شاہی محل سے ریگستان تک کا سفر

(Mahboob Hussain, Rawalpindi)
مجودہ سیاسی اور پارلیمان کا پوسٹمارٹم

پہلے زمانے میں ایک خوبصورت ملک کے بادشاہ کا انتقال ہو گیا اور بادشاہ کا ایک ہی بیٹا تھا جو ابھی بہت چھوٹا تھا اور ملک کی بادشاہت کہ قابل نہیں تھا معاملہ کافی گھمبیر صورت حال اختیار کر گیا ملک تمام بڑے سر جوڑ کر بیٹھ گے کہ شہزادے کہ جوان ہونے تک کس کو بادشاہ بنایا جائے سب نے ملکہ سے بھی رابطہ کیا ملکہ نے کافی سوچ بچار کے بعد اپنے بھائی کو شہزادے کے جوان ہونے تک عارضی بادشاہ کے طور پر بادشاہ بنانے کی تجویز دی جوسب نے تسلیم کر لی یوں ملکہ کے بھائی کو بادشاہ بنا دیا گیا لیکن ساتھ شرط یہ لگا دی گی بادشاہ شادی نہیں کرے گا تاکہ بادشاہ کی اپنی اولاد نہ ہو اور وہ اپنی ساری توجہ شہزادے پر مرکوز کر ے

وقت گزرتا گیا شہزادے کی تربیت بہت اچھے انداز میں ہو رہی تھی تیراندازی گھوڑ سواری کے ساتھ ملک کے نامی گرامی پہلوانوں نے شہزادے کو فن پہلوانی کے رموز بھی سکھائے لیکن شہزادے کی ایک عادت جس کی وجہ سے ملکہ اکثر پریشان رہتی شہزادے کو جب بھی فارغ وقت ملتا وہ بجائے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ کھیلنے کہ لڑکیوں کی کہ ساتھ کھیلنے کو ترجیح دیتا اور تتلیوں پکڑنا اس کا بہترین مشغلہ بنتا جا رہا تھا ملکہ نے ملک کہ نامور ماہر نفسیات سے رابطہ کیا کہ شہزادے کی یہ عادت کیسے چھوڑوائی جائے ماہر نفسیات نے کافی سوچ بچار کے بعد ملکہ کو مشورہ دیا کہ شہزادے کی طبعیت شکاری ہے لہزا اس کو کسی جنگل یا ایسی جگہ پر شکار کھیلنے کی اجازت دی جائے جہاں اس کی پسند کا شکار آسانی سے دستیاب ہو

جب شہزادے سے معلوم کیا گیا کہ وہ کون سے پرندوں یا جانوروں کے شکار کرنا پسند کرے گا تو اس نے کہا کہ وہ صرف مور اور چکور کا شکار کرے گا جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ چکور اور مور ریگستانی علاقوں میں بکثرت پائے جاتے ہیں اور ملک کے دارلحکومت سے ریگستان بہت دور تھا لیکن شہزادے کی خواہش کا احترام کرنا بھی لازم تھا اس لیے شاہی فرمان جاری ہوا کہ تمام سازوسامان بہترین گھوڑے ریگستانی علاقوں کے لیے موزوں گاڑیاں اچھے خیمے اور نوکروں چاکروں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی شہزادے کے ساتھ شکار پر روانہ کر دی گی دو دن کی مسافت طے کرنے کے بعد شہزادہ کے قافلے نے ایک جگہ کیمب لگایا رات کا وقت تھا شہزادہ بستر پر لیٹتے ہی گہری نیند سو گیا صبحِ جیسے ہی آنکھ کھلی تو ہر طرف موروں اور چوکوروں کے بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں شہزادے نے حکم دیا وہ ابھی شکار کھیلے گا شہزادے کا ابھی نشانہ بھی صیح نہیں تھا نہ ہی شہزادہ کوئی بہترین گھوڑ سوار تھا لہذا ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک قدرے شریف 🏇 گھوڑے کا انتخاب کیا گیا اور بہت سے سپاہیوں کی ڈیوٹی لگائی گی وہ مور اور چکوروں کو بھگا کر شہزادے کے قریب لائیں تاکہ شہزادہ ان کو آسانی سے شکار کر سکے ایسا ہی ہوا نو بجے تک شہزادے نے کافی شکار کر لیا بہت خوش بھی ہوا اور خود کو بہت بڑا شکاری سمجھنے لگا لیکن جیسے سورج اوپر آیا گرمی پڑھنے لگی شہزادے نے ⛺ ⛺ خیمے میں جا کر سونا چاہا تو ایک عجیب سی بے ہنگم آواز کی وجہ سے شہزادہ سو نہ پایا اور اس کی طبیعت ناساز ہو گی معلوم کرنے پر بتایا گیا کہ یہ آواز ایک ڈیزل پر چلنے والے جنریٹر کی ہے جس کی وجہ سے خیمے میں بجلی فراہم کی جا رہی ہے شہزادے نے پوچھا اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ نہیں تھا جس سے بجلی حاصلِ کی جاتی تو وزیر نے بتایا کہ دوسرے ملکوں میں ہے پر ہمارے ملک کا زیادہ تر انحصار اسی ڈیزل انجن جنریٹر پر ہی ہے جس کے چلنے سے بہت شور شرابہ ہوتا ہے شہزادے نے کہا میں جب بادشاہ بنا تو میں ضروراپنی قوم کو اس سے نجات دلاؤں گا شہزادے نے جلدی وزیر ہوا بازی سے رابطہ کیا اور ہیلی کاپٹر منگوایا اور واپس شاہی محل پہنچ گیا اور دوسرے دن پھر سے لڑکیوں کے جھرمٹ میں رہنا اور تتلیاں پکڑنا شروع کر دیں اب ملکہ نے شہزادے نے کو دوسرے ملک اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجنے کا سوچا تاکہ ہر وقت لڑکیوں کہ ساتھ رہنے کی عادت بھی چھوٹ جائے گی

لیکن بیرون ملک جا کر شہزادے نے اعلی تعلیم حاصل تو کر لی لیکن وہاں لڑکیوں کے ساتھ ہر وقت رہنے کی عادت مزید پختہ ہو گئی خیر وہاں سے اس نے تعلیم کے ساتھ ساتھ اس ملک پر حکومت کرنے والے لوگوں سے بہت سے اچھے طریقے بھی سیکھے اور دل میں تہیہ کیا کہ جب بادشاہ بنا تو وہ انہی طور طریقوں پر عمل کر کے اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا

جب شہزادہ اپنے ملک پہنچا تو۔ پتہ چلا کہ اس کی والدہ تو بستر مرگ پر ہے بس اس کی واپسی کا ہی انتظار تھا جب اس کو بادشاہ بنانے کی بات چلی تو سب سے زیادہ مخالفت اس کے ماموں نے کی کیونکہ اس نے خفیہ طور پر شادی بھی کر لی تھی اور اس کے بیٹے بھی تھے وہ اپنے بیٹے کو بادشاہ بنانا چاہتا تھا جب اس کی خبر ملک کے بڑوں کو ہوئی انھوں نے بادشاہ کو پکڑ کر جیل میں ڈالا اور شہزادے کی 👑 تاج پوشی کر کے اس کو بادشاہ بنا دیا۔

تاج پوشی کے اگلے ہی دن بادشاہ سلامت کو جب شاہی محل کا وزٹ کروایا گیا تو بادشاہ سلامت کی نظر بہت بڑے کمرے پر پڑی جس کے باہر تین آدمی ڈیوٹی دے رہے تھے معلوم کرنے پر معلوم ہوا کہ اس کمرے کے اندر بہت بڑا ڈیزل انجن جنریٹر ہے جس کو ایمرجنسی بجلی نہ ہونے کی صورت میں اسے استعمال کر کے بجلی حاصلِ کی جاتی ہے اور یہ تین لوگ مینٹیننس کہ لیے رکھے گئے ہیں بادشاہ نے پوچھا کیا شاہی محل سے بھی بجلی جاتی ہے جواب ملا کبھی نہیں تو بادشاہ سلامت نے کہا کہ پھر اس جنریٹر کی کوئی ضرورت نہیں ایک تو یہ شور بہت کرتا ہے دوسرا ڈیزل کا خرچہ بہت ہے لہذا اس کو فورن نیلام کیا جائے اور ایمرجنسی کے لیے سولر پینل لگائے جائیں دوسرے ہی دن اس ڈیزل انجن کو ایک کمپنی کو نیلامی میں دے دیا گیا جس کا کام صحرا کے اندر تیل تلاش کرنا ہے اور دو سال کا کنٹریکٹ ہے دو سال کے بعد جب اس کمپنی اپنا کام مکمل کیا تو سارا ناکارہ اور پرانا مال ایک کباڑیے کو بیج دیا جس میں یہ ڈیزل انجن جنریٹر بھی تھا یوں ایک شہزادے نے اپنے ایک دن کے آرام میں خلل ڈالنے والے اس ڈیزل انجن جنریٹر کی نسل سے بدلہ لے کر اپنے روح کو تسکین پہنچائی
جو اب سکریپ یارڈ میں پڑا اپنے ری سائیکل ہونے کا انتظار کر رہا ہے
محبوب حسین انجم
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mahboob Hussain

Read More Articles by Mahboob Hussain: 2 Articles with 380 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Mar, 2021 Views: 33

Comments

آپ کی رائے