از:۔ ڈاکٹر صوفیہ فرناز
" />

"تاریخ کی تاریخ"(آغازِ تاریخ تا بیسویں صدی)

(Muhammad Ahmed Tarazi, karachi)
تعارف و جائزہ
"تاریخ کی تاریخ"(آغازِ تاریخ تا بیسویں صدی)
از:۔ ڈاکٹر صوفیہ فرناز

تاریخ کی تاریخ

"تاریخ کی تاریخ"(آغازِ تاریخ تا بیسویں صدی)
از:۔ ڈاکٹر صوفیہ فرناز
قوموں کی زندگی میں تاریخ کی اہمیت اور اس کی قدر وقیمت وہی ہے،جو فرد واحد کی زندگی میں اس کے حافظہ اور یادداشت کی ہوتی ہے جس طرح ایک شخص کی یادداشت اس کی سوچ، شخصیت،کردار،افکار اور نظریات پر سب سے زیادہ اثر اندازہوتی ہے ٹھیک اسی طرح ایک قوم کی اجتماعی زندگی اور مجموعی طرز ہائے عمل پر سب سے گہرا اثر اس کی تاریخ کا ہوتا ہے،تاریخ ہی کے ذریعہ قوموں کے مدوجزر،عروج وزوال اور ترقی وانحطاط کی راہیں متعین ہوتی ہیں،اسی سے امم سابقہ کی لغزشوں، کوتاہیوں،کمز وریوں اور غلطیوں کا پتہ چلتا ہے اور ان کے اسباب ووجوہ معلوم ہوتے ہیں،تاریخ کا مطالعہ دلوں میں ندامت وشرمندگی کا احساس پیداکرتا ہے اور اقوام وملل کو اس بات سے آگاہ کرتا ہے کہ کسی بھی لمحہ ان کی مجرمانہ غفلت وکوتاہی ان کو اوج ثریا سے تحت الثری تک پہونچا سکتی ہے ۔
مطالعۂ تاریخ ہی کے ذریعہ ارادوں میں استواری ، حوصلوں میں بلندی اور عزائم میں پختگی پیدا ہوتی ہ،گم کردہ راہوں کو دانائی، بصیرت ،دور اندیشی اور عزم واحتیاط کا درس ملتا ہے ، تاریخ کاطالب علم ہر آن اور ہر لحظہ اپنے آپ کو انبیاء ورسل ، اولیاء وامراء اور فاتحین وعلماء کی مجلسوں میں محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر زندہ اور باشعور قوم اپنی تاریخ رقم کرنے اس کو محفوظ رکھنے اور ممکنہ حدتک اِس کی تبلیغ واشاعت کرنے کی پوری سعی وکوشش کرتی ہے۔
"تاریخ کی تاریخ"دراصل اسی سلسلے کی ایک ابتدائی کڑی ہے۔جسے محترمہ ڈاکٹر صوفیہ فرناز(اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ اسلامی تاریخ، جامعہ کراچی) نے تالیف کیا ہے۔اس کتاب کے ابتدائیہ میں ڈاکٹرصاحبہ لکھتی ہیں کہ "تاریخ ایک زندہ مضمون ہے ،ہر گزرنے والا لمحہ تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے اور اُس کا تعلق اپنے ماضی سے قائم ہوجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب تک کائنات کا وجود قائم ہے تاریخ اپنے آپ کو دہراتی رہے گی اور ہر دور میں اِس کی افادیت قائم رہے گی۔اسی سبب سے تاریخ کاہر موضوع خواہ اُس کا تعلق اسلام سے ہو یا دیگر مذاہب سے،یا کسی بھی نسل اور خطہ کی تاریخ ہو، اُن پر علمی و تحقیقی کام ہورہا ہے،اور ہوتا رہے گااورہر دور کے تاریخ نگار اِس علم کو اپنی تحریروں کے ذریعہ آنے والی نسلوں تک منتقل کرتے رہیں گے۔آگے لکھتی ہیں کہ زیر نظر کتاب میں تاریخ کے آغاز وارتقاء کے ساتھ ساتھ بالخصوص مسلمان تاریخ نگاروں کی کاوشوں کا اجمالی جائزہ لیا گیا ہے۔اور تاریخ نگاری کے مختلف ادوار کا مختصر اور برصغیر میں تاریخ نگاری کا کسی قدر تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے۔"
کتاب کے آغاز میں "تاریخ کی لغوی تعریف"،"اصطلاحی تعریف"،"تاریخ کی اہمیت"اور"تاریخ کی افادیت" جیسے موضوعات پر مختصر گفتگو کی گئی ہے تاکہ آگے آنے والے موضوع کا تسلسل قائم رہے اور نفس مضمون سے آگاہی رہے۔کتاب کا اگلا عنوان"تاریخ نویسی کے فنی اصول" سے متعلق ہے۔جس میں تاریخ نویسی کے مختلف اصول و قواعد پر تاریخ دانوں کے نظریات کا جائزہ لیا گیا ہے۔"تاریخ نویسی کی اقسام اور نوعیت"کےضمن میں "اساطیری تاریخ"،"آثار قدیمہ"، "نوادرات"،"کتبے"،"شجرے"،"رسم الخط"، "بیانیہ تاریخ"،"سوانح حیات"،"ثقافتی تاریخ"،"معاشرتی تاریخ"جیسے عنوانات زیر بحث ہیں۔ "تاریخ ِ تاریخ نویسی"کا عنوان اِس علم کی تاریخ کا احاطہ کرتا ہے۔جس میں "تاریخ نویسی کا یونانی دور"،"تاریخ نویسی کا ایرانی دور"،"تاریخ نویسی کا عربی دور"اور "تاریخ نویسی کا اسلامی دور" جیسے عنوانات پر مختصر مگرپُراثرمعلومات موجود ہے ۔
اسلامی تاریخ نویسی کے حوالے محترمہ ڈاکٹر صوفیہ فرناز لکھتی ہیں کہ "مسلمانوں میں تاریخ نویسی کا آغاز سیرت و مغازی سے ہوتا ہےجس کا آغاز قرن اوّلیٰ میں ہی ہوگیا تھا اور جس کا سلسلہ عہد حاضر تک اسی جوش وجذبے کے ساتھ جاری ہے"آپ دور نبوی ﷺسے لے کر پہلی صدی تا نویں صدی ہجری تک کا ذکر کرتے ہوئے آخر میں لکھتی ہیں کہ "اسلامی و عالمی تاریخ نویسی میں مسلمانوں نے اتنابھر پور کردار ادا کیا کہ انتہائی اختصار کے باوجود تمام کا جائزہ احاطہ تحریر سے باہر ہے۔مورخین کے صرف نام ہی تحریر کردئیے جائیں تو ایک ضخیم کتاب تیار ہوجائے،لہٰذا طوالت کے باعث علمائے تاریخ اسلامی اندلس،دولت عثمانیہ و صفویہ،فاطمی،ایوبی و ممالک کے ناموں اور کارناموں سے صرف نظر کیا ہے۔"
"برصغیر میں تاریخ نگاری کی مختصر تاریخ"کے ضمن میں"عہد سلاطین میں فارسی تاریخ نویسی کا آغاز" کا دور عظیم ترین ماہر ہندوستانیات کا دور ہے۔ اِس دور کے حوالے سے ڈاکٹر صاحبہ خواجہ حسن نظامی،قاضی سید الدین عوفی،قاضی منہاج الدین سراج الجوزجانی،امیر خسرو،ابن بطوطہ، ضیاء الدین برنی،شمس سراج عفیف اور یحییٰ بن احمد سرہندی،وغیرہ کا بالخصوص ذکر کرتی ہیں۔
"عہد مغلیہ میں تاریخ نویسی" کے عنوان سے آپ لکھتی ہیں کہ"شاہان تیمور اعلیٰ تعلیم یافتہ اور علم وادب کے بڑے سرپرست تھے۔مغل دور میں ہندوستان میں تاریخ نویسی کا آغاز امیر تیمور سے ہواتھا۔"چونکہ تیمور نے ہندوستان پر اپنی باقاعدہ حکومت قائم نہیں کی اِس لیے اُنہوں نے مغلیہ دور کی تاریخ نویسی میں اُن تاریخ نگاروں کا جائزہ لیا ہے جنھوں نے سرزمین ہند میں رہتے ہوئے یہاں کی تاریخ قلمبند کی۔اِن میں شاہان مغل بھی تھے اور اُن کے دربار سے وابستہ افراد بھی۔اِن تاریخ نگاروں میں ظہیرالدبن بابر، شہزادی گلبدن بیگم،جوہر آفتابچی،خواندامیر،مرزا حیدر دغلت،ملا عبدالقادر بدایونی،ابوالفضل،خواجہ نظام الدین احمد،شیخ عبدالحق محدث دہلوی،ملا عبدالباقی نہاوندی،محمد قاسم فرشتہ،نورالدین محمد جہانگیر،معتمد خان،عبدالحمید لاہوری،محمد صالح کنبوہ،محمد کاظم شیرازی،محمد ساقی مستعد خان،اورنگ زیب عالمگیر،ہاشم علی خان،صمصام الدولہ،اور غلام حسین طباطبائی وغیرہ شامل ہیں۔
"برطانوی ہندوستان میں تاریخ نویسی"کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سولہویں صدی میں تاجروں کے روپ میں آنے والے انگریز اٹھارویں صدی تک حاکمانہ اختیارات کے مالک بن چکے تھے۔اُنہوں نے ہندوستان کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ۔سنجیدگی سے تاریخ کا مطالعہ کیا اور خود بھی نہ صرف ہندوستان کی تاریخ رقم کی بلکہ تاریخ وادب کی سرپرستی بھی کی۔ہندوستان کی عام تاریخ کے علاوہ برطانوی تاریخ نگاروں نے علاقائی تاریخ کی طرف بھی توجہ دی۔حقیقت یہ ہے کہ برطانوی فن تاریخ نگاری کے طریقوں اور رجحانوں نے ہندوستانی دور وسطیٰ کی برطانوی تحریر کے کردار پر اثر ڈالا۔
"برصغیر میں جدید تاریخ نگاری"کے حوالے سے ڈاکٹر صاحبہ لکھتی ہیں کہ "انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اوّل میں جہاں علمی وسیاسی بیداری پیدا ہوئی وہاں مسلمانوں نے مذہبی طور پر سیرت نگاری،اسلامی تاریخ اور تاریخ ہند کا بھی بھرپور احیاء کیا۔اِن جدید تاریخ نگاروں میں سرسیداحمد خان،شبلی نعمانی،ذکااللہ،سید امیر علی،چراغ علی،محمد حسین آزاد،عبدالرزاق کانپوری،عبدالحلیم شرر،سید علی بلگرامی سید سلیمان ندوی، غلام رسول مہر،ہاشمی فریدآبادی،رئیس احمد جعفری، سعیداحمد اکبرآبادی اور شیخ محمد اکرام نمایاں ہیں۔"اِس ضمن میں آپ فرداً فرداًاِن مورخین کا تعارف اور اُن کی اہم تصانیف کا جائزہ بھی لیتی ہیں۔
اس کے علاوہ صباح الدین عبدالرحمن ،شاہ معین الدین ندوی،عبدالسلام ندوی،ریاست علی ندوی، ڈاکٹر محمد عزیز،سید نجیب اشرف ندوی،مولانا ابوالمحصنات ندوی،اکبر شاہ خان نجیب آبادی،ابوالحسن ندوی،مولانا مودودی،ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی،محمد دین فوق جیسے تاریخ نویسوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحبہ لکھتی ہیں کہ اُنہوں نے تالیف تراجم کے انبوہ کثیر سے تاریخ اسلام و تاریخ پاک وہند کے مختلف گوشوں کو قلمبند کرکے ذخیرہ تاریخ میں بے پناہ اضافہ کیا۔
کتا ب کااختتامیہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ "بیسویں صدی میں جدید تاریخ نگاری کے مختصر جائزے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا شخصیات تاریخ نگاری کے کسی خاص اسلوب کی موجد نہیں ہیں ۔اُنہوں نے درجہ اوّل کے ماخذ کے علاوہ درجہ دوم و سوم کے ماخذ کو بھی اپنی تاریخ نگاری کی بنیاد بنایا ہے۔
یاد رکھیئے کہ کسی بھی قوم کی کمزور تاریخ یاپھر اپنی عظیم تاریخ کا کمزور شعور تخلیقی صلاحیتوں کو مردہ اور سارے نظام اقدار وخیالات کوتباہ وبرباد کردیتا ہے ، اور اقوام عالم میں صرف مسلم قوم ہی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ تمام قوموں میں سب سے زیادہ روشن تاریخ اور شاندار ماضی رکھتی ہے، اور یہ ایسی ناقابل انکار حقیقت ہے جس کا غیروں نے بھی کھل کر اعتراف کیا ہے۔ مگر حیف صد حیف کہ مسلمانوں کا وہ طبقہ بھی جو کسی درجہ میں بیدار اور ہوشیار کہاجاسکتا ہے اپنے درخشاں ماضی سے غافل اور اپنی تابناک تاریخ سے لا پرواہ نظر آتا ہے ، یہ آج اسی کا نتیجہ ہے کہ آج عالمی سطح پر دانشوران مغرب یہ باور کرارہے ہیں کہ مسلمانوں کی اپنی کوئی تاریخ نہیں۔
اور اگر ہے بھی تو ان کی تاریخ کا ورق ورق ظلم وستم ، جنگ وجدال اور تشدد وانتہا پسندی سے عبارت ہے جن کا مقصد بزور شمشیر اپنے مذہب کا پرچار اور اپنے اسلام کا نفاذ ہے۔اسی بناء پر اُنہوں نے آپ ﷺ کی شخصیت کو مجروح کیا، حضرت عمرفاروقؓ پر اعتراضات کئے ، محمد بن قاسم کو ڈاکو اور لٹیرا ثابت کیا، محمود غزنوی ،صلاح الدین ایوبیؒ، اور اورنگ زیب عالمگیرؒ جیسے منصف حکمرانوں کو ظالم اور غاصب جیسے القاب سے نوازا، جو علمائے مغرب کی مادی تربیت ، مذہبی عصبیت اور مغربی قومیت کا عظیم شاخسانہ ہے ، اور ہم مسلمانوں کے لیے تازیانہ عبرت اور دنیائے اسلام کے لیے زبردست چیلنج ہے۔اس لیے ضرورت اِس امر کی ہے کہ اپنے ماضی کی تاریخ سے رشتہ استوار کرکے حال کی درستگی اور مستقبل کی فکر کی جائے۔
ایک سو اٹھائیس صفحات کو محیط یہ مختصر کتاب اپنے موضوع کے اعتبار سے بہت اہم اور معلوماتی دستاویز ہے۔ڈاکٹرصوفیہ فرناز صاحبہ نے اختصار مگر جامعیت کے ساتھ دریا کو کوزے میں بند کرنے کی ایک کامیاب سعی کی ہےجس کے لیے وہ قابل ستائش ہیں۔اس کامیاب کاوش پر ہم ڈاکٹر صوفیہ فرناز صاحبہ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔"تاریخ کی تاریخ"دیدہ زیب سرورق سے مزئین اعلیٰ کاغذ پر شائع کی گئی ۔آخر میں ہم پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد سہیل شفیق صاحب(صدر نشین شعبہ اسلامی تاریخ جامعہ کراچی۔کراچی) کے بھی شکر گزار ہیں کہ آپ کے توسط سے اِس اہم علمی کتاب سے ہمیں واقفیت اور تعارف کا موقع ملا۔
محمداحمد ترازی
مورخہ 7 مئی 2022ء کراچی
2

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M.Ahmed Tarazi

Read More Articles by M.Ahmed Tarazi: 267 Articles with 211263 views »
I m a artical Writer.its is my hoby.. View More
09 May, 2022 Views: 274

Comments

آپ کی رائے