کیسا کیسا دیکھا چاند

(Tariq Mirza, India)

ابنِ انشا نے کیا خوب کہا ہے:
ملکوں ملکوں، شہروں شہروں ، کیسا کیسا دیکھا چاند
ہر اِک چاند کی اپنی دھج تھی ، ہر اک چاند کا اپنا روپ
‘‘ملکوں ملکوں دیکھا چاند’’ہمارے عزیزِ مکرم طارق محمود مرزا کا چوتھا سفرنامہ ہے۔ اس سے قبل وہ سفرِعشق، خوشبو کا سفر اوردُنیا رنگ رنگیلی جیسے تین اچھوتے سفرناموں کی بدولت اْردو میں سفرنامے لکھنے والوں کے قبیلے کے جھرمٹ میں اپنی دل آویز تحریر کی بنا پر خاص شناخت رکھتے اور دْور ہی سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کے متذکرہ سفرناموں پر پاکستان کی کئی یونیورسٹیوں میں تجزیاتی اور تحقیقاتی مقالے لکھے جا چکے ہیں جو اس امر کا بین ثبوت ہے کہ انھیں عام قارئین کے علاوہ اُردو زبان و ادب کے اساتذہ کرام اور کالج اور یونیورسٹی کے طالب علموں نے بھی پسندیدگی کی نگاہوں سے دیکھا ہے۔

’’ملکوں ملکوں دیکھا چاند‘‘ شمالی یورپ کے چار ملکوں، ڈنماک، سویڈن، ناروے اور فن لینڈ اور پانچویں مشرقِ وسطیٰ میں جداگانہ خدوخال کے حامل عرب ملک، قطر کی سیر و سیاحت کا چشم دید احوال ہے جسے انھوں نے دنیا بھر میں کوویڈ۱۹کی عفریت کے پنجے گاڑنے سے پہلے ‘‘بسلامت روی وباز آئی ’’کے مصداق بخیر و خوبی انجام دے لیا تھا۔

وہ جو کہتے ہیں کہ ‘‘شنیدہ کَے بود مانندِ دیدہ’’ یعنی سْنی ہوئی بات دیکھی ہوئی بات کے برابر کیسے ہو سکتی ہے۔ جن لوگوں نے ان ملکوں کے بارے میں صرف سنا ہے، طارق محمود مرزا نے انھیں نہ صرف دیکھا ہے بلکہ اپنے زاویہ ِنگاہ سے خوب دیکھا بھالا ہے۔ پھر جس طرح انھوں نے اپنے سیر و سیاحت کے حالات کی لفظی مرقّع کاری ہے، اس پر میرا جی چاہتا ہے کہ انھیں شاباش دوں۔ مصوّر رنگوں سے تصویر بناتا ہے لیکن بعض اوقات رنگوں کی کمی بیشی سے تصویر میں کوئی خامی رہ جاتی ہے مگر طارق مرزا نے ایسی لفظی مرقّع کاری کی ہے کہ قاری اسے اپنی آنکھوں سے دیکھتا ،محسوس کرتا اور وہ پورا منظر متحرک ہو کر قاری سے ہم کلام ہو جاتا ہے۔ ہمارے اس خیال کی تائید معروف ماہرِ تعلیم پروفیسر رئیس علوی بھی کرتے ہیں۔ وہ طارق مرزا کے ایک سفرنامے کی بابت لکھتے ہیں:
‘‘طارق مرزا لفظوں میں منظرکشی کا فن جانتے ہیں۔ وہ چلتے پھرتے لوگوں، بہتے ہوئے دریا، ٹھہری ہوئی جھیلوں، بلند و بالا عمارتوں، گنگناتی ہوئی آبشاروں، مہکتے ہوئے سبزہ زاروں اور گھومتی ہوئی پیچیدہ شاہراہوں کی رنگارنگ تصویر کشی اس کمال کے ساتھ کرتے ہیں کہ قاری دیر تک ان کے لفظوں کی پہنائیوں میں کھو جاتا ہے۔’’

مصنف طارق مرزا کی ایک عمر سڈنی (آسٹریلیا) جیسے پرکشش شہر میں گزری ہے اور انھوں نے نیوزی لینڈ، جاپان اور سوئزرلینڈ جیسے خوبصورت ملکوں کی بھی سیاحت کی ہے مگر جب وہ پہلی بار ڈنمارک پہنچے اور وہاں قدرت کے نظارے دیکھے جن میں رہی سہی کسر حضرت انسان نے پوری کر دی ہے تو ان میں مبہوت و مسحور ہو کر رہ گئے۔ مثلاً جب وہ اپنے ایک دوست کے ہمراہ کوپن ہیگن کے مضافات میں پہنچے تو تاحدِ نگاہ رشکِ خلد قطعات دیکھ کر حیران رہ گئے۔ حیرانی کی مرقّع کاری دیکھیے کن لفظوں میں کرتے ہیں:
’’اس سارے منظر پر چیری بلاسم کے پھولوں کی بہار اس طرح حاوی تھی کہ ان سے نظر نہیں ہٹتی تھی۔ یہ درخت پتوں سے خالی مگر گلابی پھولوں سے لدے تھے۔ یہ گلابی پھول تیزی سے جھڑ رہے تھے اور سڑک اور گھاس پر گلابی چادر کی طرح پھیلے تھے۔ انھوں نے پورے ماحول کو گلابی اور مہک آور بنا دیا تھا۔ اس کی دلفریب رنگت، اس کی سوندھی خوشبو اور پھولوں میں سے چھن کر آنے والی رو پہلی دھوپ، رنگ و نور کی بارش برسا رہی تھی۔ یوں لگتا تھا کہ آسمان سے گلابی رنگ برس رہے ہیں،خْوشبوئیں اْتر رہی ہیں۔ یہ گلابی رنگت، یہ نکہت دیکھ کر سیاحوں کے چہرے بھی پھولوں کی طرح کھلے تھے۔ میں ان پیڑوں کے نیچے کھڑا گلابی منظر دیکھنے میں منہمک تھا کہ ایک گلابی تتلی میری آنکھوں کے سامنے اْڑنے لگی۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر اسے مٹھی میں بند کر لیا۔ ذرا دیر کے بعد مٹھی کھولی تو وہ پھول کی پتی تھی، جس نے میری ہتھیلی بھی رنگ دی تھی۔

طارق محمود مرزا جب محیرالعقول اشیا یا جگہوں کو دیکھتے ہیں تو اس شے یا مقام کی لفظی عکاسی کے ساتھ ساتھ اپنے احساسات بھی بیان کرتے چلے جاتے ہیں۔اُن کی یہ خوبی ہے وہ قاری کو سوچنے پر اْکساتے ہیں۔ وہ ڈنمارک کی سیاحت کے بعد سٹاک ہوم (سویڈن) پہنچتے ہیں اور بادشاہ اور ملکہ کی سرکاری رہائش گاہ دیکھتے ہیں جو بارھویں صدی عیسوی سے سینہِ زمین پر اپنے پنجے گاڑے مضبوط و مصؤن کھڑی ہے تو اپنے احساسات کا اظہار کچھ اس طرح کرتے ہیں:
’’ ۔۔مجھے ڈنماک، برطانیہ اور تھائی لینڈ کے محلّات یاد آ گئے۔ ان کے اندر بھی ایسی ہی نادر و نایاب شاہی اشیا اور سجاوٹ میں نے دیکھی تھیں۔ جس طرح مفلس کسی خطّے کا بھی ہو، ان کے حالات و مسائل یکساں ہوتے ہیں، اسی طرح بادشاہ کہیں کا بھی ہو، اس کو حاصل نعمتیں بہترین سے کم نہیں ہوتیں۔ آخر وہ بادشاہ ہوتا ہے۔ اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ ساری بادشاہوں کے اردگرد گھومتی ہے۔ کوئی اچھا ہوتا تھا اور کوئی بْرا۔ کوئی عوام دوست تھا اور کوئی عوام دشمن۔ کوئی جنگوں کا شوقین ہوتا اور کوئی بیویوں کا۔ کسی کو ملک فتح کرنے کا شوق تھا اور کسی کو اولاد پیدا کرنے کا۔ کوئی محلّات کا شائق تھا اور کوئی قلعے تعمیر کرتا تھا۔ کوئی فاتح تھا اور کوئی مفتوح ہو کر بھی بادشاہوں جیسے سلوک کی توقع رکھتا تھا۔ تاریخ صرف بادشاہوں کے حالاتِ زندگی کا نام ہے، اس کے سوا کچھ نہیں۔ تاریخ میں عوام کا ذکرکہیں نہیں ملتا، سوائے اس تعداد کے جو ان بادشاہوں کی بادشاہت قائم رکھنے کے لیے جنگوں میں مرتے تھے۔ ان کے رہن سہن، ان کے مسائل، ان کی خانگی زندگی، ان کیافلاس اور ان کی نفسیات کا ذکر تاریخ کے صفحوں سے ایسے غائب ہے جیسے وہ ہو کر بھی نہیں تھے۔ کیا وقت بدل گیا ہے۔ کیا آج کے جمہوری دور میں عام انسانوں کو وہ وقعت اور توقیر مل گئی ہے، جس کا وہ حق دار ہے۔‘‘

سویڈن کی سیر و سیاحت کے بعد طارق محمود مرزا نے، جو بجا طور پر‘‘زمین کا گز’’ کے لقب کے مستحق ہیں، سکنڈے نیویا کے تیسرے ملک ناروے، جو روئے زمین پر بجانب شمال بعید ترین جزیرہ نما ہے، کا رْخ کیا۔ جب ہمارا یہ سفر نامہ نگار ناروے پہنچا تو اس نے اس ملک کے بارے میں معلومات حاصل کیں جنھیں انھوں نے بغیر کسی لگی لپٹی کے بڑے خلوص کے ساتھ اپنے قارئین کو بھی منتقل کیا تاکہ وہ بھی اپنی معلومات میں معتدبہ اضافہ کر لیں۔یہ انتہائی دلچسپ معلومات ہیں جس میں پاکستانی کیمونٹی کا بھی تذکرہ ہے ۔

ہمارے سفرنامہ نگار طارق محمود مرزا کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ جب کسی دیارِ غیر کے لوگوں کو اس ملک کے آئین اور یقینِ محکم کے تحت شاداں و فرحاں زندگی بسر کرتے دیکھتے ہیں تو اس کا موازنہ و مقابلہ اپنے وطنِ عزیز پاکستان کے ساتھ ضرور کرتے ہیں جس کے پسِ منظر میں ان کی شدید خواہش موجود ہے کہ اے کاش! میرا ملک بھی خوشحال ہو جائے اور پاکستان کا نام بھی دنیا بھر میں عزت و وقار کے ساتھ لیا جائے۔مثلاً ً ایک جگہ رقم طراز ہیں:
‘‘تفنّن برطرف مگر آبادی کے اس عظیم فرق کے ساتھ پاکستان اور ناروے میں جو غربت اور امارت کا فرق ہے، اس کی وجہ بھی سمجھ میں آتی ہے۔ کہاں تریپن لاکھ اور کہاں بائیس کروڑ۔ اگر پاکستان کے وسائل یہی رہیں اور آبادی ترپن لاکھ ہو تو ملک میں کوئی غریب نہیں ہو گا۔‘‘ بہرکیف ہمارا زیرک سیاح اور سفرنامہ نگار سکنڈے نیویا کے ٹھنڈے ٹھار ملکوں کی سیاحت کے بعد جب قطر جیسے گرم مرطوب ملک میں پہنچتا ہے تو ’’ہرگل را رنگ و بوئے دیگر است‘‘ کے مصداق وہ قطر کو دیکھ دیکھ کر زیادہ خوش ہوتا اور ہمیں شاداں و فرحاں نظر آتا ہے۔ شاید اس کی ایک بڑی وجہ تو یہ رہی تھی کہ انھیں یہاں جگہ جگہ نہ صرف خوشنما و دل کش مسجدیں نظر آئیں بلکہ یہ مسجدیں وقتِ نماز نمازیوں سے پْر ہو جاتی تھیں۔ دوحہ کے قیام کے دوران میں قدیم روایتی بازار’’ سُوق الوقف ‘ ‘ میں جاکر مختلف اشیا اور حشرات بکتے دیکھے ۔ رنگ رنگ چڑیاں دیکھ کر یوں گل افشانی کی :
’’ آگے چل کر ہم نے جیتے جاگتے،بولتے اور چہکتے ہوئے رنگوں کی دُنیا دیکھی۔ یہ انواع و اقسام کی رنگین چڑیاں تھیں۔ سیکڑوں، ہزاروں چڑیاں پنجروں میں بند اس طرح چہک رہی تھیں کہ طیور سے بھرے جنگل کا گمان ہوتا تھا۔ ان پنجروں میں نیلا، سبز، جامنی، سفید، خاکستری، نقرئی، سیاہ، بھورا، نارنجی، سرخ، پیلا، سنہرا ہر رنگ نظر آتا تھا۔ ایسے لگتا تھا کہ قدرت نے اپنی اس ننھی اور نازک مخلوق کے ذریعے کارخانہِ قدرت کے تمام رنگ فضاؤں میں بکھیر دیے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ حضرت انسان نے فضاؤں میں بکھرے اور گلشن میں ترنم ریز ننھی جانوں کو پابندِ قفس کر دیا ہے۔ یوں کانوں میں رس گھولنے والی ان کی میٹھی چہکار نغمہِ قفس بن کر رہ گئی ہے۔‘‘

سوق الوقف میں ہی مصنف کی چائے نوشی کا احوال پڑھیے اور ان کی انشا پردازی پر سر دُھنیے ۔:
’’ دن بھر کی گرمی اور تھکاوٹ کے بعدسہ پہر کے ان خوشگوار لمحات میں اور اس دلکش سیاحتی مقام پر چائے جب پیالی میں اُنڈیلی تو اس کی بھاپ اور خوشبو سارے صحن میں پھیل گئی۔ ہمارے ارد گرد بیٹھے یورپی سیاح یہ خوشبو سونگھ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں ستائش و طلب تھی۔ چائے کا ایک ایک جرعہ جسم و روح کو فرحت پہنچا رہا تھا۔ گرم اور شیریں سیال دہن سے حلق میں اُترتا اور ایک انوکھے ذائقے سے آشنا کرتا جاتا تھا۔ ایک ایک گھونٹ سے حرارت، خوشبو اور توانائی کی لہر سی جسم و جاں میں اُٹھتی محسوس ہوتی‘‘

قطر کے عرصہِ قیام میں ایک بار جب وہ دوحہ کے مضافات میں گئے اور وہاں انھوں نے دل کش پارک اور سرسبز و شاداب قطعات دیکھے جن میں ہر چہار جانب بھانت بھانت کے خوشنما پودے اور رنگ رنگ کے پھول کھلے تھے تو وہ ‘‘سبحان تیری قدرت’’کہتے ہوئے حیران و ششدر رہ گئے۔ لکھتے ہیں:
‘‘یہ اہلِ قطر کا کمال تھا کہ سخت گرم اور خشک موسم میں بھی انھوں نے ہر طرف سبز گھاس اور پھول اْگا رکھے تھے۔ میں نے جتنے رنگوں کے پھول قطر میں دیکھے اتنے سکنڈے نیویا کے ملکوں میں بھی نہیں دیکھے تھے۔ دوحہ میں بڑے بڑے پارک ہیں۔ ان پارکوں کے لیے مٹی، گھاس اور پودے سب باہر سے منگوائے جاتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ یہاں کی جھلسا دینے والی گرمی میں بھی پھول پودے تروتازہ نظر آتے تھے۔’’

مصنف نے اپنے سفرنامے میں موقع محل کی مناسبت سے نہ صرف بہترین شعر شامل کیے ہیں بلکہ چند ایک نثری نظمیں بھی لکھی ہیں جو ان کے عْمدہ د ذوقِ سخن کی غمازہیں۔بہرکیف طارق محمود مرزا کا سفرنامہ ’’مْلکوں ملکوں دیکھا چاند‘‘منظرکشی، لفظی مرقع کاری، برمحل موازنہ و مقابلہ، عمدہ زبان وبیان، نادر تشبیہات و استعارات اور دل کش اسلوب بیان کا ایسا دل آویز مرقّع ہے جو اْردو سفرناموں میں ممتاز و مشرف مقام و مرتبے کا حق دار ہے۔
(ڈاکٹر علی محمد خاں
پروفیسر آف اْردو، ایف سی کالج، یونیورسٹی، لاہور)


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
About the Author: Tariq Mirza

Read More Articles by Tariq Mirza: 10 Articles with 2892 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Jan, 2022 Views: 216

Comments

آپ کی رائے