنٹ کالج فار مین، ناظم آباد میں تھا، پرنسپل پروفیسر سید خورشید حیدر زیدی نے کالج میگزین کا مدیر اعلیٰ مقرر کرنے کے علاوہ طلبہ کی ہم نصابی سرگرمیوں کا انعقاد بھی میرے سپرد کردیا۔ کالج کی جانب سے دیگر تقاریب کے علاوہ مشاعرہ کا بھی اہتمام کیا گیا، سرور جاوید نے نہ صرف میں شرکت کی بلکہ اس تقریب کی روداد بھی لکھی جو کسی مقامی اخبار میں شائع ہوئی تھی۔ سرور جاوید کا ایک شعر دیکھئے ؎
عمر بھر انجمن آرائی کے پہلو لکھے
اپنی تنہائی کا قصہ نہیں لکھا میں نے
گوشہ سرور جاوید میں حیات رضوی امروہوی (مدیر ششماہی عمارت) کا تفصیلی مضمون ہے جس میں انہوں نے سرور جاوید کی شخصیت اور ان کی ادبی خدمات کو خوبصورت انداز میں قلم بند کیا ہے۔ انہوں نے اپنے اس مضمون میں سرور جاوید کی چند غزلیں بھی شامل کی ہیں۔ حیات رضوی نے لکھا ”وہ اپنے تیکھے انداز ِ کلام اور بے باک و بے لاگ تبصروں کی بنا پر انشاء اللہ تادیر یاد رکھے جائیں گے“۔انشاء اللہ، یہ بات سرور نے اپنے ایک شعر میں کچھ اس طرح کہی ؎
کیسے بھولیں گے مجھے بھولنے والے سرورؔ
روزآجاتا ہوں رستوں میں بھلایا ہوا میں
گوشہ میں عقیل دانش،حیات رضوی، احمد سعید فیض آبادی، شمس الغنی نے نظم میں سرور جاوید کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔عقیل دانش کے سرور جاوید کے لیے دو شعر دیکھئے ؎
شعر کا ، فکر کا تھے بیش بہا سر مایہ
اور اک معتبر نقَاد تھے سرور جاوید
علمیت نصف صدی کی تھی جِلَومیں ان کے
اک سند ہی نہیں استاد تھے سرور جاوید
حمد باری تعالیٰ، نعتِ رسول مقبول ﷺ، منقبتیں درشان حضرت عمر فاروق ؓ و امام حسین ؓ کے بعد شخصیت وفن کے حوالے سے پروفیسر عقیل دانش کا مضمون ’علامہ عقیل غراوی‘ہے علام عقیل الغراوی ایک مجتہد، بے باک صحافی، خوش فکر شاعر، درد مند ادیب، ژرف نگاہ ناقد، اتحاد بین المسلمین کے بڑے داعی تھے، پروفیسر عقیل دانش نے علامہ کی شخصیت اور فن پر سیر حاصل تحریر قلم بند کی ہے۔ شفیق احمد شفیق کا مضمون معروف کالم نگار نسیم انجم کے کالموں کے مجموعے ”آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے“ کے تناظر میں نسیم انجم کی شخصیت کے ادبی پہلوں،خاص طور پر کالم نگاری پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ نسیم انجم کا مجموعہ ’آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے‘ ایک خوبصورت اورضخیم مجموعہ ہے۔اس مجموعہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں صرف نسیم انجم کے وہ کالم ہیں جو روزنامہ ایکسپریس میں شائع ہوئے۔ انہوں نے روزنامہ ایکسپریس میں 2000 ء سے کالم نگاری شروع کی اور تاحال اسی میں کالم نگاری کے جوہر دکھارہی ہیں۔ نسیم انجم کراچی کی علمی ادبی حلقے کی جانی پہچانی شخصیت ہیں، استاد ہیں اور لکھاری بھی۔ نسیم انجم اپنے کالموں میں جن موضوعات کو اپنا موضوع بناتی ہیں ان میں سیاسیات، ادبیات، سماجیاے،شخصیات اور کتاب اور صاحبِ کتاب وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
مدیرِ محترم کی عنایت کے انہوں نے میری دو تحریروں کو شمارہ کا حصہ بنایا۔ پہلامضمون ”معروف افسانہ نگار و کالم نگار زاہدہ حنا کے حوالے سے ہے جس کا عنوان ہے ”خواتین کالم نگاروں میں زاہدہ حنا کا مقام“۔ کوشش کی ہے کہ کالم نگار ہوتے ہوئے اپنے سے سینئر کالم نگار کی تخلیقی جہدکو قلم بند کرسکوں۔اس تحریر کے حوالے سے کچھ لکھنا مناسب نہیں، قاری خود ہی فیصلہ ساز ہے۔ میرا دوسرا مضمون’انشا‘ کا 2019ء میں شائع ہونے والادسمبر کا شمارہ ہے۔ یہ تبصرہ ہی میرا ’انشا‘کے لکھاریوں میں شامل ہونے کا سبب بنا۔صفدر صاحب سے واقفیت تو تھی،وہ کراچی کے نبی باغ گورنمنٹ کالج میں تھے، میرا ایک دوست عبد الصمد انصاری مرحوم اس بھی اس کالج میں پرنسپل پروفیسر غیور صاحب کے زمانے سے تھے، میرا اس کالج میں جانا تسلسل سے ہوا کرتا تھا،چنانچہ کالج کے تمام ہی اساتذہ سے راہ و رسم ہوگئی تھی۔ریٹائرمنٹ کے بعد ہم آرٹس کونسل،پریس کلب، کے ایم سی آفیسرز کلب اور دیگر جگہ منعقد ہونے والے ادبی پروگراموں میں شریک ہونے لگے، وہاں صفدر صاحب سے آمانا سامنا ہوا، لکھنے لکھانے کی باتیں ہوئیں، انشا کا ذکر ہوا، صفدر صاحب سے تعلق کا ایک ذریعہ ادیبوں کے سہولت کار شہزاذ سلطانی بھی بنے،یہ جب بھی میرے گھر آتے انشا اور صفدر صاحب کا ذکر ضرور ہوتا بلکہ ایک دن وہ صفدر صاحب کو میرے گھر بھی لائے لیکن افسوس ہوا میں گھر پر نہیں تھا۔ ملاقات نہ ہوسکی۔’یار زندہ صحبت باقی‘ یعنی زندگی ہے تو ملاقات ہوگی، انشاء اللہ۔
شمارہ میں انور فرہاد کے دو مضامین ’یاد عہدِ خوں چکاں‘ اور ایک مضمون شہزاد سلطانی کی شخصیت پرروشنی ڈالتا ہے۔ عنوان ہے ”خدمت اور عظمت کی تابندہ نشانی: شہزاد سلطانی“۔ یہ مضمون دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ابھی ایسے قلم کار موجود ہیں جو معروف اور قد آور شخصیات کے علاوہ عام لوگوں، کم معروف شخصیات کو اپنا موضوع بنارہے ہیں۔ زاہد رشید کا مضمون ’وادی مہران کے اردو اہل قلم‘ معلوماتی ہے۔ ان کے علاوہ شاکر انور، ڈاکٹر شکیل احم خان، شائستہ مفتی، عذرا اصغر، ایاز قادری کے افسانے بھی شامل ہیں۔ کتابوں پر تبصرے ہیں جن میں صفدر علی انشا کی کتاب ’آبیل‘ پر شفیق احمد شفیق کا تبصرہ،شاعری کا مجموعہ ’چٹکیاں‘پر سلطان جمیل نسیم کا تبصرہ، شاعر صدیق راز کی ’نہیں راز کوئی راز‘پر مرزا عاصی اختر کا تبصرہ، شفیق احمد شفیق کی کتاب ’یاد عہد خو چکاں‘پر ظفر قریشی کا تبصرہ اور انشا کا گزشتہ شمارہ پر میری تحریر شمارہ کا حصہ ہے۔متعدد نئے اور پرانے شاعروں کا کلام جریدے کا حصہ ہے۔مجموعی طور پر جریدہ ادب کی کئی اصناف پر عمدہ معلومات فراہم کرتا ہے۔ مدیر موصوف ادیب و شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ادارت کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، اپنے اداراتی تجربے کو خوبصورت انداز میں کام میں لائے اور شاعری و نثر کا حسین گلدستہ قارئین کے لیے پیش کیا ہے۔ 5فروری2021)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 767 Articles with 659613 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
08 Feb, 2021 Views: 122

Comments

آپ کی رائے