پاکیستان کے سیاستدانوں کی اک تلخ حقیقت

(Malik Anwar Zia, Sargodha)

آصف علی زرداری: پاکستان کے سب سے بڑے سیاستدان ہیں، سیاست کرنا تو کوئی ان سے سیکھے، سیاست ان کو وراثت میں ملی ہے چوری ڈاکہ ، اور ایک چور کو پلاننگ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی یہ اتنے ایکٹو ہوتے ہیں کہ وقت و حالات دیکھ کے ہی ان کو پتا چل جاتا ہے کہ واردات کیسے کرنی ہے، کیسے، کہاں سے، کب بچ کے نکل جانا ہے. یہ انکی مہارت ہوتی ہے.

عمران خان: پاکستان کی شان ایک ضدی کھلاڑی جو کسی کی بھی نہیں سنتا
کرکٹ کا بےتاج بادشاہ، لیکن سیاست سے انجان ابھی سیکھ رہے ہیں، سیاست کا پہلا سبق ملا تحریک عدم اعتماد سے، جو ناکارہ زنگ لگے گھسے پٹے پرانے پرزے جوڑ کے معیشت کی گاڑی پہ بیٹھا دیا اک اناڑی ڈرائیورعثمان بزدار کو، امریکہ سے جب چلی تیز آندھی جو سب کو اڑا کے لے گئی سب کچھ یوں بکھر گیا کہ جیسے کباڑخانے کا کوئی ٹرک الٹ گیا ہو. جن پہ ناز تھا کبھی خان کو وہ سبھی دوست دشمن بن گئے. عمران خان پھر سے آ رہا ہے حقیقی آزادی کا نعرہ لیکر، جیت ضرور جائے گا، مگر حقیقی آزادی ایک خواب ہی بن کے رہ جائے گی. عمران خان ٢٢ سال کی جدوجہد کے بعد اس مقام پہ پہنچے مگر ٢٢ سال اور لگے گے اک عظیم سیاست دان بننے میں.

نواز شریف: پاکستان کے سب سے طاقتورظالم ڈھیٹھہ سیاست دان ضدی جٹ
مشورہ گیروں کے سہارے پرچیوں پہ حکومت چلاتے ہیں، پاکستان کو اپنے باپ کی ریاست سمجھتے ہیں، حکمرانی کی ایسی لت لگی ہے کہ شرم و حیا عزت و غیرت، انسانیت سب کچھ بھول گئے ہیں، کہ جھوٹ بھی بولتے ہیں تو اتنے تکبر و فخر سے بولتے ہیں کہ ان کے گمراہ کیے لوگ بھی سچ سمجھ لیتے ہیں. غریب عوام کو تو یہ کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں ظالم، رستے میں آنے والی ہر دیوار گرا دیتے ہیں پاک فوج کے سوا پاکستان کے ہر اک ادارے میں اپنے ذاتی ملازم بیٹھا رکھے ہیں تا کہ مشکل وقت میں ان کا دفاع کر سکیں، اگر کوئی ایماندار آفیسر آ جاے تو اسے دھمکیاں دے کے ڈرایا جاتا ہے. جو نہ ڈرے اسے مروا دیا جاتا ہے. اور زیادہ تر تو لوگ خرید لیئے جاتے ہیں، ہر دوسرا آدمی بک جاتا ہے یہاں. ایسے لوگوں کا کوئی کچھ نہیں بیگاڑ سکتا جو قانون و عدالتیں اپنی جب میں رکھتے ہوں، پیسے کے دم سے ہر کام کروایا جا سکتا ہے، اور کسی کا قتل کرانا تو انکا معمولی کام ہے.
ہمارے بزرگ کہتے تھے کہ کتا بھی رکھو تو نسلی رکھو اور اس بات سے
پتا چلتا ہے کہ ساری گل نسلاں تے آ مکدی اے.٢٢٢
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Anwar Zia
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 May, 2022 Views: 308

Comments

آپ کی رائے