ظریفانہ: کلن شرما کی صاف گوئی

(Dr Salim Khan, India)


للن مشرا نے کلن شرما سے پوچھا کیوں بھائی کہاں غائب ہوگئے تھے ؟
کلن نے کہا میں کرنا وتی گیا تھا ۔
کرنا وتی ؟ یہ کون سا شہر ہے بھائی ؟؟
ارے وہی احمد آباد ۔ کم بخت تین دن تک کرنا وتی سنتے سنتے وہی زبان پر چڑھ گیا ۔
اچھا ! لیکن کون لوگ اسے بار بار کرنا وتی کہہ رہے تھے ؟
اسے بھائی اپنے سنگھ کے پرتی ندھی سبھا(مجلس نمائندگان) میں ہر کوئی وہی کہہ رہا تھا ۔
اچھا لیکن ان سے کس بیوقوف نے کہہ دیا کہ احمد آباد کا نام کرنا وتی ہے؟ اس شہر کو تو بڑے فخر سے مودی اور شاہ بھی احمد آباد ہی کہتے ہیں ۔
مجھے پتہ ہے لیکن کسی کو کہنے کی کیا ضرورت ؟ اسٹیج کے بینر پر بڑے بڑےحروف میں مقام اجتماع ’ کرنا وتی‘ لکھا تھا وہی کافی ہوگیا ۔
اچھا اب سمجھا کہ ’برین واش ‘ کیسے کیا جاتا ہے؟
ہاں بھائی لیکن سب کا نہیں ہوتا ۔ میں کتنے برسوں سے اپنے عزیز دوست للن مشرا کا برین واش کررہا ہوں لیکن کیا مجال ہے کہ کامیابی ملے۔
اچھا جب آپ لوگ احمد آباد میں تھےتو اسی وقت پردھان سیوک بھی وہاں پہنچےپھر بھی کچھ وقت نکال کر بھاگوت جی سے ملنے کیوں نہیں آئے؟
ارے بھیا وہ آج کل بھاگوت جی کو نہیں پوچھتے ۔ پردھان سیوک کے لیے فی الحال راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے لیے سمئے نہیں ہے۔
اوہو یہ چمتکار کیسے ہوگیا؟
بھیا سب مطلب کے یار ہیں۔ یہی سمجھ لو کہ ان کا قد بہت بڑھ گیا ہے اس لیے اب انہیں ہماری ضرورت نہیں رہی ۔
خیر پردھان جی کو چھوڑو اور یہ بتاو کہ آپ پرتی ندھی (نمائندہ) کب سے ہوگئے؟
ارے بھائی مہمان خصوصی کے طور پر ہم جیسے کچھ لوگوں کو اتر پردیش سے بلایا گیا تھا ۔
اچھا ! وہ کیوں ؟ یوگی جیت گئے اس لیے تو آپ لوگوں کا سماّن نہیں کیا گیا ؟
نہیں بھائی ۔ ہمیں تو اس وقت دعوتنامہ ملا جب یوگی کی حالت پتلی تھی ۔ سنگھ کو ڈر تھا کہ کہیں وہ ہار نہ جائیں ۔
اچھا تو مطلب سنگھ کا اندازہ غلط نکلا خیر اب یہ بتاو کہ وہاں کیا طے کرکے آئے ہو؟
بھائی دیکھو تین سال بعد سنگھ اپنے سو سال پورے کرلے گا ۔ تب تک سنگھ کویوپی کے ہر گاوں میں پہنچانے کا عزم لے کر لوٹے ہیں ۔
للن نے حیرت سے پوچھا کہ تو کیا 97؍ برسوں میں سنگھ اتر پردیش کے ہر گاوں میں نہیں پہنچ سکا ۔
کیا بتائیں للن یوپی تو دور مہاراشٹر جہاں سنگھ کی پیدائش ہوئی وہاں کے بھی ہم لوگ ہر گاوں میں اپنا جھنڈا نہیں گاڑ سکے ۔
تب تو بی جے پی والے تم سے آگے نکل گئے ۔ وہ تو یوپی اور مہاراشٹر کے ہر گاوں میں موجود ہیں۔
ارے بھائی للن بی جے پی کا کیا؟ اس کے سائے میں ہر چور ، اچکا ّ اور موقع پرست جمع ہوجاتا ہے لیکن ہمارا معاملہ ذرا الگ ہے ۔
اچھا لیکن جو لوگ سنگھ سے بی جے پی میں بھیجے جاتے ہیں ان کا کیا؟ وہ انہیں کیوں نہیں سدھارتے ؟
کلن قہقہہ لگا کر بولا سدھارنا تو دور وہ خود ان کی طرح بگڑ جاتے ہیں۔ یہ کمبخت سیاست چیز ہی کچھ ایسی ہے۔
تب پھر آپ لوگ ان کی حمایت کیوں کرتے ہیں ؟ ان کی ہر برائی پر پردہ ڈال کر جواز کیوں پیش کردیتے ہیں؟
یار سچ بتاوں یہ ہماری مجبوری ہے۔ ان کے اقتدار سے ہمارے لیے کام کے مواقع اور سہولت میں اضافہ ہوا ہے ۔ ورنہ تو سب پارٹیاں ایک جیسی ہیں۔
لیکن دنیا تو کہتی ہے کہ یہ سرکار آپ لوگوں کے اشارے پر چلتی ہے ۔
وہ ہمارے اشارے پر کیوں چلیں ؟ ہم ان سے تھوڑی ناکہتے ہیں کہ چوری چکاری کرو، دیش بیچو ، رشوت کھاو اور عیش کرو ۔
تب تو آپ لوگوں کو اس کی تردید کرنی چاہیے ۔
اس کا کیا فائدہ؟ سماج میں اگریہ بھرم رہے تو ہمارا نام ہوتا اور بہت سارے لوگ اس دھوکے میں سنگھ کے قریب آجاتے ہیں ۔
لیکن ان مفاد پرست لوگوں کے سنگھ میں آجانے کا کیا فائدہ ہوگا؟
ارے بھائی ان میں سے کوئی سدھر جائے تو فائدہ ورنہ کوئی نقصان نہیں ۔ اس لیے برداشت کرلیتے ہیں ۔
تو کیا اس سرکار کے آنے سے سنگھ کا کوئی فائدہ نہیں ہے؟
فائدہ توہے ہماری کچھ نظریات کو یہ لوگ اپنے فائدے کے لیے اپنا لیتے ہیں جیسے نصابی کتب میں گیتا یا رام چرت مانس کو شامل کیا جانا وغیرہ ۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن ان قصے کہانیوں کو تو لوگ ٹی وی سیریل کے ذریعہ ویسے بھی جان گئے ہیں ۔
جی ہاں لیکن پھر بھی تعلیم گاہوں میں دھرم کرم کا ماحول رہے تو لوگوں کی سنگھ سے قریب کرنے میں مدد ملتی ہے۔
بھائی کلن آپ لوگ بی جے پی کے اتنے محتاج ہوجاوگے میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا ۔
ارے کیا بتائیں للن ۔ ہماری نئی نسل کو بڑا دفتر اور اے سی چاہیے ۔ یہ سب بی جے پی سے مل جاتاہے اس لیے ہر کوئی اس کے آگے دُم ہلاتا ہے۔
سنگھ پرتو اب بھی پرانی قیادت اپنی پکڑ بنائے ہوئے پھر بھی آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟
پرانی قیادت موجود تو ہے مگر پکڑ نہیں ہے۔ نئے لوگ تو سنگھ کا صدر دفتر ناگپور سے ہٹاکر دہلی کے کئی منزلہ عمارت میں منتقل کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
کہیں اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ آپ لوگوں پر اندر اور باہر دونوں جانب سے دباو ہے؟
جی ہاں لیکن اس کاا عتراف نہیں کرسکتے اس لیے پی ایف آئی کا رونا اور مسلمانوں کا ڈر دکھانا پڑتا ہے۔
لیکن پی ایف آئی تو ابھی حال میں پیدا ہوئی ۔ اس سے عظیم ترین سنگھ پریوار کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے ؟
ارے بھائی اصل خطرہ مسلمان ہیں۔ وہ آئین کے نام پر مذہبی تشخص کو قائم کررہے ہیں ۔
لیکن کلن بھیا اگر یہ تشخص آئین کے خلاف نہیں ہے تو اس پر آپ لوگوں کو اعتراض کیوں ہے؟
ارے بھائی یہ ان کا مذہبی جنون ہے۔ حجاب کے نام پر انہوں نے ساری دنیا میں ملک کو بدنام کردیا ۔
بدنام پی ایف آئی نے نہیں بلکہ مسکان خان کا پیچھا کرکے نعرے لگا نے والے ہندوتواوادی بدمعاشوں نے کیا ۔ آپ کو ان پر تنقید کرنا چاہیے ۔
تمہاری بات درست ہے لیکن ان گدھوں کے خلاف کچھ کہنے سے بی جے پی کا ووٹر ناراض ہوجاتا ہے اور ہم بی جے پی ناراضی نہیں مول لے سکتے۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن اس طرح مظلوم کو ظالم کہنے سے انصاف پسند ہندو بھی تو ناراض ہوسکتے ہیں ۔
جی ہاں مگر وہ تو ہم سے پہلے بھی راضی نہیں ہے اور تعداد میں بھی کم ہے۔ اس لیے ان کے بجائے بڑی تعداد میں موجود ہندو جنونیوں کا لحاظ کرنا پڑتا ہے۔
اچھا تو کیا یہ بھی سنگھ کی مجبوری ہے؟ یہ بیوقوف تو اس طرح ملک کے ساتھ ہمارے مذہب کو بھی بدنام کردیں گے۔ ہم کسی منہ نہیں دکھا سکیں گے ۔
جی ہاں یہ خطرہ بھی ہے لیکن ہمیں فی الحال اقتدار اور مذہبی تقدس میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑ رہا ہے اس لیے ہم نے اقتدار کو منتخب کرلیا ۔
اچھا یہ بتاو کہ اس مجلس نمائندگان میں کیا کسی نئے خطرے کی نشاندہی کی گئی یا نہیں؟ ہر بار تم لوگ کوئی نہ کوئی نیا خطرہ ایجاد کرلیتے ہو۔
جی ہاں اس بار ہمیں یہ بتایا گیا کہ مسلمان بڑے پیمانے پر سرکاری ملازمت میں داخل ہوکر اس ملک کا نقشہ بدل دینا چاہتے ہیں ۔
یار کلن فی الحال ملک کی حالت بہت خراب ہے ۔ ایسے میں ہندو یا مسلمان جو بھی اس کا نقشہ بدل کر ٹھیک کردےتو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔
ارے للن ۔ تم نہیں جانتے ۔ یہ مسلمان بڑی خطرناک قوم ہے ۔
اچھا! لیکن یہی بات کہہ کر یتی نرسنگھانند مسلمانوں کے قتل عام کی ترغیب دیتا ہے تمہارے سرسنگھ چالک اس کی مخالفت کردیتے ہیں ۔
ارے بھائی بدنامی سے بچنے کے لیے ذرائع ابلاغ میں یہ کہنا پڑتا ۔ یہ ہاتھی کے دانت ہیں کھانے کے اور دکھانے اور۔
اچھا ! لیکن میں تو سمجھتا تھا کہ سنگھ اندر باہر ایک جیسا ہے، خیر مسلمان تو سرکار ی ملازمت میں ویسے بھی بہت کم ہیں ان سے بھلا کیا خطرہ؟
اوہو للن تم نہیں جانتے ۔ مسلمانوں کے اندر اس حوالے سے جو بیداری آرہی ہے وہ بہت بڑا خطرہ ہے۔ اس کا ابھی سے علاج کرنا ہوگا ۔
لیکن میں نے تو سنا ہے کہ دن بہ دن سرکاری ملازمت کم ہوتی جارہی ہیں ۔ دھیرے دھیرے سارا سرکاری کام کاج ٹھیکے پر اٹھایا جارہا ہے۔
صحیح سنا یہ تو دوہرا خطرہ ہے بھائی تم کیوں نہیں سمجھتے ؟
آپ سمجھائیں گے تو ہم سمجھیں گے ۔ للن مسکرا کر بولا ہماری کھوپڑی میں تو آپ جانتے ہیں کہ کیا بھرا ہے؟
دیکھو ایسا ہے پہلے ملازمت کم اس میں بھی مسلمان گھس گئے تو ان کا تناسب بہت بڑھ جائے گا اور ہماری مصیبت میں اضافہ ہوجائے گا ۔
چلو ایک خطرہ تو سمجھ میں آگیا اب دوہری مصیبت کیا ہے یہ بتائیے؟
للن بھائی مسئلہ یہ ہے کہ پہلے ہم لوگ مسلمانوں کے بجائے اپنے نااہل لوگوں کو کھپا لیتے تھے لیکن ٹھیکیدار کو مسلمان یا ہندونہیں کارآمد آدمی چاہیے ۔
اوہو کلن شرما جی آپ تو بہت دور کی کوڑی لائے لیکن یہ بتائیے کہ کیا آپ لوگوں کی نشست بہت لمبی نہیں چل گئی ؟ آپ تو دو ہفتہ بعد لوٹے ہیں ۔
جی نہیں وہ نشست تو صرف تین دن میں ختم ہوگئی ۔ وہاں سے واپسی میں چھوٹے بیٹے کے پاس ممبئی چلا گیا تھا ۔
للن نے کہا اچھا کیا ۔ پوتے پوتی کے ساتھ کچھ سمئے بتا آئے ان کو ہمارے ساتھ بہت اچھا لگتا ہے۔
اور ہمیں بھی ان کے ساتھ بہت آنند آتا ہے ۔
جی ہاں کلن بھیا ۔ اچھا ہوا جو سنگھ کے چکر میں پڑنے سے قبل آپ کی شادی ہوگئی ور نہ بچے ہوتے نہ پوتے ۔
ہاں یار کس قدر غیر فطری زندگی گزارنی پڑتی خیر بچوں کی امتحان کے بعد چھٹیاں چل رہی تھیں طبیعت خوش ہوگئی قسم سے بہت مزہ آیا ۔
اچھا خیر یہ بتاو کہ ممبئی میں یہ راج ٹھاکرے کو کیا ہوگیا ۔ پہلے ہم اُترّ بھارتیوں کے پیچھے پڑا رہتا تھا اب اذان کے خلاف ہوگیا۔
ارے بھائی اس کا کیا ۔ وہ بھانڈ ہے جو پیسے دے اس کے لیے کھیل کرتا ہے ۔
میں سمجھا نہیں شرما جی ۔ ذرا کھول کر بتائیں۔
تمہیں یاد ہے 2018میں شرد پوار کے چکر میں مودی مکت بھارت کی بات کرتا تھا اب نتن گڈکری کے اشارے پر ناچ رہا ہے۔
لیکن ہمارے یوپی میں یوگی کے ہوتے اذان سے کوئی دِقتّ نہیں ہے تو ممبئی میں کیا ہوگیا؟
ارے بھائی اتنا بھی نہیں سمجھتے یوپی میں الیکشن ہوچکا اب کیا ضرورت ؟ وہاں بلدیاتی انتخاب ہونے والے ہیں اس لیے ضرورت آن پڑی ۔
لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کے جلسہ میں اتنے لوگ کیسے جمع ہوگئے ؟
ارے بھائی وہ اس کے آدمی تھوڑی نا تھے۔ میں خود گیا تھا ۔ بی جے پی والے ہم سب کو ڈھو کر لے گئے تھے۔
اچھا مگر بی جے پی کو اس کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟
کیا کریں بھائی ہمارے درمیان ایسا ایک بھی خطیب نہیں ہے جو لوگوں کو اس طرح مشتعل کرسکے۔ اس لیے اس گدھے کو باپ بنانا پڑا ۔
بھائی کلن مہاراشٹر میں تمہارا سنگھ تقریباً سو سال سے کام کررہا ہے پھر بھی اس کی نوبت کیوں آتی ہے؟
یار کلن سمجھ میں نہیں آتا پہلے تو کوئیبا صلاحیت آدمی ہمارےقریب پھٹکتا نہیں ہے اوربھول چوک سے جو آجائے تو وقت کے ساتھ نااہل ہوجاتا ہے۔
کیسی باتیں کرتے ہیں کلن بھیا۔ ہمارے یوپی میں یوگی جی جیسے قدآور رہنما جو ہیں۔
وہ بھی ہماری شاکھا سے نہیں آیا ۔ اس لیے گئو ماتا کو تو گھاس ڈالتا ہے ہمیں بالکل نہیں ڈالتا ۔
لیکن کیشو پرشاد موریہ تو سنگھ سے گئے تھے ۔
جی ہاں مگراس نے نائب وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود الیکشن ہار کر ہماری ناک کٹوا دی ۔
مجھے تو لگتا ہے انہیں بھی ڈاکٹر دنیش شرما کی طرح الیکشن ہی نہیں لڑنا چاہیے تھا ۔
لیکن تم نے نہیں دیکھا ۔ یوگی نے اپنے کو بھی دودھ سے مکھی کی طرح نکال باہر کیا ۔
اور ہاں ان کی جگہ بی ایس پی سے آنے والے برجیش پاٹھک کو نائب وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا یہ تو بہت ناانصافی ہے۔
کیا کریں بھائی ہمارے پاس تو نو بار الیکشن جیتنے والے سریش کھنہ بھی تھے لیکن یہ غنڈہ ان سے آگے نکل گیا۔ بہت بری بات ہے۔
لیکن اس کا کیا کرن ہے کلن بھیا؟
دراصل یوگی کو ہم پر وشواس نہیں ہے اور ہمارے یہاں بھی قحط الرجال ہے۔ اس لیے یہ ر سوائی سہنی پڑتی ہے۔
للن بولا کلن بھیا آپ کی حق گوئی مجھے بہت پسند ہے ۔ آپ ہمیشہ بغیر لاگ لپیٹ کے سچ سچ بول دیتے ہیں ۔ چلیے اب اجازت دیجیے۔
شکریہ بھئی کلن کیا کریں ۔ سچ بولنے کی عادت بچپن میں ہی کچھ ایسی پڑی گئی کہ لاکھ کوشش کے باوجود نہیں جاتی ۔ چلیے پرنام ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1659 Articles with 815180 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Apr, 2022 Views: 243

Comments

آپ کی رائے