ساڈا کتا کتا اے تے تاڈا کتا ٹومی بھی نہیں شیرو ہے۔۔۔ سیاستدانوں کے وائرل جملے جنہوں نے حریف کو بھی ہنسنے پر مجبور کردیا

image
 
جویریہ ظفر پی ٹی آئی کی سیاستدان کی قومی اسمبلی میں دھواں دھار تقریر سنی۔ تقریر انتہائی دلچسپ تھی جو طنز ومزاح سے بھرپور تھی اپنے سیاسی معاملات بیان کرتے ہوئے انھوں نے ایک میم کا بموقع محل استعمال کیا ان کو اپنی تقریر پر کافی گرفت ہے۔ حال ہی میں وہ اپنی پارٹی کی منحرف سیاستدانوں میں شامل ہوئیں تو ان کے ساتھیوں کے کمنٹس پر بڑے مزے سے دہراتی ہیں کہ ساڈا کتا کتا اے تے تاڈا کتا ٹومی پھر آگے کہتی ہیں کہ تاڈا کتا تو شیرو ہے۔ یہ جملہ ان کا وائرل ہوجاتا ہے۔ واضح رہے عمران خان کے کتے کا نام شیرو ہے۔
 
کسی بھی لیڈر کے لئے اس کا تقریر کا انداز بہت معنی رکھتا ہے۔ آجکل خواتین سیاستدان بھی اپنے منفرد انداز سے سیاست کے میدان میں جھنڈے گاڑ رہی ہیں۔ سیاستدانوں کا پرجوش انداز ہی انھیں عوام میں مشہور کرتا ہے۔ یہاں ہمارا مقصد کسی بھی پارٹی کی دل آزاری نہیں بلکہ سیاستدانوں کے بولنے کی مہارت کو ڈسکس کرنا ہے جو شاید سیاست میں آنے سے پہلے ان کی ٹریننگ کا حصہ ہوتی ہے۔
 
 
جس طرح اسکول میں کلاس میں مختلف کردار ہوتے ہیں اسی طرح اسمبلی میں بھی مختلف کردار ہوتے ہیں جہاں اچھی تقاریر کرنے والے ماہر سیاستدان بھی آپ کو ملیں گے اور ان کا سننا انتہائی خوش کن ہوتا ہے۔ ہاں بظاہر تو یہ آپ کو ایک دوسرے کے دشمن لگیں گے لیکن یہ لوگ ایک دوسرے کی تقاریر کو بہت خوش دلی سے انجوائے کرتے ہیں جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ بلاول بھٹو اور شاہ محمود قریشی کی ایک بہت ہی مزاحیہ جملہ بازی تھی جس میں بلاول بھٹو شاہ محمود قریشی کے بارے میں کہتے ہیں کہ جتنا ہم جانتے ہیں ناں فاضل ممبر ملتان کو اتنا تو آپ جانتے ہی نہیں ہو ابھی خان صاحب جانے گا کہ یہ کیا چیز ہے۔ یہ تمام جملے بہت ہی روایتی گھریلو انداز میں کھینچ کر بیان کئے گئے انداز انتہائی دلفریب تھا۔ جواباً شاہ محمود قریشی ہاتھ کے اشارے سے کہتے ہیں کہ میں ان کو تب سے جانتا ہوں جب یہ اتنے سے تھے اور کونے میں کھڑے جھڑکیاں سنتے تھے۔۔۔۔ بلاول کہتے ہیں میں نے ان کو بچپن سے جئے بھٹو کے نعرے لگاتے سنا ہے۔ جملہ بازی سے اسمبلی ممبران محظوظ ہوتے رہے۔ اور مختلف چینلز پر عوام کو بھی دکھایا گیا۔
 
اسی طرح فواد چوہدری کی جون میں ایک بڑی مزاحیہ تقریر دیکھنے کو ملی جس میں انھوں نے قائد حزب اختلاف کی وزیراعظم بننے کی تیاری کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ خواتین بھی ان سے شاپنگ کے لئے مشورے لینا چاہتی ہیں۔
 
شہباز شریف اپنی ایک تقریر میں لیڈر حزب اختلاف کے طور پر تقریر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عمران خان نے کہا تھا کہ بھارت میں اپوزیشن کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے لیکن آپ نے تو اپوزیشن کو دیوار میں چن دیا ہے جس پر عمران خان سمیت تمام ممبران ہنسنا شروع ہو گئے۔ ساتھ ہی شہباز شریف کہتے ہیں کہا کہ اس کے باوجود ان کو جواب انارکلی کی ہی زبان میں ملے گا۔
 
image
 
خواجہ آصف زرتاج گل کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان کے فون ڈائیلنگ میں 92 کیوں آتا ہے تو جواب ملتا ہے کہ ہم نے 92 میں ورلڈ کپ جو جیتا اس لئے 92 آتا ہے۔ پھر بل گیٹس کے نام کی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ وہ بل ہے جو گیٹ کے نیچے سے ڈالا جاتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ زرتاج گل سیاستدانوں کی ندا یاسر ہیں۔
 
مراد سعید بلاول کے لئے شعر پرھتے ہیں " اردو سے ہو کیوں بیزار انگلش سے اتنا کیوں پیار۔۔۔۔۔چھوڑو بھی یہ رٹا یار ٹوئنکل ٹوئنکل لٹل اسٹار"۔ پوری اسمبلی قہقہوں سے گونج اٹھتی ہے۔
 
غرض میم بنانے والوں کو اگر مواد چاہئے تو قومی اسمبلی کا رخ کریں اور اگر آپ بور ہورہے ہیں تو بس یوٹیوب پر آپ قومی اسمبلی کی کاروائی لگا لیں آپ کو ہر طرح کی ایٹرٹینمنٹ ملے گی سوائے کام کی باتوں کے گارنٹی ہے کہ آپ محظوظ ہوں گے۔ کچھ تو استفادہ ہو ان سیاستدانوں کا!
s
About the Author: s Read More Articles by s: 7 Articles with 11247 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.