جنگ بندی معاہدے پر عمل کی مکاری۔۔۔۔1

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

 پاکستان اور بھارت کے بعد دہلی اور بیجنگ کے درمیان بھی ہاٹ لائن رابطوں کے و استوارہونے کا اعلان ہو رہا ہے۔ پاک بھارت ڈائریکٹر جنرلز ملٹری آپریشنز کے درمیان ہاٹ لائن رابطوں اور کشمیر کی سیز فائر لائن پر گولہ باری و فائرنگ نہ کرنے کا مشترکہ اعلان بھی بھارتی فوج اورچین کی فوج( پیپلز لبریشن آرمی) کے درمیان 20فروری 2021کو لداخ پر بات چیت کے 10ویں دور کے چند روز بعد ہی کیا گیا۔لداخ ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ یہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے۔ اس پر بھارت قابض ہے۔ چین اور بھارت کے درمیان ایک متنازعہ خطے کے بارے میں جنگ یا امن یا قبضے یا قبضے کے دعوے کی کوئی بھی مزاحمت یا مفاہمت عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ چین اور بھارت ایک مقبوضہ خطے کے بارے میں کشمیریوں اور مسلہ کشمیر کے بنیادی فریق پاکستان کی مرضی کے بغیر ایک دوسرے کو کچھ لو اور کچھ کے تحت کوئی سودا بازی نہیں کر سکتے۔سی پیک کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ، مگر کشمیر کی قیمت پر بھارت یا کسی بھی ملک کے ساتھ دوستی یا دشمنی ، تجارت یا سیاست کی عالمی سفارتکاری میں کیا گنجائش ہو سکتی ہے۔ 2003میں بھارت اور پاکستان کے درمیان پرویز مشرف کے دور حکومت میں جب جمالی صاحب وزیراعظم تھے، سیز فائر معاہدہ ہوا۔2013تک اس معاہدے پر عمل ہوا۔ دسمبر2013میں بھی دونوں ملکوں کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہارٹ لائن پر سیز فائر لائن پر جنگ بندی معاہدے کو جاری رکھنے پر اتفاق ہوا۔ مگر سیز فائر لائن کی نہ صرف خلاف ورزیاں ہوئیں بلکہ معصوم کشمیریوں کی جان و مال کا بھی نقصان ہوتا رہا۔ 2018میں بھی ہارٹ لائن پر سیز فائر پر عمل کرنے پر اتفاق ہوا۔ مگر اس پر عمل نہ کیا گیا۔ اب فروری 2021کو دونوں ممالک نے سیز فائر کا احترام کرنے کا مشترکہ بیان جاری کیا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری ہوا جب آزاد کشمیر میں سانحہ لنجوٹ نکیال کے 14معصوم شہدائے کو یاد کیا جا رہا تھا جنھیں بھارت فوج نے2000میں ایک شب خون کے دوران گھر میں سوتے ہوئے داخل ہو کر بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔ ان میں پانچ کم سن بچے بھی شامل تھے۔

سیز فائر معاہدے پر مکمل عمل در آمد کا پاک بھارت کا یہ تازہ مشترکہ اعلامیہ مقبوضہ کشمیر میں قتل عام اور عوام پر بھارتی فوج مظالم کے دوران جاری ہوا ہے۔ جس میں کشمیر کے متنازعہ علاقے میں دونوں ملکوں کے مابین معاہدوں کی پاسداری کرتے ہوئے سیز فائر لائن پر فائرنگ کو روکنے پر اتفاق کیا گیاہے۔ ایٹمی اسلحے سے لیس دونوں ملکوں نے مہینوں سے جاری کشیدگی کو کم کرنے کی خاطر 2003 کے معاہدے کی بحالی کا فیصلہ کیا ۔ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ عسکری کمانڈروں ڈی جی ایم اوز نے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہاٹ لائن پر رابطہ کیا اور کشمیر کی سیز فائر لائن پر صورت حال کا آزادانہ،واضح اور خوشگوار ماحول میں جائزہ لیا۔پاکستان کی طرف سے جاری کئے گئے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے24 اور 25 فروری 2021کی درمیانی شب سے تمام معاہدوں کے تحت سیز فائر لائن سمیت تمام دیگر سیکٹرز میں جنگ بندی پر عمل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔بیان میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ ایک قابل عمل اور دو طرفہ طور پر مفید امن کے حصول کے لیے دونوں اطراف نے ایک دوسرے کے ایسے بنیادی مسائل اور تشویش کے نکات کو ہاٹ لائن رابطوں اور فلیگ میٹنگز سے حل کرنے پر اتفاق کیا جن سے امن میں خلل اور تشدد پیدا ہوتا ہے۔تاہم بیان میں مزید وضاحت نہیں کی گئی۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتھونی گو تیرس نے پاکستان اور بھارت میں اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ جنگ بندی سے دونوں ممالک میں مزید بات چیت کی راہ نکلے گی۔
سکیرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجیرک نے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ کے رہنما دونوں ملکوں کی فوجوں میں کشمیر کی سیز فائر لائن پر جنگ بندی پر عمل کرنے اور طریقے کار کے مطابق معاملات سے نمٹنے کے اتفاق کے مشترکہ بیان کو حوصلہ افزا سمجھتے ہیں۔انتھونی گوتیرس نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس مثبت اقدام سے دونوں ملکوں میں مزید ڈائیلاگ آگے بڑھانے کا موقع میسر ہو گا۔

یہ سرگوشیاں ہو رہی ہیں کہ اچانک جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل در آمد کا اتفاق کسی ٹریک ڈپلومیسی یا کسی عالمی مداخلت کے بغیر نہیں ہو سکتا ہے۔ بھارتی انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق دونوں ملکوں میں جنگ بندی پر کاربند رہنے کا اتفاق بیک چینل ڈپلومیسی سے ممکن ہوا، جس میں بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول اور ان کے پاکستانی ہم منصب معید یوسف کے درمیان امن قائم کرنے پر ہونے والی گفتگو شامل تھی۔اس سے قبل معید یوسف نے اس پیش رفت کو پاکستان کی جنگ بندی کی لیے امن کی خاطر کی جانے والی سفارت کاری کی فتح قرار دیا اور کہا کہ اس کا مقصد وہاں پر بسنے والے شہریوں کے مصائب کو ختم کرنا ہے۔جاری
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 589 Articles with 230665 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
07 Mar, 2021 Views: 144

Comments

آپ کی رائے