پٹرول : خود اپنے شہر کو فرمانروا نے لوٹ لیا

(Dr Salim Khan, India)

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں لگاتا ربڑھ رہی ہیں ۔ پچھلے ہفتے جب وہ شری گنگانگر اور انوپ پور میں 100روپئے سے زیادہ ہوگئیں تو ذرائع ابلاغ میں اس کی گونج زور و شور سے اٹھی اور پھر سوڈا واٹر کے جھاگ کی مانند بیٹھ گئی ۔ حکومت کے مخالفین نے بی جے پی کواس کا پرانا نعرہ ’بہت ہوئی مہنگائی کی مار، اب کی بار مودی سرکار ‘ یاد دلا کر تنقید کا نشانہ بنایا ۔ کچھ لوگ تو مودی جی کی پرانی ویڈیو پھیلانے لگے جس میں انہوں نے منموہن سنگھ کی مرکزی حکومت پر مذمت کے تیر برسا کر فوراً اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ بات آگے بڑھی تو یار دوستوں نے امیتابھ بچن اور اکشے کمار کے پرانے ٹویٹ ڈھونڈ نکالے جس میں قیمتوں کے اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ ان لوگوں کی موجودہ خاموشی پر غم غصے کا اظہار بھی کیا گیا لیکن ظاہر بات ہے کہ اس دور میں اظہار رائے کی آزادی تھی اس لیے ان لوگوں نے بولنے کی جرأت کی تھی اب چونکہ وہ سلب ہوگئی ہے اس لیے یہ لوگ ڈر گئے ہیں ۔

آج کل حالات ایسے ہیں کہ اگر کوئی مودی یا ان کی حکومت پر تنقید کردے تو اسے ملک کا غدار ثابت کرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھےبھیج دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس پٹرول اور ڈیزل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کو برداشت کرنے والے محب وطن کہلاتے ہیں ۔مہنگائی کے خلاف بولنے والوں کو چونکہ حرام خور اور ملک کا غدار جیسے القاب سے نوازہ جاتا ہے اس لیے عام لوگ خاموش رہنے میں عافیت سمجھتے ہیں ۔اس لیےمہاراشٹر میں کانگریس کے نومنتخب صدر نانا پاٹولے کا مذکورہ اداکاروں کی شوٹنگ روکنے کا احمقانہ بیان خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مار لینے جیسا ہے ۔ نانا پاٹولے کو یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح بی جے پی کچھ بھی کرلے تو کانگریس نہیں بن سکتی اسی طرح کانگریس کے لیے بھی بی جے پی بن جانا ناممکن ہے اور مثل مشہور ہے’کوا چلا ہنس کی چال ، اپنی چال بھی بھول گیا‘۔ اس لیے ا’ہم کسی سے کم نہیں ‘ کے چکر میں اس طرح کی بیان بازی سے اگر حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان کا فرق مٹ جائے تو اس میں بی جے پی کا فائدہ ہے۔ عوام جب حکومت سے بیزار ہوتے ہیں کہ نہ صرف مختلف بلکہ منفرد سیاسی متبادل چاہتے ہیں ۔ دونوں حریف اگر یکساں نظر آئیں تو تبدیلی بے معنیٰ ہوجاتی ہے۔ اس کاداعیہ ختم اور ارادہ کمزور پڑجاتا ہے۔

ایندھن کی قیمتوں کا بڑھنا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن حالیہ سرعت تشویشناک ہے ۔ اس سال کے پہلے 48 دن میں یہ 22 بار بڑھا یعنی تقریباً پر دوسرے دن قیمت میں اضافہ ہوتا رہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پٹرول کی قیمت میں اس سال 5.83 روپئے اور ڈیزل میں اس سے بھی زیادہ یعنی 6.18 روپئے کا غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا ۔ اس کا موازنہ اگر پچھلے مہینے سے کیا جائے تو پتہ چلتا ہے فروری کے پہلے 14 دنوں میں یہ 12 مرتبہ بڑھا یعنی ہر دوسرے دن پٹرول کا بھاو بڑھتا رہا جبکہ جنوری کے پورے ماہ میں صرف 10بار اضا فہ ہوا تھا اور پٹرول 2.59 روپئے و ڈیزل کی قیمت 6.5 روپئے بڑھی تھی ۔ سال بھر پہلے 18 فروری کو پٹرول کا بھاو 71.89 روپیہ تھا یعنی ایک سال میں 17.99روپئے فی لیٹر اضافہ ہوا اوراس دوران ڈیزل کی قیمت بھی 16.62روپیہ فی لیٹر بڑھی۔پٹرول کے مقابلے ڈیزل کی قیمت میں زیادہ اضافہ چونکانے والا ہے کیونکہ عام طور پر ایسا نہیں ہوتا تھا۔ ڈیزل کے بھاو بڑھنے سے مہنگائی زیادہ متاثر ہوتی ہے کیونکہ یہ بڑے ٹرک اشیائےخوردنی کی رسد کے لیے استعمال ہوتے ہیں ۔ اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ حکومت کو کار اور موٹر سائیکل چلانے والے متوسط طبقات کی فکر تو ہے لیکن وہ غریبوں کے مسائل سے وہ بے پرواہ ہوچکی ہے۔

پٹرول کی قیمت میں اس اضافہ کی بنیادی وجہ عالمی بازار میں خام تیل کی قیمت کا 64 ڈالرفی بیرل ہوجانا بتایا جارہا ہے لیکن یہ اب بھی 148ڈالر فی بیرل سے بہت کم ہے جو کانگریس کے دورِ حکومت میں ہوگیا تھا۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ جب بین الاقومی بازار میں کچے تیل کی قیمت گھٹ کر 42 ڈالر فی بیرل تک آگئی تھی اس وقت ہمارے ملک میں پٹرول و ڈیزل کی قیمت اس تناسب سے کیوں نہیں گھٹی ؟2013- 2014 میں خام تیل.52105 ڈالر فی بیرل تھا مگر پٹرول کی قیمت 68-73اور ڈیزل کی48-55 روپئے فی لیٹر بک رہا تھا جبکہ 2016-2017 میں جب خام تیل 50-51 پر آگیا تو پٹرول 73-80 پر چلا گیا اور ڈیزل 59-63 پر پہنچ گیا ۔ عالمی بازار کا رونا رونے والوں کو بتانا ہوگا کہ ایسا کیوں ہوا؟اس وقت وزیر اعظم کہتے پھرتے تھے کہ میں خوش قسمت ہوں اس لیے مجھے ووٹ دو تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب اس بدقسمت پردھان سیوک کو کیوں ووٹ دیا جائے؟ جس کے سبب ملک کے عوام کی قسمت پھوٹ گئی۔
مہنگائی کا یہ عفریت اپناپیر اس لیے پسارے جارہا ہے کیوں کہ مرکزی حکومت اس سے آنکھیں چرا رہی ہے۔ پارلیمانی پینل کی نشست میں ارکان پارلیمان نےیہ مسئلہ اٹھایا تو صدر نشین رمیش بھدوری صوبائی حکومتوں کو موردِ الزام ٹھہرا کر بری ہوگئے حالانکہ ملک کی نصف سے زیادہ ریاستی حکومتیں بی جے پی کی ہیں یا وہ اس میں شراکت دار ہے۔بھدوری نے اس بے حسی مظاہرہ کیوں نہ کرتے جبکہ خود وزیر اعظم بھی یہی کررہے ہیں ۔ انہوں نے ایک غیر ذمہ دارانہ بیان میں کہہ دیا کہ ’’اگر ہم سے پہلے والی حکومتوں نے ملک میں تیل کی درآمد پر قابو پالیا ہوتا تو ، متوسط طبقہ کے افرادکو قیمتوں میں اضافہ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ وزیر اعظم یہ بھول گئے 1997سے 2020تک 13 سال بی جے پی نے اور 10 سال کانگریس نے راج کیا ہے۔ اس لیے ان کو یہ بتانا پڑے گا اٹل جی نے ۶ سالوں میں اور خود انہوں نے ۷ سالوں میں کیا کیا؟

وزیر اعظم کی اس احمقانہ منطق کا بہترین جواب شیوسینا کے اخبار سامنا نے اس طرح دیا کہ :’’مودی کا بیان ایساہے کہ انہیں اپنے سر کو جھکا دینا چاہئے۔اس سے پہلے کی حکومتوں نے انڈین آئل ، او این جی سی ، بھارت پیٹرولیم ، ہندوستان پیٹرولیم اور ممبئی ہائی جیسےپی۔ایس۔یو۔ایس۔ کا آغاز کیا تھا۔ سمندرمیں تیل کے کنویں تلاش کیے تھے۔مگرمودی سرکارنے ان تمام پی۔ایس۔ یو۔ایس۔ کو فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔مودی جی اب ایتھنول کو پٹرول کا متبادل بناکر پیش کرنے پر اپنی پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں لیکن انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ ہمارا ملک ایتھنول کے کنووں سے مالا مال نہیں ہے۔ ایتھنول بنانے میں بھی روپیہ خرچ ہوتا ہے وہ مفت نہیں بنتا اور اس پر اگر غیر عقلی ٹیکس لگا دیا جائے تو وہ بھی مہنگا ہوجائے گا۔پرانی حکومتوں پر الزام لگانے والے وزیر اعظم سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ جس وقت وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو انہوں نے جام نگر میں ریلائنس ریفائنری کو منظوری کیوں دی ۔اپنے دوست دھیرو بھائی امبانی کو ایتھنول کا کارخانہ لگانے کا مشورہ کیوں نہیں دیا؟ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ جن کے مکان شیشے کے ہوتے ہیں وہ پردہ چڑھا کر کپڑے بدلتے ہیں۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کی پہلی وجہ تو اس پر ایکسائز ڈیوٹی میں غیر معمولی اضافہ ہے ایک سال میں کورونا کی مار جھیل رہے باشندوں پر مرکزی حکومت نے پٹرول پر ٹیکس میں 19.98 سے بڑھا کر 32.90 روپئے کردیا اسی طرح ڈیزل پر یہ 15.83 سے بڑھ کر 31.80 روپیہ ہوگیا اور یہ اضافہ پرانی سرکار نے نہیں ان کی اپنی حکومت نے کیا ۔اس طرح سال 2019-20 میں مرکزی حکومت نے عوام کی جیب سے 3.34 لاکھ کروڈ نکال لیے مئی 2014 میں جب یہ سرکار بنی تھی تو 2014-15کے اندر یہ آمدنی صرف 1.72 لاکھ کروڈ تھی جو 5 سالوں میں دوگنا ہوگئی ہے ۔ریاستی حکومتیں بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں ہیں پچھلے 5 سال میں ان کی کمائی بھی 43% بڑھی ہے ۔ سال 2014-15 میں یہ کمائی 1.37 لاکھ کروڈ تھی جو 2019-20 میں بڑھ کر2 لاکھ کروڈ ہوگئی ۔وہ نہ صرف ویٹ بلکہ اس کے اوپر سیس بھی وصول کرتی ہیں اور اس معاملے میں بی جے پی و کانگریس میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔

ٹیکس کی اس دوہری مار کے سبب 31.82روپیہ فی لیٹر میں بننے والا پٹرول اور33.46 روپیہ فی لیٹر میں تیار ہونے والا ڈیزل صارف کو بالترتیب 90 اور 80روپئے میں پڑتا ہے جبکہ اس کی ڈھلائی پر صرف 30 پیسہ فی لٹر اور پٹرول پمپ والے کو اوسطاً 3روپیہ فی لیٹر کمیشن ملتا ہے۔ ایسے میں راہل گاندھی کا یہ بیان درست معلوم ہوتا ہے کہ :’’وہ(مودی) عام لوگوں کی جیبیں خالی کررہے ہیں اور ’دوستوں‘ کا جیب بھر رہے ہیں‘‘۔راہل گاندھی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ پیٹرول پمپ پر گاڑی میں تیل ڈالتے وقت جب آپ نظرتیزی سے بڑھتے ہوئے میٹر پر پڑے تب یہ ضرور یاد رکھیں کہ خام تیل کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوا ہے ، بلکہ کمی ہوئی ہے۔ پٹرول 100 روپئے لیٹر ہے مودی سرکار آپ کی جیب خالی کرکے’دوستوں‘ کو اسے مفت میں دینے کا ایک عظیم کارنامہ انجام دےرہی ہے۔ حقیقت حال پر منحصر اس تبصرے پریہ شعر صادق آتا ہے ؎
دل تباہ کی روداد، اور کیا کہئے
خود اپنے شہر کو فرماں روا نے لوٹ لیا

وزیر اعظم کی آنکھ موند کر تائید کرنے والے بھکتوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے پڑوسی ممالک بھی تیل کی دولت سے محروم ہیں اور ان کے پاس ایتھنول جیسا کوئی متبادل بھی نہیں اس کے باوجود بھوٹان میں پٹرول 49.56ہے، پاکستان میں 51.44 ہے ، سری لنکا میں 60.26 ہے ، نیپال میں 68.98 ہے اور بنگلا دیش میں 76.41 روپئے پر ہے۔ دنیا کی پانچ بڑی معیشتوں سے موازنہ کیا جائے تو صرف جرمنی کی قیمت 119.22ہم سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ جاپان 94.76، چین 74.74، امریکہ 54.65 اور روس 47.40پر ہے حالانکہ روس اور امریکہ کے اندر فی الحال تیل کی فراوانی ہے اس کے باوجود وہاں عوام کو لوٹا جارہا ہے اس کے برعکس وینزویلا 1.45روپیہ فی لیٹر اور ایران 4.56 روپیہ فی لیٹر پٹرول اپنے باشندوں کو دیتا ہے۔ یعنی یہ دونوں پسماندہ ممالک نام نہاد ترقی یافتہ روس اور اور امریکہ سے کہیں زیادہ اپنے عوام کے خیر خواہ ہیں ۔ایندھن کی قیمت کے بابت بی جے پی کی پرانی شراکت دار ہندوتواوادی شیوسینا کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ :’’ رام مندرکی تعمیر کے لئے چندے کی وصولی کے بجائے آسمان کو چھونے والےپٹرول اور ڈیزل کے دام کم کریں۔ اس سےعقیدت مندوں کے گھروں کا چولہا جلے گا اور رام بھی خوش ہوں گے۔پٹرول اور ڈیزل کے داموں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے ایک دن لوگوں کو یہ گاڑیاں سڑکوں پر چھو کر گھر جانا پڑے گا۔‘‘ایک رام بھکت کا دوسرے رام بھکت کو اس سے اچھا مشورہ اور کیا ہوسکتا ہے؟


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1242 Articles with 457996 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Mar, 2021 Views: 131

Comments

آپ کی رائے