.پاکستان ناگزیر کیوں تھا


مسلمانوں کی جدوجہد سے برصغیر پاک و ہند کی تقسیم ایک خود مختار ریاست اور اعتقادی دولت کی حیثیت سے پاکستان کا قیام ایسا واقعہ ہے جس پر ہمیشہ گفت و شنید جاری رہے گی کہ بین الاقوامی مخالفت کے باوجود یہ کیسے پایہ تکمیل کو پہنچا۔

ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا نام سب سے پہلے 1928 میں ایک کشمیری صحافی غلام حسن شاہ کاظمی نے استعمال کیا۔ انہوں نے ایبٹ آباد سے ’’پاکستان‘‘ کے نام سے ہفتہ روزہ اخبار نکالنے کے لئے ڈیکلریشن کی یہ درخواست یکم جولائی 1928 کو ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کو دی، بعد ازاں یہ اخبار 1938 کو بند ہو گیا۔

برصغیر پر فرنگیوں کے قبضے کے بعد مسلمانان ہند ایسی سخت سیاسی کشمکش میں مبتلا ہوئے کہ دنیا کے کسی حصے میں کوئی دوسری قوم نہیں ہوئی۔ وہ برصغیر میں تنہا ایک قوم نہیں تھے بلکہ ہندو دوسری قوم تھے جو آبادی کے تناسب سے کثیر تعداد میں تھے‘ اور اپنے توہمات اور تعصبات کو ترقی دینے کے لیے بالکل آزاد تھے۔

بات یہیں ہی نہیں رکی انہوں نے ہندوستان پر انگریزوں کا تسلط قائم کرنے میں انگریزوں کی بھرپور مدد کی۔

پاکستان کی ناکامیاں اور پس ماندگی اپنی جگہ، لیکن وقت کے بھنور نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دریائے سندھ کے کنارے آباد کشمیر، فاٹا، گلگت، پنجاب کے پی، بلوچستان، اور سندھ عرصہ دراز سے ایک الگ وحدت کی نظیر رہے ہیں جس کی اپنی تہذیب اپنا تمدّن اور اپنی روایات ہیں۔ انگریز نے اسے ہندوستان میں شامل کر لیا جو دلّی کے تسلط میں رہا۔

پاکستان اپنوں کی سازشوں اور ناقص حکمت عملی کے باوجود ترقی کی راہ پر گامزن ہے، نا صرف مملکت خداداد میں بلکہ دُنیا کے مختلف ممالک میں امن کے قیام کی کوششوں میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام پاکستان کی مسلّح افواج کے دستوں کی شاندار کارکردگی بھی عالمی اُفق پر اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ان محرکات کے سبب پاکستان کا قیام ناگزیر تھا۔

مندرجہ بالا تحریر عیاں کرتی ہے کہ پاکستان کا قیام برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کی طاقت کے لئے بھی لازم تھا۔

ان سات دیہاؤں میں پاکستان کے قائدین کی کارکردگی قابلِ فخر نہیں رہی لیکن خطّے میں تخریب کاری کی فضا، بڑی طاقتوں کی طرف سے جانبدارانہ سوچ اور بھارت کی مسلسل سازشوں کے باوجود پاکستان اپنی جگہ قائم ہے اور عالم اسلام کو متحد رکھنے کے لئے بھی اپنے تئیں کاوشیں کرتا رہا ہے۔

1974 میں لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس کا انعقاد ایک تاریخ ساز قدم تھا۔ پاکستان کو اسلامی دُنیا کی پہلی اور اب تک واحد ایٹمی طاقت ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ عالمگیریت، سرد جنگ کے واقعات، چین کی اُبھرتی ہوئی طاقت، سوویت یونین کے انہدام میں پاکستان کی کلیدی کارکردگی نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان صرف بر صغیر کے مسلمانوں کے لئے ہی نہیں، دُنیا کے لئے بھی ناگزیر تھا۔ موجودہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت نے دُنیا کو تبدیل کرنے میں جو کردار ادا کیا ہے اس سے قائد اعظم کی بصیرت کے جواہر اور زیادہ مسلم ہوجاتے ہیں کہ اگر دُنیا کے اس حساس مقام پر پاکستان کے الگ تشخص کی جگہ متحدہ ہندوستان ہوتا تو یہاں دہلی کی گرفت کمزور ہوتی، خود سر قوتیں زیادہ طاقت ور ہوجاتیں۔

کبھی سوویت روس کو یہاں اپنے منصوبے مکمل کرنے کا موقع ملتا، کبھی برطانیہ، کبھی ریاست ہائے متحدہ امریکہ یہاں جابرانہ قابض ہوتا اور چین کو کبھی موقع نہ ملتا کہ وہ اپنے اس ہمسائے میں اپنے اقتصادی اور سماجی منصوبوں کے بارے میں سوچ سکتا اور سی پیک جیسے منصوبے شروع کرکے وہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کو اقتصادی استحکام دے سکتا۔

پاکستان میں اسلام پر متحد ہونے کے بجائے قومیت کو ہوا دینے کی سازش ہوتی رہی ہے۔ سازشوں کے جال بنے گئے ہیں، سندھی اور بلوچی قومیت کو بھی بنگالی طریقہ کار پر عمل پیرا کرانے کیلئے تگ و دو جاری ہے۔ مگر برابری کے حقوق اور احترام سے ہی اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ قرار داد پاکستان کے تحت مسلمانوں کو ہندوؤں کی پالیسی کے باعث الگ وطن کا مطالبہ کرنا پڑا۔ مورخین نے اس کے کم از کم 8 بڑے عوامل پیش کئے ہیں۔آج قیام پاکستان کی حقیقت سب پر عیاں ہو گئی ہے۔

قائد اعظم کا 11 اکتوبر 1947ء کو کراچی میں مسلح افواج کے افسروں سے خطاب بھی اس بات کی توثیق کرتا ہے جسے یہاں قلم بند کرنا اہم ہے کہ جب بھی قیام پاکستان کے مقاصد کا آپ نے تذکرہ کیا ان میں نظام اسلام کے قیام کو مرکز و محور کے طور پر بیان کیا جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اسلام کے نفاذ کو بطور ایک نظام زندگی سمجھتے تھے۔

قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے جہاں بھی اسلام کے سنہری اصولوں کو اپنی گفتگو کا حصہ بنایا اور اسلام کی دی ہوئی تعلیمات کے نظام کی تشکیل کی بات کی تو اس کے اغراض و مقاصد کو معاشرتی نظام عدل قرار دیا۔

حرفِ آخر یہ ہے کہ آج بھی ایک عملی پاکستان کے قیام کی ضرورت ہے، یہ قوم آج بھی غلام ہے، جس طرح اس وقت آزادی لازمی تھی، آج بھی ضروری ہے۔ کیونکہ یہ وہ پاکستان نہیں ہے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا۔
 

Aruj Salman
About the Author: Aruj Salman Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.