پاک فوج تجھے سلام۔۔۔

آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔۔۔۔۔شفق کاظمی

ماضی کی کتاب کھول کر چند اوراق پلٹ کر دیکھے تو ہر باب میں بے شمار کہانیاں تھیں،ہر حرف اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ ہمارے آباؤ اجداد ماضی میں کس قدر کٹھن حالات سے دو چار ہوئے تھے۔
یہ جو آج ہم پرسکون ہوکر اس آزاد مملکت میں زندگی بسر کررہے ہیں۔یہ ہمارے آباؤ اجداد کی لازوال قربانیوں کا نتیجہ ہے۔مگر افسوس کچھ افراد ان قربانیوں کو نظرانداز کرکے آزادی کا تمسخر اڑاتے دکھائی دیتے ہیں تو کچھ افراد کے چہرے پر ناخوشی،ناشکری کے تاثرات دکھائی دیتے ہیں۔جو کہ نہایت تکلیف دہ ہیں۔شاید انہوں نے کبھی اردگرد نظریں دوڑا کرنہیں دیکھیں۔شاید ان کے علم میں نہیں کہ۔۔”آزادی بہت بڑی نعمت ہے۔“

ہم اپنے وطن ِعزیز میں پرسکون ہوکر روزے رکھتے ہیں نمازیں پڑھتے ہیں عبادات کرتے ہیں۔اور ہماری اس آزاد مملکت میں ہمارے اسلامی جموریہ پاکستان میں دیگر اقلیتوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد بھی بنا کسی دباؤ بنا کسی رکاوٹ کے پرسکون ہوکر اپنی عبادات جاری رکھتے ہیں۔

جبکہ چند ممالک ایسے ہیں جہاں مسلمانوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ان کو اپنی عبادات جاری رکھنے میں کئی رکاوٹیں درپیش ہوتی ہیں۔جس کی سب سے بڑی مثال ہمارا پڑوسی ملک بھارت ہے جس کے کرتوتوں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔موجودہ صورتِ حال کو پیش ِنظر رکھ کر تذکرہ کیا جائے تو حال ہی میں بھارت نے ہمارے پیارے نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کی کئی معصوم بچوں کو بے دردی سے شہید کیا بے شمار مسلمانوں کے گھر کو مسمار کیا۔دوسری طرف کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و جبر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،مسجدِ اقصیٰ پر حملہ،لاتعداد مسلمانوں کی خون سے لت پت لاشیں۔۔۔وہ آہیں وہ سسکیاں جب سماعتوں سے ٹکراتی ہیں تو کلیجہ چیر ڈالتی ہیں۔

اس تحریر میں موجودہ صورتِ حال کا تذکرہ اس وجہ سے کیا گیا جو لوگ اپنی آزادی سے ناخوش ہیں جو لوگ آزاد مملکت کا تمسخر اڑاتے ہیں وہ اردگرد نظریں دوڑا کر اللہ کا شکر ادا کریں،اور اپنی آزادی کی قدر کریں۔اور جن لوگوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ان کے ساتھ مل کر ان کی حقِ خوداریت کی جنگ میں ان کا ساتھ دیں ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کریں،

یہ آزادی ہمیں وراثت میں نہیں ملی، اسے حاصل کرنے کے لئے ہمارے آباؤ اجداد نے بہت طویل کٹھن سفر طے کیا ہے، اگر میں کہہ دوں کے ہمارے آباؤ اجداد نے انگاروں پر چل کر اس سفر کو اختتام پذیر کیا ہے، تو یہ مثال بہت چھوٹی ہوگی۔۔۔!

کیونکہ اس سفر میں کئی مصیبتیں، آزمائشیں، دشمنانِ اسلام کی جانب سے دی گئی روکاوٹیں درپیش تھیں، لیکن ہمارے آباؤ و اجداد نے ڈٹ کر دشمن کی ہر سازش کا منہ توڑ جواب دیا۔۔اپنے حقِ خودارادیت کے لئے آواز بلند کرتے رہے جس کے نتیجے میں بے شمار جانیں گئیں، کئی معصوم بچوں، بہنوں، بھائیوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، سڑکوں پر ٹکڑوں میں بکھری خون سے لت پت لاشیں تھیں۔۔۔۔13 اگست 1947 کی رات تک ہندوستان کے مسلمان غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے، یہ رات 27ویں رمضان المبارک (لیلتہ القدر) کی رات تھی۔۔۔مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ سے رات بھر اپنے حقِ خودارادیت اور آزاد مملکت اور دشمنان کے ناپاک ارادوں کو نیست و نابود کرنے کی دعائیں کی۔۔۔! اور اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا کرم نازل کیا۔اور اللّٰہ رب العالمین نے ان کی دعاؤں کو قبولیت بخشی۔14 اگست 1947 کو آزادی کی روح پرورفضا کے جھونکے مسرور ہونا شروع ہوگئے،ہر جانب خوشیاں تھیں،اس دن سورج کی کرنوں نے آزادی کی حقیقت کو روشن کیا، اور پاکستان اپنے معروض وجود میں آیا۔۔۔۔

جب پاکستان اپنے وجود میں آیا تو یہ دشمنان کے لئے ناقابلِ برداشت تھا، انہوں نے کئی سازشیں رچانی شروع کی، لوگوں کو آپس میں لڑوانے کی کوشش کی،، ان کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کی، یہاں تک کے انہوں نے یہ دھمکی بھی دی کہ پاکستان چھ ماہ تک بھی قائم نہیں رہ سکتا۔۔مگر اللہ کے فضل و کرم سے آج بھی ہمارا پیارا پرچم فضاء میں لہرا رہا ہے۔۔۔

مگر دشمن آج بھی ہمارے پیارے وطن پر میلی نظر رکھے ہوئے ہے وہ آج بھی ہمارے وطن پر قابض ہونے کے خواب دیکھ رہا ہے، اور اس کے تحت دشمن نے کئی چالیں چلنا شروع کئیں۔۔مثال کے طور پر سوشل میڈیا پر جھوٹ پر مبنی کئی مواد شیئر کئے، بے شمار پروپیگنڈے کئے،،

ہمارے دلوں میں اس بات کو ڈالنے کی کوشش کی کہ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک نہیں ہیں، مذہبی ،علاقائی ،سماجی، اور لسانی اختلاف کو ہوا دینے کی کوشش کی،،

جب وہ اپنی تمام تر ناپاک سازشیں کرنے کے باوجود بھی فتح یاب نہیں ہورہا تھا تو اس نے دیکھا کے ہمارے وطن کے لوگ اپنی فوج سے بے انتہا محبت کرتے ہیں، اور ہر لمحہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، وہ اس بات سے واقف تھے کے فوج ایک بار پکارے گی تو پاکستانی عوام لبیک کہتے ہوئے دوڑ پڑے گی۔۔۔۔!
جس کو مدِنظر رکھتے ہوئے دشمن نے عوام کے دلوں میں فوج کے خلاف نفرت کا بیج بونے کی کوشش کی، لوگوں کو ورغلانے کی سازش کی، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کسی ملک کو توڑنا ہو تو سب سے پہلے وہاں کے لوگوں کو فوج کے خلاف کردو، جس دن وہاں کے لوگ مکمل طور پر فوج کے خلاف ہوجائیں گے، اس روز اس ملک پر قابض ہونا زیادہ کٹھن نہیں ہو گا۔ایسی بے شمار کہانیاں دنیا میں بکھری پڑی ہیں، جو قومیں دشمن کی سازش کا شکار ہوکر فوج کے خلاف ہوئیں۔۔۔وہ مکمل طور پر برباد ہوگئیں، ان کی آنے والی نسلیں غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر رہ گئی، ان کا لمحہ لمحہ قرب ناک، اذیت ناک تھا۔۔۔اب دشمن اس حربے کو پاکستان کے ساتھ آزما رہا ہے۔۔۔!

اختتام میں میں اپنے لوگوں سے مخاطب ہوکر یہ کہنا چاہتی ہوں ہمیں دشمن کی سازشوں کو سمجھنا ہوگا، نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مواد کو فروغ دینے سے اجتناب کرنا ہوگا...اپنی فوج کا ساتھ دینا ہوگا۔۔یہ جو آج کل سوشل میڈیا کے کچھ اکاؤنٹس پر فوج کے خلاف مواد شیئر کیا جارہا ہے تقریباً اکاؤنٹس کو دشمن آپریٹ کررہا ہے....! ہمیں انہیں منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔۔۔۔ہمیں ہمارے مذہبی، لسانی، علاقائی سماجی اختلافات کو ختم کرکے ایک ہونا ہوگا اور دنیا بھر کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک تھے ہم ایک ہیں اور ہم ایک رہیں گے۔۔۔۔! ہم کسی صورت بھی دشمن کو اپنے وطن پر قابض ہونے نہیں دیں گے۔۔۔۔کیونکہ ہم اپنے وطن سے بے حد محبت کرتے ہیں۔جس طرح اپنے وطن کی خاطر ہمارے آباؤ اجداد نے قربانیاں دیں اسی طرح ہم بھی اپنے وطن پر مر مٹنے کا جذبہ رکھتے ہیں، ہم ہر اس میلی نگاہ کو نکال پھینکے گے جو ہمارے وطن کی جانب پڑیں گی۔۔۔ہم کسی صورت اپنی آنے والی نسلوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے نہیں دیں گے، ہم عہد کرتے ہیں ہم اپنی آزادی کی قدر کریں گے کیونکہ آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔۔۔
 

Shafaq kazmi
About the Author: Shafaq kazmi Read More Articles by Shafaq kazmi: 108 Articles with 130635 views Follow me on Instagram
Shafaqkazmiofficial1
Fb page
Shafaq kazmi-The writer
Email I'd
[email protected]
.. View More