آزادی اور اس کا مقصد

لہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہے
اچھل رہا ہے زمانے میں نام آزادی
پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ 14 اگست ہماری آزادی کا دن ہے اور ہم سب یوم آزادی پر جوش طریقے سے مناتے ہیں۔پورا ملک پرچموں سے لہلا اٹھتا ہے اور شہروں کو سجایا جاتا ہے۔گزشتہ سات دہائیوں سے ہم یہ پریکٹس کرتے آ رہے ہیں کیوں کہ یہ وہ یوم عہد ہے جب قومیں اپنی شناخت، حقوق اور پہچان کا ملی اتحاد و جوش و جذبے سے اظہار کرتی ہیں، اور اس دفعہ بھی ہم 75واں یوم آزادی بڑے جوش و جذبہ سے منانے جا رہے ہیں۔آزادی کا اصل اور صحیح مقصد تو ہم سب کے نزدیک یہی ہے کہ ہم سب اپنے وطن عزیز میں اپنی پہچان کے ساتھ محبت سے رہیں، معاشرے میں انصاف و مساوات کو فروغ دیں اورآپس میں متحد رہیں، ہر طرح سے سیاسی و معاشی عدم استحکام کو ختم کرنے میں کردار اد کرتے رہیں تاکہ بحرانوں سے نمٹنے میں آسانیاں پیدا ہو سکیں۔اس کے علاوہ لسانی، صوبائی، مذہبی اور غیر ضروری سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک ہو جاہیں تو دنیا ترقی کرنے سے ہمیں روک نھیں سکتی۔چوں کہ قیام پاکستان کا بنیادی مقصد انسان کو انسانوں کی غلامی سے نکالنا تھا تاکہ بندہ گان رب، اپنے تصورات کے مطابق آزادی کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں اور استحصال کی ہر صورت کا خاتمہ کرکے عوام کو ہر وہ سہولت فراہم کریں جو ان کا پیدائشی اور بنیادی حق ہے۔

75 سالوں کے دوران بہت سے نشیب و فراز کے باوجود پاکستان نے ترقی کی جانب پیش رفت کی لیکن ہمیں دیانت داری کے ساتھ یہ اعتراف بھی کرنا چاہیے کہ ہم ابھی تک مکمل طور پر اپنی منزل تک نھیں پہنچ سکے، اس لیے ہمیں اس کے اعتراف کے ساتھ ان وجوہات اور رکاوٹوں پر بھی غور کرنا چاہیے جن کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے۔ اس لیے دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ملک و ملت کی بہتری و ترقی کے جذبے اور نیک نیتی کے ساتھ کاروبار مملکت سنبھالنے والوں کی راہنمائی کرے اور ان کو ملکی ترقی میں کردار ادا کرنے کی ہمت بھی دے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان بنانے والے بزرگوں اور آج کی نسل کے درمیان گردش ایام کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کا فاصلہ حائل ہے لیکن اس کے باوجود یہ امر بھی اطمینان بخش ہے کہ نئی نسل کی وطن عزیز کے ساتھ محبت کا جذبہ لازوال ہے اور وطن کی تعمیر و ترقی کے لیے خواہش مند بھی ہے۔

قومی ایام اسی لیے منائے جاتے ہیں کہ افراد، معاشرہ اور آنے والی نسلوں کو قومی مقاصد اور ان کے حصول کے لیے کی جانے والی جدوجہد سے آگاہ کیا جا سکے ،ایسے مواقع پر جگہ جگہ، شہر شہر پرچم کشائی سمیت دیگر تمام رسوم معمول کی کارروائی بن کر رہ جاتی ہیں۔ اگر ان ایام ہائے مسرت کا پس منظر، فکر و فلسفہ نگاہوں سے اوجھل ہو جائے لیکن اس کا مطلب یہ نھیں کہ خوشی کے مواقع پر خوشیاں نہ منائی جائیں، جشنِ آزادی اور اس جیسے دیگر تہواروں پر نوجوان کی رنگا رنگ سرگرمیاں اور زندہ دلی کے مناظر دیکھنے کو نہ ملیں تو ہمارے دیس کے بام و در بے رونق ہو جائیں اور آزادی کی خوشیاں ماند پڑ جائیں۔ اس لیے ہمیں اپنے بچوں کو ذہن نشین کروانا ضروری ہے کہ پاکستان کیسے اﷲ تعالیٰ کی ایک غیر معمولی نعمت ہے؟ یومِ آزادی نہ صرف تجدیدِ عہد کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ ہمیں اپنے ملک کی ترقی، خوش حالی اور استحکام کے لیے پُرعزم ہونے کی یاد دلاتا ہے اور ہمارے آباؤاجداد کی جمہوری جدوجہد کی بھی یاد دلاتا ہے، جن کی خواہش تھی کہ ایک ایسا وطن ہو جہاں مذہبی، سماجی اور ثقافتی اقدار کے مطابق شہری اپنی زندگی گزاریں۔

اس وقت ملک کو بڑے سیاسی و سماجی چیلنجز کا بھی سامنا ہے جس سے ہر طرف عدم استحکام کی صورت حال نظر آ رہی ہے اور پاکستان کو معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ دیگر اہم معاشرتی مسائل کا بھی سامنا ہے لیکن بانی پاکستان قائد اعظم ؒکی فرامین پر عمل کرکے ہم تمام پریشانیوں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں اور وہ فرامین اتحاد، تنظیم، اور یقین محکم ہیں۔آئیے سب مل کرجشن آزادی منائیں اور قائداعظم ؒ کے بنیادی تصور کو سمجھتے ہوئے ملک و قوم کی ترقی کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کریں۔ اﷲ تعالیٰ بانیانِ پاکستان کے درجات بلند فرمائے ۔آمین۔۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد
وطن کے جاں نثار ہیں وطن کے کام آئیں گے
ہم اس زمیں کو ایک روز آسماں بنائیں گے

نعیم اشرف
 

Usman Ali
About the Author: Usman Ali Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.