رمضان کا نام کس نے رکھا اور اس کا مطلب کیا ہے؟ جانیے رمضان سے متعلق اہم معلومات مولانا طارق جمیل کی زبانی

 
رمضان المبارک رب پاک کی طرف سے مسلمانوں کے لئے انعام ہے۔ اس ماہِ مبارک میں مسلمان روزے رکھتے ہیں۔ فرض نمازوں کے علاوہ سنت اور نوافل کا بھی خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ سال کے باقی مہینوں پر اس مہینے کو خاص رتبہ اور فضیلت حاصل ہے۔ لیکن یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ رمضان کا کس نے اور کب تخلیق کیا۔
 
رمضان کا نام کس نے رکھا؟
مولانا طارق جمیل اس حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اسلامی سال کے تمام مہینوں کے نام عرب نے رکھے یا پھر اسلام کے نزول کے بعد رکھے گئے لیکن رمضان المبارک کا نام اللہ تعالی نے دنیا بننے سے بہلے ہی قرآن کی تلاوت فرماتے ہوئے رکھ دیا تھا۔ قرآن مجید میں ایسی کئی آیات مبارکہ ہیں جن میں لفظ رمضان کا زکر ایک مبارک مہینے کے طور پر کیا گیا ہے۔ مولانا طارق جمیل یہ بھی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو رمضان المبارک کا مہینہ اس قدر پسند تھا کہ قرآن کے علاوہ دیگر الہامی کتابیں جیسے کہ توریت، زبور، انجیر بھی رمضان کے مہینے میں ہی نازل کی گئیں۔
 
 
رمضان کے معنی
رمضان “رمز“ یا “رمزو“ کے لفظ سے لیا گیا ہے جن کے معنی “جل جانا“ ہیں۔ مولانا صاحب کہتے ہیں کہ رمضان کو رمضان اس لئے کہتے ہیں کیونکہ یہ گناہوں کو جلا دیتا ہے۔ جب مومن پہلا روزہ رکھنا شروع کرتا ہے تو اللہ مومن کی بھوک پیاس کی آگ میں اس کے گناہوں کو جلانا شروع کردیتا ہے یہاں تک کہ 29 رمضان کی شب تک روزہ دار مومن کے پچھلے ایک سال کے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
13 Apr, 2021 Views: 739

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ