پتلی تماشا

(Faisal Farooq Sagar, Gujranwala)

سیاست پتلی تماشا بن چکی ہے سکرپٹ جو بھی ہو سارے کردار اس میں ڈھل جاتے ہیں ان کرداروں کی کوئی سوچ اور خیال تک اپنا نہیں جب کبھی یہ کردار لکھنے والے کے قلم کی جنبش سے ہلکی سی انگڑائی بھی لیتے ہیں تو بھولے بھالے عوام کو خوامخواہ ہی اپنے حالات بدلنے کی اُمید پیدا ہونے لگتی ہے لیکن نتیجہ چہرے بدلنے اور اِدھر کا مال اُدھر ہونے کے سوا کچھ نہیں نکلتا لکھنے والے ایک خاص وقت اور مدت کے بعد کرداروں کو آپس میں بدلتے رہتے ہیں بعض اوقات جب یہ کردار بالکل متضاد پوزیشن لے لیتے ہیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے لیکن یہ سلسلہ نہیں رکتا اسی طرح پونی صدی گزر گئی ہمارا دائروں میں سفر جاری حالیہ قصہ یہ ہے کہ عدالتوں میں خاندان سمیت دھکے کھاتے اور رُ لتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کو جان جاناں بننے اور ’’سلیکٹ‘‘ ہونے میں مہینے نہیں محض کچھ دن لگے ہیں عوام کے حالات سے قطع نظر نئی تبدیلی یہ ہے کہ ایک کٹھ پتلی کی جگہ اب کئی کٹھ پتلیوں نے لے لی ہے جن کی ڈوریاں دیکھنے میں الگ الگ مگر انکا مرکز ایک ہے سلیکٹیڈ کا شور کرنے اوردن رات تبریٰ کرنے اور انہیں سرعام للکارنے والے اب اچھے بچے بن کر انہی اداروں کی افادیت اہمیت اور احترام پر لیکچردے رہے ہیں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ سننے کواب کان ترس جائیں گے ایک طرف تو اقتدار کی اس چھینا جھپٹی میں الزامات جھوٹ اور کردارکشی کی توپیں گولے برسا تی چلی جارہی ہیں دوسری جانب مالش اور پالش کا مقابلہ بھی زورو شور سے شروع ہوچکا ہے اپوزیشن میں بیٹھ کر الیکشن جلدی کرانے کے لئے لوٹ پوٹ ہونے والے راہنما اب حکومت میں آکر انتخابی و معاشی اصلاحات کے نام پر ٹیسٹ اننگز کھیلنے کے موڈ میں ہیں جبکہ 2028تک وزرارت عظمیٰ کی رجسٹری ہاتھ میں لے کرگھومنے والے سابق وزیر اعظم اور انکے ساتھی اب جلد نئے الیکشن کے لئے بے چین ہوئے جاتے ہیں سیاستدانوں کو بات بیان اور پوزیشن بدلتے شرم محسوس نہیں ہوتی سابق انقلابی وزیر اعظم بات سے مکر نے کو عظمت اور قابلیت قرار دے چکے اسلئے اعلیٰ عدلیہ کا فیصلہ قوم سے خطاب میں مان لینے کے باوجود اب اقتدار سے محروم ہونے کے بعد شہر شہر پوچھتے پھر ر ہے ہیں میرا جرم کیا ہے؟ اسی فریاد والی کیفیت کو تو’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کہا جاتا ہے زخم خوردہ پاکستانی سابق وزرائے اعظم کے نوحے بھی کتنے ملتے جلتے ہیں کپتان کو اب بالکل نیا تجربہ ہوا ہے وہ کہتے ہیں کہ رات کو عدالتیں لگانے کو عمر بھر نہیں بھولوں گا کرکٹ میں نیوٹرل امپائرنگ کی حمایت کرنے والے ورلڈ کلاس کھلاڑی کو سیاسی کھیل میں ’’وڈے گھر‘‘ کے’’نیوٹرل‘‘ ہونے کے سائیڈ ایفیکٹس کا اندازہ نہ تھا نئے وزیر اعظم شہباز شریف سے ہمدردی ہے کہ وہ اس ملک کے وزیر اعظم بنے ہیں جہاں پہلے وزیر اعظم کو سینے پر گولی ٹھوک کے سلامی دی گئی تھی۔۔۔شہباز شریف گارڈ آف آنر لے رہے تو چہرہ یوں لگ رہا تھا کہ انہیں کوئی سزا سنا دی گئی ہے چھٹی کے بعد ان سے کیوں نکالا اور میرا جرم کیا ہے کی طرز پر کیوں دھکیلا۔۔۔کیوں ڈبویا۔۔۔کیوں برباد کیا کی فریاد کی توقع رکھنی چاہئے وہ ویسے بھی چار دنوں کے وزیر اعظم ہیں۔۔۔۔ وہ امریکہ سے آنے والا اپنے سفیر کامراسلہ تاریاخط قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کر کے دیکھ لیتے تو اپوزیشن کے آدھے دکھ دور ہو گئے ہوتے لیکن شہباز شریف نے اجلاس میں نہ جا کر اس وقت کے وزیر اعظم کو واک اوور دے دیا کوئی شہباز شریف سے پوچھے کہ انہیں عمران خان سے اتنی ہمدردی کیوں تھی نجانے سیاستدان حادثات سے سبق کیوں نہیں سیکھتے اہل سیاست نے خودسیاست اور جمہوریت کی بدنامی میں ساری حدیں پار کرلی ہیں جمہوریت کی حقیقت یہ کہ کسی کا بھی سرے سے جمہوریت پر یقین ہی نہیں کوئی عوام اور آئین کی حکمرانی ماننے کو تیار نہیں ن لیگ کی ذاتی جمہوریت کی شریف خاندان سے باہر جھانکنے کی جرات نہیں درجن بھر جماعتوں کے اتحاد کے باوجود پنجاب میں شہباز شریف کے بیٹے کے علاوہ کوئی دوسرا موزوں شخص وزیر اعلیٰ کے لئے نہیں ملا ن لیگ کی کبھی کے پی میں حکومت آئی تو سلمان شہباز کی وزارت اعلیٰ پکی ہے یہ کیسی اورکس قسم کی جمہوریت ہے جمہوریت والے خودجمہوری نظام کی بوٹیاں نوچ رہے ہیں جس شاخ پر بیٹھتے ہیں اسی کو کو کاٹنے لگ جاتے ہیں انکی حرکتیں کب ٹھیک ہوں گی اہل سیاست کا المیہ ہے کہ انکاکوئی معاملہ منتخب ایوانوں میں طے نہیں ہو پارہاکوئی مسئلہ وہاں حل نہیں ہو رہا منتخب ایوانوں میں آئین شکنی عام با ت بن گئی ہے ساری لڑائیاں عدلیہ کے پاس جارہی ہیں یہاں آئین توڑنا سب سے آسان کام ہے جس پرکسی کو سزا بھی نہیں ملتی آئین اور جمہوریت کی بات سب کرتے ہیں مگر اسکی پیٹھ میں چھرا گھونپنے سے بھی باز نہیں آتے، سودا پیسے سے ہو یاٹکٹوں کی شکل میں۔۔۔ منڈیاں لگی ہوئی ہیں ووٹنگ کے دن جو ریسلنگ پنجاب اسمبلی میں دیکھنے میں آئی اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ملک میں جمہوریت کا مستقبل کتنا تابناک ہے، پہلی بار پولیس نے ایوان کے اندرجا کرممبران اسمبلی کو دھویا بھی اور مار بھی کھائی۔۔۔ہم دن بدن پستیوں کی جانب جارہے ہیں، عوام کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا گلی گلی لوگ لڑ رہے ہیں گالی جمہوریت کو پڑ رہی ہے آدھے سے زیادہ آبادی پارلیمانی جمہوری نظام کو ویسے ہی نہیں مانتی اب شاید تھوڑے لوگ باقی ہیں جو ملک میں جمہوریت چاہتے ہیں آئین اور جمہوریت ہمارے یہاں نمائشی پودے ہیں جنہیں درخت بننے سے روکنے کے لئے کمزور اور لاغر ہی نہیں رکھا گیا بلکہ جڑوں تک چھلنی کر دیا گیا ہے۔۔۔جمہوریت کے اس ناتواں پودے کوپولیو کی طرز پر قطرے پلا پلا کر پالا پوسا نہیں جا سکے گا نہ کوئی ایسا انجکشن ہے جسے لگانے سے ہمارے ملک میں جمہوریت کا پودا تیزی سے پروان چڑھنے لگ جائے گا اسکے لئے تو اپنے اندر جمہوریت لانا ہو گی سیاستدانوں کے رویے جمہوری ہیں نہ ان میں تنقید سننے کا حوصلہ نہ تحمل اوربرداشت کی قوت،کوئی کسی کے ساتھ بیٹھنے تک کو تیار نہیں، ایک دوسرے کی شکلیں برداشت نہیں اہل سیاست نے جمہوریت کی رسوائی میں حسب توفیق حصہ ڈالا ہے
میرے جتنے بھی یار تھے سب نے
حسب توفیق بے وفائی کی

’’وڈا گھر‘‘ اس سارے تماشے میں مارشل لاء نہ لگانے کی بات کرے تو اسکو بھی وارننگ ہی سمجھنا چاہئے، پی ٹی آئی اب نئی پوزیشن میں ہے اسکے لئے اقتدار ابھی بھی حرام نہیں ہوا وہ دھل کر پاک صاف قرارپا کے واپس لائی جاسکتی ہے اپوزیشن کو شاید ابھی اندازہ نہیں کہ اسکے ساتھ ہوا کیا ہے کپتان اور اسکے ناکام کھلاڑیوں کواعتراض ہے کہ فارن فنڈنگ کیس میں صرف ان سے ہی کیوں باز پرس ہو رہی ہے دوسری جماعتوں سے کیوں نہیں۔۔۔۔کوئی بتائے کہ پانامہ پیپرز کے ساڑھے چارسو لوگوں میں سے جے آئی ٹی بنا کر اور اس پر ایک عدالتی مؤکل بٹھا کرکیا نواز شریف کی طرح اور کسی سے بھی حساب لیا گیا تھا، یہاں حساب کتاب صرف وقت کے دشمن سے لیا جاتا ہے،کسی کے خلاف کرپشن کیس میں جان نہ ہو تو 15کلو ہیروئن بھی ڈالنا کوئی مشکل بات نہیں اور اس پر اﷲ اور قرآن کی قسمیں کھانے اور ثبوت پیش کرنے کی باتیں کرنے والے بازاری سیاستدانوں کی بھی کمی نہیں پی ٹی آئی اب تھوڑا صبر تو کرے کپتان کے توشہ خانے کے تحائف کی فروخت نے انکے دیانتداری کے دعوے کے پرخچے ویسے ہی اڑا کر ر کھ دیئے ہیں ن لیگ اپوزیشن سے حکومت میں آئی ہے توابھی تک اپوزیشن دور کے’’کومے‘‘ سے باہر نہیں نکل سکی اسی لئے ٹھیک طرح سے جشن تک نہیں منا سکی اراکین اسمبلی کے عوام سے رابطے تقریباََ نہ ہونے کے برابر ہیں حمزہ جس طرح اسمبلی میں مارشل آرٹس کے مظاہرے سے وزیر اعلیٰ بنے ہیں انہیں مبارکباد دیتے ہوئے بھی کلیجہ منہ کو آتا ہے ان کا حلف بھی آئین کی خلاف ورزی کی جنگ کی نذر ہو رہا ہے پنجاب میں ن لیگ کا پولیس کے حوالے سے ریکارڈ ویسے بھی اچھا نہیں ہے دعاہے کہ انکے نئے دور میں سانحہ ماڈل ٹاؤن جیسا واقعہ دوبارہ نہ ہو، شیخ رشید کے ذکر کے بغیر سیاست ادھوری ہے جنہیں کپتان کی مقبولیت پر اب بھی بھروسہ ہے عمران خان انکا دسواں سچا عشق ہے اسلئے انہوں نے سیاست سے ریٹائرمنٹ واپس لے لی ہے یہ اس بات کی نشانی ہے کہ پی ٹی آئی وہ دلہن ہے جسکی پیا جی سے صرف ناراضی چل رہی ہے اس کا گھر ابھی مکمل اجڑا نہیں یہ دوبارہ بھی بس سکتا ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Faisal Farooq Sagar

Read More Articles by Faisal Farooq Sagar: 91 Articles with 45237 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 May, 2022 Views: 295

Comments

آپ کی رائے