گلہائے شاعری (محاورے اور کہاوتیں)/ثروت سلطانہ ثروت

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)
گلہائے شاعری (محاورے اور کہاوتیں)/ثروت سلطانہ ثروت
٭
ڈاکٹر رئیس احمد صمدنی
(یہ مضمون شاعرہ اور مصنفہ ثروت سلطانہ ثروت کی تصنیف ”گلہائے شاعری‘ کی تقریب رونمائی منعقدہ 8 جنوری 2022ء بمقام گورنمنٹ کالج
فارمین، ناظم آباد کی لائبریری میں منعقد ہونے والی تقریب جس کا اہتمام پروفیسر سراج الدین قاضی صاحب نے کیا میں پڑھا گیا)
.................
صدر محفل محمود شام صاحب، مہمان خصوصی لندن سے تشریف لائے عقیل دانش صاحب، ادب کی آن، ادیبوں کی شان، کراچی کی جان پروفیسر سحر انصاری صاحب، مصنفہ ثروت سلطانہ ثروت صاحبہ، میزبان محترم پروفیسر سراج الدین قاضی صاحب، حاضرین محفل۔
ثروت سلطانہ ثروت کی کتاب ”گلہائے شاعری‘ جو محاوروں اور کہاوتوں پر مشتمل ہے کی تقریب رونمائی ایک ایسی جگہ منعقد کی گئی ہے جسے کئی اعتبار سے انفرادیت حاصل ہے۔ اس محفل میں پروفیسر سحر انصاری صاحب موجود ہیں آپ کی موجودگی سے محفل کی اہمیت دوبالاہوگئی ہے۔ بہت ممکن ہے کچھ احباب کو یہ علم نہ ہو کہ محترم سحر انصاری صاحب گورنمنٹ کالج فارمین، ناظم آباد کے طلبہ کے اولین سیشن کے طالب علم رہے ہیں۔ کالج میگزین کے پہلے سیکریڑی اور طلبہ یونین کے پہلے صدر بھی رہے۔ آج کی تقریب کے میزبان پروفیسر سراج الدین قاضی صاحب اس کالج کے سینئر اساتذہ میں سے ہیں۔ انہوں نے یہ تقریب انفرادی طور پرضرور منعقد کی درحقیقت قاضی صاحب ایک شخصیت کا نا م نہیں وہ اپنی ذات میں ایک ادارہ اور ایک انجمن ہیں۔ مجھے بھی اس کالج سے12 سال منسلک رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔ آپ احباب کے چاروں جانب الماریوں میں جو کتب ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں راقم کو ان تمام کتب کو اپنے ہاتھوں سجانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ثروت سلطانہ ثروت صاحبہ 35کتابوں کی مصنفہ ہیں۔ گویا انہوں نے اپنی زندگی درس و تدریس کے ساتھ ساتھ شاعری اور کتب کی تخلیق میں گزاری۔ میں مکمل ادراک رکھتا ہوں کہ کتاب تخلیق کرنا پھر اس کی اشاعت کا اہتمام کس قدر جان جوکھوں کا کام ہے۔ میں بھی اسی کشتی کا سوار ہوں، تصنیف و تالیف میرا بھی محبوب مشغلہ رہا اور اب بھی ہے اب تک 42تصانیف و تالیفات میرے رشحات قلم سے منظر عام پر آچکی ہیں۔میں ثروت سلطانہ ثروت صاحبہ کو تصانیف و تالیفات کی تخلیق و اشاعت پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
ثروت سلطانہ ثروت صاحبہ کو ہندوستان کی ایک ایسی سرزمین سے نسبت حاصل ہے جس نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبد
ا لقدیر خان جیسے ماہر سائنس داں کو جنم دیا’ڈاکٹر عبد القدیر خان نے اپنے بھوپالی ہونے اوربھوپالیوں کے دوچیزوں پر فخر ہونے کا ذکر کچھ اس طرح سے کیا۔ کہتے ہیں کہ ”بھوپالیوں میں کوئی غدار نہیں ہوا دوسرے یہ کہ بھوپالیوں میں کوئی قادیانی پیدا نہیں ہوا“۔ اپنے یوسفزئی پٹھان ہونے کا ذکر اس طرح سے کیا ”ہم یوسفزئی پٹھان ہیں۔ ہمارے خون میں ملاوٹ نہیں ہے۔ ہمارے آباؤ اجداد300 سال پہلے بھوپال آگئے تھے۔ ہمارا خون اسی طرح جوش مارتا ہے اور لڑنے مرنے کو تیار ہیں۔ اس وجہ سے ہم نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا کہ کسی کے آگے سر نا جھکایا جاسکے“۔محترمہ ثروت سلطانہ ثروت بھوپال کی سرزمین سے تعلق رکھتی ہیں۔ بھوپال کی سرزمین کو لکھنؤ اور دلی کے بعد ادب اور زبان کے حوالے سے منفرد مقام حاصل ہے۔ بھوپال میں شاعروں اور ادیبوں کو عزت و احترام سے نوازا گیا، بھوپال تہذیب و ثقافت، زبان ادب کے حوالے سے اپنی ایک الگ شناخت رکھتاہے۔تذکرہ شخصیات بھوپال جو ایک بھوپالی ادیبہ محترمہ شگفتہ فرحت نے مرتب کیا ہے ثروت سلطانہ ثروت کا تعارف کچھ اس طرح سے کرایا ہے ’شہر کراچی کی شاعرہ ثروت سلطانہ ثروت 1953ء میں بھوپال سے پاکستان تشریف لائیں۔ابتدائی تعلیم کے بعد جامعہ کراچی سے اردو میں ماسٹر ز کی سند حاصل کی اور شعبہ تدریس سے وابستہ ہوگئیں اور زندگی بھر طلبہ کو علم کے زیور سے آراستہ کرتی رہیں۔ ثروت سلطانہ ثروت نے ہمہ جہت زندگی گزاری ہے۔ ان کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہے۔ انہوں نے زندگی کے مختلف رنگ دیکھے فنون لطیفہ سے دلچسپی ان کے جمالیاتی ذوق کی عکاس ہے‘۔ ثروت سلطانہ ثروت نے درس و تدریس کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا ئے رکھا تب ہی تو وہ تین درجن سے زیادہ تصانیف و تالیفات تخلیق کرسکیں۔
پروفیسر سراج الدین قاضی صاحب قابل ستائش ہیں کہ انہوں نے ثروت سلطانہ ثروت کی تصانیف کے حوالے آج کی اس تقریب کا اہتمام کیا۔قاضی صاحب میرے ہر دلعزیز دوست ہی نہیں بلکہ اسی کالج کے ساتھی اور حال کے پڑوسی بھی ہیں نے مجھے آج کی اس تقریب میں شرکت ہی نہیں بلکہ کچھ کہنے کی دعوت دی اور ازخود میرے گھر محترمہ ثروت صاحبہ کی چند کتابیں بھی پہنچائیں تاکہ میں ان کی مدد سے اظہار خیال کرسکوں۔ ان چند کتابوں کے سرسری مطالعہ سے میرے چارو طبق روشن ہوگئے کہ کراچی کے کالجوں اور جامعات میں درس و تدریس سے وابستہ استاد تصنیفی و تالیفی خدمات میں بھی بے بہا کمال رکھتی ہیں۔ میں از خود اسی کشتی کا سوار ہوں، نصف صدی ہونے کا آئی تصانیف و تالیف سے جڑے، مجھے اچھی طرح اندازہ ہے کہ کہ کتاب لکھنا اور پھر اسے زیور طباعت سے آراستہ کروانا کس قدر محنت طلب اور دشوار گزار عمل ہے۔ اس مختصر کی نششت میں سروت سلطانہ سروت کی تمام تصانیف و تالیفات کا سرسری ذکر بھی ممکن نہیں۔جن کتابوں تک میری رسائی ممکن ہوسکی ان کے بارے میں مختصر عرض ہیں کہ ثروت ؔ صاحبہ ایک شاعرہ ہی نہیں بلکہ نثر نگار بھی ہیں۔ ان کی کتاب ”لاکھوں میں انتخاب کے قابل بنادیا“ 2019 میں شائع ہوئی۔ کتاب کا عنوان معروف شاعر جگر مراد آبادی کے ایک شعر کا مصرعہ اُولیٰ ہے۔ بقول شاعرہ یہ نام ڈاکٹر معین قریشی صاحب کا تجویز کردہ ہے اور واقعی بہت خوب ہے۔ شعر کچھ اس طرح ہے ؎
لاکھوں میں انتخاب کے قابل بنادیا
جس دل کو تم نے دیکھ لیا‘ دل بنادیا
ثروتؔ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو ان کی اس کتاب کا مطالعہ کر لیجئے۔ ان کے بارے میں بے شمار بڑے لوگوں نے جن میں شاعر و ادیب زیادہ ہیں نے ثروتؔ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ خود ثروت ؔ اپنا تعارف ان الفاظ میں کراتی ہیں کہ‘اپنی شاعری کے لیے اتنا کہوں گی کہ میں نے کبھی کسی سے اصلاح نہیں لی جو کچھ کہا خود ہی اس غور کرلیا تبدیلی کی ضرورت ہوئی تو الفاظ بدل دیے ورنہ شعر کو جو کا توں رہنے دیا میرا پہلا شعر ؎
اب تو ہماری آنکھ میں اک اشک بھی نہیں
پہلے کی بات اور تھی، غم تھا نیا نیا
ڈاکٹر عبدا لقدیر خان نے ثروت ؔ کی تصنیف ”ضرب المثل اشعار پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے لکھتے ہیں کہ یہ انمول و بیش بہا کتاب ایک ناقابل فراموش دستاویز کے طور پر آنے والی نسلوں کے ہی کام آئے گی۔ ڈاکٹر صاحب نے شاعرہ کی تعریف کے لیے داغ ؔ کا یہ شعر بھی بطور خاص تحریر فرمایا ؎
خط ان کا بہت خوب عبارت بھی ہے اچھی
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
ثروتؔ ہائیکو کی بھی شاعرہ ہیں ان کے ہائی کو کے مجموعہ کا عنوان ہے (پانچ سات پانچ)۔ اس کتاب پر ڈاکٹر جمیل جالبی صاحب کے علاوہ ڈاکٹر عبد القدیر خان کا بھی تبصرہ ہے۔ ڈاکٹرجمیل جالبی نے لکھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ ثروت ؔ غزل و نظم کی طرح اس صنف سخن میں بھی جلد اپنا لوہا منوالیں گی‘۔ اپنی شاعری کے بارے میں ثروت سلطانہ نے خود لکھا ”شاعری ہمیں زمانے کے حسن سے ہی نہیں زندگی کے معائب سے بھی آگاہ کرتی ہے جو انسانوں کا مقدر ہیں۔ آگے لکھتی ہیں کہ شاعری کو نہ اعمال نامہ بنایا ہے نہ سیاست نامہ“۔ اس تصنیف کے بارے میں جس کی آج تقریب ِ رونمائی ہے صرف اس قدر ہی کہوں گا کہ محاوروں اور کہاوتوں پر مشتمل کتب کئی احباب نے مرتب کیں لیکن ثروت سلطانہ ثروت کی یہ تصنیف اس اعتبار سے مختلف ہے کہ اس میں محض کہاوتیں اور محاورے ہی نہیں بلکہ ہر کہاوت اورمحاورے کو ایک شعر کا روپ دیا گیا ہے۔ ثروت کا یہ عمل اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ثروت ایک تخلیقی ذہن اور جدت پسند رجحان کی مالک ہیں۔ ان کی سوچ خوب سے خوب تر کی جانب سفر کرتی ہے۔ چند مثالیں دینا چاہوں گا۔
جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے
اللہ جس کو رکھنا چاہے کون اسے انگلی بھی لگائے
اس کے سر پر ہر لمحہ اس کی رحمت کے سائے
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
یہ تو چھوٹی سی قیامت تھی سروں سے ٹل گئی
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا
ایرے غیرے نتھو خیرے۔
اخلاقاً ہی ان سے کہا تھا کبھی مرے گھر بھی آئیں
شام کو ایرے غیرے نتھوخیرے لیے تشریف لے آئے
تم روٹھے ہم چھوٹے۔
شکر خدا کا اس سے ہمارا پیچھا ہی چھوٹ
تم روٹھے اور ہم چھوٹے یہ بھی اچھا ہوا
بھلائی کے بدلے برائی۔
عجیب رسم زمانہ دکھائی دیتی ہے
بھلائی کریں تو یہ دنیا برائی دیتی ہے
حاتم طائی کی قبر پر لات مارنا۔
ہم نے کبھی دیکھا نہ سنا آپ کے تحفے کی کیا بات
قبر پہ حاتم طائی کی آپ نے ماری لات
کچھ تو کہو۔
خاموشی توڑو پھول سے لب کھولو
میں نے کتنی باتیں کیں تم بھی کچھ بولو
اسی طرح کے بے شمار محاورے اور کہاوتیں اور شعر میں ان کا استعمال شاعرہ اور مصنفہ کی سوچ، محارت، کمال حافظہ، تحقیق و جستجو، ادب سے محبت، شاعری سے حد درجہ دلچسپی اور محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ داغ دہلوی کے اس شعر پر اپنی بات ختم کرتا ہوں۔
خط ان کا بہت خوب عبارت بھی ہے اچھی
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
(8جنوری 2022ء)





Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 788 Articles with 811318 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
10 Jan, 2022 Views: 218

Comments

آپ کی رائے