ہاں، میں انکاری ہوں!ذاتی و پیشہ ورانہ زندگی کی چند یادیں ڈاکٹر ظفر احمد خان شروانی(سابق جج سندھ ہائی کورٹ)

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)
ہاں، میں انکاری ہوں!ذاتی و پیشہ ورانہ زندگی کی چند یادیں
ڈاکٹر ظفر احمد خان شروانی(سابق جج سندھ ہائی کورٹ)
٭
ڈاکٹر رئیس احمد صمدنی
معروف ناشر و طابع فضلی سنز کی جانب سے سال روں 2021ء میں منظر عام پر آنے والی ڈاکٹر ظفر احمد خان شروانی کی تصنیف ”ہاں، میں انکاری ہوں‘‘ان کی پیشہ ورانہ زندگی کی یادداشتوں پر مشتمل ہے۔ عام سوانحی کتب سے مختلف اور دلچسپ۔ کتاب کا عنوان تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ کسی سیاسی لیڈر کی کہانی ہے جیسے ماضی میں ایک کتاب ’ہاں میں باغی ہوں‘ سیاست دان جاوید ہاشمی کی سامنے آئی تھی، حسرت موہانی کی ’مشاہدات زنداں‘، ذوالفقار علی بھٹو کی ’میرے قتل کے بعد‘، شاعر اور ادیب تو لکھنے کا فن خوب جانتے ہیں چنانچہ بے شمارشاعروں اور ادیبوں کی سوانح عمریاں منظر عام پر آئیں اور بہت مشہور بھی ہوئیں۔جیسے کالا پانی‘ جعفر تھانیسری، رفیع الزماں زبیری کی ’سرگزشت‘، یادوں کی بارات‘ جوش ملیح آباد، جہان ِ دانش‘ احسان دانش اور شہاب نامہ‘ قدرت اللہ شہاب اہم ہیں۔ اردو میں سوانح نگاری کی روایت بہت قدیم ہے۔سوانح عمری کے لیے ضروری نہیں کہ لکھنے والا ادیب، شاعر، لکھاری ہی ہو، اکثر احباب اپنی زندگی میں پیش آنے والے اہم واقعات، نرم گرم حالات سے آزاد ہوجانے کے بعد سوانح حیات قلم بند کرتے ہیں۔ اکثر لوگ جو جیل میں جیل میں وقت گزار تے ہیں وہ بھی اپنی مصروفیات اپنی آپ بیتی لکھنے میں صرف کرتے ہیں اور ایسی متعدد سوانح عمرایاں سامنے بھی آئیں۔ آپ بیتیاں میں جو ادب ہوتا ہے وہ حق اور سچ اور دلچسپ بھی۔ کہا جاتا ہے کہ نوجوان بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر ان کے والد نے بیٹے کو نپولین کی سوانح عمری بھجوائی تھی۔ اندازہ ہوتا ہے کہ سوانح عمریاں کتنی اہم ہوتی ہیں۔
پیش نظر سوانح عمری”ہاں، میں انکاری ہوں“ اردو ادب میں قیمتی اضافہ ہے۔ یہ تصنیف قانون اورعدل و انصاف سے وابستہ رہنے والے سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج ڈاکٹر ظفر احمد خان شروانی کی پیشہ ورانہ زندگی کے تجربات و مشاہدات، محسوسات اور نظریات کی ایک مربوط اور دلکش یادوں ا ور واقعات کا دلکش مرقعہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب موصوف کی آپ بیتی یا خود نوشت سوانح عمری بھی کہا جاسکتا ہے۔ مصنف نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کی یادوں کو بنیاد بنا یا ہے۔ بقول مشفق خواجہ ’خود نوشت کا اصل مقصد انکشاف ِذات ہے لیکن سماجی قیود مفرضات اسے پردہئ ذات بنادیتے ہیں اسی لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اپنے آپ کو چھپانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ خودنوشت سوانح عمری لکھ دی جائے“۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈاکٹر شروانی اپنی آپ بیتی جسے انہوں نے زندگی کی یادیں کہا ہے صرف پیشہ ورانہ زندگی کی یادوں تک محدود ہے یا انہوں نے زندگی کے بارے میں کچھ اور بھی عیاں کرنے کی کوشش کی ہے۔
یہ تصنیف مجھے میرے ادبی دوست مرتضیٰ شریف نے دی، اس خواہش کے ساتھ کہ میں اس پر اظہاریہ تحریر کروں۔ کتاب کئی دن خاموش، گم صم میرے انتظار میں تھی کہ میں کب اسے اٹھاتا ہوں، اسے پیار کرتا ہوں، محبت سے اس پر اپنا ہاتھ پھیرتا ہوں، اس کے صفحات کی بھینی بھینی خوشبو دار ہوا سے اپنے چہرہ کو شاداب کرتا ہوں۔ آخر مرتضیٰ شریف صاحب کا پیغام آگیا کہ کتاب واپس کردی جائے، حالانکہ میں نے رمضان المبارک میں صرف سلسلہ ’رمضان اور قرآن‘ کے حوالہ سے ہی مصروف رہنے کاارادہ کیا تھا لیکن دوست کی دوستی بھی اہم ہوتی ہے۔ چنانچہ 8رمضان المبارک کو قبلہ شروانی صاحب کی خود نوشت سے یہ معلوم کرنے بیٹھ گیا کہ آخر وہ کیوں انکاری ہیں؟ کتاب کا آغاز شاہ محی الحق فاروقی اکیڈمی و لائبریری کے روح رواں جناب تسنیم الحق فاروقی کی تحریر ’آپ بیتی کی آپ بیتی‘ سے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کو اپنی یادداشتیں قلم بند کرنے کی ترغیب قبلہ تسنیم فاروقی صاحب نے دی اور ڈاکٹر صاحب موصوف نے اس پر عمل بھی کیا۔ تسنیم فاروقی صاحب بھی قابل تحسین ہیں کہ انہوں نے نہایت بھلا مشورہ دے کر ڈھیروں نیکیاں بھی کمائیں، ساتھ ہی سوانحی ادب میں گراں قدر اضافہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ڈاکٹر صاحب موصوف اپنے بہنوئی جناب رفیع مصطفی کے ہمراہ اکیڈمی میں تشریف لائے تھے۔ ان کی کتاب ”اے تحیرِ عشق (نہ جنوں رہا، نہ پری رہی) پر گفتگو ریکارڈ کرانے۔ یہ کتاب در اصل رفیع مصطفیٰ صاحب کا ناول ہے، کچھ ہی دن ہوئے ہم اس ناول پر طویل تبصرہ تحریر کرچکے ہیں۔ تسنیم فاروقی صاحب کی تحریر سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ یہ سوانح عمری پہلے ریکارڈ ہوئی اس کے بعد اس نے کتابی صورت اختیار کی۔ عام طور پر ایسا کم ہوتا ہے پہلے کتاب یا مسودہ لکھا جاتا ہے پھر ویڈیویا آڈیو تیار ہوتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی ان یادداشتوں کی ویڈیو اکیڈمی کے یوٹیوب چینل پر 24اقساط میں موجود ہے۔چند دن ہوئے مجھے بھی تسنیم فاروقی صاحب جو سلیم فاروقی صاحب کے بڑے بھائی ہیں کی دعوت پر ایک ادبی تقریب میں شاہ محی الحق فاروقی اکیڈمی و لائبریری جانے اور تسنیم فاروقی صاحب سے پہلی ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ سلیم فاروقی صاحب سے تو کافی عرصہ سے راہ و رسم چلے آرہے ہیں۔اکیڈمی کی لائبریری کیا خوب ہے وسیع ہال چاروں جانب دیدہ زیب الماریاں اور ان میں نایاب اور قیمتی کتابوں کا ذخیرہ، دل باغ باغ ہوگیا۔ تسنیم فارقی صاحب نے اپنے والد کی اس علمی و ادبی یادگار کو خوبصورت طریقے سے اور نہ صرف محفوظ کیا ہوا ہے بلکہ اسے مزید بہتر بنانے میں مصروف عمل ہیں۔
ڈاکٹر شروانی نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بطور جج خدمات سرانجام دینے کا آغاز 1978ء میں کیا، 2007ء میں ہائی کورٹ سندھ کے جج مقرر ہوئے۔ ڈاکٹر شروانی ان ججومیں سے ہیں جنہوں پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکارکردیا تھا، پھر تحریک کے نتیجے میں نکالے گئے جج بحال ہوئے لیکن ڈاکٹر شروانی کو بحال نہ کیا گیا۔ بقول جسٹس حاذق الخیری ’شروانی زندگی کے مشکل مراحل سے گزرے اور جم کر حالات کا مقابلہ کیا‘۔الطاف حسن قریشی نے ’عظمتِ افکارسے مرصع خودنوشت‘ کے تحت لکھا ”ڈاکٹر شروانی نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے چیدہ چیدہ واقعات بڑے شگفتہ انداز میں تحریر کیے ہیں جن میں گہرے مشاہدات کا نچوڑ بھی ہے، متنوع تجربات کی دمکتی کہکشاں بھی ہے اور حیرت انگیز انکشافات کا یک بیش قیمت خزینہ بھی“۔محمود شام نے لکھا ”جراَت انکار کی روایت بہت قدیم ہے لیکن بہت سے انکاری اپنی انا پرستی اور مصلحتوں سے اپنے انکار کی آبرو بھی کھو دیتے ہیں۔ مزید لکھتے ہیں کہ ’ان کی وکالت اور عدالت میں کانٹوں بھرے راستے آتے رہے ہیں، لیکن انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ وقت کے فرعون بھی ان کے سامنے ملزم کی حیثیت سے پیش ہوئے تو انہوں نے ان سے ملزموں جیسا برتاؤ ہی کیا“۔ کتاب پرمعروف وکیل حامد خان نے بھی اظہار خیال کیا ہے۔ ایڈووکیٹ منیر اے ملک کا کہنا ہے کہ”ڈاکٹر شروانی اس کتاب میں قاری کو اپنے ماضی اور اس کی اصلیت سے متعارف کراتے ہیں“۔معروف وکیل رشید رضوی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر شروانی کی کتاب ان کی آپ بیتی بھی ہے اور اس کے ایک قابل ذکر حصے کا تعلق جگ بیتی سے بھی ہے“۔ احباب ِ محترم کی آرا کے بعد یہ بات روز روشن کی مانند عیاں ہوجاتی ہے کہ ڈاکٹر شروانی کی یہ خونوشت ان کی زندگی کے ایک خاص اور اہم حصہ کو زیادہ نمایاں کرتی ہے اور یہ کہ وہ ایک خود دار، اصولوں پر سختی سے کاربند رہنے والے، سچ کو سچ اور غلط کو غلط بانگ دہل کہنے والے انسان ہیں، جب یہ خصوصیات ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں تو لیاقت آباد کا پانی جس نے پیا ہو وہ نڈر اور دلیر کیسے نہیں ہوگا۔
آپ بیتی کا آغاز ڈمصنف کے خاندانی نام ’شروانی‘ کے ’شیروانی‘ کے فرق کی وضاحت سے ہوتا ہے۔ عام طور پر احباب ’شروانی‘ کو ’شیروانی‘ اور’شیروانی‘کو ’شروانی‘ کردیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح کہ جیسے میرا خاندانی نام ’صمدانی‘ ہے اور کسی خاندان کا ’ہمدانی‘ خاندانی نام ہے اکثر احباب جو ہمدانی ہیں وہ معروف بھی ہیں۔ مجھے اکثر احباب ہمدانی لکھ دیتے ہیں۔ حالانکہ دونوں میں ایسا ہی فرق ہے جس طرح شروانی اور شیروانی میں۔ شروانی کی وضاحت کے بعد ہندوستان سے پاکستان ہجرت کی مختصر داستان ہے، والد محنتی ایماندار تھے، ملازمت کی، ڈبل ٹیکر بسیں کراچی میں مشہور تھیں اسی خاندان کے احباب نے مل کر شروع کیں، اسی طرح شروانی موٹرز کا تعلق بھی اسی خاندان کے افراد سے تھا۔ ناظم آباد نمبر 2کے سرکاری اسکول میں داخل ہوئے،ڈاکٹر صاحب نے لکھا کہ’انہوں نے لیاقت آباد سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اُس زمانے کا ہمارا ایک ساتھی بڑانام ور سیاست داں بنا‘، یہاں ڈاکٹر صاحب اس نامور شخص کانام چھپا گئے، لیاقت آباد نے تو بے شمار نامور سیاست دانوں کو جنم دیا، بے شمارلوگوں کو نامور کیا۔ اپنے خاندان کی تفصیل بیان کی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی اپنے بڑے بھائی سے بہت زیادہ مشابہت تھی جو فوج میں چلے گئے تھے۔ مشابہت کے حوالے سے کئی دلچسپ واقعات کتاب کا حصہ ہیں۔
ڈاکٹرشروانی کی اس خود نوشت کا حاصل مطالعہ ڈاکٹر صاحب نے از خود تحریر فرمادیا ہے لکھتے ہیں ”2007ء میں مجھ پر سرکاری اہلکاروں سمیت ساری دنیا کے پریشر تھے، لیکن میں نے حلف نہیں اٹھایا۔ میڈیا کے ذریعے خبر آشکار ہوئی تو دوسرے روز جسٹس افتخار چوہدری کا فون آیا۔ اس وقت مجھے ہائی کورٹ کا جج مقرر ہوئے محض دو ماہ ہی ہوئے تھے۔ ہائی کورٹ کا جج مقرر ہونا، یقینا ایک معراج ہوتی ہے، جو برسوں کی طویل محبت کے بعد ملتی ہے۔ چیف جسٹس صاحب نے کہا ”شروانی! تم نے بڑا کام کردیاہے“۔ میں نے کہا“ جناب! بڑاکام تو آپ کہہ رہے ہیں، میرے نزدیک تو اس عمل کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے، کیونکہ تیس سال قبل جب میں سول جج مقرر ہوا تھا، تو میں نے اُسی وقت یہ فیصلہ کرلیا تھااگر کبھی ضمیر اور نوکری میں سے کسی ایک چیز کو بچانے کا مرحلہ درپیش ہوگا، تو میں ضمیر بچاؤں گا۔ اس فیصلے میں تو مجھے اتنی دیر بھی نہیں لگی، جتنی قابل ضمانت کیس میں ضمانت منظور کرنے میں لگتی ہے۔کیوں کہ اللہ قرآن میں فرماتا ہے کہ ”تمہارے وعدوں کے بارے میں تم سے سوال ہوگا“۔ تو جناب یہ ہیں ڈاکٹرظفر احمد خان شروانی، ان کا ضمیر اور ان کی سوانح حیات ”ہاں، میں انکاری ہوں!“۔ پیش نظر تصنیف سے آگاہی ہوئی کہ ڈاکٹر شروانی کے خاندان کے اکثر احباب درس و تدریس سے تعلق رکھتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب از خود ویزیٹنگ پروفیسر بھی رہے۔ ڈاکٹر صاحب کے گھر کے تمام ہی احباب مطالعہ کے شوقین تھے، گویا کتاب ان کے گھر کا لازمی جذ تھی۔ بچوں کے رسائل، اردو ڈائجسٹ، ابن صفی کے جاسوسی ناول، سعادت حسن منٹوکے علاوہ دیگر مصنفین کو پڑھا۔ شاعری سے شغف رکھتے تھے، نیلام گھر شوق سے دیکھا کرتے تھے، شروانی صاحب نے بڑے بھائی نے آرمی جوائن کر لی لیکن انہوں نے ایس ایم لاء کالج سے ایل ایل بی کرنے کے بعد پریکٹس کا آغاز کیا۔ اپنی سوانح میں وکیل اور پھر جج کی حیثیت سے جو واقعات اچھے اوربرے ناقابل فراموش واقعات سچائی کے ساتھ بیان کردے ہیں۔ ڈاکٹر شروانی اپنی عدالتی زندگی میں کئی معروف کیسیز سنتے رہے ہیں ان میں سے ایک مرتضیٰ بھٹو قتل کیس بھی تھا۔ شروانی صاحب نے کیس کو تیزی سے چلانے کی کوشش کی تو قبلہ آصف علی زرداری صاحب کو یہ شک گزرا کہ شروانی صاحب کسی سازش کے تحت انہیں سزائے موت دینا چاہتے ہیں۔ زرداری صاحب کا کیس ابھی مراحل میں ہی تھا کہ ان کا تبادلہ کراچی سے حیدرآباد کردیا گیا۔ کہتے ہیں نا کہ ’نا رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری‘، قصہ ہی ختم ہوا۔ شروانی صاحب نے ایک سے زیادہ کیسز زرداری صاحب کے سنے، زرداری صاحب کو شروانی صاحب پسند نہیں تھے اس لیے ان کے ٹرنسفر ہوتے رہے۔ عدلیہ بحالی تحریک کی تفصیل کتاب کا حصہ ہے۔
ڈاکٹر شروانی نے ”ایک نئی صبح اور زندگی کی نئی جہت“ کے تحت اپنی عمر کا راز افشاں کیا کہ وہ 13مارچ2010ء کو ساٹھ برس کے ہوئے اور سرکاری ملازمت سے فارغ ہوگئے۔ ڈاکٹر شروانی اور میرا اسٹار ایک ہی ہے۔ وہ مجھ سے ایک سال چھوٹے ہوئے اس لیے کہ میں اسی ماہ کی 25کو 2009ء میں ریٹائر ہوا تھا۔ انہوں نے 31سال سرکار کی ملازمت کی اور میں 33سال ملازمت کر کے ریٹائر ہوا۔ شروانی صاحب نے ریٹائرمنٹ کے بعد مختلف جگہ خدمات انجام دیں۔ عدالتوں کی بہتری کے لیے بہت سے تجاویز دیں، لیکن کون سنتا ہے آنے والے اپنے آپ کو عقل کل تصور کرتے ہیں۔ لیکن ہمار ا کام اچھائی کی ترغیب دینا، اچھائی کو عام کرنے کے لیے جہد مسلسل کرتے رہنا ہے۔ ڈاکٹر شروانی کی پیش نظر تصنیف ان کی مکمل سوانح نہیں اس میں ان کی زندگی کے زیادہ تر وہ پہلو قلم بند ہوئے ہیں جن کا تعلق ان کے پیشے سے رہا۔ عدالت اس کتاب کا کلیدی موضوع بنتا ہے۔ ڈاکٹر شروانی کی زندگی کے بے شمار گوشے ابھی ایسے ہیں جن پر ایک اور سوانح لکھی جاسکتی ہے۔ مجموعی طور پر کتاب میں ہیر پھیر، مشکل الفاظ اور مشکل جملوں سے اجتناب کیا گیا ہے۔ بہت ہی آسان زبان اور سہل انداز سے واقعات کو تسلسل کے ساتھ بیان کردیا ہے۔ کیونکہ گفتگو ہوئی اس موضوع پر، وہ گفتگو ویڈیو بنی اور پھر اس ویڈیو سے گفتگو کو کتاب کی صورت منتقل کیا گیا۔ اس کے سادہ اور سلیس ہونے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے۔ اس لیے کہ جب ہم لکھنے بیٹھتے ہیں تو ذہن میں الفاظ اور جملوں کی بناوٹ کو شعوری اور لاشعوری طور پر خوبصورت بنانے کے لیے مشکل الفاظ کا سہارا لیتے ہیں۔ جب کہ گفتگو میں عام طور پر سادہ الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ فوری طور پر جو لفظ ذہن میں آیا ادائیگی کردی جاتی ہے۔ مجموعی طور پر کتاب اپنے موضوع پر ایک عمدہ کوشش اور دلچسپ ہے۔(21اپریل 2021)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 768 Articles with 666022 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
20 Apr, 2021 Views: 355

Comments

آپ کی رائے