یاراں نال بہاراں

(Aslam Lodhi, Lahore)
انور سعید میرا صف اول کا بہترین دوست تھا اور اب بھی ہے ۔
اس کے ساتھ گزرا ہو ا وقت ،میری زندگی کا بہترین اور قیمتی ترین اثاثہ ہے

 انور سعید کا شمار میرے صف اول کے دوستوں میں ہوتا ہے ۔وہ دوستوں کے دوست ہیں اور جس سے دوستی کرتے ہیں ، خوب نبھاتے ہیں۔ان کی زندگی کا بیشتر حصہ صدر بازارلاہورکینٹ میں گزرا اور میری زندگی کا ابتدائی بیس سال لاہور کینٹ کے ریلوے کوارٹروں میں گزرے ۔ہم دونوں کا ملاپ کیسے ہوا -یہ بھی کسی انکشاف سے کم نہیں ۔ یہ غالبا1980کی بات ہے کہ میری بیٹی ( تسلیم اسلم ) کی طبیعت خراب ہوئی تو میں اسے چیک اپ کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے بالمقابل منصب کلینک لے گیا جہاں معالجین نے اسے داخل کرلیا ۔چونکہ بچی ابھی چھوٹی تھی اس لیے اس کی والدہ کے ساتھ ساتھ مجھے بھی منصب کلینک میں رہنا پڑا۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ میں ان دنوں پنجاب صنعتی ترقیاتی بورڈکے دفتر میں بطور سٹینوگرافر ملازم تھا ۔یہ بورڈ یوں تو نیم سرکاری محکمہ کہلاتا تھا لیکن ذوالفقار علی بھٹو کی ہدایت پر پنجاب میں چار شوگرملیں بنائی گئیں ۔ ان میں پتوکی شوگر ملز ، پسرور شوگر ملز، گوجرہ سمندری شوگر ملز اور کمالیہ شوگر ملز شامل تھیں ۔اس کے علاوہ چند ٹیکسٹائل ملیں بھی قائم کی گئیں جن میں ہڑپہ ٹیکسٹائل ملز ،ڈی جی خاں ٹیکسٹائل ملز ،شاید بورے والا ٹیکسٹائل ملز بھی شامل تھیں ۔ ان ملوں کے حسابات اور معاملات کو دیکھنے کے لیے پنجاب حکومت کے ماتحت ادارے سیکرٹری انڈسٹریز کی نگرانی میں ایک نیم سرکاری ادارہ قائم کیا گیا جسے اردو میں پنجاب صنعتی ترقیاتی بورڈ اور انگلش میں اس کا مخفف پی آئی ڈی بی کہلاتا تھا ۔اس نیم سرکاری ادارے کا دفتر بلڈنگ لاہور چیمبرز آف کامرس کے بالائی تین فلوروں میں واقع تھا ۔دوسرے فلور پر منیجنگ ڈائریکٹر ،ڈپٹی منیجنگ،جنرل منیجر ایڈمنسٹریشن اور دو سینئر انجیئنرز بھی بیٹھتے تھے ۔ اس فلور کے کمرہ نمبر 212میں ،میں بیٹھا کرتا تھا ۔یہاں میں 7مئی 1979ء کو بطور اردو سٹینوگرافر بھرتی ہوا تھا ۔اس نیم سرکاری ادارے کی جانب سے ملازمین کو نہ صرف آؤٹ ڈورعلاج کی سہولت میسر تھی بلکہ کسی بھی ہسپتال میں داخل ہونے اور وہاں علاج معالجہ کروانے کی اجازت بھی تھی ۔

یہ بھی بتاتا چلوں کہ 1978ء میں لاہور میں آج کی طرح زیادہ پرپرائیویٹ ہسپتال نہیں ہوا کرتے تھے ۔ سرکاری ہسپتالوں کے علاوہ صرف دو ہی مشہور ہسپتال تھے ایک مزنگ چوک میں فیملی ہسپتال اور دوسر ا ٹرنر روڈ پر بالقابل لاہور ہائی کورٹ منصب کلینک کے نام سے مشہور تھا ۔اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ انور سعید سے میری ملاقات 1980ء میں اس وقت ہوئی ۔جب انورسعید کی چچی کے ہاں ذیشان بیٹے نے جنم لیا ۔حسن اتفاق سے ذیشان کے والدانکل شفیق سٹیٹ بنک میں کسی اعلی عہدے پر فائز تھے، اس لیے علاج معالجے کے لیے انہیں بھی منصب کلینک ہی مناسب لگتا تھا۔ جب ذیشان پیدا ہوا تو اس وقت منصب کلینک میں گھر کا کوئی فرد موجود نہیں تھا۔جبکہ میں اپنی بیگم اور بیٹی کے پاس موجود تھا۔ ذیشان کی والدہ نے فون نمبر دے کر میری بیگم کو کہا کہ وہ فون کرکے بیٹے کی ولادت کی خبر ان کے گھر کردیں ۔ میری بیگم نے مجھے یہ پیغام دیا ۔(اس وقت موبائل فون کا طوفان ابھی نہیں آیا تھا اور نہ ہی جگہ جگہ ٹیلی فون پی سی او موجود ہوا کرتے تھے ۔پورے بازار میں ایک یا دو پی سی او فون ہواکرتے تھے جو کال کے ایڈوانس پیسے لے کر خود فون ملاکر بات کرواتے تھے ۔ فون نمبرلے کرمیں منصب کلینک کے قریب ہی پی سی او گیا اور وہاں سے فون کرکے بیٹے کی ولادت کی خوشخبری ان کے گھردے دی ۔ کچھ ہی وقت گزرا ہوگا کہ انور سعید کے ساتھ ایک دو اور خواتین بھی منصب کلینک آ پہنچیں ۔ انور سعید سے میری پہلی ملاقات منصب کلینک میں ہی ہوئی ۔انور کی شخصیت قابل رشک دکھائی دی ۔ لمبا سا قد ، سرخ و سفید چہرہ ، اور کھلے کھلے نقش کے ساتھ یہ نوجوان اپنی مثال آپ تھا ۔انہیں مل کر مجھے خوشی ہوئی ۔پہلی ملاقات میں جہاں مجھے ایک اچھا دوست مل گیا ، وہاں انور سعید کے دل میں میرے بارے میں محبت کے جذبات پیدا ہوچکے تھے ۔ پھر جب انور سعید کی چچی منصب کلینک سے ڈسچارج ہوکر اپنے گھر لوٹیں تو انور سعید کے ساتھ میں بھی سامان چھوڑنے کے لیے ان کے گھر واقع صدر بازار گیا ۔میرے اس خوشدلانہ رویے کی بدولت اس خاندان کے ہر فرد کے دل میں میرے بارے محبت اور احترام کے جذبات پیدا ہو چکے تھے ۔

باتوں ہی باتوں میں ،میں نے بتا یا کہ میں پی آئی ڈی بی میں بطور سیٹنو گرافر ملازم ہوں ۔ایک دن انور بھائی میرے دفتر پہنچے تو مجھے ان سے مل کر بے حد خوشی ہوئی ۔چند دن کی ملاقاتوں نے ہم دونوں کے دل میں ایک دوسرے کے لیے احترام اور محبت کے جذبات پیدا کردیئے ۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب انور سعید روزانہ میرے دفتر آنے لگے اور میں خوش دلی سے ان کا استقبال کرتا۔کئی کئی گھنٹے وہ میرے پاس بیٹھے رہتے اور ہم زندگی کے ہر موضوع پر گفتگو کرتے ،مزے کی بات تو یہ ہے ،کہیں اختلاف ہوتا بھی تو ہم ایک دوسرے کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ہاں میں ہاں ملادیتے ۔ لیکن دل شکنی سے ہرممکن اجتناب کرتے۔

میرے دفتر کے بالمقابل باغ جناح تھا ،ہم لنچ ٹائم میں کھانا اکٹھا کھاتے ، پھر چہل قدمی کرنے کے لیے پیدل ہی سڑک عبور کرکے باغ جناح میں پہنچ جاتے ۔چلتے چلتے تبادلہ خیال بھی ہوتا رہتا اور دوستی کی بنیادوں کو توانائی بھی ملتی رہتی۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب ہم دونوں چھٹی کے بعد ماڈل ٹاؤن پارک جو نیا نیا تعمیر ہوا تھا اور اس کی خوبصورتی کی بہت دھوم تھی ،وہاں جا بیٹھتے اور شام ڈھلے تک گپ شپ چلتی رہتی ۔مزے کی بات تو یہ ہے کہ نہ انور سعید کو گھر جانے کی جلدی ہوتی اور نہ مجھے ہی گھر واپسی کا خیال آتا۔ ایک اور بات بھی قابل ذکر یہ ہے کہ ہمارے مابین تکلف نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ہم دونوں گھر سے لایا ہوا کھانا جب کھانے لگتے تو تکلف برطرف رکھ کر آخری لقمے تک ہاتھ نہ روکتے ۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ دل سے دل کو راہ ہوتی ہے ۔ایک دن انور سعید نے مجھے آکر بتایا کہ اسے میسرز کینٹرون میں ملازمت مل گئی ہے ۔ سہگلوں کی اس پرائیویٹ فرم کا دفتر باغ جناح کے مغرب میں واقع تھا۔جبکہ مشرقی جانب میرا دفتر تھا۔ اس لیے کہا جا سکتا تھا کہ میرے اور انور کے آفس کے درمیان صرف باغ جناح ہی تھا ،اور وہاں سے انور سعید کو میرے دفتر آنے کے لیے کسی سواری کی ضرورت نہ تھی اور باآسانی میں ان کے دفتر اور وہ میرے دفتر آجا سکتے تھے ۔جب بھی لنچ ٹائم ہوتا تو انور سعید پیدل ہی چلتے ہوئے میرے پاس آجاتے ۔ ہم دونوں نہ صرف کھانا کھاتے بلکہ ہر موضوع پر گپ شپ چلتی رہتی ۔ڈیڑھ دو سال تک یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو کئی لوگ انور سعید کو میرے دفتر ہی کا آدمی سمجھنے لگے تھے ۔یہ سب انور سعید کی محبت کا نتیجہ تھا کہ میں ان کے اعتماد اور بھروسے پر پورا اتراتھا۔دوسری جانب جب مجھے بھی کسی قسم کی پریشانی لاحق ہوتی تو میں انور سے ضرور بات کرتا بلکہ اس کے دیئے ہوئے مشورے پر عمل بھی کرتا۔

ان دنوں اپنا گھر بنانے کے لیے مجھے زمین خریدنے کا شوق تھا ،اس مقصد کے لیے لاہور کے مختلف علاقوں میں سروے بھی کرچکا تھا ،انور ایک اچھے دوست کی حیثیت سے مجھے اپنے قیمتی مشورے سے نوازتارہا ۔کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ انور سعید کو کمپنی کی طرف سے دوسرے شہروں میں بھیجا جانے لگا ۔اتنا نزدیک آکر جب وہ دور مجھ سے ہوئے تو مجھے خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ بطور خاص اس وقت جب میں دوپہر کا کھانا کھانے لگتا اس وقت انور کی یاد زیادہ شدت سے آتی ۔وقت گزرتا رہا آہستہ آہستہ جدائی کے ان لمحات کو ذہن و دل نے قبول کرلیا ۔انور میری طرح کرکٹ کا بہت شیدائی تھا اور وہ اپنی تمام صلاحیتیں کرکٹ میچ کی کمنٹری سننے اور تبصرہ کرنے میں ہی صرف کر دینا چاہتا تھا ،میں چونکہ پی آئی ڈی بی کرکٹ ٹیم کا کپتان بھی تھا اور دفتر کے کئی لڑکوں کے ہمراہ باغ جناح میں ہم پریکٹس کرنے بھی جایا کرتے تھے ،کئی ایک بار انور بھی پریکٹس میچ دیکھنے کے لیے وہاں موجود ہوتے تو میں انہیں پکڑ کر گراؤنڈ میں لانے کی کوشش کرتا لیکن انور بھائی ہر مرتبہ پہلو بچا کر نکل جاتے ۔یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ کرکٹ کی ہارڈ بال سے ڈرتے تھے کیونکہ کرکٹ کی بال جہاں بھی لگتی کچھ نہ کچھ توڑ ضرور دیتی ہے ۔

انوربھائی کی شخصیت میں دھیما پن زیادہ تھا اگر کوئی ان سے لڑنے کی کوشش کر ہی لیتا وہ تب بھی درگزر کرکے وہ جگہ ہی چھوڑ کر چل پڑتے ۔وہ کردارکے اتنے صاف اور شفاف تھے کہ راستے میں جاتی ہوئی کوئی لڑکی نظر آجاتی تووہ اپنا راستہ ہی بدل لیتے ۔اگر کسی پر غلطی یا بے دھیانی سے نظر پڑبھی جاتی تو اس قدر خفگی کا اظہار کرتے کہ دوسرے کو فورا اپنی غلطی کا احساس ہوجاتاکہ اس نے یہ راستہ کیوں اختیار کیاہے ۔دوسرے لفظوں میں انہیں شرم و حیا کا مجسمہ قرار دیا جاسکتا ہے ۔پھر وہ وقت بھی آیا جب انور بھائی واپڈا میں سب انجینئرکی حیثیت سے ملازم ہوگئے اور ان کا گرڈ اسٹیشن کوٹ لکھپت سے بھی پانچ کلومیٹر کے فاصلے پرگلیکسو فیکڑی کے قریب فیروز پور روڈ پر واقع تھا ۔ میں جن دنوں کی بات کررہا ہوں ان دنوں یہ مقام شہر سے بہت دورتصور کیا جاتا تھا اور وہاں آنے جانے کے لیے بھی آسانی سے ٹرانسپورٹ میسر نہ تھی ۔قینچی اور چونگی امرسدھو پسماندہ اور مسائل کی آمجگاہ کا شکل اختیا ر کیے ہوئے تھے لیکن آج وہی علاقہ ترقی یافتہ کہلاتا ہے اور شہر پھیلتا پھلتا کاہنہ سے بھی آگے نکل چکاہے ۔

ایک مرتبہ کاذکر ہے انور کے کسی دوست کی بہن کی شادی تھی ،حسن اتفاق سے انور بھائی بھی اس شادی میں شریک تھے اور ہرکام میں بڑھ چڑھ کر اپنے دوست کا ہاتھ بٹارہے تھے،جب دولہن کی رخصتی کا وقت آیا تو انور بھائی بھی چند دیگر افراد کے ساتھ جہیز کا سامان اٹھا کر بس کی چھت پر رکھنے لگے ۔جب جستی چادر کی بنی ہو ئی بڑی پیٹی اٹھا کر بس کی چھت پر رکھ رہے تھے تو پیٹی بجلی کے تاروں سے جا ٹکرائی ،اور پیٹی میں کرنٹ آگیا۔انور بھائی اور دیگر افراد پیٹی کے نیچے گر پڑے اور انہیں چوٹیں بھی آئیں ۔چوٹوں کے علاوہ موقع پر موجود لوگوں کے لیے تفریح کا باعث بھی بنے ۔

یہ 1985کے عشرے کی بات ہے ،ٹیلی ویژن پر ایک ڈرامہ نشرہوا کرتا تھا جو بہت مقبول ہوا۔ اس کا نام مجھے اس وقت یاد نہیں آ رہا۔اس ڈرامے میں سیمی نام کی ایک خوبصورت لڑکی ہیروئن کا کردار انتہائی اچھے انداز سے نبھا رہی تھی ،خوبصورتی کے اعتبار سے وہ لڑکی ہر دلعزیز تھی ہمارے گھر میں بھی وہ ڈرامہ شوق سے دیکھا جاتا تھا ،حسن اتفاق سے انور بھائی کی شکل ہو بہو اس لڑکی سے ملتی تھی اور بالوں کا سٹائل بھی ۔کیونکہ اس وقت انور بھائی کے چہرے پر مونچھوں کا وجود نہیں ہوا کرتا تھا ۔ڈرتے ڈرتے میں نے ایک دن بتا ہی دیا کہ انور بھائی آپ کی شکل ڈرامے کی ہیروئن سیمی سی ملتی ہے، انور بھائی میری بات سن کر خاموش ہوگئے اور کسی ردعمل کا اظہار نہ کیا ۔کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ انور بھائی کسی کام کے سلسلے میں فیصل آباد گئے اور کسی حجام کی دوکان پر شیو کروارہے تھے ،وہاں کسی اجنبی شخص نے انور بھائی کو دیکھ کر کہا اے نوجوان تمہاری شکل ڈرامے والی لڑکی سیمی سے ملتی جلتی ہے۔اتنی تیزی سے وہ شخص یہ بات کہہ کر رفوچکر ہوگیا کہ انور بھائی کو سوچنے پر مجبورکرگیا۔جب انور بھائی فیصل آبا د سے واپسی پر میرے آفس آئے تو انہوں نے مجھے یہ بات قہقہہ لگا کر خود بتائی ۔میں نے مسکراتے ہوئے کہا انور بھائی اب تو آپ کو یقین ہو گیا ہے نا۔

واپڈا میں ملازمت کے دوران ایک مرتبہ مجھے اطلاع ملی کہ انور بھائی کے پاؤں کے انگوٹھے پر کوئی بے غیرت چوہا دانت کاٹ گیا ہے،طاعون کی بیماری سے بچنے کے لیے انور بھائی کو میوہسپتال سے لمبی لمبی سرنج والے کتنے ہی انجکشن پیٹ میں لگوانے پڑے ۔ سچ تو یہ ہے کہ انور سعید دوستوں کا بہت دالدہ تھا اور شاید اب بھی ہے۔میں جب بھی انہیں ملنے گیا ،ضروری کام ہونے کے باوجود ہم دونوں ان کے ڈرائنگ روم میں گھنٹوں بیٹھے گپ شپ مارتے رہتے،انور نے اپنی گفتگو میں کبھی ظاہر نہیں ہونے دیا کہ انہیں کسی ضروری کام کے سلسلے میں گھر سے باہر بھی جانا ہے ۔یہ سب باتیں شادی سے پہلے کی ہیں ۔ بعد میں تو انور بھائی اتنے مصروف ہوئے کہ بھول کر بھی ہمیں یاد نہیں کرتے۔

یہ بھی بتاتا چلوں کہ میں جتنی بار بھی ان کے گھر ملنے گیا انور گھر پر موجود ہو ں یا نہ ہوں ،انکل شفیق اتنی محبت سے مجھے ملتے اور ڈرائنگ روم کا دروازہ کھل کر موسم کی مناسبت سے پہلے خاطر تواضع کرتے، پھرانورکے بارے میں بتاتے کہ وہ اس وقت گھر پر موجود ہیں کہ باہر کسی کام کے لیے گئے ہوئے ہیں ۔سچی بات تو یہ ہے ،میں انکل شفیق کو ہی انور سعید کا والد سمجھتا رہا لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی جب انور کے حقیقی والد کا انتقال ہوا ۔تب مجھے پتہ چلا کہ انکل شفیق، انور سعید کے چچا ہیں اور منصب کلینک میں جن کی کوکھ سے ذیشان نے جنم لیا تھا وہ انور سعید کی والدہ نہیں ان کی چچی تھیں ۔ میں زندگی میں یہ دوسرا گھرانہ دیکھا ہے جس کے چھوٹے سے لے کر بڑے لوگ انتہائی ملنسار اور محبت کرنے والے ہیں ۔بزرگوں کی دنیا سے رخصتی کے بعد اب انور سعید اس لکھنوی طرز کے گھرانے کا سربراہ بن چکا ہے، وہی عزت اور احترام جو پہلے بزرگوں کو حاصل تھا ،اب وہی انورسعید کو حاصل ہے ۔محمد اقبال، محمد امجد شفیق ،ارشداور ذیشان سب اپنے اپنے مرتبے اور عمر کے مطابق اپنے لکھنوی خاندان کی عزت اور روایات کو اپنے بہترین رویوں اور اخلا ق سے قائم رکھے ہوئے ہیں ۔اب تو ماشا اﷲ انور بھائی کی ایک بیٹی اور بیٹے (شاہ رخ ) کی شادی بھی ہوچکی ہے اور بہت جلد وہ نانا اور دادا بننے والے ہیں ۔قصہ مختصر انور سعید پہلے بھی میرے دوستوں کی فہرست میں سب سے اول تھے اور آج بھی ان کی بے لوث محبت اور چاہت (واٹس اپ اور فیس بک پر) مجھے حاصل ہے۔ بالمشافہ ملاقات دور دور تک دکھائی نہیں دیتی لیکن شاہ رخ کی شادی پر ہی آخری ملاقات ہوئی تھی ۔میری دعا ہے کہ اﷲ تعالی انور سعید جیسا دوست ہر کسی کو دے ،وہ بے لوث بھی ہے، محبت کرنے والا بھی اور دوستی کا بھرم رکھنا بھی وہ خوب جانتا ہے ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 571 Articles with 290164 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Mar, 2021 Views: 390

Comments

آپ کی رائے