اعتماد کا ووٹ

(Dr Ch Abrar Majid, Islamabad)
ووٹ اور اعتماد تو ہیں ہی لازم و ملزوم البتہ ہمارے سیاسی حالات کچھ اچھی مثالیں نہیں رکھتے مگر حالات کے بگڑنے سے معیار تو نہیں بدل جاتا اصول تو اپنی حقیقت کبھی نہیں کھوتے ۔

آج وزیر اعظم صاحب برہم برہم لگ رہے تھے ۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کو بھی کھری کھری سنائیں کہ ہماری اتنی کوشش کے باوجود بھی آپ نے تعاون نہیں کیا ۔ ہماری نیک نیتی پر آپ نے ہمارا ساتھ نہیں دیا حالانکہ سپریم کورٹ نے حکومت کی شفافیت کی حکمت عملی پر گنجائش بھی نکالی تھی ۔

انہوں نے شکوہ بھی کر ڈالا کہ اخلاقی گرانی کا ہم اپنے جوانوں کو کیا جواب دیں گے کہ کیسی پاکستان میں سیاست ہورہی ہے ۔ انکی تشویش تو واقعی قابل غور ہے مگر اب نوجوان شائد اس کو برا نہ مانیں کیونکہ انہوں نے تھوڑا عرصہ پہلے ہی چوہدری سرور اور چئیر مین سینٹ کا الیکشن دیکھا ہوگا جو بہت پرانی یا سنی سنائی بات نہیں ۔

انہوں نے پرسوں اعتماد کا ووٹ بھی لینے کا اعلان کیا اور وجہ بھی بتائی کہ وہ اعتماد کا ووٹ اس لئے لینا چاہتے ہیں کہ جس کو مجھ پر اعتماد نہیں وہ سر عام بتائے ۔ ان کو بات تو سمجھ آگئی ہے مگر ان کو شائد یہ انداز پسند نہیں ہے ۔

مگر اپوزیشن جس اعتماد کے ووٹ کی بات کر رہی ہے وہ تو یوسف رضا گیلانی صاحب کے باکس میں جا چکے ہیں اور اب اگر وہ لوگوں کے خالی ہاتھ کھڑے کروا بھی لیں تو یوسف رضا گیلانی صاحب کے باکس سے ووٹ واپس تو نہیں آجائیں گے وہ اعتماد جو یوسف رضا گیلانی کو حاصل ہو چکا ہے اس کا تو کوئی نعم البدل نہیں ۔

لیکن اگر وہ بضد ہیں بھی تو Hands up کروا لینے سے کسی کے دل کی محبت تو حاصل نہیں کی جاسکتی کسی کا دل تو نہیں جیتا جاسکتا کسی کے دل کی آواز کو تو نہیں بدلا جاسکتا ۔ حقیقی اعتماد تو حاصل نہیں کیا جاسکتا ۔ زبردستی کی سنگتیں کب تک نبھائی جاسکتی ہیں ۔

یوسف رضا گیلانی صاحب نے بات تو سچ ہی کہی ہے کہ اگر اقدار کی سیاست ہی کرنی ہے اور اقتدار کا لالچ نہیں ہے تو پھر ووٹ مانگنے کی کیا ضرورت ہے ۔ لوگوں کی منتیں کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ بلاول نے جو وعدہ یاد کروایا ہے اس کو نبھانے میں حرج ہی کیا ہے ۔ خیر اپوزیشن تو آئینہ دکھانے کی کوشش کرتی ہی رہتی ہے ۔ بات تو اخلاقی قوت کی ہے ۔ اپنی اپنی سوچ کی ہے سمجھ کی ہے ۔ انسان کی سوچ ہی اس کی اصل شخصیت ہوتی ہے ۔

اتنا کچھ ہو جانے کے بعد بھی اعتماد ۔ کون سا اعتماد ۔

رشتے نبھانے بہت مشکل ہوتے ہیں ۔ اصل رشتہ ہوتا ہی اعتماد کا ہے ۔ بھائی بھائی کے درمیان ، باپ بیٹے کے درمیان ، دوست دوست کے درمیان ، میاں بیوی کے درمیان ۔ اعتماد ختم ہوجائے تو سب کچھ ختم ہوجاتا ہے ۔

ہمیں تو سمجھ نہیں آتی کہ وہ کس اعتماد کی بات کرتے ہیں اگر وہ برا نہ مانیں تو کیا ان کو اپنے ممبران پر اعتماد ہے؟

سوال ہے تو بڑا مشکل مگر زرا اپنے دل سے پوچھ کر بتائیں کہ ان کے دل پر کیا گزرتی ہوگی جب ان کو بکاوؑ مال کہا جاتا ہے اور سب سے زیادہ الزام وہ ہی لگاتے ہیں کوئی بھی اور سیاسی جماعت اپنے ممبران کی اس طرح سے بے توقیری نہیں کرتی ۔ تو کیا ان کو اپنے ممبران کو اس امتحان میں ڈالنا چاہیے کہ وہ ان سے اعتماد کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آخر کس منہ سے ۔ Love be gets Love کسی سے کتنا پیار ہے اپنے دل سے ہی پوچھ لینا چاہیے ۔ اگر Love affairs نہ بھی ہوں ۔ زبردستی کے رشتے ہی سہی مگر عزت حاصل کرنے کے لئے Give respect get respect رواجاً ہی سہی ، عزت دو عزت لو پر عمل تو کرنا ہی پڑتا ہے ۔

کچھ لوگ بڑے لحاظ والے ہوتے ہیں وہ کس کا دل دکھانا اچھا نہیں سمجھتے مگر بعض بڑے بدلحاظ ہوتے ہیں اور بات گج وجا کر کرتے ہیں ۔ لیکن عقلمند کے لئے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے ۔

سیاست تو ہے ہی اعتماد کی مالا ، سیاستدان تو جن پر اعتماد نہیں بھی ہوتا ان کو بھی کبھی محسوس نہیں کرواتے ۔ جنہوں نے ان کو ووٹ نہیں دیے ہوتے ان کے بھی کام آتے ہیں ۔ وہ اپنے آپ کو کبھی بھی بند گلی میں لے کر نہیں جاتے ۔ کبھی کسی کا دل نہیں دکھاتے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Ch Abrar Majid

Read More Articles by Dr Ch Abrar Majid: 84 Articles with 74348 views »
By profession I am Lawyer and serving social development sector for last one decade. currently serving Sheikh Trust for Human Development as Executive.. View More
04 Mar, 2021 Views: 92

Comments

آپ کی رائے