’خدا حافظ، اب میری بس ہو چکی ہے‘ انڈین کامیڈین منور فاروقی کا شو منسوخ، پولیس نے نوٹس میں کیا لکھا کہ نوبت یہاں تک آ گئی

 
انڈیا کے سٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی کا شو پولیس نے منسوخ کر دیا ہے۔ منور فاروقی بنگلور میں ایک شو کرنے والے تھے لیکن پولیس نے اعتراضات اٹھاتے ہوئے ان کا یہ شو روک دیا ہے۔
 
پولیس نے امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی خلاف ورزی کے خدشے کے باعث منور فاروقی کا شو منسوخ کیا ہے۔
 
ایک سینئیر پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ منتظمین کو بہت واضح طور پر بتایا گیا کہ شو منعقد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس سے امن و امان کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔
 
پولیس افسر نے کہا کہ منتظمین کو زبانی اور تحریری طور پر اس بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے۔
 
شو کے منتظمین کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم قانون کی پاسداری کرنے والے شہری ہیں اور پولیس کے نوٹس پر عمل کریں گے۔
 
ساتھ ہی منور فاروقی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے اس حوالے سے ایک پوسٹ کیا اور لکھا کہ آج کا بنگلور شو منسوخ کر دیا گیا ہے۔
 
انھوں نے بتایا کہ اس شو کے لیے 600 سے زیاہ ٹکٹ فروخت کیے گئے تھے۔
 
انھوں نے شکوہ کرتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ ’مجھے اس مذاق کے لیے جیل میں ڈالنا جو میں نے کیا ہی نہیں تھا اور وہ شو منسوخ کرنا جس میں کوئی مسئلہ نہیں، نا انصافی ہے۔‘
 
 
منور فاروقی نے یہ بھی لکھا کہ گذشتہ دو ماہ میں جگہ اور مداحوں کو درپیش خطرے کی وجہ سے 12 شو کینسل کیے گئے۔
 
اپنی ٹویٹ میں انھوں نے مزید لکھا: ’ان کی نفرت کا بہانہ بن گیا ہوں، ہنسا کر کتنوں کا سہارا بن گیا ہوں، ٹوٹنے پر ان کی خواہش پوری ہو گی۔ صحیح کہتے ہیں میں ستارہ بن گیا ہوں۔‘
 
منور نے آخر میں لکھا: ’میرا خیال ہے یہ اختتام ہے۔ میرا نام منور فاروقی ہے۔ وہ میرا وقت تھا اور آپ دیکھنے والے زبردست تھے۔ خدا حافظ! اب میری بس ہو چکی ہے۔‘
 
یاد رہے کہ منور فاروقی کو جنوری کے مہینے میں مدھیہ پردیش کے شہر اندور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ انھیں اس خدشے پر گرفتار کیا گیا تھا کہ وہ اپنے شو میں ’قابل اعتراض لطیفے‘ سنائیں گے۔
 
 
نوٹس میں کیا لکھا ہے؟
شو کے منتظمین کو دیے گئے نوٹس میں پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ منور فاروقی ایک متنازع شخص ہیں۔ وہ دوسرے مذاہب کے دیوتاؤں کے بارے میں متنازع بیانات دیتے ہیں۔ ان کے کامیڈی شوز پر کئی ریاستوں میں پابندی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان کے خلاف اندور کے ٹوکو گنج تھانے میں مقدمہ درج ہے۔ اس کے علاوہ کئی دیگر ریاستوں میں بھی ان کے خلاف مقدمات درج ہیں۔
 
نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس کے پاس اطلاعات ہیں کہ کئی تنظیمیں منور فاروقی کے کامیڈی شو کی مخالفت کر رہی ہیں اور اگر اسے منعقد ہونے دیا جائے تو اس سے انتشار پھیل سکتا ہے۔
 
یہ بھی کہا گیا ہے کہ عوامی امن اور ہم آہنگی درہم برہم ہو سکتی ہے۔ جس کی وجہ سے امن و امان کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ لہٰذا آپ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ منور فاروقی کا 28 نومبر 2021 کو شام 5 بجے گڈ شیفرڈ آڈیٹوریم میں ہونے والا پروگرام منسوخ کر دیں۔
 
پولیس نے اس سلسلے میں آڈیٹوریم کے حکام کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔
 
سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی
پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل اور سماجی کارکن ونے سری نواس نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ایسا کر کے بنگلور پولیس سپریم کورٹ کے 2019 کے فیصلے کی خلاف ورزی کر رہی ہے جس میں عدالت نے مغربی بنگال پولیس کو محفوظ طریقے سے شو منعقد کرانے کی ہدایت کی تھی۔
 
سری نواسن نے اس سلسلے میں ایک ٹویٹ میں لکھا: ’بنگلور کے پولس کمشنر منتظمین کو منور فاروقی کا شو منسوخ کرنے پر مجبور کر رہے تھے۔ آپ بنگلور والوں کے اظہار رائے کی آزادی اور معلومات کے حق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ یہ سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔‘
 
 
منور فاروقی کون ہیں؟
بی بی سی کے نامہ نگار سوتک بسواس کے مطابق سٹیج پر دیکھیں تو منور فاروقی ایک خوش مزاج مسکراتے شخص معلوم ہوتے ہیں اور ابھی ان کی اپنی شخصیت میں بھی مزید نکھار آ رہا ہے۔
 
وہ جدید انڈیا کی حقیقتوں میں اپنے لطیفے ڈھونڈتے ہیں اور اکثر تلخ زبان استعمال کرتے ہیں۔
 
وہ ریپ گانے بھی گاتے ہیں اور ایک ویڈیو میں انھیں ممبئی کے ایک مسلمان علاقے میں رہنے کے تجربے کے بارے میں گاتے سنا جا سکتا ہے۔
 
یوٹیوب پر ان کے پانچ لاکھ سے زیادہ فالور ہیں اور انسٹاگرام پر وہ تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔
 
اپنے شوز میں منور فاروقی کافی مختلف قسم کے لطیفے سناتے ہیں اور ان میں کچھ تو نامکمل معلوم ہوتے ہیں مگر ان میں خود اعتمادی کی کمی نظر نہیں آتی۔ وہ اس پنجابی موسیقی کا مذاق اڑاتے ہیں جس میں خواتین کو لالچی پیش کیا جاتا ہے۔
 
ان کا کہنا ہے کہ انڈیا میں ہر سماجی روابط کی ویب سائٹ ایک ڈیٹنگ پلیٹ فارم بن جاتا ہے۔ ایک شو میں ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ کی گرل فرینڈ کو آپ سے کچھ چاہیے تو بس اسے وہ دے دیں، اس کے بارے میں گانے مت گائیں۔‘
 
وہ حکومت کا بھی مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حکومت کسانوں کے احتجاج میں پانی کی توپوں کا استعمال کر کے پانی ضائع کر رہی ہے۔
 
 
منور فاروقی کی اندور میں گرفتاری
گجرات سے تعلق رکھنے والے منور فاروقی کو اندور پولیس نے اس سال کے شروع میں گرفتار کیا تھا، جس کے بعد وہ ایک ماہ سے زیادہ جیل میں رہے۔
 
کامیڈین منور فاروقی کو اندور پولیس نے یکم جنوری کو گرفتار کیا تھا۔ ان کے علاوہ چار دیگر افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان سبھی پر ہندو دیوی دیوتاؤں اور وزیر داخلہ امیت شاہ پر نازیبا تبصرہ کرنے کا الزام تھا۔
 
منور فاروقی اندور کے منرو کیفے میں اپنا پروگرام کرنے آئے تھے۔ اسی دوران ہندو رکشک تنظیم کے لیڈر وہاں پہنچ گئے اور ہنگامہ کیا۔
 
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے اندور بینچ نے ان کی ضمانت کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے لوگوں کو معاف نہیں کیا جانا چاہیے۔
 
نچلی عدالتوں کی جانب سے ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد انھیں سپریم کورٹ نے عبوری ضمانت دی تھی۔
 
منور فاروقی کے خلاف اتر پردیش میں بھی مقدمہ درج ہے۔ 19 اپریل 2020 کو پیشے کے اعتبار سے وکیل اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے کارکن آشوتوش مشرا نے منور فاروقی کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔
 
اس میں ان پر مذہبی جذبات بھڑکانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ ان پر سوشل میڈیا پر اپنی ایک ویڈیو میں ہندو دیوتاؤں اور گودھرا ٹرین سانحے کے متاثرین کا مذاق اڑانے کا الزام تھا۔
 
Partner Content: BBC Urdu
Comments Print Article Print
 Previous
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
28 Nov, 2021 Views: 1756

Comments

آپ کی رائے