فلسطينیوں پر ظلم کی انتہا اور پاکستان کے مذمت کے دو بول۔

(Shazia Hameed, Karachi ( younasabad) .)

فلسطین دراصل اس علاقے کا پرانا نام ہے جو موجودہ اردن لبنان اور اسرائیل پر مشتمل ہے ۔ جنگ عظیم اول کے بعد جب سلطنت ختم ہوگی تو اس کے حصے مغربی یورپ کے ملکوں خصوصاً برطانیہ اور فرانس کی تحویل میں آئے ۔ فلسطین کا ایک حصہ لبنان فرانس کے زیر حصہ لائیں اور دوسرے حصے اردن اور فلسطین پر تھانے کی تحویل میں دیے گئے 2007 میں حزب اللہ کے گوریلوں اور اسرائیل کے درمیان لبنان میں جنگ ہوئی جس میں حزب اللہ کے گوریلوں نے اسرائیل کو شکست دی اور اس کا غرور خاک میں ملادیا ۔1969 میں یہودیوں نے بیت المقدس میں مسجد اقصی کو آگ لگا دی اور رمضان المبارک میں بھی انہوں نے جمعۃ الوداع کے موقع پر مسجد اقصی جب لوگ نماز کے لیے جمع تھے تو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے بہت سے مسلمانوں کی جان لے لی ان کا ظلم و ستم روز بروز بڑھتا جا رہا ہے عیدپر فلسطینی شہید ہوتےرہے ہیں اور وہ اس امید پر روزانہ صبح کرتے ہیں کہ آج ہماری کوئی مدد کرے گا لیکن مسلم ممالک پاکستان اور دیگر ممالک جنہوں نے فلسطین کے اوپر ہونے والے ظلم کے بارے میں بس باتوں سے مذمت کے الفاظ کہہ کر اپنی آنکھیں بند کر لی ہیں ۔کیا سچ میں ہم کشمیر کے ساتھ ہیں نہیں بلکل نہیں ہم صرف کہنے کی حد تک کشمیر اور فلسطين کے ساتھ ہیں اور آج تک ہم نے ان کے لیے کچھ نہیں کیا ۔حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ "رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا سب مسلمان ایک جسم واحد کی طرح ہیں۔ اگر اس کی آنکھ دُکھے تو اس کا سارا جسم دُکھ محسوس کرتا ہے اور اسی طرح اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو بھی سارا جسم تکلیف میں شریک ہوتا ہے" (صحیح مسلم) . آج ہم مسلمانوں کو کیا ہوگیا ہے ہم میں انسانیت نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہمارے مسلمان بھائی بے دردی سے شہید کیے جا رہے ہیں وه صرف اس بات پر شہید کیا جا رہے ہیں کہ وہ ایک اللہ کو ماننے والے ہیں ۔آج ہم مسلمان اتنے پتھر دل کیسے ہو گئے ہیں ہم فلسطین میں جاکر تو اسرائیلیوں سے نہیں لڑ سکتے لیکن ہم سے جتنا ہو سکتا ہے ہمیں اپنا حق ادا کرنا چاہیے ۔

اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا بھی صرف کہنے تک ہی ہے ۔ اس کے بعد بات لوگ بھول گئے اور سمجھنے لگے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اسرائیلیوں کی مصنوعات پر پابندی لگائے تاکہ پاکستان میں ان کی فروخت بند کی جا سکے۔ اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔تمام سیاستدان بھی دو الفاظ مذمت کے کہہ کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے ۔سب ممالک نے فلسطین سے آنکھیں پھیر لیں اور بہت سے ممالک تو اس کے ساتھ ہاتھ ملانے کی سوچ رہے ہیں امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے بھی ان کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے اقوام متحدہ اور او آئی سی بھی فلسطینی مسلمانوں کے حق میں کچھ اقدام نہ کر سکيں ۔ انتہائی تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ سلطنت عثمانیہ کو ختم کروانے میں نام نہاد مسلم امہ نے غیر مسلم قوتوں کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ مسلم امہ نہ توکبھی متحد تھی اور نہ ہی ان کے متحد ہونے کی کوئی امید نظر آرہی ہے۔ کیونکہ ہر ملک کے اپنے اپنے مالی، علاقائی، تجاری اور سفارتی مفادات ہیں اور بہت سے مسلم ممالک غیر مسلم ممالک اور انکے مالی اداروں کے چنگل میں جکڑے ہوئے ہیں۔ گھروں سے ریلی نکالنے سے اپنے ملک کا ہی نقصان ہے لوگ اپنا فرض ادا کرنے کے لیے اپنے گھروں سے نکل رہے ہیں اور سڑکوں پر ریلیاں نکال رہے ہیں جس سے ہمارے ملک میں کرونا جو کے پہلے ہی بہت سے لوگ جان لے چکا ہے اور زیادہ پھیل رہا ہے۔ ہمیں ان تمام حرکتوں سے باز رہنا چاہیے اور اگر ہم اپنا فرض ادا کرنا ہی ہے تو سب سے پہلے ہميں تمام فرقے چھوڑ کر متحد ہونا ہوگا ۔ تب ہی ہم یقینا ایک طاقتور قوم بن سکتے ہیں اور اپنی برادران ممالک کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں دوسرے ممالک کی مدد کرنے سے پہلے ہمیں اپنے اپنے ملک کی مدد کرنی ہوگی ۔ مسئلہ کشمیر ہو یا مسئلہ فلسطین سالوں سے یہ مسئلہ چلے آ رہے ہيں ۔ان کو کوئی جماعت نہ کوئی ملک کوئی بھی اب تک حل نہ کر سکا ۔ بہت سے ترقی یافتہ اور طاقتور ممالک کسی نے بھی ان کیلئے آواز نہیں اٹھائی۔ امریکہ بھی ظلم کو خاموشی سے دیکھ رہا ہے ۔بلکے مظلوم کا ساتھ دینے کے بجائے ظالم کا ساتھ دے رہا ہے ۔میرے نزدیک طاقتور میں ملک وہی ہے جو دوسرے ملک پر ہونے والے ظلم کو روکے اور ظلم کرنے والے ککے خلاف آواز بلند کرے ۔ امریکہ ملک ہمارا کھلا دشمن ہے ۔آخیر میں دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ اﷲ کریم نام نہاد مسلم امہ کو متحد ہونے ، غیرت اسلامی اورجذبہ جہاد کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے مسلمان بھائیوں کو ظلم و ستم سیے نجات دلا دے ۔آمین ثم آمین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shazia Hameed

Read More Articles by Shazia Hameed: 13 Articles with 4558 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Jun, 2021 Views: 210

Comments

آپ کی رائے