ظریفانہ: للن اور کلن، کنگن اور دلہن

(Dr Salim Khan, India)

للن نے کلن سے کہا بھائی آج میری طرف سے تمہاری خاص دعوت ہے۔
کلن حیرت سے بولا کیوں؟ آج سورج مشرق کے بجائے مغرب کی جانب سے تو نہیں طلوع ہوا؟
ارے اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟ ایک دعوت ہی تو دے رہا ہوں ؟؟
یار سچ بتاوں اس دعوت کا تقاضہ اور انتظار کرتے کرتے میں بوڑھا ہوگیا بلکہ کورونا کے زمانے میں تو میں کچھ اور ہی سوچنے لگا تھا ۔
کون بدبخت کہتا ہے کہ تم بوڑھے ہوگئے ہو؟ لیکن یہ بتاو کہ تم میرے بارے میں کچھ ایسا ویسا تو نہیں سوچنے لگے تھے ؟
چھوڑو یار رات گئی بات گئی ۔ یہ سمجھ لو کہ میں نے سوچ لیا تھا :’ہم انتظار کریں گے ترا قیامت تک ، خدا کرے کہ قیامت ہو اور تو آئے‘۔
ارے یہ تو فلمی نغمہ ہے اوراتفاق سے میں تمہیں جو دعوت دینے جارہا ہوں وہ بھی ایک فلمی اداکارہ کے حوالے سے ہے۔
اچھا دیکھو ذرا سنبھال کے۔ آج کل این سی بی والے منشیات کو لے کربالی ووڈ کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ۔
مجھے پتہ ہےمگر ہماری کنگنا رناوت کی جانب اگر کوئی نظراٹھا کر دیکھے گا تو شاہ جی اس کی آنکھ نکال لیں گے۔
جی ہاں ویسے کنگنا منشیات کے استعمال سے بے نیاز لگتی ہے۔
کیوں ؟ تم ایسا کیوں کہہ رہے ہو؟؟ میں نہیں سمجھا ؟؟؟
ارے بھائی وہ تو بغیر نشے کے بہکی بہکی باتیں کرتی رہتی ہے ۔
یہی تو تم لوگوں کا مسئلہ ہے کہ تمہیں ہندوتوا سے متعلق کوئی بات اچھی نہیں لگتی ۔
اچھا خیر یہ بتاو کہ تم دعوت کیوں دے رہے تھے ؟
بتا تو دیا کنگنا رناوت کو پدم شری کا خطاب ملا ۔ یہ جان کر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ سوچا ایک دعوت دے ڈالوں ۔
ارے بھائی مجھے کیا۔ اس کو دعوت دو تب تو کوئی بات بنے ۔
اوہو کلن ہماری یہ حیثیت کہاں ؟ ہم تو آپس میں ہی اپنی خوشی بانٹ لیتے ہیں ۔
جی ہاں لیکن کوشش تو کرکے دیکھو ہوسکتا ہے کامیابی مل جائے ؟
نہیں یہ ناممکن ہے۔تم میرا مذاق اڑا رہے ہو۔
نہیں ایسی بات نہیں۔ اچھا یہ بتاو کہ اگر کنگنا رناوت نے تمہاری دعوت قبول کرلی تو تم اس سے کیا کہوگے ؟
اگر ایسا ہوگیا تو میں اپنی ایک شکایت اس کے سامنے پیش کردوں گا ۔
اچھا تو تمہیں اس سے گلہ شکوہ بھی ہے۔ بہت خوب ہمیں بھی تو پتہ چلے کہ آخر وہ کیا ہے؟
للن شرما کر بولا مجھے انعام لیتے وقت کنگنا کے سونے ہاتھ دیکھ کربہت دکھ ہوا۔ یہی کہہ دوں گا۔
ارے بھائی صرف زبانی کہنے سے کیا فائدہ ؟ تم نے نہیں سنا :’جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکے تو پھر لہو کیا ہے‘؟
جی ہاں یہ بھی درست ہے کہ میں اس کے لیےکنگن خرید کر اس کی خدمت میں پیش کردوں ۔
ارے بھائی للن لیکن کیا ضروری ہے کہ وہ کنگن پہنے ؟ تو ایسا کر کہ کنگن خرید کرمیری بیوی یعنی تیری بھابی کو یہ تحفہ دے دے وہ خوش ہوجائے گی ۔
کلن بھیا ایہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کنگنا جیسی ’ بھارتیہ ناری ‘ کنگن نہ پہنے؟ وہ ضرور پہنے گی تم کیسی باتیں کرتے ہو؟
دیکھو للن کنگنا نئی نئی بھارتیہ ناری بنی ہے پہلے تو وہ کپڑے بھی بہت کم یعنی مختصرپہنتی تھی اس لیے اگر کنگن خریدنا تو مجھے دے دینا۔ کیا سمجھے؟
یہ میں نہیں مان سکتا کلن۔ اس کو چار چار قومی ایوارڈ اور ایک پدم شری اعزاز ملا ہے۔
جی ہاں لیکن چاروں قومی اعزاز مودی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد ملے ہیں اور پدم شری تو ا بھی ابھی ملا ہے اور وہ بھی خطرے میں ہے ۔
خطرہ ؟ کیسا خطرہ ؟؟کس کی مجال ہے کہ اس سے ایوارڈ چھینے؟
جی ہاں تم نے صحیح کہا کوئی اس سے ایوارڈ چھین نہیں سکتا کیوں کہ وہ اداکاری کے سبب نہیں بلکہ سرکار کی چاپلوسی میں ٹویٹس کی وجہ سے مل رہے ہیں ۔
للن نے دل مسوس کے کہا یار ایسا نہ بولو۔ میرا دل ٹوٹ جائے گا ۔
کلن بولا مجھے تو لگتا ہے تو کنگنا کو صرف کنگن نہیں دینا چاہتا بلکہ اپنی دلہن بنانا چاہتا ہے۔
بھائی کلن تو نے تو میرے دل کی بات کہہ دی مگر وہ پرانا نغمہ تو تم نے سنا ہوگا ’ تیرے پیار میں پاگل ہوجاوں ایسی میری تقدیر کہاں؟‘
کلن بولا بھیا وہ نغمہ تو’آنسو پی جاوں ‘ تھا مگر چونکہ تم کنگنا کے پیار میں پاگل ہو چکے ہو اس لیے تم پریہی ترمیم شدہ مصرع صادق آتا ہے۔
یار دیکھو تم بار بار میرا مذاق اڑا رہے ہو یہ ٹھیک نہیں ہے۔
تم کو اپنی پڑی ہے تمہاری کنگنا نے تو اپنے تازہ بیان میں سارے مجاہدین آزادی کا تمسخر اڑا دیا ہے۔
اچھا وہ کیسے ؟ وہ تو مہان دیش بھکت ناری ہے۔ وہ ایسا کبھی نہیں کرسکتی۔
لوسنو اس نے کیا کہا ۔ تم خود اس ویڈیو کو دیکھ لو۔
نہیں اس کی ضرورت نہیں تم بتا دو اس نے کیا کہا ؟
بھئی اس نے ویسے تو بہت ساری باتیں کہی ہیں ان میں سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ :’’آزادی اگر بھیک میں ملے تو کیا وہ آزادی ہو سکتی ہے؟ ‘‘۔
کلن بولا یہ تو بالکل صحیح بات ہے ۔ آزادی تو چھین کے لی جاتی ہے ۔ وہ بھیک میں نہیں ملتی۔
ارے لیکن اگر کوئی کہے کہ 1947میں ملنے والی آزادی بھیک تھی تو کیا وہ بھی درست ہوگا؟
دیکھو کلن یہ بات تمہارے لیے تو غلط ہے مگر ہمارے لیے درست ہے۔
یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک ہی بات کسی ایک کے لیے صحیح اور دوسرے کے غلط ہو ؟
کیوں نہیں ہوسکتا ؟آزادی کے حوالے سے چونکہ کانگریس اور سنگھ پریوار کا موقف ایک دوسرے کی متضاد تھا اس لیے یہ فرق پڑ گیا۔
پھر بھی موقف کے فرق کا آزادی سے کیا تعلق؟
ہمارےسنگھ پریوار نے آزادی کی جنگ میں حصہ نہیں لیا ۔ انگریزوں کے وفادار بنے رہے اس لیے ہمیں تو وہ آزادی بیٹھے بٹھائے بھیک میں مل گئی۔
لیکن وہ تو رانی لکشمی بائی اور سبھاش چندر بوس کے ساتھ ساورکر کا بھی نام لے کر کہتی ہے کہ وہ لوگ جانتے تھے کہ خون بہے گا ۔
جی ہاں یہ بھی درست ہے۔ رانی اور بوس نے اسی لیے اپناخون بہایا مگر ساورکرنے تو خون خرابے سے بچنے کے لیے معافی مانگ لی کیونکہ جانتے تھے۰۰۰
لیکن للن زعفرانیوں کا تو دعویٰ ہے کہ ساورکر کی کتابیں انقلابی باتوں سے بھری پڑی ہیں ۔
یہ بھی درست ہے۔ اسی لیے تو انگریزوں نے ان کوپکڑ کر انڈمان کی جیل میں بھیج دیا تھا مگر اس کے بعد ڈر کرانہوں نے معافی مانگ لی اور وفادار بن گئے
لیکن تمہاری کنگنا تو کہتی ہے کہ اصلی آزادی 2014 میں ملی ؟ اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟
ارے بھائی آزادی سے مراد اقتدار ہے جو آزادی کے بغیر نہیں ملتا ۔ وہ تو 2014 کے بعد ہی ملا ۔
کیسی باتیں کرتے ہو للن ۔ یہ بتاو کہ کیااٹل جی کے زمانے ہم لوگ بھیک کی آزادی پر گزارہ کررہے تھے ؟ کیا وہ اقتدار اصلی نہیں تھا ؟
للن چکرا گیا مگر پھر بولا وہ ایسا ہے کہ اٹل جی کے اقتدار سے کنگنا رناوت کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔ مودی نے اعزازات سے نوازہ اس لیے یہ اصلی ہے۔
یار للن تم بھی کنگنا سے کم نہیں ہو ۔ میں تو کہتا ہوں تمہیں کنگنا کو وہ کنگن پہنا کر اپنی دلہن بنا لینا چاہیے ۔ تم دونوں کی جوڑی خوب جمے گی ۔
للن خوش ہوکر بولا تمہارے منہ میں گھی شکر مگر ہمارا وواہ (شادی) کون کرائے گا؟
مودی جی اور کون ؟ جنہوں نے حقیقی آزادی دلائی ہے وہی تم کو کنگنا کی غلامی میں دیں گے ۔
للن بولا یار یہ غلامی نہیں۔ یہی تو اصلی آزادی ہے۔
کلن نے کہا ایسی بات ہے تو میری نیک خواہشات تمہارے ساتھ ہیں ۔ میں دعا کرتا ہوں کہ جلد ہی یہ ’رام ملائی جوڑی‘وجود میں آجائے۔
للن بھڑک کر بولا تم نے ہمیں ’ایک اندھا اور ایک کوڑھی ‘ کہا میں تمہارا خون پی جاوں گا۔
بھائی یہ میں نے نہیں تم نے خود کہا ۔ میں نے تو صرف رام ملائی جوڑی کہاتھا ۔ بس !
میں سب سمجھتا ہوں کلن ۔ تم ہم سے جلتے ہو۔
مجھے اس کی کیا ضرورت خیر اب تم اپنی کنگنا کےپیچھے پڑ جاو ایک نہ ایک دن ضرور کامیابی ملے گی۔ میری نیک خواہشات تمہارے ساتھ ہیں ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1474 Articles with 634658 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Nov, 2021 Views: 78

Comments

آپ کی رائے