ہم کورونا کو مزید خطرناک بنا رہے ہیں۔ ‏

(Muhammad Arshad Qureshi, Karachi)
اس حوالے سے محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ این سی او سی اور این آئی ایم ایس اس معاملے کو ‏دیکھ رہے ہیں۔جب کہ سندھ میں اس وقت ویکسین کی کمی کا بھی سامنا ہے، شاید اسی صورت ‏حال کے پیش نظر سندھ حکومت کی جانب سے گذشتہ دنوں شہر کراچی میں ایک اور ویکسینیشن ‏سینٹر کا اعلان کیا گیا ہے جہاں 24 گھنٹے ویکسینیشن کی جارہی ہے جو ایک اچھا قدم ہے، اس ‏قسم کے اقدامات سے شہر کے کسی ایک دو سینٹروں میں زیادہ رش ہونے کا سلسلہ ختم ہوجائے ‏اور بزرگ پرسکون ماحول میں اپنی ویکسینیشن کراسکیں گے‏

بزرگ شہریوں کی کورونا ویکسینیشن شروع۔

کویڈ 19 کی وبا ملک میں آئے ایک سال سے زیادہ ہوگیا ، پہلی ، دوسری اور اب تیسری لہر کا ‏سامنا ہے ، گذشتہ سال ماہِ رمضان میں بھی وبا عروج پر تھی اور حالات بتا رہے ہیں کہ شاید ‏امسال بھی ماہِ رمضان میں اس میں شدت آجائے گی۔سوال یہ ہے کیا تینوں بار ہمیں کسی نئے ‏قسم کے کورونا کا سامنا رہا یا پھر کورونا ملک سے چلا گیا اور پھر دوبار دوبارہ آیا ؟ یقیناً ایسا نہیں ہے ‏‏ بلکہ تینوں بار انتظامی کوتاہیوں اور عوامی بے احتیاطی کے باعث اس میں اضافہ ہوا جس کو ہم ‏پہلی دوسری اور تیسری لہر کہہ رہے ہیں۔ ‏

شہر کراچی میں پہلی لہر میں جب اموات کی تعداد بڑھنے لگیں، مساجد، مدرسے ،مزارات، ‏ریسٹورانٹ، پارک، سینما اور درسگاہیں بند کرنی پڑیں اور گھروں سے کام کرنے کو کہا گیا اس وقت ‏بھی تاخیر کی سبب ہمیں زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں کسی بھی چیز کو شروع ‏کرنے سے پہلے ہوم ورک مکمل نہیں کیا جاتا ‏، ادارے اس وقت حرکت میں آتے ہیں جب پانی ناک ‏تک پہنچ جاتا ہے اور نتیجہ بد انتظامی اور بے احتیاطی کی صورت میں سامنے آتا ہے ،۔ ماضی میں ‏ایسے ہوم ورک کے بغیر شروع کیے جانے والے کاموں کے نتائج ہم دیکھ چکے ہیں جس میں سوائے ‏نقصان کے کچھ نہیں ہوا، چاہے کتابی ڈرائیونگ لائسنس کے کمپیوٹرائز لائسنس میں تبدیلی کا اعلان ‏ہو، موٹر سائیکلوں کے لیے الگ لین بنانی ہو ، کراچی سرکلر ریلوے چلانی ہو یا پھر کورونا سے ‏متاثرہ علاقوں میں لاک ڈاؤن کرنا ہو۔ ‏

ایسی ہی بد دانتظامی اس وقت بھی دیکھنے میں آرہی ہے کچھ دن پہلے جب بزرگ شہریوں کی ‏کورونا ویکسینیشن شروع کرنے کا اعلان ہوا اور ایس ایم ایس کے ذریعہ 1166 پر 70سال سے زائد ‏لوگوں کو رجسٹریشن کرانے کا مشورہ دیا گیا تو اس وقت تک رجسٹریشن کا سلسلہ ہی شروع ‏نہیں کیا گیا تھا کئی لوگوں نے 1166 پر رجسٹریشن کرانے کے لیے اپنا شناختی کارڈ نمبر ارسال کیا ‏تو انہیں جواب موصول ہوا کہ ابھی رجسٹریشن کا سلسلہ شروع نہیں کیا گیا ہے آپ کچھ روز بعد ‏رابطہ کریں ۔ حکومت سندھ کی جانب سے شہر کراچی میں جن ویکسینیشن سینٹرز کا اعلان کیا ‏گیا، کئی بزرگ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب ہم رجسٹریشن کے موصولہ جوابی ایس ایم ایس میں ‏درج ‏ ویکسینیشن سینٹر پہنچے تو ان میں سے کئی سینٹرز اس بات سے بھی لاعلم تھے کہ ان ‏کے اسپتال کو ویکسینیشن سینٹرز کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ، ایسی صورت حال شہر کے ‏کئی علاقوں میں قائم کیے جانے والے ویکسینیشن سینٹروں میں دیکھنے کو ملی۔ اس صورت حال ‏کا نتیجہ یہ نکلا کہ شہر کے اہم ویکسینیشن سنیٹروں میں بزرگ شہریوں کی خاصی زیادہ تعداد ‏دیکھنے میں آئی جہاں بزرگ صبح سات بجے ہی پہنچ گئے ۔ شہرِ کراچی میں اب تک 28 ‏ویکسینیشن سینٹروں کا اعلان کیا جاچکا ہے لیکن تمام کے تمام میں اب تک ویکسینیشن شروع ‏نہیں کی گئی ہے۔

اس بد انتظامی کے باعث ایک اور صورت حال بھی پیدا ہورہی ہے کہ جن سینٹروں میں ویکسینیشن ‏شروع کی جا چکی ہے وہاں گنجائش سے زیادہ تعداد میں لوگ پہنچ رہے ہیں جہاں ایک طرف تو ‏‏ کورونا ایس او پیز پر مکمل عمل نہیں ہوپارہا تو دوسری طرف سینٹروں میں کئی کئی گھنٹے انتظار ‏کے باعث کئی بزرگوں کا بلڈ پریشیر بڑھ جاتا ہے اور جب ان کی باری آتی ہے تو ان کے بڑھے ہوئے ‏بلڈ پریشر کو دیکھتے ہوئے ان کو ویکسین نہیں لگائی جاتی اور انہیں واپس روانہ کردیا جاتا ہے کہ ‏آپ ایک ہفتہ بعد دوبارہ آئیں۔ سینٹروں میں اب تک ایسا دیکھنے میں نہیں آیا کہ جن بزرگوں کو بلڈ ‏پریشر کا مسئلہ پیدا ہوا ہو انہیں کوئی میڈیسن دے کر سینٹر میں ہی انتظار کرایا گیا ہو تاکہ وہ دوبارہ ‏آنے کی زحمت سے بچ سکیں ۔
‏ ‏
اس حوالے سے محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ این سی او سی اور این آئی ایم ایس اس معاملے کو ‏دیکھ رہے ہیں۔جب کہ سندھ میں اس وقت ویکسین کی کمی کا بھی سامنا ہے، شاید اسی صورت ‏حال کے پیش نظر سندھ حکومت کی جانب سے گذشتہ دنوں شہر کراچی میں ایک اور ویکسینیشن ‏سینٹر کا اعلان کیا گیا ہے جہاں 24 گھنٹے ویکسینیشن کی جارہی ہے جو ایک اچھا قدم ہے، اس ‏قسم کے اقدامات سے شہر کے کسی ایک دو سینٹروں میں زیادہ رش ہونے کا سلسلہ ختم ہوجائے ‏اور بزرگ پرسکون ماحول میں اپنی ویکسینیشن کراسکیں گے۔ ‏

ایسی صورت حال کا سامنا اس وقت ہی ہوتا ہے جب ہم کوئی فیصلہ عجلت میں کریں یا پھر اس کے ‏شروع کرنے سے پہلے اس پر ہوم ورک مکمل نہ کریں ۔ حکومت سندھ کو اس حوالے سے ‏سنجیدگی سے کام لیتے ہوئے زیادہ احتیاط کرنی ہوگی ، اگر اسی طرح انتظامی کوتاہیاں جاری رہیں ‏تو ہم کورونا کو خود مزید خطرناک بنادیں گے۔ ‏
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Arshad Qureshi

Read More Articles by Muhammad Arshad Qureshi: 130 Articles with 83864 views »
My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet.​President of Internati
.. View More
17 Mar, 2021 Views: 224

Comments

آپ کی رائے