سچن وزے : آگ ہے تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

(Dr Salim Khan, India)

شطرنج اور سیاست اعصاب کا کھیل ہے۔ اس میں مخالف پر دباو بنایا جاتا ہے تاکہ وہ غلطی کرے اور اس کا فائدہ اٹھا کر اسے مات دے دی جائے ۔ اس کی بہترین مثال مہاراشٹر میں جاری مرکزی اور ریاستی حکومت کی رسہ کشی ہے۔ بی جے پی کے بارے میں یہ بات مشہور ہوگئی تھی کہ وہ حکومت سازی کے لیے اکثریت کی محتاج نہیں ہے۔ وہ اگر دوسرے نمبر بلکہ تیسرے پر بھی ہوتب بھی جوڑ توڑ کرکے پہلے والے کو اقتدار سے محروم کرسکتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال گوا ہے جہاں اس نے کانگریس کو سرکار بنانے کا موقع ہی نہیں دیا۔ مدھیہ پردیش میں ارکان اسمبلی کو ساتھ لے کر اس کی سرکار گرادی اور کرناٹک میں بھی کانگریس اور جے ڈی ایس کی مستحکم حکومت کو اکھاڑ پھینکا۔ ارونا چل پردیش وغیرہ میں تو ایسی مثالیں بھی ہیں کہ پورے کے پورےحزب اقتدار کو اپنی پناہ میں لے کر ان کے پرچم کو اپنے جھنڈے سے بدل دیا۔ مہاراشٹر کواس معاملے میں استثناء حاصل ہے کہ وہاں انتخاب میں سب سے بڑی پارٹی بننے کے بعد باوجودکمل مرجھا گیا ۔ اس لیے سنجے راوت کا یہ کہنا نصف صداقت ہے کہ ارنب کی گرفتاری کے بعد سے سچن وزے مرکز کے نشانے پر تھا جبکہ پوری سچائی یہ ہے کہ مہاراشٹر سرکار اول دن سے مرکزی حکومت کے نشانے پر ہے اور اس وقت تک رہے گی جب تک کہ اس کو گرایا نہیں جاتا۔ مرکز اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوسکے گا یا نہیں یہ کہنا مشکل ہے۔

مہاراشٹر کے صوبائی انتخاب میں اس بارجب بی جے پی نے شیوسینا کے ساتھ مل کرالیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تو اسی وقت سے ان کے درمیان کھینچا تانی شروع ہوگئی اور زیادہ حلقۂ انتخاب میں اپنے امیدوار کھڑا کرنے کی خاطر یہ لوگ ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوگئے ۔ شیوسینا اپنے ماضی کا حوالہ دے کر علاقائی جماعت ہونے کا فائدہ اٹھانا چاہتی تھی اور بی جے پی گزشتہ الیکشن میں اپنی کامیابی کے اعداوشمار پیش کرکے زیادہ نشستوں پر دعویٰ کررہی تھی ۔ اس دوران ایسا لگنے لگا تھا کہ یہ بیل منڈھے نہیں چڑھے گی لیکن پھر بی جے پی نے شیوسینا کو علامتی خوشی دے کر ساتھ رکھ لیا ۔ انتخاب میں دونوں کو مشترکہ طور پر واضح اکثریت حاصل ہوگئی لیکن حسب توقع بی جے پی اول اور شیوسینا دوسرے نمبر پر رہی۔ شیوسینا نے دباو بنانے کی خاطر نصف مدت کے لیے وزارت اعلیٰ کے عہدے پر دعوے داری پیش کی اسے توقع رہی ہوگی کہ اس طرح کم ازکم نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ تو مل ہی جائے گا۔ اس کے برخلاف بی جے پی نے این سی پی کے اجیت پوار کونیابت عطا کر کے شیوسینا کی ہوا نکال دی ۔

بی جے پی کو توقع تھی کہ این سی پی ٹوٹ جائے گی لیکن شرد پوار نے بازی الٹ دی اور شیوسینا اور کانگریس کو ساتھ لے کر بی جے پی کو اقتدار سے محروم کردیا ۔ اس زخم کو امیت شاہ اور دیویندر فردنویس کبھی بھول نہیں سکتے یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر کی ریاستی سرکار مرکز کے آنکھوں کا کانٹا بن گئی اور وہ اسے گرانے کے لیے موقع کا تلاش کرنے لگی۔ پالگھر میں سادھووں کے ہجومی تشدد اورقتل نےبی جے پی کو پہلا موقع دیا۔ وہ سادھو لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دیہات کے راستے سے چھپتے چھپاتے گجرات جارہے تھے ۔ دادرہ نگر حویلی کی سرحد سے انہیں لوٹا دیا گیا۔ واپس ہوئے تو ایک گاوں کے لوگوں نے انہیں بچہ چور سمجھ کر مارڈالا ۔ اس قابل مذمت سانحہ کا فائدہ اٹھانے کی خاطر بی جے پی نے ریپبلک ٹیلی ویژن کے ارنب گوسوامی کو شیوسینا کے پیچھے چھوڑ دیا ۔ ہیجانی کیفیت میں مبتلا ارنب نے اسے سونیا گاندھی کے واسطے سے اٹلی پہنچا دیا۔ اس معاملے میں یوگی نے بھی اپنی سیاسی روٹیاں سینکیں لیکن مہاراشٹر کی ریاستی حکومت نے اس کو بڑی مہارت سے قابو میں کرلیا اور مرکز کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔
 
پچھلے سال اپریل میں منہ کی کھانے کے بعد ارنب گوسوامی نے ماہِ جون میں سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کو لے کر پھر سے ہنگامہ کھڑا کردیا ۔ اس مرتبہ مرکزی ایجنسیاں مثلاً سی بی آئی، ای ڈی اور این ای بی میدان میں اتاری گئیں ۔ بات کا بتنگڑ کر ایک سیدھے سادے خودکشی کے سانحے کی آڑ میں ریاستی حکومت کو عدم استحکام کا شکار کردیا گیا۔ اس شدید دباو سے نمٹنے کے لیے ریاستی حکومت نے ارنب پر نکیل لگانے کا فیصلہ کیا ۔ یہ فیصلہ تو درست تھا مگر اس کو بروئے کار لانے کے لیے غلط آدمی کا انتخاب کرتے وقت وہ بھول گئی کہ ’نادان کی دوستی جی کا جنجال ‘ ہوتی ہے ۔ یہ محض اتفاق نہیں تھاکہ ماہ جون میں سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کا ہنگامہ برپا ہوا اور سچن وزے کو 16سال بعد بحالی عمل میں آئی ۔ سچن وزے نے ٹی آر پی معاملے میں ارنب کو سپریم کورٹ کے اندرگہار لگانے پر مجبور کردیا ۔ اس کے بعد انوئے نائک کی خودکشی کے معاملے میں تو ارنب کو جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی ۔ اس طرح مہاراشٹر کی ریاستی حکومت نے ارنب کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر مرکز کے ایک مہرے کو سیاسی بساط سے اکھاڑ پھینکا ۔

مرکزی حکومت ارنب کی گرفتاری کے بعدجس موقع کی انتظار میں تھی وہ نادر موقع ریاستی حکومت کے منظور نظر سچن وزے نے ہی عطا کردیا ۔ امبانی معاملے میں سچن وزے پر شکنجہ اس قدر تنگ ہوچکا ہے کہ اب اس کو بچانا خودکشی ہے۔ اس لیے پہلے اس کا تبادلہ کیا گیا اور گرفتاری کے بعد اس کو معطل کرنا پڑا۔ سنہرے رنگ کی دھماکہ خیز اشیاء سے بھری ہوئی جو اسکارپیو مکیش امبانی کے گھر کےپاس ملی تھی اس کی بابت ایسے شواہد مل چکے ہیں کہ وہ ایک دن پہلے تک سچن وزے کے قبضے میں تھی ۔ اس کی چوری ہوئی نہیں تھی ۔ اس کا پیچھا کرنے والی انووا گاڑی سچن وزے کے محکمہ کی تھی اور خود اس میں سوار تھا ۔ اتنے بھونڈے طریقہ سے پھنس جانے والے ملزم کو بچانے کی سعی اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ اب تو وزے کی وہ مرسیڈیز بھی این آئی اے کے قبضے میں ہے جس اس کا جرم کے ارتکاب کرتے وقت زیب تن کیا جانے والا لباس موجود ہے۔ خواجہ یونس کے قتلِ ناحق میں ملزم سچن وزے کوملازمت پر بحال کرکے ۸ ماہ بعد دوبارہ معطل کرنےپر مجبور ہونے والوں کو یاد رکھنا چاہیے؎
آگ ہو تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
برف کے پگھلنے میں‌ دیر کتنی لگتی ہے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1250 Articles with 460997 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Mar, 2021 Views: 319

Comments

آپ کی رائے