تحریک انصاف اور مہنگائی

(Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore)
جب سے تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے اس دن سے مہنگائی میں دن بدن اضافہ ہی دیکھا گیا ہے بنیادی روزمرہ کی اشیا ء جن میں چینی ،گھی اور آٹا سرفہرست ہیں ان کی قیمتوں میں استحکام نہ آ سکا اس حکومت کے دور میں عوام کو سکھ کا سانس نہ مل سکا لیکن ہمارے حکمرانوں کا کہنا ہے کہ گھبرانا نہیں ،ابھی اور چیخیں نکلیں گی ۔۔۔۔اب مجھے معلوم نہیں کہ عوام کی اور کتنی چیخیں نکالی جائیں گی لیکن مہنگائی نے غریب عوام کو جینا مشکل کر دیا ہے کھانے پینے کی اشیاء تو مہنگی مل ہی رہی ہیں علاج معالجے کے لئے ادویات بھی مہنگی ہو گئی ہیں اب غریب بندہ کھانا کھا لے یا دوا خرید لے ۔۔حکومت کی تین سالہ رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ مہنگائی ضرور ہوئی ہے لیکن آپ نے گھبرانا نہیں ہے اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے کہ عمران خان صاحب عوام کی آخری امید ہیں اگر اب بھی تبدیلی نہ آئی تو پھر کبھی نہیں آ سکے گی لوگوں نے عمران خان کو ملک میں تبدیلی اور عوام کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے لئے ووٹ دیا تھا لیکن ان کی امیدیں بر نہ لائیں ابھی بھی تحریک انصاف کے پاس دو سال ہیں اگر وہ چاہیں تو قیمتوں میں استحکام لا سکتے ہیں لیکن اگر معیشت مظبوط نہ ہوئی تو یہ خواب ہی رہ جائے گا ۔
وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق چینی کی قیمت میں 55% اضافہ ہوا ہے جو کہ بہت زیادہ اضافہ ہے عوام کو چینی مہنگی مل رہی ہے لیکن گنے کے کاشتکار بھی رو رہے ہیں کہ ملیں انہیں صحیح گنے کی قیمت ادا نہیں کرتی اس سارے معاملے کو حکومت کیوں نہیں دیکھتی کہ یہ آخر کیا چل رہا ہے کیا ملک میں گنے کی کاشت کم ہو گئی ہے ،کیا چینی برآمد کر دی جاتی ہے ،کیا چینی کے کارخانوں کے مالک از خود چینی کا بحران پیدا کرتے ہیں تا کہ قیمتیں بڑھائی جائیں یا کچھ اور معاملہ ہے کچھ بھی حکومت کا فرض بنتا ہے کہ جس چیز کی پیداوار ملک میں زیادہ ہے اس کی ثمرات عوام کو کم قیمت میں ملنے چاہیں اسی طرح بیس کلو آٹے کے تھیلے میں بھی 362 روپے کا اضافہ دیکھا گیا ہے آٹا مہنگا ہونے سے تندور کی روٹی بھی مہنگی ہو گئی تندور مالکان نے روٹی کی قیمت کو کئی بار بڑھایا ہے آٹا ہر گھر کی ضرورت ہے اس کو بھی عوام کے لئے سستا کرنے کی ضرورت ہے تا کہ غریبوں کو دو وقت کی روٹی مہیا ہو جائیاگر بنیادی اشیاء ہی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جائے گی تو وہ پھر کیا کھائے گا کرونا کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید میں کمی آئی ہے کیونکہ لوگوں کے روزگار متاثر ہوئے ہیں لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ لوگ امیر ہوئے ہیں کیونکہ ملک میں موٹر سائکلیں بہت بڑی تعداد میں خریدی گئی ہیں اسی طرح دال ماش،دال مونگ،دال مسور اور دال چنا کی قیمتوں میں بھی ہوش ربا اضافہ دیکھا گیا ہے دال غریب اور امیر آدمی کی غذا ہے اسے بھی کم قیمت پر ملنا چاہیئے پہلے گوشت مہنگا ہوتا تھا غریب آدمی گوشت نہیں خرید سکتا تھا وہ دال پر ہی گزارہ کرتا تھا لیکن اب دال بھی اس کی پہنچ سے دور ہو گئی ہے ہمیں بجٹ بناتے وقت غریب لوگوں کو مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے جن کی تعداد ملک میں زیادہ ہے ۔اسی طرح بکرے اور گائے کے گوشت میں بھی بہت اضافہ ہوا ہے دودھ ،دہی بھی مہنگا ہوا ہے جو ہر گھر کی ضرورت ہے اسے بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا گیا ہے مرغی کا گوشت اور انڈے بھی مہنگے ہوئے ہیں یہ بھی لوگوں کی پہنچ سے دور ہیں جہاں لوگ پوری مرغی خریدتے تھے اب مرغی کا گوشت بھی ایک کلو آدھا کلو خریدنے پر مجبور ہیں اسی طرح سبزیوں کا یہی حال ہے کسی کی قیمت میں استحکام نہیں ہے آج تماٹر ساٹھ روپے کلو ہیں تو دوسرے ہفتے ایک سو بیس روپے کلو پر پہنچ جاتے ہیں ہم ایک زرعی ملک ہیں ہمارے ہاں سبزیوں اور اناج کی قیمتیں مناسب ہونا چاہیں ریاست کا فرض ہے کہ وہ کسانوں کو اچھے پیکج دے ان کی فصلوں کی انشورنس کرے نقصان کی صورت میں کسان کو پورا معاوضہ ملے اگر کسان خوشحال ہو گا تو ملک خوشحال ہو گا لیکن بد قسمتی سے آج کسان اپنی زمینوں پر فصل نہیں اگا رہا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اس کے اخراجات زیادہ آتے ہیں اور آمدن کم ہے وہ کئی کئی سال تک زمینوں پر فصل نہیں اگاتا جس سے زمینیں بنجر ہو رہی ہیں حکومت انہیں پیکیج دے کر فصلیں اگانے پرکی طرف راغب کر سکتی ہے جس طرح صحت کے لئے انصاف کارڈ کا اجراء کیا گیا ہے جو غریب آدمی کے علاج معالجے کے لئے اہم کردار ادا کر رہا ہے اسی طرح کسانوں خاص طور پر چھوٹے کسانوں کے لئے کسان کارڈ کا اجراء کیا جائے تا کہ وہ اسے بوقت ضرورت کام میں لا سکیں ۔

مجھے امید ہے کہ حکومت میری ان تجاویز پر ضرور غور کرے گی اور عمران خان صاحب بطور وزیر اعظم سختی سے عمل درآمد کروائیں گے بصورت دیگر ملک کے اچھے دن دور است کے مترادف ہیں امید کرتے ہیں کہ حکومت جلد مہنگائی پر قابو پا لے گی جو دکاندار مقر ر قیمتوں سے زائد پر اشیاء فروخت کریں ان کو بھاری جرمانے کئے جائیں تاکہ وہ دوبارہ ایسا قدم نہ اٹھائیں کیونکہ کچھ دکاندار حضرات بھی اشیاء کی قیمتیں از خود بڑاھا لیتے ہیں ایسے لوگوں کا محاسبہ ضروری ہے ۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: H/Dr Ch Tanweer Sarwar

Read More Articles by H/Dr Ch Tanweer Sarwar: 317 Articles with 1494126 views »
I am homeo physician,writer,author,graphic designer and poet.I have written five computer books.I like also read islamic books.I love recite Quran dai.. View More
27 Sep, 2021 Views: 708

Comments

آپ کی رائے