قربانی

(Mir Afsar Aman, Islamabad)

’’ہر امّت کے لئے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کر دیا ہے تا کہ( اُس امّت )کے لوگ اُن جانوروں پر اﷲ کا نام لیں جو اُس نے اِنکو بخشے ہیں‘‘ ( ا لحج ۳۴)اﷲ نے جانوروں کو انسانوں کے لئے مسخر کر دیا یعنی بے زبان کر دیا۔اﷲ کو ان کی قربانی کا گوشت پہنچتا ہے نہ خون پہنچتا، بلکہ اﷲ کو صرف انسان کا تقویٰ پہنچتا ہے۔

سب سے بڑی قربانی دینے والے حضرت ا برہیم ؑ دنیا کے امام
ابرہیم ؑ پر اﷲ کی طرف سے عالمگیر دعوت کی ذمہ داری تھی۔ عر ا ق میں اُر کے مقام سے قاہرہ ، شام، مکہ،فلسطین جبُرون عرب کے ملکوں تک سفر کیا ۔ حضرت ابراہیم ؑ اورحضرت اسماعیل ؑ مکہ میں، حضرت اسخاق ؑ ؑفلسطین میں اور حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے حضرت لوط ؑ سدوم میں حضرت ابراہیم ؑ کی ہدایت کے مطابق اﷲ کے دین کے لیےٗ کام کرتے رہے ۔ اﷲ کی آزمائشوں میں ابراہیم ؑ پور ے اُُترے ۔نمرود سے مباحثہ کیا۔ اﷲ نے ابرہیم ؑکودنیا کا امام بنایا۔

ابرہیم ؑ کی دعا
ابرہیم ؑ نے اﷲ سے دعُا مانگی اے پروردگار مجھے ایک بیٹا عطا کر جو صالحوں میں سے ہو۔اُ س د ُعا کے بدلے میں اﷲ نے اُس کو ا یک حلیم برُدبار لڑکے کی بشارت دی۔اورحضرت اسماعیل ؑ پیدا ہوئے۔ ’’ وہ لڑکا جب اِس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچا گیا تو ابرہیم ؑ نے اس سے کہا، بیٹا میں نے خواب دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر ہا ہوں اب تو بتا تیرا کیا خیال ہے۔ اس نے کہا ابّا جان جو کچھ آپ کو حکم دیاجارہا ہے کر ڈالیے آپ مجھے صابروں میں پائیں گے۔ آخر میں ان دونوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور ابرہیم ؑ اپنے بیٹے کو ماتھے کے بَل گرِ ا دیا۔ اور ہم نے ندا دِی کہ اَے ابرہیم ؑتُو نے خواب سچ کر دکھایا ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔یقینا یہ ایک کھلی آزمائش تھی۔ اور ہم نے ایک بڑی قربانی فد یے میں دے کر اِس بچے کو چھڑا لیا۔ اوراُسکی تعریف اور توصیف ہمیشہ کے لیے بعد کی نسلوں میں چھوڑڈی‘‘( ا لصفٰت آیت۱۰۱ تا۱۰۸)۔ سلام ہے ابراہیم ؑپر۔ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا اور ہم نے اُسے اسخاق ؑ کی بشارت دی ۔ایک بنی صالحین میں سے ۔ اسے اور اسخاق ؑ کو برکت دی اَب اُن دونوں کی ذرےّت میں سے کوئی محسن ہے اور کوئی اپنے نفس پر صریح ظلم کرنے والا ۔

حضرت ابرہیم ؑ کا اپنے باپ اور شرک سے انکار
’’اور اس کتاب میں ابراہیم ؑ کا قصّہ بیان کرو، بے شک ہو ایک راست باز انسان اور ایک نبی تھا جبکہ اس نے اپنے باپ سے کہاکہ اباّ جان آ پ کیوں اُن چیزون کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کا کوئی کام بنا سکتی ہیں؟ آباّ جان میرے پاس ایک ایساعلم آیا ہے جو آ پ کے پاس نہیں آیا۔آپ میرے پیچھے چلیں میں آپ کو سیدھا راستہ بتاوٗں گا۔ آبّا جان آپ شیطان کی بندگی نہ کریں، شیطان تو رحمان کا نافرمان ہے۔ آبا جان ،مجھے ڈر ہے کیں آپ رحمان کے عذاب میں مبتلانہ ہو جائیں اور شیطان کے ساتھی بن کے رہیں باپ نے کہا ابراہیم ؑ کیا تُو میرے معبودوں سے پھر گیا ہے ؟ اگر باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا ۔بس تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے ا لگ ہو جا ۔ ابراہیم ؑ نے کہا سلام ہے آپ کو ۔میں اپنے ربّ سے دُعا کروں گا کہ آپ کو معاف کر دے۔میرا ربّ مجھ پر بڑا مہربان ہے۔میں آپ لوگوں کو بھی چھوڑتا ہوں اوراُن ہستیوں کو بھی، جنہیں آپ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہو۔ میں تو اپنے ربّ کو پکاروں گا اُمید ہے میں اپنے ربّ کو پکار کرنامراد نہ رہوں گا۔پس جب وہ اُن لوگوں سے اور اُنکے معبودوںِغیر اﷲ سے ُجدا ہو گیا تو ہم نے اُس کو اسخاق ؑ اور یعقوب ؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو بنی بنایا اور اِن کو اپنی رحمت سے نوازا اور اِن کو سچی نام وَری عطا کی‘‘ ۔( مریم۴۱ تا ۵۰) ابراہیم ؑ بتوں سے نالاں تھے۔ اسلام کے بارے میں اپنے باپ سے نالاں تھے۔قوم سے بتوں کے معاملے میں مناظرہ کیا۔ نمرود بادشاہ وقت سے مناظرہ کیا۔

خانہ کعبہ کی بنیاد
خانہ کعبہ کی بنیاد رکھی اور قربانی کی۔آج تک لاکھوں مسلمان حج کے موقعہ پر قربانی کرتے ہیں سنت ابراہیمی ؑ پر عمل کرتے ہیں اور رہتی دنیا تک سنت ابراہیمی پر عمل ہوتا رہے گا ۔یہ ہے احسان ربّ کی طرف سے اپنے نیک بندوں پر۔حدیث میں آتا ہے ،براد بن عازبؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ نے فرمایا سب سے پہلا کام جس سے ہم آج کے روز کی ابتدا کرتے وہ یہ ہے کہ ہم نماز پڑتے ہیں پھر جا کر قربانی کرتے ہیں جس نے اِس پر عمل کیا اُس نے ہمارے طریقے کے مطابق کیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا تو اُس کا شمار قربانی میں نہیں ہے بلکہ وہ ایک گوشت ہے جو اُس نے اپنے گھر والوں کے لیے مہیا کیا دوسری دوسری حدیث میں آتا ہے،حضرت انس بن مالک ؓ کہتے ہیں حضور ؐ دو مینڈوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈوں کی قربانی کرتا ہوں۔ یہ ہے قربانی جو اﷲ کو قبول ہے جو اﷲ اور اَس کے رسول ؐکے حکم کے مطابق ہے


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mir Afsar Aman

Read More Articles by Mir Afsar Aman: 993 Articles with 546836 views »
born in hazro distt attoch punjab pakistan.. View More
31 Jul, 2021 Views: 141

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ