یوم فرقان 17 رمضان

(Hafsa Saqi, Islamabad)

اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں
مگر تیرے تخیّل سے فزوں تر ہے وہ نظّارا
۲ ھجری ۸ یا دس رمضان کو شاہ امم ۳۱۳ سر بکف مجاھدین کو لے کرمدینہ سے بدر کے لیےہ نکلے۔ بے سرو سامانی کا یہ عالم تھا کہ ساتھ صرف دو گھوڑے اور ستر اونٹ تھے۔ جنگ بدر میں اصحاب بدر کی تعداد بھی تین سو دس سے اوپر، کچھ اوپر تھی، جتنی ان اصحاب طالوت کی تعداد تھی جنہوں نے ان کے ساتھ نہر فلسطین پار کی تھی اور اسے پار کرنے والے صرف ایماندار ہی تھے۔ بخاری 3959
موت و حیاة کے اس معرکہ کیلیے نکلنے سے پہلے سپہ سالارِ صحابہ نے اپنے لشکرِ عاشقان سے پوچھا کیآ ہمیں نکلنا چاہئے تو سعد بن عبادہ ںے فرمایا اے اللہ کے نبی ہم بیعت عقبہ پر قائم ہیں ، آپ کی نصرت میں ہمیں روم سے ٹکرانا پڑے تو ہم دریغ نہیں کریں گے۔ بلاشبہ یہ ان کی صداقت کا ثبوت ہے۔ ان کے دامن عشق الہی سے مامور تھے۔ انکا کل متاع وحدانیت اور رسالت پر پختا ایمان تھا۔
جب یہ سر فرواشاں کا لشکر بدر کے قریب پہنچا تو معلوم ہوا کہ ابو سفیان اپنا قافلہ لے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو چکا اور ٹیلے کے پیچھے ابو جہل ایک ہزار خونخواروں کا لشکر ضرار لے کر بیٹھا ہے۔ ایک بچے سے ان کی تعداد معلوم کی تو اس نے کہا تعداد تو معلوم نہیں مگر وہ ایک ایک دن میں دس اونٹ ذبح کرتے ہیں اور یہاں یہ غریب کل ستر اونٹوں لیے بیٹھے تھے۔
حضور اکرم صلی اللہ وسلم نے مدبر قائد ہونے کے ناطے ااپنے سپاہ سے پھر پوچھا تو سعد بن معاز انصاری صحابی نے کہا اے اللہ کے رسول ! اگر آپ حکم دیں تو ہم سمندروں میں اتر جائیں ۔ ہم آپ سے یہ نہیں کہیں گے جو بنی اسرائیل نے موسی سے کہا تھا کہ اذھب انت و ربک فقاتلا انا ھا ھنا قاعدون ، ہم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح نصرت دین کی خاطر لڑیں گے۔
یہ ولولہ ایکھ کر نبی کریم صلی اللہ وسلم مسکرانے لگے اور فرمایا! سیروا و ابشروا ۔۔۔۔۔ واللہ کافی انظر الے مصارع القوم۔
خوش ہو جاو اور تیار ہو جاؤ اللہ کافی ہے میں اس قوم کا موت کا گھاٹ دیکھ رہا ہوں ۔
پھر اللہ کے نبی نے بارگاہ الہی میں مناجات کیں ۔ اے اللہ یہ مٹھی بھر جماعت لے آیا ہوں ۔اے اللہ! میں تیرے عہد اور تیرے وعدے کا واسطہ دے کر فریاد کرتا ہوں۔ اے اللہ! اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ بخاری 2915
پیغمبر رو رو کہ کہہ رہے تھے صحابہ میری دولت میری متاع میری کمائی میری جمع پونجی ہیں۔ حفیظ جالندھری نے اسکا نقشہ ایسے کھینچا۔
یہ پہلا لشکر تھا دنیا میں افواج الہی کا
جسے اعلان کرنا تھا خدا کی بادشاہی کا
یہ لشکر ساری دنیا سے انوکھا تھا نرالا تھا
کہ اس لشکر کا افسر ایک کالی کملی والا تھا۔
آج
خدائی طاقت کا مقابلہ شیطانی قوتوں سے تھا ۔ ادھر نفوس قدسیہ ادھر بتوں کی نجاستوں میں گدلے لوگ! ادھر حق اور ادھر باطل جبھی اللہ نے اسے یوم فرقان قرار دیا۔
اللہ نے اپنے نبی کی مناجات کو قبولیت کا شرف بخشا اور تین انعامات فرمائے
پہلا یہ کہ بارش برسآئی اور مومنین کو سیراب فرمایا چونکہ پڑاؤ میں نکاس آب کو کوئی انتظام نا تھا۔
دوسرا اللہ نے خواب میں مشرکین کو تھوڑا کر کے دکھایا .اور، کفار کے خواب میں مسلمانوں کو دو چند کر کے دکھایا تاکہ مومنین کے دلوں پر سکینت نازل کرے اور کفار کے دلوں پر رعب قائم کریں۔ یہاں
تک کہ عتبہ بن ربیع منتیں کرنے لگا کہ واپس چلو محمد اور اسکے غلاموں کے ہاتھوں اپنی قبریں نا بنواؤ۔
اور تیسرا یہ کہ فرشتے نازل کیے ہزاروں کی تعداد میں تاکہ حجت تمام ہو حق باطل پر غالب آئے۔ بعض صحابہ نے اپنی آنکھوں سے سفید رنگ کے گھوڑوں پر سفید لباس میں ملبوس چمکتے چہروں والے نورانی فرشتے دیکھے جن کی گردنوں پر آگ کے داغے جانے جیسا نشان تھا۔
میسرہ پر حضرت علی لیڈر تھے انکی نصرت یو اسرافیل آئے اور میمنہ پر ابو بکر صدیق کی نصرت کو میکائیل آئے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سرخ گھوڑے پر جبرائیل کھڑے تھے۔
اگلے دن گھمسان کا رن پڑا، حضرت حمزہ کفار کی رفیں چیر کر نکل گئے ، علی رضی اللہ نے شیبہ اور ولیدکو حمزہ نے ٹھکانے لاگایا، عتبہ عبید اللہ بن حارث کے قابو نہیں آ ر ہا تھا کہ حمزہ اور علی رض اپنے شکار سے فارغ ہو کر اس پر لپک پڑے اور جہنم واصل کیا۔ معاذ بن عمرو نے ابو جہل کا کام تمام کیا ۔
غرض ان نفوس قدسیہ نے ان کی سابقہ چیرہ دستی کا منہ توڑ جواب ایا اور اس لشکر خبیثہ کی کمر توڑ دی۔ بڑے بڑے روسائے قریش کی بے گور لاشے آج فرعون کے انجام کو دھرا رہی تھیں۔
ایک دفعہ رسول اللہ نے بددعا کی تھی ، یا اللہ قریش پر عذاب نازل کر۔“ پھر نام لے کر کہا یا اللہ! عمرو بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف، عقبہ بن ابی معیط اور عمارہ ابن ولید کو ہلاک کر۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ کی قسم! میں نے ان سب کو بدر کی لڑائی میں مقتول پایا۔ پھر انہیں گھسیٹ کر بدر کے کنویں میں پھینک دیا گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنویں والے اللہ کی رحمت سے دور کر دئیے گئے۔ بخاری ۵۵۰

سو اللہ کے سپاہیوں نے اللہ کی بادشاہی کا اعلان کیا اور چودہ اصحاب انبی نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔ اور
اللہ نے اپنا وعدہ پورا کیا
اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم بالکل بے سرو سامان تھے تو اللہ سے ڈرو کہ کہیں تم شکر گزار ہو
ال عمران 123
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafsa Saqi

Read More Articles by Hafsa Saqi: 31 Articles with 10827 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 May, 2021 Views: 106

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ